تماشہ پورا مکہ دیکھے گا۔۔۔تحریر :الیاس محمد حسین

حضور اکرم ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کا جائزہ لیں تو قدم قدم پر ان کے رسول ہونے کی حقانیت کا اظہار ہو تاہے آپ ﷺ کے کئی معجزوں اورکوشش کے باوجود ابوجہل ایمان نہ لایا حالانکہ متعددبار وہ لاجوب بھی ہوا لیکن جھوٹی شان وشوکت اور اکڑ نے اسے دوزخی بنادیا ایک مرتبہ مکہ کے نواح میں اراش کی بستی سے ایک شخص اونٹ لے کرمکہ آیا ۔ ابوجہل نے اس سے اونٹ خرید لئے، پھر قیمت ادا کرنے سے انکاری ہوگیا ۔ اراشی مایوس ہوکر قریش کی مجلس میں آیا اور ان سے مدد مانگی ۔ اس نے کہا:’’ قریش کے لوگو! مَیں ایک اجنبی مسافر ہوں اور ابوالحکم بن ہشام نے میرا حق مار لیا ہے، کون سا شخص مجھے میرا حق دلائے گا‘‘;238; اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے ۔

اہل مجلس میں سبھی منکرین حق تھے ۔ انہیں شرارت سوجھی تو انہوں نے اراشی سے کہا: ’’کیا تم دیکھ رہے ہو انہوں نے نبی پاک ﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ شخص جو کونے میں بیٹھا ہے، وہی تمہارا حق دلا سکتا ہے‘‘ ۔ دراصل سردارانِ قریش جانتے تھے کہ ابوجہل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت رکھتا ہے ۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سبکی چاہتے تھے اور مسافر سے مذاق کررہے تھے ایک تماشا لگانا چاہتے تھے لیکن اللہ تبارک تعالی ٰ نے اس واقعہ کو بھی اپنے محبوب ﷺ کی شان دوبالا کرنے کا سبب بنادیا لہذا اراشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور جا کر کہا: ’’اے اللہ کے بندے!

ابوجہل نے میرا حق مار لیا ہے اور میں اجنبی ہوں ۔ ان لوگوں سے میں نے پوچھا کہ کون مجھے میرا حق دلا سکتا ہے تو انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا ۔ پس آپ میرا حق دلادیں ، اللہ آپ پر رحم کرے‘‘ ۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اْسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ چل دئیے ۔ قریش کے لوگوں نے دیکھا تو اپنے میں سے ایک شخص سے کہا: ’’اے فلاں ان کے پیچھے جا اور دیکھ کر آ کیا تماشا بنتا ہے‘‘;238;

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی کو ساتھ لئے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور دستک دی ۔

اس نے پوچھا: ’’کون ہے‘‘;238; فرمایا: ’’مَیں محمد ( ﷺ) ہوں ، ذرا باہر نکلو‘‘ ۔ ابوجہل باہر نکلا آپ ﷺ کو دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا اراشی نے بھی محسوس کیا کہ ابوجہل کا تو اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے جسم میں روح نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس شخص کا حق ادا کردو‘‘ ۔

ابوجہل نے کہا: ’’بہت اچھا! میں اس کا حق ابھی ادا کرتا ہوں ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ خاموشی سے اپنے گھر کے اندر چلاگیا، پوری رقم لے کر آیا اور اراشی کے ہاتھ پر رکھ دی ۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اراشی سے فرمایا:

’’اچھا بھائی خدا حافظ‘‘ اور آپ چل دئیے ۔ اراشی قریش کی مجلس کے پاس سے گزرا اور ان سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر عطا فرمائے، خدا کی قسم! وہ بڑا عظیم آدمی ہے، اس نے مجھے میرا حق دلا دیا‘‘ ۔

جس شخص کو قریش کے لوگوں نے تماشا دیکھنے کے لئے بھیجا تھا، اس سے انہوں نے کہا: ’’تیرا ستیاناس ہو، تْو نے کیا دیکھا‘‘;238;

اس نے کہا: ’’ میں نے عجیب ترین معاملہ دیکھا ۔ خدا کی قسم جونہی محمد ﷺ نے اس کے دروازے پر دستک دی اور وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ اس کے جسم میں گویا جان ہی نہیں ۔ محمد ﷺ نے اس سے کہا کہ اس شخص کو اس کا حق ادا کردو تو بغیر حیل وحجت کے اس نے اس کا حق ادا کردیا‘‘ ۔

تھوڑی دیر بعد ابوجہل بھی ان کی مجلس میں آ پہنچا تو لوگوں نے اس سے کہا: ’’تیری تباہی ہوجائے، تجھے کیا ہوگیا تھا;238; خدا کی قسم تو نے جو حرکت کی اس کی تو ہ میں کبھی توقع ہی نہیں تھی‘‘ ہم نے اراشی کے ساتھ محمدﷺ کو اس لئے بھیجا تھا کہ تماشا پورا مکہ دیکھے گا لیکن تم تو خودذلیل ہوکررہ گئے ۔ ان کی باتیں سن کر ابوجہل نے کہا: ’’تمہاری بربادی ہو جائے، مجھے لات و منات کی قسم! جونہی محمدﷺ بن عبداللہ نے میرے دروازے پر دستک دی اور مَیں نے اس کی آواز سنی تو میرے اوپر رعب طاری ہوگیا ۔ پھر مَیں دروازہ کھول کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے سر کے اوپر فضا میں ایک خوفناک سانڈ جیسا اونٹ معلق ہے ۔ اس اونٹ جیسی کوہان، گردن اور دانت ،مَیں نے کبھی کسی اونٹ کے نہیں دیکھے ۔ خدا کی قسم مجھے یوں محسوس ہو اکہ اگر مَیں نے انکار کیا تو وہ اونٹ مجھے کچا کھا جائے گا ۔ ‘‘

(البدایۃ والنھایۃ، جلد سوم، 45)

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *