ثریا بابر

اصلی نام ۔ ثریا جبیں ،،قلمی نام۔ثریا بابر ،ولدیت ۔محمد نسیم خان،ازدواجی حیثیت ۔شادی شدہ (اس چیثیت کو ۲۸،جولائی ۲۰۱۶ء کو ستائیس سال مکمل ہو جائیں گے )،مشاغل۔ امور خانہ داری ، شاعری ، افسانہ نگاری ،نئے نئے لوگوں سے ملاقات کرنا پسند ہے۔،شہر پیدائش ۔ بہاولپور ،تاریخ پیدائش ۔۲۰ فروری ۱۹۷۲ء،بہن بھائی ۔سات عدد ، ہم تیسرے نمبر پر ہیں ،تعلیمی قابلیت۔ یہ معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے
ساڑھے تین سال کی عمر میں بڑی بہن کو اسکول جاتے دیکھا تو بری طرح مچل گئے کہ ہمیں بھی اسکول جانا ہے ۔ابا نے گود میں لے کر بہت سمجھایا کہ آپ بھی اگلے سال سے اسکول جاؤگی مگر ہمیں پیدائشی طور پر پڑھائی سے عشق تھا ۔مہنگا تانگہ لے کر بھی قرار نہ آیا ۔تھوڑی دیر کو چپ ہو گئے لیکن بدلہ کچھ ایسے لیاکہ جب ہم اگلے سال اسکول میں داخل ہوئے تو ہمیں اخبار تک پڑھنا آتا تھاباقی لوگ تو اس بات پر حیران ہیں ہی ۔۔ ہم خود بھی آج تک حیران وپریشان ہیں کہ آخر ہمیں اردو پڑھنا کس نے سکھایا؟؟
امی ہمارے بچپن کی جو باتیں بیان کرتی ہیں وہ خود ہمارے لیے بھی اچنبھے سے کم نہیں ۔بقول ان کے بچے ،پیدائش کے تین مہینے بعد کروٹ لے کر الٹے ہوتے ہیں ہم دوسرے دن سے کدکڑے مارنے لگے ۔اس کی وجہ تو ڈاکٹر صاحبان ہی بہتر بتا سکتے ہیں مگر والدین کے لیے ہم اس لحاظ سے پریشانی کا باعث بن گئے کہ ہر وقت چارپائی سے گرنے کا خطرہ لاحق رہتا ۔ہماری امی ابو کی ایک مشترکہ مامی تھیں (ہمارے امی ابو آپس میں سگے خالہ زاد ہیں)انہوں نے امی کو مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو آم کی پیٹی میں بستر کر کے لٹا دے وہاں سے کیسے نکلے گی۔امی نے یہ بھی کر ڈالا۔بقول ہماری والدہ محترمہ کے ’’میں ذرا مامی سے باتوں میں مصروف ہوئی کوئی پانچ منٹ بعد پلٹ کر دیکھا تو ثریا کا سر ذرا سا آم کی پیٹی پر ٹکا ہوا ہے باقی ساری باہر ۔۔‘‘ اب ہم اس بارے میں اس سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں ’’ رب کے بھید رب ہی جانے ۔‘‘
بچپن کے واقعات بڑے مزے دار ہیں جو میری تحریروں میں بھی قید ہیں اور ذہن میں بھی ، ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے ہی حاصل کی ۔پانچویں جماعت تک کبھی اول کبھی دوم آتے رہے ۔اس وقت انگلش میڈیم کا بخار سرکاری اسکولوں میں نہیں تھا ۔سرکاری استانیاں بھی محنت سے پڑھایا کرتی تھیں اور گھر میں والدہ کی پوری توجہ ہوتی تھی کہ گھر کا کام مکمل ہو (جواسکول سے ملتا تھا )اردو پڑھنا تو پیدائشی طور پر سیکھ لیا تھا مگر کس لفظ کو کس طرح استعمال کرناچاہیے ،،یہ بات کافی حد تک ہماری اپنی امی کے ہمیں پڑھانے سے آئی ۔باقی پوری زندگی کے مشاہدے نے بھی ہمارا یقین نپولین کے اس قول پر مزید پختہ کیا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔
جماعت ششم میں صرف پاس ہوئے تو تھوڑا افسوس ہوا بہر حال میٹرک میں اسکول لیول پر سائنس کی طالبات میں اول پوزیشن لی ۔انٹر میڈیٹ میں انگلش کی ایک ٹیچر نے اتنی بری انگلش پڑھائی کہ انگلش سے شدید نفرت پیدا ہو گئی جس کی لہریں اب بھی کبھی کبھی اٹھتی ہیں ۔بارھویں جماعت میں قدم رکھا ہی تھاکہ ابا کے کزن ،جگری دوست اور ہندوستان کی گلیوں میں ساتھ کھیلنے والے دوست کے بیٹے کا رشتہ ہمارے لیے آ گیا (تایا کا انتقال ہو چکا تھا )ہم شرارتی بہت تھے اور شاید اسی لیے (ہو سکتا ہے یہ ہماری بدگمانی ہو)ماں باپ نے دونوں بڑے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ۱۹۸۹ء میں ہمیں شادی کے بہانے میرپور خاص بھیج دیا ۔علم کی تڑپ تو ساتھ ہی لے کر آئے تھے مچل گئے کہ ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھیں گے ۔شادی کے ابتدائی دن تھے میر پور خاص کے ٹانگے میں ٹک ٹک اچھلتے جب ابن رشد گرلز کالج کے سامنے سے گزرے تو شوہر محترم نے بڑے دلار سے فرمایا ’’ یہ آپ کا کالج ‘‘ مگر جب گھر میں قدم رکھا تو ماشاء اللہ بھرا پرا گھر ،ہمارے شوہر سمیت چھ بھائی ۔ہمارے شوہر کی عمر چوبیس سال ، سب سے چھوٹے کی عمر چھ سال ، پھر کالونی کا مجموعی مزاج کہ بہو صرف گھر کے کام کاج کے لیے اور تمام سسرال والوں کی خدمت کے لیے آتی ہے ۔پڑھائی کے بارے میں سوچنا بھی محال تھا ۔اس نظریے کی تو خیر تھی اس کو بدلنے کی کوشش بھی کی جا سکتی تھی مگر سال بھر میں بیٹی گود میں آ گئی ۔دختر محترم دس مہینے کی تھیں کہ ساس کو فالج ہو گیا ۔اب بی ۔اے کیا کرتے ،بیاہ جو ہو گیا۔مختصر یہ کہ زندگی کو لہو کا بیل بن گئی اور ہمیں نچوڑ ڈالا۔
مگر زندگی تو زندگی ہے ، ہر دم جواں پیہم رواں ہے زندگی ۔۲۰۰۲ء تک بچوں کی تعداد پانچ ہو گئی ۔۲۰۰۴ء میں فالج کی حالت میں ساس صاحبہ کا انتقال ہو گیا ۔۲۰۱۲ء میں بڑی بیٹی انجینئر بن کر کراچی سے واپس میرپور خاص آئیں تو ہم سے پوچھا ’’ امی ۔آپ نے بیاہ کے مزے تئیس سال تک اٹھا لیے اب بی۔اے کرنا ہے ؟؟
( اللہ کا شکر ہے میرے سارے بچے مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ میں خود بھی کسی سے نفرت کرنے کی قائل نہیں مگر میں کہہ سکتی ہو ں کہ اگر آج میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کر سکتی ہوں تو اس میں میری انجینئر بیٹی نور العین کی کوششوں کا بہت دخل ہے ۔اللہ اس کی ساری اچھی کوششوں کا بہتر اجر عطا کرے۔آمین)
ہم کفران نعمت کے بالکل قائل نہیں ،فورا بی ۔اے میں داخلہ لے لیا ۔بی ۔اے پارٹ ون کلئیر ہو گیا مگر جب بی ۔اے پارٹ ٹو کی باری آئی تو ہمیں ایک چھوٹا سا مچھر کاٹ گیا جسے ’’ ڈینگی ‘‘ کہتے ہیں ۔ہم تڑپتے رہ گئے اور امتحان آگے نکل گئے ۔لیکن ہم اپنے بچوں کی جدو جہد کو پس پشت ہر گز نہیں ڈال سکتے ۔۲۰۱۶ء میں ہونے والے امتحانات دینے کا ارادہ ہے۔آپ سے دعا کی گزارش ہے کہ اللہ ہمیں کامیابی عطا کرے۔کاغذی کارروائی مکمل کر لی ہے
یہ تو تھی پڑھت کی بات ، اب کچھ لیکھت کی بات ہو جائے ۔۱۹۸۸ء میں ہم نے اپنی ایک شرارت قلم بند کی اور نوائے وقت ’’ پھول اور کلیاں میں بھیج دی ۔کھٹ سے چھپ گئی ۔ ہم جھٹ سے مغرور ہو گئے ۔اکڑے اکڑے پھرنے لگے۔بس یہ ہی غرور ہمیں لے ڈوبا ۔۱۹۸۹ء میں شادی ہو گئی اور اس کے بعد کا حال تو آپ جان ہی چکے ہیں ۔
لکھنے کی بیماری تو بچپن ہی سے تھی ۔اور اس کا اظہار وقتا فوقتا اردو رکے ان مضامین میں ہوتارہتا تھاجو بچوں کو گھر سے لکھنے کے لیے دیئے جاتے ہیں جیسے ’’چاندنی رات میں دریا کی سیر ‘‘ میری زندگی کا ایک یادگار دن ‘‘ بہت سی لڑکیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ اب ہماری شادی ہو گئی اب ہم کچھ نہیں لکھ سکتے ۔ایسے لوگوں کے لیے شاعری شاید ایک وقتی ابال ہو مگر ہمارے تو شاید یہ خون میں شامل ہے ۔خیالات کہیں بھی کسی بھی جگہ ذہن میں آنے سے باز نہیں آتے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعری کے خاندانی جراثیم ہونے کے باوجود کبھی ہمارے خاندان کے شاعر اتنے منظم نہیں ہوسکے کہ کسی فورم سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں ۔بہر حال شادی کے بعد بھی شاعری کا سلسلہ جاری رہا اور مختلف کاپیوں ، رجسٹرز میں قید ہوتا رہا ۔میں سمجھتی ہو ں کہ اس میں میرے شوہر کی حوصلہ افزائی کا بھی کافی عمل دخل ہے ۔انہوں نے مجھے کبھی کسی تعمیری سرگرمی سے سے نہیں روکا۔
۲۰۰۵ ء میں ہماراتعارف کسی شاھد جمیل صاحب سے ہوا ۔جو بچوں کے لیے رسالہ’’ آغوش ‘‘ نکال رہے تھے ۔ ہم نے ان کے رسالے میں کہانی بھیج دی ۔سوال ، بلی کا بچہ ، منے میاں کی گنج ، شیش محل (قسط وار کہانی )اس رسالے میں شائع ہوتی رہی ۔پھر شاھد جمیل صاحب بیوی کو پیارے ہو گئے یوں رسالہ اللہ کو پیارا ہو گیا
۲۰۱۲ء میں ایک مزاحیہ غزل کی تلاش میں ہمارا پروفیسر عاصی اختر سے فون پر رابطہ ہوا۔ہم نے ان سے کہا ’’ ہماری شاعری کی اصلاح فرما دیجیے ‘‘ انہوں نے شفقت فرمائی ۔ ان کی ہی اصلاح شدہ ہماری غزل اخبار جہاں کے کٹ پیس میں ۲۱۰۲ ء میں شائع ہوئی۔مرزا عاصی اختر نے ہمیں رسالے ،مزاح پلس (مدیر انور علوی صاحب )، خوش نما(مدیر سرفراز شاہد صاحب ،ادب دوست ،(مدیر خالد تاج )،بے لاگ (مدیر عزیز جبران انصاری )تحفۃ دیئے ۔ بقول ان کے یہ مدیران آپ سے کچھ نہ کچھ لکھواتے رہیں گے اس طرح آپ کی تربیت ہو جائے گی ۔
پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔ مزاح پلس میں کہانی ’’ سوال ‘‘ شائع ہوئی ۔ادب دوست کے جولائی ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ہماری غزل شائع ہوئی ۔ سنجیدہ غزل تھی ۔زبر دستی ہمارے ذہن میں آ گئی ۔ہم خود چونکہ اتنے سنجیدہ نہیں اس لیے ہم نے اس میں تحریف (پیروڈی ) بھی خود ہی کر ڈالی ۔سنجیدہ غزل اور اس کی تحریف شدہ شکل کے کچھ اشعار حاضر ہیں۔دونوں غزلیات ہمارے خط کے ساتھ ہی شائع ہویءں۔
مجھے ہر پل ستانے کا جو حق ہوتا تمہیں ہوتا کہ میرا دل جلانے کا جو حق ہوتا تمہیں ہوتا محبت مان لو میری ، محبت کو ہی رد کر دو مجھے یوں آزمانے کا جو حق ہوتا تمہیں ہوتا
سمندر آنسوؤں کا تم ،ہمارے نام کر دیتے ثریا کو، رلانے کا جو حق ہوتا تمہیں ہوتا
اسی کی تحریف کر کے ہم نے اس کی شکل کچھ یوں کر دی
تیرا ابا ،برا مانے مجھے داماد نہ مانے تجھے گھر میں بسانے کا جو حق ہوتا مجھے ہوتا اگر تم فیکٹری ماتاکی دیتے تو برا کیا تھا پتا کا مال کھانے کا جو حق ہوتا مجھے ہوتا
بڑی سنجیدہ باتیں ہیں مذاقاں ہی سمجھتی ہو ہنسا کر بھی رلانے کا جو حق ہوتا مجھے ہوتا
خوش نما میں ہم نے خط بھیج دیا کہ مزاحیہ شاعری میں عورت طنز کا نشانہ کیوں ۔؟؟ سرفراز شاہد صاحب نے ان کا ایک چھوٹا سا جواب دے دیا ۔اگلے شمارے میں ڈاکٹر ایس ۔ایم ۔معین قریشی نے ہمارے سوال کا تفصیلی جواب دے دیا ۔ہم نے ان سے فون پر بات کر کے اجازت لے کر جواب لکھا ۔کیوں کہ ہمیں یہ فکر دامن گیر تھی کہ ہم سے کوئی گستاخی سرزد نہ ہو جائے ۔بہر حال ڈاکٹر صاحب نے بہت حوصلہ افزائی کی اور جب انہوں نے بزم مزاح پاکستان کے سلسلے میں کام کرنا شروع کیا تو ہمیں فون کر کے ہم سے بھی مضمون لکھوایا جو ہم نے کراچی آرٹس کونسل میں افتتاحی تقریب میں پڑھا یہ ہی مضمون روز نامہ جنگ کی مڈویک اشاعت ۸۔اپریل۲۰۱۵ء کی اشاعت میں بھی شامل ہوا یہ تمام مضامین ہمارے فیس بک پیج www.facebook.com/sursiyyababer پر بھی پڑھے جا سکتے ہیں
ہمیں خود اپنی تعریف سن کر اگر چہ شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے کیونکہ بہت گناہ گار ہیں مگر اکثر جگہ سے ملنے والا یہ تعریفی جملہ ہمیں اپنی زندگی کا اثاثہ محسوس ہوتا ہے ’’ آپ بہت خوبصورت لکھتی ہیں ‘‘ اللہ ہمیں ہمیشہ کسی بھی قسم کے غرور وتکبر سے محفوظ رکھے ۔
رسالہ ’’ بے لاگ ‘‘ کے مدیر عزیز جبران انصاری صاحب نے بھی بہت حوصلہ افزائی کی ۔وہ اکثر ہم سے رسالے پر تبصراتی خط لکھنے کاتقاضا کیا کرتے تھے اور ہمیں یہ تقاضا بہت پسند تھا انہوں نے ہماری غزل کی تقطیع بھی کی ۔ان سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔بچوں کے لیے لکھنا پسند ہے ایک خاتون نے پریوں کی کہانی لکھنے کا کہا تھا، لکھ ڈالی ، بھیج دی مگر ان کا رسالہ تا حال سامنے نہیں آ سکا ۔
۲۰۱۵ء کے وسط میں بیٹے کی جاب کی وجہ سے کراچی شفٹ ہونا پڑا ۔میاں جی کی میرپور خاص میں دکان تھی ۔وہ بھی جنوری میں دکان ختم کر کے کراچی آ گئے ۔ کراچی میں ادبی لحاظ سے شوہر کے ساتھ ساتھ بیٹے کی حوصلہ افزائی بھی ملنے لگی۔فیس بک استعمال کرنے کا بھی زیادہ موقعہ ملا ۔ رجسٹرز میں لکھی گئی چیزیں انٹر نیٹ پر آنے لگیں ۔مزید حوصلہ افزائی ملی مگر ابھی کافی مضامین کاغذ میں قید ہیں جن کو برقی لہروں کے حوالے کرنا باقی ہے۔
عالمی افسانہ فورم پر بھی دو افسانوں کی اشاعت ہوئی۔میرے مزید مضامین کو اردو ٹائمز کینیڈا پر بھی جگہ ملی ۔ آپ کی بات کی ویب سائٹ پر بھی میری تحاریر آ رہی ہیں اور اللہ کا فضل و کرم شامل رہا تو انشاء ا للہ یہ سلسلہ آگے چلتا رہے گا۔
کس شاعر سے متاثر ہیں؟؟ اردو ادب میرا مضمون رہا ہے بہت سے شاعروں کو پڑھا ہے مگر جو بات علامہ اقبال کی شاعری میں ہے وہ کسی اور میں نہیں ۔درد دل اپنی انتہا پر ہے ہماری بد قسمتی کہ اب ہم فارسی سے کافی دور نکل چکے ہیں اور علامہ اقبال کی شاعری کا صحیح لطف جب ہی مل سکتا ہے جب فارسی کی کچھ نہ کچھ شدھ بدھ ہو ۔
کوئی ناپسند بھی ہے ؟؟ میں ہر شخص کے بارے میں یہ سوچتی ہوں کہ جو غلط بات اس کے منہ سے نکلی ہے وہ میرے منہ سے بھی نکل سکتی تھی ۔میں ہر شخص کو اتنی گنجائش دینے کے حق میں ہوں کہ وہ میری شخصی آزادی کو متاثر نہ کرے ۔یعنی وہ جو حدیث کا مفہوم ہے کہ نہ ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ شخص طاہر شاہ کی طرح ایک اسپیشل ایوارڈ کا مستحق ہے جو میرا دل اس حد تک خراب کر دے کہ میں اللہ سے دعا کروں ’’یااللہ اس کو تھوڑا سا سبق سکھا دے ‘‘
مستقبل کے ارادے کیا ہیں ؟ مستقبل کے ارادے یہ ہی ہیں کہ تحاریر کے سلسلے کو ہی آگے بڑھایا جائے ۔مشاعروں میں شرکت کی بھی خواہش ہے ۔مگر بات یہ ہی ہے کہ اگر آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں تب ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے
آپ کی اپنی کوئی پسندیدہ غزل۔۔۔۔۔۔۔ میری یہ غزل مجھے بہت پسند ہے
کہاں زخمی دلوں کی پھر نئی تالیف ہوتی ہے                         کہ رکھتے ہو تم جب مرہم بڑی تکلیف ہوتی ہے
عجب افسانے لکھتی ہے یہ لڑکی اپنی نظروں سے                 کہ ہر اگتے ہوئے دن اک نئی تصنیف ہوتی ہے
جدائی کی جو باتیں ہیں بڑی تفصیل سے کی ہیں                    ملن کی بات آ جائے تو کیوں تخفیف ہوتی ہے
پرانے زخم بھر جائیں اگر ناسور کٹ جائے                              جراحی کے عمل میں لازمی تکلیف ہوتی ہے
ثریا بے سبب تنقید سے تو بچ نہیں سکتے                              خدا کا شکر مانو بے سبب تعریف ہوتی ہے

(Visited 80 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *