جب میں مرجاؤں گا ۔۔۔تحریر :الیاس محمد حسین

کبھی کبھی سوچتا ہوں جب زندگی کا خاتمہ ہوگا اورمیں مر جاؤں گا تو کیا ہو گا..؟؟؟ یقینی بات ہے روح سے میرے جسم کا رشتہ کٹ جائے گا یعنی میرا ٹیلیگرام آف-لائن ہو جائے گا میری فیس بک آف-لائن ہو جائے گی.. میرا واٹس ایپ آف-لائن ہو جائے گا میرا وائبر اکاونٹ آف-لائن ہو جائے گا.. پھر میری پوسٹ پر کمنٹ ایڈ نہیں کیے جائیں گے اگر میں نے غیر اسلامی پوسٹ اور غیر اخلاقی تصاویر نشر کیں تو یہ تا قیامت اس سوشل میڈیا, (دنیائے مجازی) میں۔میری ٹائم لائن پر موجود رہیں گی… یہ سوچ سوچ کر کانپ کانپ جاتاہوں کوئی اسے مٹا نہیں سکے گا..میری طرف سے گناہ جاریہ کہ طور پر لوگوں کہ درمیان رہے گی.. پس آخر میرے ساتھ قبر میں کیا باقی رہے گا..؟؟؟ جو میں نے قرآن پڑھا وہ آن لائن رہے گا۔ جو میں نے نمازیں پڑھیں وہ آن لائن رہیں گی.. یا دنیامیں جو میں نے زکوۃ ادا کی وہ آن لائن صرف میرے نیک اعمال آنلائن رہیں گے.. اگر میں نے سوشل میڈیا پر اسلامی اور مفید پوسٹ نشر کی تو ہو سکتا ہے کسی دوست کے لئے فائدہ مند ثابت ہو جائے اور یہ صدقہ جاریہ کہ طور پر آنلائن رہے گی۔ جو کام بھی میں نے اللہ کے لئے انجام دئیے وہ آنلائن رہیں گے یا جو صدقہ زکوٰۃ دی،نیک کام کئے،کسی کی اعلانیہ غیر اعلانیہ مدد کی۔ لوگوں کی دعائیں لیں حج،روزہ نماز یا نیک اعمال کیا کام آئے گا؟ آئیں، سب اس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں.. بالاخر ہم سب نے مرنا ہے.. موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے۔اس لیے سوشل میڈیا کا استعمال اس طرح کریں کہ لوگوں کو ہم سے فائدہ حاصل ہو.. پھر چاہے یہ فائدہ دنیاوی ہو.. یا ایمانی و اخروی آپ کہ ہاتھ میں اس موبائل کہ پکڑنے کا کوئی وزن نہیں ہے.. لیکن اس کا غلط استعمال بروز محشر آپ کی کمر توڑ سکتا ہے حالانکہ میں نے کہیں پڑھاہے کہ جب روح نکلتی ہے توانسان کامنہ کھل جاتاہے ہونٹ کسی بھی قیمت پرآپس میں چپکے ہوہے رہ نہیں سکتے روح پیرکوکھینچتی ہوہی اوپرکی طرف آتی ہے جب پھپڑوں اوردل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتاہے جب چند لمحوں میں انسان شیطان اورفرشتوں کودنیامیں اپنے سامنے دیکھتاہے
ایک طرف ابلیس اس کے کان میں کچھ مشورے دیتاہے تودوسری طرف اسکی زبان اس کے مطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی ہے اگر انسان نیک ہوتواسکادماغ اسکی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتاہے برے اعمال کرنے والے کو قبرمیں منکرنکیر کے سوالوں کے جواب دینا مشکل ہوجاتاہے
اگرانسان کافرہوبددین مشرک یادنیاپرست ہوتاہے تو اسکا دماغ کنفیوڑن اورایک عجیب ہیبت کاشکارہوکرشیطان کے مشورے کی پیروی کرتا ہے اور بہت ہی مشکل سے کچھ الفاظ زبان سے اداکرنیکی بھرپورکوشش کرتاہے یہ سب اتنی تیزی ہوتاہے کہ دماغ کودنیاکی فضول باتوں کوسوچنے کاموقع ہی نہیں ملتاانسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف دل و دماغ پر محسوس کرتاہے لیکن تڑپ نہیں پاتا بے حسی طاری ہوجاتی ہے کیونکہ دماغ کوچھوڑکرباقی جسم کی روح اسکے حلق میں اکٹھی ہوجاتی ہے اورجسم ایک گوشت کے بے جان ن لوتھڑے کی طرح پڑاہواہوتاہے جس میں کوہی حرکت کی گنجائش نہیں رہتی آخرمیں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی ہے آنکھیں روح کولیجاتیہوے دیکھتی ہیں اسلیے کہ آنکھوں کی پتلیاں اوپرچڑھ جاتی ہیں یاجس سمت فرشتہ روح قبض کرکے جاتاہے اس سمت کی طرف ہوتی ہیں
اس کے بعدانسان کی زندگی کاسفرشروع ہوتاہے جس میں روح تکلیفوں کے تہہ خانوں سے لیکر آرام کے محلات کی آہٹ محسوس کرنے لگتی ہے جیساکہ اس سے وعدہ کیا گیا ہے جودنیاسے گیاواپس کبھی لوٹانہیں
صرف اس لئے کہ کیونکہ اسکی روح عالم اے برزخ کاانتظارکررہی ہوتی ہے جس میں اسکاٹھکانادیدیاجا ئے گا
اس دنیا میں محسوس ہونے والی طویل مدت ان روحوں کے لیے چند سیکنڈز سیزیادہ نہیں ہوگی یہاں تک کہ اگرکوہی آج سے کروڑوں سال پہلے ہی کیوں نہ مرچکاہو۔مومن کی. روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے آٹے سے بال نکالاجاتاہے گناہ گار کی روح خارداردرخت پرپڑے سوتی کپڑے کی طرف کھینچی جاتی ہے اللہ سبحانا وتعالی ہم سبکو موت کے وقت کلمہ نصیب فرماکرآسانی کیساتھ روح قبض فرما
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کادیدارنصیب فرما آمین یارب العالمین

(Visited 7 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *