’’ زن، زر، زمین !!‘‘ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

کہتے ہیں دنیا میں سب سے پہلا قتل ’’ زن ‘‘ کی وجہ سے ہوا ۔ ہابیل اپنے بھائی قابیل کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارا گیا، اور وجہ بنی ’’ زن ‘‘ ایک عورت ۔ دنیا میں پہلا فساد ’’ زر ‘‘ کی وجہ سے ہوا ۔ اور ’’ زمین ‘‘ ہے تو سب کی ماں ۔ ۔ مگر ہمارے معاشرے میں زیادہ تر فساد کی وجہ یہی ’’زمین ‘‘بنتی آئی ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کو جب اس دنیا پر اتارا تو اسے زندگی گذارنے کے آداب سکھائے ۔ عقل و شعور کی دولت عطا فرمائی ۔ لیکن ساتھ ہی اسکے کھلے دشمن ’ شیطان ابلیس ‘‘ کو کھلی چھٹی بھی دے دی کہ وہ انہیں جس راستے سے چاہے بھٹکائے ۔ پھر جو مومن ہونگے، وہ اس کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، اور جو ان تین ’’ ز‘‘ کی زد میں آئیں گے ان کا پھر وہی حال ہوگا ۔ جو ایسے لوگوں کا ہو سکتا ہے ۔ ۔ ******************* ۔ میر ہاشم ایک محنتی اور ایماندار انسان تھے ۔ ایک باپ اور بڑے بھائی کے سوا دنیا میں کوئی تھا ہی نہیں انکا ۔ ماں کا سایہ سر سے بچپن میں ہی اٹھ گیاتھا اور بہن کوئی تھی نہیں ۔ سو یہ تین مرد اپنی زندگی ویسے ہی گذار رہے تھے، جیسے کہ چھڑے چھانٹوں کی گذرا کرتی ہے ۔ روشن بھائی نے ابا جی کے مشورے سے حلوائیوں کا سیکھنا شروع کیا اور جلد ہی اس میں طاق ہو گئے ۔ ہاشم بھی بھائی کے ساتھ ساتھ ہی تھے مگر دکان پر ہولڈ روشن بھائی کا ہی تھا ۔ ہاشم نے کبھی اس بات کو محسوس ہی نہیں کیا تھا، وہ تو بھائی کے ابرو کے اشارے پر جان دینے کو تیار رہتے تھے ۔ روشن بھی ان کا بہت خیال رکھتے ۔ یہ تینوں مرد بڑی پرسکون زندگی گذار رہے تھے ۔ اپنا کماتے، خود پکاتے اور جی بھر کے کھاتے ۔ کل کیا ہوگا، کل کے لیئے کچھ بچانا ہے یا نہیں ، یہ ان تینوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ میر روشن اور میر ہاشم کو لگتا تھا کہ زندگی یونہی سکون سے گذر جائے گی ۔ مگر ابا جی کے پلان کچھ اور ہی تھے ۔ سو ، جیسے ہی میر روشن کا کام اچھا خاصا چل نکلا انہوں نے اسکے پیروں میں زنجیر ڈال دی ۔

رقیہ انکی بھتیجی تھی ۔ زبان کی تیز مگر ہاتھ پاؤں کی بہت پھرتیلی ۔ اباجی کو اپنے آنگن کا سونا پن کھلنے لگا تو رقیہ کوبہو بنا لائے ۔ گھر میں ایک عورت کیا آئی، گھر کا تو نقشہ ہی بدل گیا ۔ وہ ایک مخصوص قسم کی ویرانی اور اداسی جو درودیوار کے ساتھ لپٹی رہتی تھی، اسکی جگہ ایک شوخ ہنسی کی جلترنگ نے لے لی ۔ رقیہ بھابھی کی چوڑیاں بجتیں تو گھر کے درو دیوار اس جھنکار کے ساتھ مل کر نغمے گاتے ہو ئے محسوس ہوتے ۔ میر روشن تو خوش تھے ہی، میر ہاشم کی بھی سنی گئی تھی ۔ اب نہ تو انہیں سب کے کپڑے دھونے پڑتے اور نہ ہی کھانا بنانا پڑتا ۔ رقیہ بھابھی منٹوں میں سب کر ڈالتیں ۔ ہاں ، البتہ مزاج کی تیز تھیں ، اور کچھ تاےا پر مان بھی تھا، اس لیئے بعض اوقات ضرورت سے زیادہ کی چخ چخ کر جاتیں ۔ میر روشن تو ان کی ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینے کی عادی تھے، مگر میر ہاشم اکثر غصہ کر جاتے ۔ ایسے میں ابا جی انہیں پیار سے رام کر لیا کرتے ۔ دن اسی طرح گذرتے گئے اور میر روشن دو بچوں کے باپ بن گئے ۔ اب رقیہ بیوی سے ماں بن چکی تھی ۔ اسے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہر چیز سے زیادہ تھی، اسی لیئے اس نے میر ہاشم کے کاموں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ۔ ابا جی تو شروع سے ہی اپنے کام خود کرنے کے عادی تھے، یہ میر ہاشم ہی تھے، جنہوں نے بھابھی کا آسرا پاتے ہی خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا ۔ مگر اب بھابھی بیگم نے ان کی طنابیں کھنچ دیں ۔ پہلے پہل تو وہ بوکھلائے، پھر سٹپٹا کر بھائی سے گلہ کر بیٹھے ۔

’’ ہاشم ۔ !! رقیہ اب تھک جاتی ہے ۔ اس اکیلی سے سارے گھر کا کام نہیں سنبھالا جاتا ۔ میں اور اور ابا جی سوچ رہے ہیں کہ تمہاری بھی شادی کر دی جائے ۔ تمہاری دلہن آجائے گی تو وہ خود ہی تمہارے سب کام کر دیا کرے گی ۔ کیوں ، ٹھیک ہے ناں ۔ ;238; ‘‘ میر روشن نے پیار سے بھائی کی پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا تو وہ منہ کھولے انہیں دیکھتے ہی رہ گئے ۔

’’ میری شادی ۔ ;238; لیکن کس سے ۔ ;238; چاچا جی کی تو ایک ہی بیٹی تھی رقیہ باجی، اور اس سے آپ کی شادی ہوگئی، اب میں کس سے شادی کرونگا ۔ ;238; ‘‘ پچیس سالہ بھائی کے منہ سے پانچ سالہ بچے جیسے بات سن کر میر روشن ہکا بکا رہ گئے تھے ۔ بھائی کی معصومیت پر پیار بھی آیا اور اس کی سادگی پر ہنسی بھی ۔

’’ ارے بدھو ۔ دنیا میں کیا صرف ایک ہی لڑکی تھی، ہمارے چاچا جی کی رقیہ ۔ ;238; کیا اس دنیا میں لڑکیوں کا کال پڑ گیا ہے جو تم اتنے پریشان ہو رہے ہو;238; ‘‘ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تو ہاشم جھینپ گئے ۔

’’ نہیں بھائی، میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔ مگر پھر بھی ۔ ۔ !! ‘‘ وہ شرماتے ہوئے بولے، مگر انداز میں الجھن ہنوز باقی تھی ۔

’’ پگلے ۔ تم پریشان مت ہو ۔ ہم تمہارے لیئے رقیہ سے بھی اچھی دلہن لائیں گے ۔ جیسے دیکھتے ہی تم دیوانے ہو جاوَ گے ۔ سمجھے ۔ ‘‘ میر روشن نے بھائی کا ماتھا چومتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ مسکرا کر ان سے لپٹ گئے ۔

*******************

کہتے ہیں کہ مرد کی زندگی میں دولت اسکی بیوی کے نصیب سے آتی ہے اور اولاد خود اس مرد کی قسمت سے ۔ اگر عورت کا ستارہ مرد کے ستارے سے مل جائے، تو پھر اس مرد کی زندگی میں شامل ہونے والی یہ پہلی ’’ز‘‘ ’’زن‘‘ دوسرے دونوں ’’ز‘‘ ’’ زر اور زمین‘‘ کو خود بخود ہی کھینچ لاتی ہے ۔ میر ہاشم کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہوا ۔ ناہید انکی زندگی میں کیا آئی، زر اور زمین کو اپنے ساتھ کھینچ لائی ۔ ہاشم تو پہلے ہی بہت محنتی اور ایماندار جوان تھے، اب تو ان کی محنت کا عالم ہی جدا تھا ۔ قسمت کی دیوی بھی ان پر مہربان تھی، سو مٹی کو ہاتھ ڈالتے، وہ سونا بن جاتی ۔ ناہید بھی ہاشم کی طرح بہت محنتی اور جفاکش خاتون تھیں ۔ انہوں نے گھر کی ہر ذمہ داری سے ہاشم کو بے فکر کر دیا تھا ۔ ہاشم خوب محنت سے کماتے تو ناہید اسے کفاءت شعاری اور سلیقہ مندی سے استعمال کرتیں ۔ وقت گذرتا گیا اور اس گذرے وقت میں کافی کچھ بدل گیا ۔ اب وہ دو نہیں رہے تھے ۔ ان کی فیملی بڑھ رہی تھی ۔ روشن بھائی اور رقیہ بھابھی کی فیملی بھی بڑھ چکی تھی ۔ اباجی انہیں داغ مفارقت دے کر راہی ملک عدم ہو چکے تھے ۔

اس چار مرلے کے گھر میں اب دو فیملیاں مقیم تھیں ۔ دو د و’’ زنانیاں ‘‘، اور دونوں ہی اپنے آپ میں بہت کچھ تھیں ۔ ان کی آپس میں ٹھن بھی جاتی، اور پھر خود بخود ہی بن بھی جاتی ۔ بچوں کا بھی یہی حال تھا ۔ روشن اور رقیہ کے چھ بچے ہو چکے تھے ۔ سب ہی پڑھتے تھے اور موقع ملتے ہی چچا کے بچوں سے خوب لڑتے بھی تھے ۔ ہاشم اور ناہید بھی ان سے پیچھے نہیں رہے تھے ۔ بلکہ دو ہاتھ آگے ہی تھے ۔ رقیہ کے بچوں میں دو دوسال کا وقفہ تھا، مگر ناہید بیچاری ہر سال تخلیق کے عمل سے گذرتی تھی ۔ اگر کوئی ٹوک دیتا تو ہاشم اور ناہید کے ساتھ ساتھ روشن اور رقیہ کو بھی آگ لگ جاتی ۔

’’ لو بھلا ۔ لوگوں کو کیا تکلیف ہے ۔ ہمارے دس بچے ہوں یا دو ۔ اللہ کی دین ہے ۔ ہم اس سے مقابلہ تو نہیں کر سکتے ۔ ;238; اللہ کا حکم ہے کہ رزق کی وجہ سے اولاد کو قتل مت کرو، ۔ اور اللہ تو ہ میں کھلا رزق دے رہا ہے ۔ شکر ہے مالک کا ۔ پھر ہم ناشکری کیوں کریں ۔ وہ دئے گا تو ہم خوشی خوشی لیں گے ۔ کسی کو کوئی اعتراض ہے تو اپنے گھر بیٹھے، مت ملا کرے ہم سے ۔ ہاں ۔ ‘‘ ساتھ والی ہمسائی ( بھابی ارشاد)نے جانے کس ترنگ میں ناہید کے نویں بچے کی پیدائیش پر رقیہ سے مذاق کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ تو پنجے جھاڑ کر اسکے پیچھے ہی پڑ گئیں ۔

’’ ارے ۔ اللہ کا مال ہے تو اختیاط سے وصول کرو ناں ۔ تم دونوں دیورانی ،جیٹھانی نے تو مقابلہ بازی شروع کر رکھی ہے ۔ ایک کا چھلہ ختم ہوتا نہیں کہ دوسری کی طرف سے خوش خبری مل جاتی ہے ۔ حد ہوتی ہے کوئی ۔ بندہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے، تم دونوں نے تو چادر لیرو لیر ہی کر ڈالی ۔ اتنا چھوٹا چار مرلے کا گھر اور ماشا اللہ بچوں کی پوری فوج ۔ اللہ ہی حافظ ہے تم لوگوں کا ۔ ‘‘ ہمسائی کونسا دودھ پیتی بچی تھی کہ اینٹ کا جواب پھول سے دیتی ۔ اس نے بھی خوب دل کی بھڑاس نکالی اور رقیہ کو بکتے جھکتے چھوڑ غڑاپ سے اپنے گھر میں گھس کر کنڈی لگا لی ۔

’’ کم بخت ناس پیٹی کہیں کی ۔ مل جائے مجھے کہیں باہر ۔ چھوڑوں گی نہیں ۔ اسکو چٹیا سے پکڑ کر گلی میں نہ گھسیٹا تو میرا بھی نام رقیہ نہیں ۔ کالی نظر ، کالی زبان والی ۔ ہمارے بچوں کو نظر لگا رہی تھی ۔ چھوڑوں گی نہیں اسے میں ناہید ۔ بتا رہی ہوں تمہیں ۔ ‘‘ رقیہ کا مارے طیش کے برا حال تھا ۔ برا تو ناہید کو بھی بہت لگاتھا ۔ اس نے تو کئی کئی بار نظر بد کی آیات اور چاروں قل پڑھ پڑھ کے سب بچوں کو دم کیا تھا، مگر رقیہ کا خون تھا کہ جوش ہی مارے جا رہا تھا ۔

’’ چھوڑیں بھابھی ۔ دفع کریں ۔ ہ میں کیا لینا کسی سے ۔ انکا ظرف اتنا ہی تھا، سو وہ اپنا ظرف دکھا گئیں ، آپ اپنا ظرف بڑا رکھیں ۔ معاف کر دیں انہیں ۔ بڑی ہیں ہم سے ۔ ویسے بھی اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ‘‘ ناہید نے چند روزہ احد کو گود میں لٹاتے ہوئے نرمی سے کہا ۔

’’ دیکھ لو ناہید ۔ میں صرف تمہارے کہنے سے بھابھی ارشاد کو معاف کر رہی ہوں ۔ ورنہ میں نے انکا وہ حال کرنا تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رکھتیں ۔ ہاں ۔ ‘‘ رقیہ نے بھابھی ارشاد کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوتے زور سے کہا تو ناہید کو ہنسی آ گئی ۔

’’ اچھا ناں ، اب بس بھی کریں ۔ معاف کر دیا ہے تو یاد بھی رکھئے گا ۔ ابھی بھابھی ارشاد آئیں گی تو اب آپ انہیں کچھ نہیں کہیں گی ۔ کیونکہ آپ انہیں معاف کر چکی ہیں ۔ ٹھیک ہے ناں ۔ ‘‘ ناہید نے ہنستے ہوئے کہا تو رقیہ برا سا منہ بنا کر رہ گئیں ۔ اور پھر ناہید کا کہا سچ ہی ثابت ہوا ۔ تھوڑی ہی دیر میں شرمندہ شرمندی سی بھابھی ارشاد ناہید کے لیئے یخنی کا پیالہ اٹھائے چلی آ رہی تھیں ۔ رقیہ کی رگ ِ انتقام پھڑک رہی تھی، مگر ناہید سے وعدہ کر چکی تھیں اس لیئے چپ چاپ چائے بنانے چلی گئیں ۔

’’ بینا کے ابا ۔ اب ہ میں یہ جگہ بہت کم پڑنے لگی ہے ۔ بچے بڑے ہو رہے ہیں اور دو کمروں میں ہمارا گذارا نہیں ہو رہا ۔ روشن بھائی اور رقیہ بھابھی بھی دو کمروں میں بہت تنگی سے گذارا کر رہے ہیں ۔ آپ اس بارے میں کچھ سوچتے کیوں نہیں ۔ ‘‘ احد سال بھر کا ہو چکا تھا ۔ اسکے بڑے بھائی بہنیں سب اسکول چلے جاتے تھے، بس وہ اور اس سے بڑے دو بھائی زید اور شاہد ہی گھر ہوتے تھے ۔ جب تک بڑے بچے گھر سے باہر رہتے گھر میں سکون سا رہتا، مگر جیسے ہی سارے بچے اسکول سے واپس آ جاتے، گھر میں ایک طوفان بدتمیزی برپا ہو جاتا ۔ ناہید لاکھ انہیں منع کرتیں ، ڈانٹتی، گھرکتیں ، مگر بچے تو پھر بچے ہی تھے، کہاں سنتے کسی کی ۔ پھر رات کو سونے کا بھی بڑا مسلہ ہوتا، ایک ایک چار پائی پر دو دو بچوں کو ڈالا جاتا، جگہ پھر بھی کم پڑ جاتی ۔ ناہید اس صورتِ حال سے پریشان ہو گئیں تو ہاشم سے الجھ پڑیں ۔

’’ تم بتاوَ، میں کیا سوچوں ۔ میرا تو سار دھیان کام میں ہی لگا رہتا ہے ۔ گھر میں کیا ہوتا ہے، مجھے نہیں پتا ۔ ‘‘ ہاشم نے انہیں دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا تو ناہید مزید الجھ گئیں ۔

’’ اچھا ۔ اب یہ بھی آپکو میں ہی بتاؤں ۔ ;238; آپ کوئی اور جگہ کیوں نہیں لے لیتے ۔ دور نہیں جا سکتے تو اسی محلے میں کوئی اور بڑا گھر لے لیں ۔ جہاں کم ازکم ہمارے بچے آرام اور سکون سے سو تو سکیں گے ناں ۔ یہاں تو ایک ایک چارپائی پر تین تین پڑے ہوتے ہیں ۔ نہ ڈھنگ کی نیند نہ چین اور نہ سکون ۔ ‘‘

’’ اچھا ۔ میں بات کرتا ہوں بھائی سے ۔ دیکھتا ہوں وہ کیا کہتے ہیں ۔ ‘‘ ہاشم نے کروٹ بدلتے ہوئے جیسے بات ختم کی اور اگلے ہی پل ان کے خراٹے گونج رہے رتھے ۔ ان کی نیند ایسی ہی تھی ۔ ناہید انہیں کلس کر دیکھتی ہی رہ گئیں ۔

*********************

میر ہاشم نے اسی محلے میں دس مرلہ کا پلاٹ خریدا اور اس پر کنسٹرکشن شروع کروا دی ۔ انہوں نے بھائی سے اپنا حصہ مانگا تو بھائی نے سر جھکا لیا تھا ۔

’’ ہاشم ۔ !! ہم تمہیں حصہ کہاں سے دیں ۔ تم دیکھتے نہیں ہو تمہارے بھائی کی دکان گھاٹے میں جا رہی ہے اور اس پرلڑکیوں کی پوری کھیپ ۔ اب اگر یہ گھر بیچ کر تم دونوں بھائی اپنا اپنا حصہ لے بھی لیتے ہو تو کسی کے پلے کیا پڑے گا ۔ ;238; تم تو پھر بھی کچھ نہ کچھ کر لو گے ۔ تمہارا کام بھی اچھا چل رہا ہے اور ناہید نے کافی جوڑ جمع بھی کر رکھا ہے ۔ مگر ہم تو سڑک پر آ جائیں گے میرے بھائی ۔ کچھ تو خیال کرو ہمارا ۔ ‘‘ روشن تو خاموش سر جھکائے بیٹھے تھے، مگر رقیہ سے برداشت نہ ہوا تو ایکدم پھٹ ہی پڑیں ۔

’’ بس بھابھی ۔ !! اس سے زیادہ کچھ مت کہنا ۔ کوئی بات نہیں ۔ آپ اس گھر میں آرام سے رہیں ۔ میں اپنا حصہ بھی اپنے بھائی پر وار دونگا، مگر اپنی بھتیجیوں کو رلتا نہیں دیکھ سکوں گا ۔ آپ بے فکر ہو جایں ۔ مجھے بس دو ماہ کا وقت دے دیں ۔ میں اپنے بچے لے کر یہاں سے چلا جاوَنگا ۔ ‘‘ ہاشم نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا تو ان کے ساتھ بیٹھا نکا بڑا بیٹا ہاءصم حیرت سے باپ کو دیکھنے لگا ۔

’’ ابو جی ۔ !! ہم تایا جی سے کمزور ہیں کیا ۔ ;238; ان سے اپنا حصہ نہیں لے سکتے ، جو آپ نے انہیں دادا کاگھر پورے کا پورا دے دیا ۔ امی کو پتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔ وہ کبھی نہیں مانیں گی ۔ ‘‘ ہاءصم کا جوان خون جوش مار رہا تھا مگر ہاشم کی رگوں میں بھائی کی محبت جوش بن کر دوڑ رہی تھی ۔

’’ ہاءصم بیٹا ۔ !! میری ایک بات یاد رکھنا ۔ بھائی بھائیوں کی طاقت ہوتے ہیں ۔ بازو ہوتے ہیں ۔ ان پر مان کیا جاتا ہے ۔ ان سے لڑا نہیں جاتا ۔ اور رہی بات تمہاری ماں کی، تو وہ عورت ہے ۔ اسے پیار سے سمجھاؤں گا تو سمجھ جائے گی ۔ لیکن اگر اکڑ کر دھونس سے بات کرونگا تو وہ بھی تن جائے گی ۔ بات کو سمجھنے کی بجائے الجھا دے گی ۔ اس لیئے بیٹا کہ عورت مرد کی پسلی سے بنی ہے ۔ نرمی سے جھک جاتی ہے اور سختی سے ٹوٹ جاتی ہے ۔ سمجھے ۔ ‘‘ ہاشم نے بیٹے کے ساتھ چلتے ہوئے اسے بڑے پتے کی باتیں سمجھائیں تھیں ، اور ہاءصم بھی ایسا بیٹا کہ باپ کی باتوں کو غور سے سنا، سمجھا اور پھر دل میں ایسے اتار لیا کہ ایک ایک لفظ نقش ہو کر رہ گیا ۔

’’ امی ۔ !! ابو نے چوک کے پاس والی گلی میں پلاٹ خرید لیاہے ۔ اس پر کام بھی شروع کروا دیا ہے ۔ اب ہم جلد ہی اپنے نئے گھر میں چلے جائیں گے ۔ کتنا مزہ آئے گا ناں ۔ ‘‘زید نے ناہید کے شانے سے لٹکتے ہوئے مزے سے کہا تو وہ بھی خوش دلی سے مسکرا دیں ۔

’’ ہاں ، اللہ خیر کا وقت لائے ۔ اب تم لوگ خوب کھلے ڈلے ہو کر کھیلا کرنا ۔ کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا میرے بچوں پر ۔ ‘‘ ناہید نے بیٹے کو پیار سے گلے لگاتے ہوئے کہا تو پاس بیٹھی بینا جل بھن کر رہ گئی ۔ یہ سب بہن بھائیوں سے بڑی تھی ۔ ہاشم کی بہت لاڈلی تھی ۔ ہاءصم اور بینا دونوں ہی ہاشم کو بہت پیارے تھے ۔ ہاءصم کا مزاج باپ جیسا تھا، مگر بینا بہت پوزیسو مزاج رکھتی تھی ۔ اپنے باپ بھائی، کے علاوہ اپنے گھر اور ہر چیز پر صرف اپنا ہی قبضہ دیکھنا چاہتی تھی ۔ اسی لیئے باپ کا فیصلہ اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔

’’ امی ۔ !! ہم تو نئے گھر میں چلے جائیں گے، مگر یہاں کون رہے گا ۔ ;238; ہمارے کمرے کس کے استعمال میں آئیں گے پھر ۔ ;238;‘‘

’’ کون رہے گا ۔ ;238; تمہارے تایا تائی جان رہیں گے ۔ اور کون رہے گا ۔ ان کی مرضی ہے بیٹا، یہ کمرے خود لے لیں یا بچوں کے لیئے تیار کر لیں ۔ ہ میں اس سے کیا ۔ ہ میں تو اللہ نے اپنا گھر دے دیا ہے ۔ اس سے کہیں بڑا اور کشادہ ۔ اب بھائی بھابھی جانئیں اور ان کا کام ۔ ‘‘ ناہید نے سلائی مشین کی سوئی میں دھاگہ ڈالتے ہوئے نرمی سے کہا تو بینا کا منہ پھول گیا ۔

’’ امی ۔ !! یہ گھر دادا کا ہے ۔ اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ اور ہم اپنا حصہ ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔ ہم اپنے کمروں کو تالا لگا کر جائیں گے ۔ جب تک تایا جان ہ میں پیسے نہیں دیں گے، ہم انہیں کمرے نہیں دیں گے ۔ سنا آپ نے ۔ ‘‘ وہ ماتھے پر سو بل ڈالے ماں کو نیا سبق دے رہی تھی ۔ ناہید نے حیرت سے اپنی سولہ سالہ جوان ہوتی بیٹی کو دیکھا اور پھر اسکی بات پر غور کرنے لگیں ۔

’’ ہاں ، بینا کہہ تو ٹھیک رہی ہے ۔ ہم کیوں اپنا حصہ چھوڑیں ۔ آخر میرے سسر کا گھر ہے ۔ بھابھی رقیہ کون سا جہیز میں لائی تھیں جو انہیں پورے گھر کی مالکن بنا دیا جائے ۔ ہوں ، آلیں آج بیناکے ابا ۔ بات کرتی ہوں ان سے ۔ لو یہ کوئی بات ہوئی بھلا ۔ مجھ سے زیادہ عقل مند تو میری بیٹی ہو گئی ہے ۔ کیسے پتے کی بات بتائی اس نے ۔ ‘‘ ناہید کا ذہن اسی ٹریک پر چل نکلا تھا ۔ وہ سارا دن اسی ادھیڑ بن میں جانے کیا کیا اسکی میں بناتی رہیں ۔ ایک بار بھی انہیں سوچ نہ آئی کہ اگر رقیہ چار مرلے کی مالکن بن رہیں ہیں تو اللہ نے انہیں دس مرلے کی مالکن بنا بھی دیا، مگر پھر وہی’’، زر، زن زمین‘‘ ۔

’’ بینا کی ماں ۔ تمہیں یہ باتیں زیب نہیں دیتیں ۔ تم ماں ہو، بجائے بچی کو سمجھانے کے، اسکی الٹی بات پلے سے باندھ کر بیٹھ گئیں ۔ شکر ادا کرو اللہ کا کہ اس نے تمہیں اتنے بڑے گھر کی مالکن بنا دیا ہے ۔ رقیہ بھابھی کے پاس کیا ہے، چار مرلے زمین اور چار ہی کمرے، اور تم خود کو دیکھو ۔ دس مرلے کا کھلا ڈلا گھر ۔ ایک منزل تیار ہوگئی، اب چاہے اوپر دو منزلیں اور ڈلوا لینا ۔ تمہارا ہاتھ روکنے والا کون ہے ۔ بتاوَ مجھے ۔ ;238; ‘‘ ناہید نے جیسے ہی بیٹی کی تجویز ہاشم کے سامنے رکھی، وہ الٹا انہیں سمجھانے بیٹھ گیئے ۔ ان کی باتیں ناہید کے دل کو لگ رہی تھیں ۔ وہ شرمندہ سی ہو گئیں ۔ واقعی، کل کی بچی کے پیچھے لگ کے وہ برسوں پرانے رشتے کھونے جا رہی تھیں ۔ ہاشم نے انکے چہرے کی شرمندگی پڑھ لی تھی ۔ اس لیئے انہیں دلاسا دیا اور بینا کو بھی سمجھایا کہ اپنی توانائیاں فضول قسم کی باتوں میں ضائع کرنے کی بجائے گھر کے کاموں میں دھیان لگائے ۔

وہ لوگ اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو گئے ۔ میر روشن اور رقیہ بھی سکون سے آبائی گھر میں رہنے لگے ۔ وقت کا پہیہ اپنی مخصوص رفتار سے چلتا رہا ۔ بچے جوان ہو گئے اور ہاشم اور روشن بوڑھے ۔ روشن نے اپنی تین بیٹیوں کی شادیاں کر دیں ۔ ہاشم اور ناہید نے خود انکی شادیوں میں ہر طرح کی مدد اور تعاون کیا تھا ۔ انہیں دنوں بینا کا رشتہ بھی اچھی جگہ سے آگیا، ہاشم اور ہاءصم نے اچھی طرح چھان بین کے بعد اس کو باعزت طریقے سے رخصت کر دیا ۔ بینا کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی ہوئی تھے اس سے چھوٹی کا بھی رشتہ آ گیا ۔ لوگ اچھے تھے، لڑکا شریف اور نیک تھا، سو اللہ کا نام لے کر اسکی نیا بھی پار لگا دی گئی ۔ اسی طرح ہوتے ہوتے انہوں نے ایک ایک کر کے سارے بچے بیا ہ دئے ۔ ہاءصم کی شادی ہاشم نے اپنے دوست کی بیٹی سے کر دی زید کو تایا کی چھوٹی بیٹی ہما پسند تھی، ناہید خوشی خوشی اسے بہو بنا لائی ۔ یوں تو ہاشم نے سب بیٹوں کو الگ الگ کام کروائے تھے، مگر زید اور احد کا کاروبار اکٹھا تھا ۔ شاہد کو ہاءصم اپنے ساتھ فیکٹڑی لے جاتا تھا کیونکہ وہ اپنے نام کا ایک ہی تھا ۔ غصے کا بے حد تیز اور بد تمیزی کی حد تک منہ پھٹ ۔ بات بات پر لڑنے مرنے کو تیار اور گالیوں میں تو جیسے اس نے ;8046724668; کر رکھا تھا ۔ ہاشم اور ناہید اسے سمجھا سمجھا کر عاجز آ چکے تھے ۔ ان کی ساری اولادوں میں یہ واحد بچہ تھا، جو سب سے زیادہ بگڑا ہوا تھا، مگر خود کو سب سے زیادہ سمجھدار اور نیک سمجھتا تھا ۔

’’ بیناکی ماں ۔ میں تو اس لڑکے کی وجہ سے کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہا ۔ محلے میں ہر کسی کو اس سے شکاءت ہے ۔ بازار میں ہر کسی کی اس سے لڑائی ہے ۔ میں جدھر سے گذرتا ہوں ، اس کی شکائیتیں ہی ملتی ہیں مجھے ۔ تم ہی مجھے بتاوَ ۔ اس کا کوئی تو حل ہوگا ۔ کیا کریں اس لڑکے کا ۔ ‘‘ ہاشم ابھی ابھی گھر آ ئے تھے، اور راستے میں کوئی دس لوگوں نے انہیں روک کر ’’شاہد نامہ‘‘ سنایا تھا ۔

’’ ابوجی ۔ !! اس کی شادی کر دیں ۔ دیکھ لیجئے گا ۔ دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا ۔ ‘‘ بینا حسب معمول میکے آئی ہوئی تھی، سو اپنا قیمتی مشورہ لیئے فوراً گفتگو میں چھلانگ لگا دی ۔

’’ شادی کریں ۔ ;238; مگر کس سے ۔ ;238; اس بد تمیز آوارہ کو کون لڑکی دے گا اپنی ۔ ;238; حد کرتی ہو تم بھی ۔ ہر مسلےٰ کا حل شادی تھوڑی ہوتا ہے ۔ شادی کر دیں اونہہ ۔ ‘‘ ناہید کو تو بینا کا بیچ میں کودنا ہی کھلا تھا کہ اس پر اسکا مشورہ ۔ انہیں تو جیسے آگ ہی لگ گئی ۔

’’ ٹھیک کہہ رہی ہوں امی ۔ ہر مسلےٰ کا حل شادی ہو یا نہ ہو، مگر شاہد کے مسلےٰ کا حل صرف شادی ہی ہے، اور شادی بھی کسی ایسی لڑکی سے جو اسے قابو کر سکے ۔ ‘‘ بینا اپنی بات پر قائم تھی ۔ ہاشم بھی سوچ میں پڑ چکے تھے ۔

’’ ارے لڑکی ۔ ہوش کی دوا کر جا کے ۔ ہم سے تو قابو ہو نہیں رہا یہ جانور اور بیوی کے قابو آ جائے گا ۔ ‘‘

’’ آئے گا امی ۔ آئے گا ۔ آپ ایک بار سوچیں تو ۔ اور لڑکی کا کیا ہے، چچا کریم کی چھوٹی بیٹی نادیہ کیسی رہے گی ،;238; آپ چچا سے بات کریں ۔ وہ مان جائیں گے ۔ ‘‘ بینا نے پرانے محلے میں رہنے والے ہاشم کے عزیز دوست کا حوالہ دیا تو ناہید بھی سوچ میں پڑ گئیں ۔ کریم انتہائی شریف النفس انسان تھے ۔ خود بھی پڑھکے لکھے تھے اور بچوں کو بھی پڑھا رہے تھے ۔ گھر کا ماحول اچھا سلجھا ہوا تھا ۔ نادیہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی ۔ خاموش طبع اور پھرتیلی سی ۔ ان کے دل کو بینا کی بات لگی ۔ انہوں نے ہاشم کی سمت دیکھا ۔ وہ بھی انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔ بس، پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال جواب ہوئے اور اگلے چند روز میں یہ معرکہ بھی سر کر لیا گیا ۔

شاہد اور نادیہ کی شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی ۔ نادیہ بالکل ویسی نہیں تھی ، جیسی بینانے اندازہ لگایا تھا، وہ تو اس سے بھی کئی ہاتھ آگے تھی ۔ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایسا جادو چلایا کہ شاہد کو اپنا دیوانہ بنا لیا ۔ وہ سارے گھر میں سب کے سامنے ’’نادو، نادو‘‘ کے نعرے لگاتا، اسکے آگے پیچھے پھرتا رہتا، اور نادو بی بی اس اڑیل ٹٹو کو اپنی ابرو کے اشارے پر نچاتی رہتی ۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو ٹھیک تھا، مگر اب اس نے گھر کے معاملات کو قابو کرنا شروع کیا ۔ اور اس میں بینا نے اس کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ دو دو بڑی بہوؤں کے ہوتے ہوئے ساس کی جگہ نادیہ بی بی نے لے لی اور کسی کو پتا بھی نہ چلا ۔

نادیہ کا طریقہ واردت بڑا انوکھا اور نرالا تھا ۔ مکمل جوائینٹ فیملی سسٹم تھا اور سب ساتھ رہتے تھے ۔ بڑی بھابھی کے بچے بڑے تھے، اسکول جاتے تھے، اس لیئے وہ زیادہ وقت کچن کو نہیں دے سکتیں تھیں ، مگر پھر بھی اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کرتی ۔ ہما بھی اپنا کام پورا کرتی تھی، مگر نادیہ کا انداز جدا تھا ۔ وہ صبح تڑکے اوپر ساس کے کمرے میں آ جاتی ۔ ساس امی نماز اور تلاوت کے بعد آرام کر رہی ہوتیں ۔ یہ ان کے پیروں میں بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگتی ۔ یا کھڑکی میں سے گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھتی رہتی ۔ امی کی آنکھ کھلتی تو نادو محترمہ فوراً انکے پیر دبانے لگتی ۔ ان کے لیئے چائے بنا لاتی ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی ا ور باتوں ہی باتوں میں سارے راز اگلوا لیتی ۔ امی اس سے بہت خوش تھیں ۔ ہر آئے گئے کے سامنے اس کی خوب تعریفیں کرتیں ۔ پہلے یہ تعریفیں بڑی بھابھی عائیشہ کی ہوتی تھی کہ کئی سال تک تو وہ ہی ان کے ساتھ ہر دکھ سکھ کی ساتھی بنی شانے سے شانہ ملائے کھڑی ہوتی تھی ۔ ہما غریب کا کہیں نام و نشان ہی نہیں تھا ، ایک تو زید کی پسند تھی، دوسرے تایازاد یعنی کہ گھر کی مرغی دال برابر اور پھر اس پر وہ عجیب مست مولیٰ طبیعت کی مالک تھی ۔ دل کرتا تو سب کے درمیان آ کر بیٹھ جاتی، دل نہ چاہتا تو اپنے کمرے سے ہی باہر نہ نکلتی ۔ اور نادیہ میم اس کا بھی خوب فائدہ اٹھاتیں ۔ ہماکے خلاف سب کے کان بھرتی رہتی ۔ حتیٰ کہ سب نندیں ہما سے متنفر ہو گئیں ۔ ناہید بھی ہماکو بہو بنا کر پچھتانے لگیں ، مگر پھر بیٹے کو خوش دیکھتیں تو نظر انداز کر دیتیں ۔

**************************************

’’ تائی جان ۔ !! ہم باجیوں کو عیدی دینے جا رہے ہیں ۔ آپ نے کچھ بھجوانا ہے تو ہ میں ہی دے دیں ۔ ہم انہیں دے آ ئیں گے ۔ !!‘‘ ناہید دونوں بڑی بہوؤں کے ساتھ بیٹی سحری کا مینو سیٹ کروا رہی تھیں کہ نادیہ نک سک سے تیار، شانے پر بیگ لٹکائے شاہد کے ساتھ لہراتی بل کھاتی ان کے کمرے میں چلی آئی ۔ اس کی بات سن کر جہاں ناہید کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، وہیں دونوں بہوؤں کو حیرت کا شدید دورہ پڑا تھا ۔ کیونکہ یہاں مشترکہ خاندانی نظام تھا، سو ہر کام مشترکہ کیا جاتا تھا ۔ بیٹیوں کو میکے سے عیدی ضرور جاتی تھی، مگر ایک ہی جگہ ۔ ناہید اور عائیشہ ساری تیاری مل کر کرتی تھیں ۔ رمضان سے پہلے ہی خریداری کر لی جاتی اور آخری عشرے میں کوئی نہ کوئی بھائی جا کر ساری بہنوں کو عید کی سوغاتیں دے آتا ۔ پھر عید کے دوسرے دن سب بہنوں کی دعوت ہوتی تھی، اور اس دن سب بچوں کو نقد عیدی دے دی جاتی اللہ اللہ خیر صلیٰ ۔ مگر یہ نادیہ بی بی تو کوئی نئی اسکیم شروع کر رہی تھیں ۔

’’ باجیوں کو عیدی ۔ مگر وہ تو امی نے پرسوں ہی بھجوا دی تھی ۔ پھر تم کس عیدی کی بات کر رہی ہو ۔ ‘‘ عائیشہ نے نرمی سے پوچھا تو وہ منہ بنا کر شاہد کو دیکھنے لگی ۔

’’ ارے بھابھی ۔ !! وہ عیدی تو امی ابو کی طرف سے تھی ناں ۔ اور یہ عیدی تو ایک شادی شدہ بھائی اپنی بہنوں کو دینے جا رہا ہے ۔ آخر بہنو ں کو بھی تو ارمان ہوتا ہو گا ناں کہ ان کے بھائی اور بھابھیاں انکے سسرال آ کر انہیں اور انکے بچوں کو عیدی دیں ۔ ’’ نادیہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے شاہدنے اس کی زبان میں جواب دیا تو عائیشہ گہرا سانس بھر کر رہ گئی ۔

’’ لو، یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔ جب ہم سب اکٹھے رہ رہے ہیں ۔ سب کچھ اکٹھا ہے تو پھر تم دونوں یہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ کیوں بنا رہے ہو ۔ ;238; اب تم دونوں جاوَ گے ۔ پھر باجیوں کو ہماری طرف سے بھی آس لگ جائے گی ۔ چچی جان سمجھائیں ناں انہیں ۔ ‘‘ہما کو بھی سب کچھ عجیب لگ رہا تھا، گو کہ اسکی شادی کو بھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا، مگر چچازاد ہونے کی وجہ سے وہ سب پہلے سے جانتی تھی ۔

’’ تو آپکو کس نے کہا ہے کہ آپ بھی ہماری نقل کریں ۔ آپ مت جائے گا ۔ جیسے پہلے ٹرو والے دن سب کو پیسے دیتے ہیں ۔ دے دیجئے گا، مگر ہ میں کیوں روک رہی ہیں آپ ۔ ہماری مرضی ، ہم جو چاہے کریں ۔ اور ویسے بھی ہم کچھ برا نہیں کر رہے ۔ اچھا ہی کر رہے ہیں ۔ اس سے ہمارے گھر کی عزت بڑھے گی ۔ گھٹے گی نہیں ۔ سمجھیں آپ ۔ ‘‘ ہما کی بات کا ٹکڑا توڑ جواب نادیہ کی طرف سے آیا تھا ۔ ہما بھی کچھ کہنے کو تھی، مگر ناہید نے اشارے سے اسے روک دیا ۔

’’ ٹھیک ہے ۔ تم لوگ جانا چاہتے ہو تو ضرور جاوَ ۔ لیکن اگر پہلے سے ہ میں بتا دیتے تو ہم کچھ اور پروگرام بنا لیتے ۔ ‘‘ ناہید کے ہوا کا بدلتا رخ محسوس کرتے ہوئے انہیں اجازت دے دی تھی، مگر ساتھ ہی جتانا بھی لازم سمجھا تھا ۔

’’ ہاں تو ٹھیک ہے ناں ۔ یہ دونوں بیٹھی ہیں ناں آپکی لاٖڈلی بہووَیں بنا لیں انکے ساتھ جو بھی پروگرام بنانا ہے ۔ ہمارا ٹائم کیوں ویسٹ کر رہی ہیں ۔ فضول بات بڑھا کے ۔ چلو نادو ۔ ہ میں پہلے ہی دیر ہو رہی ہے ۔ میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ رہنے دو، ایسے ہی ہمارا خرچہ بھی ہو جائے گا اور برے بھی ہم ہی بنیں گے، مگر تمہیں بھی باجیوں کی محبت کا بخار چڑھا رہتا ہے ۔ چلو اب ۔ راستے سے ابھی کیک بھی لینے ہیں سب کے لیئے ۔ ‘‘ شاہد نے ایک سانس میں ماں کو دس باتیں سنائیں اور بیوی کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں اتر گیا ۔

’’ امی ۔ ! آپ پریشان مت ہوں ۔ اگر آپ کہتی ہیں تو ہم بھی کل اپنی طرف سے عید بھجوا دیں گے ۔ کوئی بات نہیں سال بعد تو عید آتی ہے ۔ نادیہ ٹھیک کہتی ہے ۔ بیٹیوں کو سسرال میں میکے اور بھائیوں کا ہی تو مان ہوتا ہے ۔ ‘‘ عائیشہ نے ساس کو پریشان دیکھا تو نرمی سے انکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔ ہما بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی ۔

’’ میں اس لیئے پریشان نہیں ہوں بیٹا کہ شاہد اور نادیہ بہنوں کی طرف اکیلے چلے گیئے ۔ بلکہ میں اس لیئے پریشان ہو رہی ہوں کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ۔ یہ ہمارے گھر میں دراڑ پڑنے والی بات ہوئی ہے ۔ اب سب کو لگے گا کہ بھائی بھائی الگ ہو گئے ۔ ایک جگہ بیٹھ کر نہ فیصلہ کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام ۔ یہ اچھا نہیں ہوا بیٹا ۔ اب تم دیکھنا، اس گھر میں نئی نئی باتیں ہونگی ۔ نئے نئے کام سر انجام دئے جائیں گے اور میرا گھر ٹوٹنا شروع ہو جائے گا ۔ ‘‘ ناہید بے حد پریشان تھیں ۔ عائیشہ اور ہما بھی انکی پریشانی سے پریشان ہو گئی تھیں ۔ اور پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ ناہید کی پریشانی بےجا نہ تھی ۔ نادیہ نے شاہد کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر رکھا تھا ۔ اس نے جب سے بہنوں کو علیحدہ عیدی اور مختلف مواقع پر گفٹس دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، بہنوں کی ہمدردیاں اسکے ساتھ ہو چکی تھیں ۔ اب ناہید اگر ان سے کوئی بات کرنا بھی چاہتیں تو وہ الٹا ماں کو سمجھانے بیٹھ جاتیں کہ نادیہ ہی آپکی بیسٹ چوائیس ہے ۔ آہستہ آہستہ گھر میں چھوٹی موٹی لڑائیاں جنم لینے لگیں ۔ انہیں دنوں شاہد نے ہاءصم کا ساتھ چھوڑ کے زید اور احد کو جوائین کر لیا ۔ ہاءصم کی فیکٹری میں کوئی فائیننشل پرابلم چل رہے تھے، سو شاہد نے اپنا حصہ وصول کیا اور احد اور زید کے ساتھ آ گیا ۔ ۔ اب ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا ۔ یو ں لگنے لگا جیسے گھر کی لڑائی کاروبار تک جا پہنچی ۔ جب تک زید اور احد اکٹھے تھے، دونوں بڑے سکون سے کام کر رہے تھے، شاہد کے وہاں قدم پڑتے ہی ایک فتنہ سا کھڑا ہو گیا ۔ نادیہ نے اس دوران پورے گھر کو قابو کر لیا تھا ۔ ناہید اور ہاشم پر تو جیسے کوئی جادو کر ڈالا تھا ۔ اور اس جادو میں زیادہ کردار بینا کا ہی تھا ۔ وہ ہر بات میں شاہد اور نادیہ کی حماءت کرتی ۔ ماں کو جانے کیا کیا پٹیاں پڑھاتی رہتی کہ وہ کلی طور پر نادیہ کے گن گانے لگیں ۔ ادھر کاروبار کا جھگڑا بڑھا تو یہ لڑائی گھر تک آ گئی ۔ تب ناہید نے دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا کہ تینوں بیٹوں کو الگ کر دیں ۔ احد تو ابھی کنوارہ تھا اور اسنے لامحالہ ماں باپ کے ساتھ ہی رہنا تھا ۔ ناہید اور ہاشم نے ہاءصم کو فیکٹری سے بلوایا ۔ اس کے سامنے سارا معاملہ رکھا گیا ۔ وہ خود بھی روز روز کی اس دانتاکل کل سے تنگ آیا ہوا تھا ۔ اس نے بھی ماں کے فیصلے پر سر جھکا دیا، مگر دل میں کہیں ارمان سا تھا کہ امی اسے ساتھ رکھیں ۔ اس کی شادی کو بارہ سال بیت چکے تھے ۔ اسکے بچے بھی بڑے تھے اور دادا دادی کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے، پھر عائیشہ سے آج تک ساس نندوں کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی بہنوں نے بظاہر کوئی بات نہ کی ہو، مگر اب انکے دل وہ نہیں رہے تھے، ان کے دلوں میں بغض بھرا جاچکا تھا، اور یہ کام نادیہ نے اتنی ہوشیاری سے کیا تھا کہ ، خود کو بہت چالاک اور ہوشیار سمجھنے والی اسکی بہنیں بھی نہیں جان پائی تھیں ۔

’’ امی ۔ !! آپ کس کو ساتھ رکھیں گی ۔ یہ بھی بتا دیں ۔ تینوں بہووں کو ایکساتھ تو الگ نہیں کیا جاسکتا ناں ، کسی ایک کو تو ساتھ رکھنا ہی پڑے گا آپکو ۔ ‘‘ ہاءصم نے اپنے ڈوبتے دل کی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالتے ہوئے پوچھا تو ناہید بے اختیار شاہد کو دیکھنے لگیں ۔

’’ میں نادیہ کو ساتھ رکھوں گی ۔ تم اور زید اپنا چولہا چوکا علیحدہ کر لو ۔ ‘‘ ناہید نے بینا اور نادیہ کا پڑھایا ہوا سبق دہرایا اور ایک ہی سانس میں اپنا فیصلہ سنا دیا ۔

’’ بینا کی ماں ۔ ! یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔ تمہیں عائیشہ کو ساتھ رکھنا چاہئے تھا ۔ اس کا حق پہلے بنتا تھا ۔ اور پھر اس کا مزاج بھی ایسا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اچھی طرح رہ سکتی ہے ۔ مگر تم نے نادیہ کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ پوچھ سکتا ہوں کیوں ۔ ;238;‘‘

’’ پتا نہیں بینا کے ابا ۔ مجھے خود نہیں پتا کہ میں نے کیا کہہ دیا ۔ میں تو خود ہاءصم کے بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی، مگر جانے کیوں میرے منہ سے نادیہ کا نام نکل گیا ۔ ‘‘ وہ خود بھی پریشان تھیں ۔ شائد پچھتا بھی رہی تھیں ۔ مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ نادیہ کی پلاننگ میں یہ سب شامل نہیں تھا ۔ وہ تو انگیریزوں کے مشہور معقولے ’’ ڈیواءڈ اینڈ رول ‘‘ پر پوری طرح عمل پیرا تھی، مگر یہاں تو الٹی آنتیں گلے ہی پڑ گئیں ۔ وہ تو بھابیوں کو سب کی نگاہوں میں نیچا دکھا کر خود اچھی بننے کے چکر میں تھی، اور یہاں تو سارے گھر کا بوجھ ہی اسکے شانوں پر آ گیا ۔ ماشا اللہ بھرا پرا گھر تھا اور نندوں کو ہر ہفتے میکے کا ہڑک اٹھا رہتا تھا ۔ پھر جیسے ہی چھٹیاں شروع ہوتیں ۔ ساری نندیں مل کر دھاوا بول دیتیں اور ایسے میں پہلے تو وہ تینوں مل کر سب سنبھال لیتیں تھیں ، مگر اب اسے اکیلی کو ہی سب دیکھنا پڑنا تھا ۔ اس نے پہلے تو کچھ عرصہ جیسے تیسے ساری ذمہ داری سنبھالی، پھر ناہید کی برین واشنگ شروع کر دی ۔ ہاشم کی برین واشنگ کا کام شاہد نے سنبھالا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عائیشہ ایکبار پھر واپس انکے ساتھ مل چکی تھی ۔

*************************

احد کی شادی طے ہو گئی ۔ گھر کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہونے کی وجہ سے ہر کوئی پر جوش ہو رہا تھا ۔ نادیہ اور شاہد نے یہاں بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی بنا کر سب کو حیران کر دیا ۔ ایسے ایسے شگن ایجاد کیئے بینا تک نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں ۔ سنبل دلہن بن کر گھر آگئی ۔ یہاں ایک بار پھر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ۔ سنبل احد کے لیئے ایسا پارس ثابت ہوئی جس کے ساتھ لگتے ہی احد سونا بن گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بزنس پھیلتا چلا گیا ۔ زید اور شاہد بھی اس کے ساتھ تھے، مگر احد کا شیئر سب سے زیادہ تھا ۔ شادی کے بعد اسکے پرافٹ میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ پھر یہ سنبل کی قسمت تھی کہ احد اسے ہنی مون کے لیئے سوئیزرلینڈ بھی لے گیا ۔ یہ اعزاز گھر تو کیا خاندان میں کسی کو نصیب نہیں ہوا تھا ۔ بظاہر سب خوش تھے، مگر کچھ دل ایسے بھی تھے جن میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی تھی ۔ سوئیزرلینڈ سے واپسی کے بعد روٹین لاءف شروع ہوئی اور پھر وہی روز کی چخ چخ ۔ تینوں بھائی اپنی اپنی آمدن کے مطابق گذر بسر کر رہے تھے، مگر شاہد کو اب زید کا ساتھ کھٹکنے لگا تھا ۔ آئے روز کسی نہ بات کا ایشو بنتا اور پھر تینوں میں جھگڑا شروع ہو جاتا ۔ ایسے ہی ایک جھگڑے میں بات احد اور زید کی تلخ کلامی بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچی اور شاہد نے موقع پاتے ہی زید کا سر پھاڑ دیا ۔ احد کو اس وقت لگا کہ شاہد نے اس کا ساتھ دیا ہے ۔ یہ جھگڑا گھر تک آ گیا ۔ زید کا پھٹا سر دیکھ کر ہاشم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ ہاءصم کو فیکٹری میں خبر ملی وہ بھی سب چھوڑ چھاڑ بھاگا چلا آےا ۔ اور بھائی کو خونم خون دیکھ کر رو دیا ۔

’’ ہار شاہد ۔ !! یہ کیا کیا تم نے ۔ یار بھائی تو بھائیوں کا بازو ہوتے ہیں ۔ مان ہوتے ہیں ۔ اور تم نے اپنے بھائی کا خون بہا دیا ۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا شاہد ۔ ‘‘ ہاءصم کا صدمے کے مارے برا حال تھا ۔

’’ میں نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا ۔ یہ خبیث اسی قابل تھا ۔ بیوی کی زبان بولتا ہے ۔ جب دیکھو الٹی بات ہی کرتا ہے ۔ الٹی کھوپڑی کا انسان ۔ ‘‘ شاہد اپنی غلطی ماننے کی بجائے الٹا شیر کی طرح دھاڑتا پھر رہا تھا ۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہما سے بھی نہ رہا گیا اور وہ بھی میدن میں کود پڑی ۔ شاہد کو جانے اس سے کیا بیر تھا، اس کی بات پوری سنی بھی نہیں اور اس پر چڑھ دوڑا ۔ اگر جو ہاشم اور احد بیچ بچاوَ نہ کرواتے تو شاید زید کی طرح ہما بھی پھٹا سر لیئے کسی کونے پڑی ہوتی ۔

’’ تم لوگ آخر چاہتے کیا ہو ۔ ;238; اس طرح لڑ بھڑ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔ ;238; آرام سے میرے سامنے بیٹھو، اور کھل کر دل کی بات بتاوَ مجھے تاکہ اس روز روز کے لڑائی جھگڑے کا کوئی مستقل حل نکالا جا سکے ۔ ‘‘ ہاشم نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بیٹوں سے کہا ۔

’’ ہم سے کیا پوچھتے ہیں آپ ابو جی ۔ !! یہ سب کیا دھرا تو آپ کا ہی ہے ۔ نہ آپ تایا ، تائی پر اتنی مہربانی کرتے، نہ انہیں اپنا آبائی حصہ دان کرتے تو نہ ہی آج ان کی لاڈلی زید کی آنکھ کا تارا بن کر ہم پر حکومت کرنے کی جسارت کرتی ۔ یہ سب آپ کی غلطی ہے ۔ آپ قصور وار ہیں اس سب کے ۔ ‘‘ شاہد کسی بم کی طرح پھٹا تھا، اور سب کے پرخچے اڑاتا چلا گیا ۔

’’ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔ لڑائی تم تینوں کی ہے ۔ اس میں تایا، تائی کہاں سے آ گئے ۔ ;238; اور یہ خناس تمہارے دماغ میں بھرا کس نے ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ !! ‘‘

’’ بچہ نہیں ہوں میں ۔ سب جانتا ہوں ، سمجھتا ہوں اچھی طرح سے ۔ تایا ، تائی کی نظریں آبائی گھر کے بعد اب ہمارے اس گھر ، جائیداد پر ہیں ۔ اسی لیئے انہوں نے اپنی بیٹی کو زید کے پیچھے لگایا ۔ اس ہما چڑیل نے جان بوجھ کر زید کو اپنی اداؤں کے جال میں پھانسا اور اس سے شادی کی تاکہ ہمارے گھر ، ہماری پراپرٹی میں حصہ دار بن سکے ۔ مگر میں ایسا نہیں ہونے دونگا ۔ ایک تنکا بھی اب تایا، تائی کو نہیں ملے گا یہاں سے ۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو ایسا کر کے دکھائے، پھر وہ ہوگا اور اس کا برا انجام ۔ سن لیں کان کھول کر سب ۔ میں اب کسی کو بخشنے والا نہیں ۔ ‘‘ ناہید سے جیٹھ ، جیٹھانی کی انسلٹ برداشت نہیں ہوئی تو وہ شاہد کو ماں کے حق سے ڈانٹے لگیں ، مگر بھول گئیں کہ وہ اب صرف انکا بیٹا نہیں رہا تھا ۔ وہ الٹا انکی بات بری طرح سے کاٹتے ہوئے ہاتھ نچا نچا کر چلانے لگا تھا ۔ اسکی باتوں سے عناد اور بغاوت کی ایسی بو آ رہی تھی کہ سب کے سانس رکنے لگے ۔ ہما سے برداشت نہ ہوا تو وہ پھپھک کر رونے لگی ۔ اس کے آنسو ناہید اور ہاشم کے دل پر گر رہے تھے، زید تو پہلے ہی خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے نڈھال پڑا تھا، ورنہ ایک معرکہ اور ہو جانا تھا ۔

’’ شاہد ۔ !! ہوش کے ناخن لو ۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔ ;238; کون تمہیں اتنی غلط انفارمیشن دیتا رہتا ہے ۔ ;238; تمہیں کیا پتا کہ ابو نے تایا تائی کو کیا دیا اور کیا نہیں ۔ ;238; تم تو اس وقت بہت چھوٹے تھے اور اتنے چھوٹے بچے کو کچھ یاد نہیں رہتا جب تک کہ اسے بار بار یاد دہانی نہ کروائی جائے ۔ اور جہاں تک مجھے یاد ہے، ہمارے گھر میں تو ایسی بات کبھی کسی نے کی ہی نہیں ۔ نہ امی نے نہ ابو نے ۔ تو پھر تمہیں یہ سب کون بتاتا ہے ۔ ;238; ‘‘ ہاءصم ضبط کے کڑے مراحل سے گذرتا ہوا کہہ رہا تھا ۔

’’ اور کون بتائے گا بھائی جان ۔ یہ سب بینا باجی کے کارنامے ہیں ۔ وہ آج تک نہ خود بھولی ہیں ، اور نہ ہی ہ میں بھولنے دیتی ہیں ۔ جب بھی موقع ملتا ہے باقی باجیوں کے ساتھ مل کر تایا تائی کا خوب مذاق اڑاتی ہیں اور انہیں باتیں لگاتی ہیں ۔ ‘‘ احد نے جھکے سر کے ساتھ انکشاف کیا تو ہاشم اور ناہید کے منہ کھلے کے کھلے ہی رہ گئے ۔

’’ بینا ۔ ;238; یہ آگ بینا کی لگائی ہوئی ہے، اور ہم کیسے ماں باپ ہیں کہ ہ میں اپنی ہی اولاد کے کرتوت پتا نہیں چلے ۔ تف ہے ایسی بیٹی پر جو ماں باپ کی نیکیوں کو برباد کر دے ۔ اپنے حسد اور انا کی آگ میں اپنے ماں جائیوں کو جھونک کر انکی دنیا بھی خراب کر دے اور آخرت بھی ۔ ‘‘ ناہید سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا، مگر ہاشم گہرے صدمے میں بھی بول اٹھے تھے ۔

’’ او ،رہنے دے ابو آپ ۔ باجی نے کچھ ایسا غلط بھی نہیں کیا ۔ ہم اب بڑے ہو گئے ہیں اور ہ میں بھی سب باتوں کا علم ہونا چاہئے ۔ باجی نے تو ہ میں حقیقت بتا کر ہمارے حق میں اچھا ہی کیا ہے ۔ اب تو میں تایا ، تائی سے اپنے دادا کے گھر کا حصہ بھی لونگا اور آپ نے اور بھائی جان نے جو آج تک انکی ہر طرح سے مدد کی ہے، اس کا حساب بھی پورا پورا وصول کرونگا ۔ ‘‘

’’ تو اور کیا ۔ ;238; پیسے کیا درختوں پر لگتے ہیں تایا جان جو بغیرسوچے سمجھے ہر کسی پر وار دیں ۔ آپ تو ہیں سیدھے بندے، آپ کو کیا پتا دنیا کی چالاکیوں کا ۔ ‘‘ شاہد کی بڑھکیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ نادیہ اسکی مورل اسپورٹ کے لیے بول اٹھی ۔

’’ نادیہ ۔ !! تم بیچ میں مت بولو ۔ یہ ہم بھائیوں کا آپس کا معاملہ ہے ۔ بھابھیاں اس سے دور ہی رہیں تو ۔ ۔ ۔ !!‘‘

’’ نادیہ بولے گی ۔ ضرور بولے گی ۔ میں دیکھتا ہوں کہ اسے کون روکتا ہے ۔ یہ اس گھر کا حصہ ہے ۔ بیوی ہے میری اور اسے پورا حق حاصل ہے بولنے کا ۔ ‘‘ ہاءصم نے نادیہ کو لڑائی جھگڑے سے دور رکھنے کے لیئے روکنا چاہا تھا، مگر شاہد کو جیسے آگ ہی لگ گئی وہ بڑے بھائی کا ادب لحاظ بھول کر اسے کاٹ کھانے کو دوڑا تھا ۔ اسکے ماتھے کی رگ غصے سے پھڑک رہی تھی ۔

’’ شاہد ۔ !! مت بھولو ، نادیہ اس گھر کی بہو ہے تو عائشہ ، ہما اور سنبل بھی اسی گھر کی بہووَیں ہیں ۔ اگر وہ بھائیوں کہ کسی معاملے میں نہیں بولتیں تو نادیہ کو بھی خاموش رہنا چاہئے ۔ خاموشی ہی ان کے لیئے بہتر ہے ۔ ‘‘ ہاءصم نے سرد انداز سے شاہد کو دیکھتے ہوئے کہا تو سب کی نگاہیں ایک ساتھ نادیہ اور شاہد کی طرف اٹھ گئیں ۔ نادیہ نے جو سب کو اپنی طرف اس طرح دیکھتے پایا تو منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی ۔ اسے روتا دیکھ کر شاہد کے حواس ہی معطل ہو گئے ۔

’’ بھائیجان ۔ !! میں برداشت نہیں کرونگا کہ کوئی میری بیوی کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے بھی ۔ میں نادو کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا، اور وہ بھی آپ میں سے کسی کی وجہ سے ۔ ;238; ہر گز نہیں ۔ جان سے مار دونگا سب کو ۔ اگر کسی نے میری بیوی کو کچھ کہنے کی جرات بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ سن لیں سب کان کھول کر ۔ ‘‘ وہ پورے کمرے میں اشتعال کے عالم میں اچھلتا پھر رہا تھا،نادیہ کے رونے کی آواز اسکے اشتعال کو بڑھا رہی تھی اور سب دم سادھے بیٹھے یہ نیا تماشہ دیکھ رہے تھے ۔

************************

شاہد اور احد باپ کی پراپرٹی میں سے اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہو گئے ۔ ان کی اس لڑائی میں بینا نے باقی بہنوں کے ساتھ مل کر خوب فائدہ اٹھایا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہاشم کے بچے دو پارٹیوں میں تبدیل ہو گئے ۔ بچے تو پارٹی بازی کا شکار ہوئے ہی تھے، والدین کو بھی زبردستی اس میں ملوث کر لیا گیا اور اس میں بھی بینا پارٹی کا ہاتھ سب سے زیادہ تھا ۔ ہاشم اپنے بیٹوں سے عشق کرتے تھے ۔ انہوں نے آدھی عمر اکیلے ، اور تنہا گذاری تھی ۔ شادی کے بعد اللہ نے انہیں اولاد کی نعمت دی تھی، اور دل کھول کر دی تھی ۔ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ مگر اب یہ نعمت ان کے لیئے زحمت بنتی جا رہی تھی ۔ شاہد اور زید کے لڑائی میں سارا گھر برباد ہو گیا ۔ بہنوں نے بھائیوں کو ملانے کی بجائے انہیں لڑانے کا کام کیا ۔ اس جلتی آگ پر تیل اس ہوشیاری سے ڈالا کہ کسی کو علم بھی نہ ہوا اور گھر کا شیرازہ بھی بکھر گیا ۔ بینا نے سب سے زیادہ ہوشیاری دکھائی ۔ اس نے دونوں پارٹیوں کا ساتھ دیا ۔ بی جمالو کی طرح گھر گھر پھرتی اور سب کے دل میں بغض کے بیج بو دیتی، اور پھر ان بیجوں کو پانی دینے کا کام شاہد اور نادیہ سر انجام دیتے ۔

شاہد اور احد کو اس گھر سے گئے چار سال ہو چکے تھے ۔ ناہید اسی گھر میں تھیں ، مگر اب انکی حیثیت کسی عضوِ معطل سے کم نہ تھی ۔ ہاشم تو بیٹوں اور بیٹیوں کی پارٹیشن برداشت ہی نہیں کر سکے تھے اور ان لوگوں کے گھر چھوڑنے اور پراپرٹی سے حصہ مانگنے کا فیصلہ سنتے ہی ہمت ہار بیٹھے تھے ۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا، اور پہلا اٹیک ہی ایسا ظالم ثابت ہوا کہ انکی جان لے کر ہی ٹلا ۔ انکی وفات کے بعد کچھ عرصہ تو سب غم میں ڈوبے رہے، مگر پھر آہستہ آہستہ سب کے اپنے اپنے مفاد سر اٹھانے لگے ۔ اب ایک اکیلی ماں کا وجود سب کو بھاری لگنے لگا، اور شائد وہ اس بوجھ سے چھٹکارہ پانے کو کچھ بھی کر جاتے، اگر جو ہاشم نے اپنی پراپرٹی کا کافی بڑا حصہ ناہید کے نام نہ کیا ہوتا ۔ بازار میں دکانیں تھیں ، مکان تھے جو کرائے پر چڑھے تھے ۔ ناہید کو ہر ماہ ایک اچھی خاصی رقم کرائے کی مد میں مل جاتی جس سے وہ اپنا گذارا تو کر ہی لیتی تھیں ، بیٹیوں کے کئی مسائل بھی اسی رقم سے حل ہوتے تھے ۔ گھر میں ایک بار پھر لڑائی جھگڑے سر اٹھانے لگے ۔ ناہید کی برداشت اب ختم ہو چکی تھی ۔ ہما اور عایشہ خاموش تماشائی تھیں ، جبکہ نادیہ نے ہمدردی کا جال پھینک کر سنبل اور احد کو اپنے قابو میں کر لیا تھا ۔ احد اسے ماں کی جگہ دیتا تو سنبل ساس کی ۔ ہاءصم بیوی بچوں کو لے کر پہلے ہی الگ ہو چکا تھا، اور اسے ہاشم نے اپنی زندگی میں ہی قریبی گھر میں خود شفٹ کروایا تھا ۔ اب شاہد اور احد نے بھی اپنا حصہ وصول کیا اور ایک دومنزلہ گھر کرائے پر لے کر وہاں سے دور چلے گئے ۔

**********************************

’’ احد !! مجھے کچھ پیسے چاہیں ۔ بچوں کے کپڑے بنانے ہیں ۔ موسم بدل رہا ہے اور انکے سارے کپڑے چھوٹے ہو گئے ہیں ۔ ‘‘ سنبل نے احد کے سامنے کھانا رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔

’’ ہاں تو، تم نادیہ بھابھی سے مانگ لو ۔ وہ دے دیں گی تمہیں ۔ ‘‘ احد نے لاپرواہی سے ٹرے اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا تو سنبل اس کا منہ دیکھنے لگی ۔

’’ نادیہ بھابھی سے کیوں مانگوں ۔ ;238; میرے شوہر آپ ہیں ، نادیہ بھابھی نہیں ۔ مجھے جس چیز کی ضرورت ہو گی میں آپ سے ہی کہوں گی ناں ۔ ‘‘

’’ تم پاگل عورت ۔ تمہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی کیا ۔ ;238; نادیہ بھا بھی اس گھر کی بڑی ہیں ۔ میری ماں کی جگہ ہیں ، اور میں سارے پیسے انہیں ہی تو دیتا ہوں ۔ تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ اس جھوٹی انا کے چکر میں مت پڑو اور چھوٹی ہو تو چھوٹی بن کر رہو ۔ وہ بڑی ہیں ، انکی عزت کیا کرو ۔ وہ جیسا کہتیں ہیں ، بس ویسے ہی کیا کرو، سمجھیں ۔ ‘‘ ۔ ’’ احد ۔ !! وہ آپکی ماں جیسی ہو سکتی ہیں ، ماں نہیں ۔ اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس طرح اپنی ضرورتوں کے لیئے تو کبھی میں نے اپنی ساس کے سامنے بھی ہاتھ نہیں پھیلایا تھا، جس طرح آپ مجھے جیٹھانی کے سامنے لیٹ ڈاوَن کرواتے ہیں ۔ ‘‘ احد کو جانے کیوں اتنا غصہ آ رہا تھا ۔ سنبل پہلے تو خاموشی سے اس کی تقریر سنتی رہی پھر نہ رہ سکی تو بول پڑی اور اسے یہ بولنا بہت مہنگا پڑا ۔ احد پر جانے کونسا جنون سوار ہوا کہ اس نے سنبل پر ہاتھ اٹھا دیا ۔ یہ ان دونوں کے مابین سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی ۔ اس سے پہلے بھی وہ کبھی کبھار آپس میں الجھ جایا کرتے تھے، مگر نوبت کبھی مار پیٹ تک نہیں آئی تھی ۔ باتوں کے گولے دونوں طرف سے داغے جاتے اور پھر سنبل خود ہی خاموش ہو جاتی ۔ احد بولتا بولتا باہر نکل جاےا کرتا اور بات آئی گئی ہو جاتی ۔

’’ احد !! سنبل کی زبان کچھ زیادہ ہی تیز نہیں ہوتی جارہی ۔ وہ تو تمہاری کوئی عزت نہیں کرتی، تو ہماری کیا کرے گی ۔ ;238; اسے کچھ سمجھاوَ یار ۔ گھر اس طرح نہیں چلا کرتے ۔ ‘‘ شاہد آفس میں بیٹھا اس کی برین واشنگ کر رہا تھا ۔

’’ کیوں ۔ ;238; کیا ہوا ۔ ;238; اس نے کچھ کہا ہے آپ سے ۔ ;238; ‘‘ احد کے کان کھڑے ہو گئے ۔ ابھی کل والی لڑائی کا غصہ اس کے دل سے گیا نہیں تھا کہ اب بھائی کوئی نئی داستان سنانے بیٹھ گیا تھا ۔

’’ نہیں ، مجھ سے تو کچھ نہیں کہا اس نے ۔ مگر نادو کے ساتھ اس کا رویہ ٹھیک نہیں ۔ بہت کھنچی کھنچی رہنے لگی ہے ۔ بچوں کو بھی اوپر نہیں آنے دیتی اور اگر نادو کوئی بات اس کے بھلے کو ہی کہہ دے تو الٹا لڑنے بیٹھ جاتی ہے ۔ طعنے دینے لگتی ہے کہ میرے میاں کی کمائی کھا رہے ہو اور مجھے ہی آنکھیں دکھاتے ہو ۔ ‘‘ شاہد تاک تاک کر وار کر رہا تھا، احد کا منہ کھلے کا کھلا ہی رہ گیا ۔

’’ دیکھو یار ۔ تم میرے چھوٹے بھائی ہو ۔ اور تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ سب ’’ شریکوں ‘‘کی نظریں تمہاری دولت پر گڑی ہیں ۔ چاہے وہ بہنیں ہوں یا بھائی ۔ میں تمہاری حفاظت کے خیال سے ہی میں تمہارے ساتھ گھر بار بہن بھائی چھوڑ کر چلا آیا، ورنہ میری اپنی تو ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ بھی نہیں تھی ۔ اب ہم نے تمہارے لیئے اتنی بڑی قربانی دی اور بدلے میں تمہاری بیوی کے طعنے سنیں ، یہ تو ٹھیک بات نہیں ہے یار ۔ تم خود سوچو، اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ۔ ;238; صرف ایک میری ذات کے لیئے ماں باپ بہنیں بھائی سب چھوڑ دیتے ۔ ;238; نہیں ناں ۔ ;238; مگر میں نے سب کو چھوڑ دیا ۔ صرف تمہاری خاطر ۔ اور تم اپنی بیوی کی زبان بند نہیں کروا سکتے ۔ میری خاطر ۔ ;238; ‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو بھر لایا، اور وہ ساری باتیں جو اسے نادو نے رات کو رٹو طوطے کی یاد کروائی تھیں ، سب کی سب بھائی کے سامنے کر ڈالیں ۔ احد اس وقت تو کچھ نہیں بولا ۔ اس کا تو سر ہی شرم سے جھک گیا تھا کہ اس کی کم گو اور خوش اخلاق بیوی اسکی پیٹھ پیچھے یہ سب بھی کر سکتی ہے ۔ ;238; اسے یقین تو نہیں آ رہا تھا، مگر بھائی کے آنسو بھی سچے لگ رہے تھے ۔ اور پھر احد اور سبنل کی خوشگوار ازدواجی زندگی کا سکون تہہ و بالا ہو کر رہ گیا ۔ احد کو نادیہ منہ سے کچھ نہیں کہتی تھی، بس اسکے سامنے رونے والی صورت بنا کر شکاءتی انداز سے سنبل کو دیکھتے ہوئے گذر جاتی اور احد کا پارہ سوا نیزے پر جا پہنچتا ۔ ادھر آفس میں شاہد اس کی خوب برین واشنگ کرتا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا ایشو بنا کر سنبل سے لڑنے لگتا ۔ وہ پہلے تو خاموشی سے سنتی رہتی، جب برداشت ختم ہوجاتی تو جواب دے بیٹھتی اور اسکے منہ کھولتے ہی احد کا ہاتھ کھل جاتا ۔ یہ تماشہ اب ہفتے میں دو، چار بار ہونے لگا ۔ جب ان کی لڑائی شروع ہوتی، نادو شاہد کو فون کر دیتی کہ ابھی گھر مت آنا، وہ لڑ رہے ہیں ۔ اور جب احد سنبل کو مارنے لگتا، اسکے بچے روتے ہوئے تائی کے پاس مدد کو بھاگتے، تب وہ پھر شاہد کو فون کرتی کہ اب آ جاوَ ، کام ہو گیا ہے ۔ شاہد اسکا فون سنتے ہی بھاگا آتا ۔ بھابھی کے سامنے بھائی کو برا بھلا کہتا ، بھاوج سے ہمدردی جتاتا اور پھر بھائی کو ڈانٹ ڈپٹ کر گاڑی نکالتا اور سنبل کو ڈاکٹر کے پاس لےجاتا ۔ اس دوران روتے پیٹتے بچے تائی کے پاس پناہ گزین ہو جاتے ۔ شاہد، احد اور سنبل کے گھر سے نکلتے ہی نادو بچوں کو سنبل کے خلاف بھڑکانے لگتی ۔ وہ انہیں باور کروانے میں تقریباً کامیاب ہو ہی جاتی کہ ساری غلطی سنبل کی تھی ۔ اسے شوہر کے سامنے بولنا ہی نہیں چاہئے تھا ۔ پھر اپنی مثالیں دینے لگتی ۔ اپنی تعریفیں کرتی، بچوں کو ماں سے متنفر کر ڈالتی ۔

’’ احد !! بس، بہت ہو گئی یار ۔ تمہارا ہی حوصلہ ہے جو ایسی پاگل بیوی کے ساتھ گذارا کر رہے ہو ۔ میری بیوی اگر ایسی ہوتی تو ایک منٹ نہ لگاتا ۔ تین حرف بھیج کے کب کا اپنی زندگی سے نکال چکا ہوتا اسے ۔ اور ایک تم ہو، کبھی اس بوجھ کو ڈاکٹروں کے پاس ڈھوتے پھرتے ہو ، تو کبھی سائیکاٹرسٹوں کے چکر لگاتے ہو ۔ حد ہے بھئی ۔ ‘‘

’’ تو اور کیا کروں پھر ۔ ;238; بیوی کو تو چھوڑ دوں ، مگر بچوں کی ماں کو کیسے چھوڑوں ۔ ;238; میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، اور وہ ابھی ماں کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ بس، اسی لیئے برداشت کئے جا رہا ہوں ۔ ‘‘ شاہد اب کسی نئے مشن پر تھا ۔ احد کا کاروبار بہت پھیل چکا تھا ۔ شاہد کے شیئر پچیس فیصد تھے، مگر کمپنی کے کھاتے میں ۔ ورنہ وہ مراعات ایسے ہی وصولتا تھا جیسے ففٹی ففٹی کا پارٹنر ہو ۔ احد اسکے نادیدہ احسانوں کے بوجھ تلے دبا، اسے کچھ نہ کہتا اور بڑا بھائی سمجھ کر اس کی ہر بات مانتا چلا جاتا ۔ مگر اب سنبل ان کے راستے کی رکاوٹ بنتی جا رہی تھی ۔ اس نے آرام سے بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے تجزیہ کیا تو سب حقیقت کھل کر اس کے سامنے آ گئی ۔ وہ احد کو سمجھانے کی کوشش کرتی مگر جواب میں ہمیشہ چار چوٹ کی کھاتی ۔ اب اس نے کچھ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا ۔ سب کچھ برداشت کرتے رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ڈپریشن کی مریضہ بن گئی ۔ مائیگرین اور ڈپریشن نے اس کی رہی سہی ہمت بھی نچوڑ ڈالی تو اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ۔

***************************************************

’’ جب کہنے والا کہہ کر اور سہنے والا سہہ کر خاموش ہو جائے تو پھر معاملہ اللہ کی عدالت میں چلا جاتا ہے ۔ اور اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ میں اسی لیئے اب کسی کو کچھ نہیں کہتی بھائی جان ۔ میرا نصیب میرے ساتھ ۔ نادیہ بھابھی کا نصیب ان کے ساتھ ۔ میں اپنے نصیب پر راضی ہوں ۔ میرا اللہ جو میرے لیئے بہتر چاہے گا، مجھے دے دے گا ۔ مجھے کسی سے کوئی گلہ، کوئی شکوہ نہیں ۔ ‘‘ شاہد اور نادیہ کی بھرپور کوشش کے باوجود بھی جب احد نے سنبل کو نہیں چھوڑا، تو انہوں نے اسے خاندان میں بدنام کرنا شروع کر دیا ۔ ان کے رابطے سب بہنوں سے بحال تھے ۔ وہ ماں سے ملنے بھی جاتا اور نادو ہمیشہ اسکے ہمراہ ہوتی ۔ وہ جہاں بھی جاتے، سنبل اور احد کے خلاف ایسی ایسی باتیں کرتے کہ دشمن خوش ہو جاتے اور دوستوں کے دل غم سے بھاری ہوجاتے ۔ شاہد نے یہی بات ہاءصم اور عایشہ کے سامنے کی تو عایشہ سے رہا نہ گیا ۔

’’ یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو شاہد ۔ ;238; احد بھائی ہے تمہارا اور سنبل بھابھی ۔ تم ان کا گھر توڑنے کی باتیں کر رہے ہو ۔ بجائے اس کے کہ انہیں سمجھاوَ، انہیں اور لڑا رہے ہو ۔ ;238; اور چلو، فرض کیا، اگر احد سنبل کو چھوڑ بھی دیتا ہے تو پھر بچوں کا کیا ہوگا ۔ ;238; وہ کس کے پاس رہیں گے ۔ ;238; ماں کے پاس یا باپ کے پاس ۔ ;238; یہ بھی سوچا ہے تم نے کبھی ۔ ;238; ‘‘

’’ او ۔ چھوڑیں بھابھی ۔ آپ کس زمانے کی باتیں کرتی ہیں ۔ بچے تو خود ماں سے تنگ آئے ہوئے ہیں ۔ وہ پاگل عورت تو اب بچوں کے بھی کسی کام کی نہیں ، شوہر کے کیا کام آئے گی ۔ اور رہی یہ بات کہ بچے کس کے پاس رہیں گے تو ظاہر ہے، ابھی جس کے پاس رہتے ہیں ، بعد میں بھی اسی کے پاس رہیں گے ۔ یہ ہے ناں تائی ان کی، جان دیتی ہے ان پر ۔ وہ بھی ماں سے زیادہ تائی کے ساتھ اٹیچ ہیں ۔ رہ لیں گے ہمارے ساتھ ہی ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نہ انہیں ، اور نہ ہی ہ میں ۔ کیوں نادو ۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں ۔ ;238; ‘‘ شاہد کا اطمینان دیدنی تھا، تو نادو کا سر بھی فخر سے بلند تھا ۔ آخر کو دیور کے گھر جائیداد کی اکیلی مالکن بننے کا خواب پورا ہونے کا وقت ا گیا تھا ۔ سنبل نفسیاتی مریضہ کے طور پر خاندان بھر میں بدنام ہو چکی تھی اور نادو کی فہم و فراست کا علم پہلے سے بھی زیادہ بلند ہو چکا تھا ۔ ہاءصم اور عایشہ ان کی باتیں سن کر سخت پریشان ہو چکے تھے ۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اور پھر ایک دن کھانے پر احد اور بچوں سمیت مدعو کیا ۔ سوئے اتفاق نادیہ اپنے میکے گئی ہوئی تھی، ورنہ احد کی کہاں مجال تھی کہ بیوی بچوں کے ساتھ اکیلا ہی بھائی کے گھر چلا جاتا ۔ کھانے کے بعد بچے اپنے کھیل میں لگ گئے تو ہاءصم نے ان دونوں کوسمجھایا ۔ احد کو اسکی غلطیوں کا احساس دلایا، اور دبے الفاظ میں شاہد اور نادو کی سوچ سے بھی روشناس کروایا ۔ سنبل اس دوران خاموش بیٹھی سب کو دیکھتی رہی ۔ ہاءصم نے جب اس سے اسکی مرضی پوچھی تو اسنے ایسا جواب دیا کہ احد کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ وہ ایک ٹک سنبل کو دیکھتا چلا گیا ۔ اتنا معقول اور نپا تلا جواب کوئی پاگل نہیں ہوشمند ہی دے سکتا تھا، تو کیا اسکی بیوی کے بارے میں جو باتیں خاندان میں مشہور ہو چکی تھیں ، وہ سب کسی سازش کا نتیجہ تھیں ۔ ;238;

’’ احد ۔ !! ابھی بھی وقت ہے میرے بھائی ۔ اپنی عقل کا استعمال کرنا سیکھو ۔ کاروبار کے معاملے میں تو تم بڑے ہوشیار ہو ۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہو، تو پھر گھر کی طرف سے اتنے غافل کیوں ہو ۔ ;238; یہ تمہاری بیوی ہے ۔ تمہاری ذمہ داری ۔ روزِ حشر اس کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے ۔ ;238; سوچو میرے بھائی، تمہاری بیوی کو تو شاہد نے بدنام کر کے رکھ دیا، اور اپنی بیوی کے قصیدے وہ ایسے پڑھتا ہے کہ جیسے اس سے بڑھ کر اس دنیا میں کوئی اور ہے ہی نہیں ۔ نادو کا کوئی نام بھی لے لے تو اسے آگ لگ جاتی ہے، تو پھر تم کیوں اس کے منہ سے اپنی بیوی کی برائیاں سنتے رہتے ہو، جبکہ وہ برائیاں اس میں ہیں بھی نہیں ۔ ‘‘ ہاءصم نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگائی تو ٹھیک نشانے پر ہی لگی ۔ سنبل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور احد کی آنکھوں پر پڑی پٹی کھلنا شروع ہو گئی ۔ اب اس سے ہر بات پر غور کرنا شروع کیا تو ساری بات اسکی سمجھ میں آتی چلی گئی ۔ اس دوران برا یہ ہوا کہ ان دونوں نے ایک مشترکہ پلاٹ خرید کر اس پر ڈبل اسٹوری گھر بنا لیا تھا اور اس میں شفٹ بھی ہو چکے تھے ۔ اب احد کو پچھتاوے تنگ کرنے لگے ۔ کہ کاش وہ اپنا گھر تو علیحدہ بنا لیتا ۔ حالانکہ سنبل اور ہاءصم نے اسے کہا بھی تھا، مگر اس وقت بھائی کی محبت کا بخار سر چڑھ کر بول رہا تھا، اس لیئے اس نے کوئی توجہ ہی نہیں دی ۔

*****************************

’’ شاہد ۔ !! بس بہت ہو گیا ۔ احد اگر سنبل کو چھوڑنے کو تیار نہیں تو اسے کہیں ، فیصلہ کر لے ۔ ہمارا حصہ ہ میں دے دے اور اپنی لاڈو کو لے جائے یہاں سے ۔ میں جب جب اسکی شکل دیکھتی ہوں آگ لگتی ہے میرے سینے میں ۔ کم بخت کمبل ہو کر چمٹ گئی ہے جان ہی نہیں چھوڑ رہی ۔ ہمارا سارا منصوبہ چوپٹ کر کے رکھ دیا اس ڈائن نے ۔ ‘‘ کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور نادو بی بی کی جو شامت آئی تو شاہد کو الٹی پٹیاں پڑھانے بیٹھ گئی ۔

’’’ بس بھائی جان ۔ !! بہت ہو گیا ۔ اب میرا احد کے ساتھ گذارا نہیں ہو سکتا ۔ آپ ہمارا فیصلہ کروا دیں ۔ ‘‘ شاہد اگلے دن ہی ہاءصم کے پاس جا پہنچا اور اس کے سامنے اپنے نادیدہ دکھڑے رونے کے بعد فیصلہ کن انداز میں بولا ۔

’’ ٹھیک ہے ۔ میں بات کرتا ہوں احد سے ۔ تم بھی اپنی طرف سے حساب لگا کر رکھو کہ تمہارا کیا شیئر بنتا ہے ۔ تاکہ عین وقت پر کوئی جھگڑا نہ کھڑا ہوسکے ۔ ‘‘ ہاءصم اسکی عادت سے اچھی طرح واقف تھا، اسی لیئے صبر سے اسکی ساری باتیں سن کر اپنے تیءں اسے حوصلہ افزا جواب دیا تھا ۔

’’ حساب ۔ ;238; کون سا حساب ۔ ;238; میرا ہر چیز میں برابر کا حصہ ہے بھائی جان ۔ اور میں ایک پائی بھی چھوڑنے والا نہیں ہوں ۔ سمجھے آپ ۔ ‘‘ اسے حسب توقع آگ لگ چکی تھی ۔

’’ دیکھو شاہد ۔ ! سب جانتے ہیں کہ کاروبار میں احد 75 % کا مالک ہے اور تمہارے شیئرز صرف 25 % ہیں ۔ رہی گھر اور پلاٹس کی بات تو وہ احد کی مہربانی ہے کہ اس نے ہر چیز میں تمہارا 25 % شیئر رکھا ہے، ورنہ یہ تو تم بھی اچھی طرح سے جانتے ہو کہ ہر چیز کا اصل مالک تو احد ہی ہے ۔ بزنس میں اس کا پیسہ زیادہ لگا تھا، سو شیئرز بھی اسکے ہی زیادہ بنتے ۔ ۔ ۔ !! ‘‘

’’ اچھا ۔ ;238; اور میں نے جو اسکے لیئے قربانیاں دیں ، ان کا کیا ۔ ;238; میں نے اپنی زندگی کے بارہ سال اسکے اور اسکے بچوں کے لیئے برباد کیئے ۔ ان کا حساب کون دے گا ۔ ;238; میں نے اسکے پیچھے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑا، بھائی بہنیں چھوڑیں اور اسکے بدلے میں مجھے کیا ملا ۔ ;238; صرف 25 % شیئر ۔ ;238; نہیں بھائی جان ۔ اب تو حساب برابری کی سطح پر ہی ہوگا ۔ گھر ہو یا پلاٹس یاپھر کاروبار ۔ ہر چیز میں سے ففٹی ففٹی کا حصہ وصول کرونگا ۔ دیکھتا ہوں مجھے کون روکتا ہے ۔ ‘‘ وہ بدتمیزی سے بھائی کی بات کاٹتے ہوئے اسے کھانے کو دوڑا تھا ۔

’’ شاہد ۔ !!تم نے احد کے لیئے قربانیاں نہیں دیں ۔ بلکہ اپنا مفاد دیکھا ۔ زید کی طرح اگر تم بھی اکیلے بزنس کر رہے ہوتے تو آج تک اسی آبائی گھر میں بیٹھے ہوتے ۔ نہ تمہارے نام کوئی پلاٹ ہوتا اور نہ ہی تم اپنے گھر کے مالک ہوتے ۔ جاتنے ہو ناں یہ بات اچھی طرح سے ۔ لیکن ماننا نہیں چاہتے ۔ کیونکہ تم احسان فراموش ہو ۔ تمہارے بھائی نے تم پر احسان کیا، اور تم اسکا بدلہ اسے پورے خاندان میں بدنام کر کے دے رہے ہو، اور اس پر بھی کہتے ہو کہ تم نے اپنے بھائی بہن چھوڑ دئے ۔ ;238; نہیں شاہد ، نہیں ۔ تم کوئی اور ہی گیم کھیل رہے ہو ۔ اور میں تمہیں بتا دوں ۔ میں اب تمہاری کوئی چال کامیاب نہیں ہونے دونگا ۔ سمجھے تم ۔ ‘‘ ہاءصم کا صبر بھی جواب دے گیا ۔ ان کا خاندانی جلال عود کر آیاتھا، اور اس جلال سے تو شاہد بھی چلتا تھا، سو غصے کو ضبط کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔

’’ ٹھیک ہے بھائی جان ۔ لگتا ہے آپ کو میری بات سمجھ ہی نہیں آئی ۔ ابھی میں چلتا ہوں ۔ پھر کسی دن آونگا تو آپکو تفصیل سے سمجھاوَنگا ۔ ‘‘ اس نے میز سے بائیک کی چابیوں اٹھاتے ہوئے کہا ۔

’’ بیٹھ جاوَ شاہد ۔ بات ہوگی، اور آج ہی ہوگی ۔ آج میں یہ روز روز کی کلکل ختم ہی کر دونگا ۔ ابھی بلاتا ہوں احد کو اور ابھی ہو جائے گا سب فیصلہ ۔ ‘‘ ہاءصم نے دبنگ انداز سے کہا تو شاہد پریشان ہو گیا ۔

’’ بیٹھ جاوَ شاہد ۔ !! کھانا کھا کر جانا ۔ ابھی احد بھی آتا ہوگا، پھر میں کھانا لگادونگی ۔ پہلے کچھ کھاپی لینا، پھر آرام سے ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ۔ انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ‘‘ عایشہ نے نرمی سے کہا تو وہ منہ بناتا ہوا بیٹھ گیا ۔

’’ شاہد ۔ !! تم بڑے ہو یار ۔ احد چھوٹا ہے ۔ میں اس سے بات کرنگا ۔ تم بس، اپنے غصے پر قابو رکھنا ۔ کوئی ایسی ویسی بات نہ کرنا کہ مزید بدمزگی ہو جائے ۔ میں احد سے کہوں گا کہ تمہیں 25 % کی بجائے 35 % شیئرز دے دے ۔ بلکہ تم ایسا کرنا کہ سارے شیئرز احد کو ہی بیچ دینا، اس سے نقد رقم لے کر اپنا خود کا بزنس اسٹارٹ کرلینا اور گھر بھی اپنی پسند کا لے لینا ۔ یار میرا مشورہ مانو تو اسی میں تمہارا فائدہ ہے ۔ ‘‘ احد کو کسی ضروری کام سے کہیں اور جانا تھا، سو اس نے آنے سے معذرت کر لی ۔ ہاءصم اور عایشہ نے شاہد کو کھانا کھائے بغیر اٹھنے ہی نہیں دیا ۔ اس دوران وہ پیار سے، نرمی سے اسے سمجھاتے رہے ۔ بات معقول تھی اسکی سمجھ میں بھی آ ہی گئی ۔ اس لیئے وہ بھی دھیما پڑ گیا ۔

’’ میں تو یہ کہتی ہوں کہ اگر اس طرح لڑ بھڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے تو اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان شرافت سے کہیں دور جا کر اپنی دنیا الگ بسا لے ۔ پاس پاس رہ کر دلوں کو دور کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ دور رہے اور ایک دوسرے کی محبت دل میں زندہ رہے ۔ تم بھی میری بات پر غور کرنا ۔ اچھی لگے تو عمل بھی کر ڈالنا ۔ ‘‘ عایشہ نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا تو شاہد بس سر ہلا کر رہ گیا ۔

’’ اور ایک بات اور ۔ جو بھی بات کرنی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر کرنا ۔ تم دونوں بھائی ہو ۔ سگے بھائی ۔ اور بھائی بھائیوں کے بازو ہوتے ہیں ۔ اپنے ہاتھ سے اپنا بازو کاٹ کر دنیا کے سامنے تماشہ مت بن جانا ۔ ‘‘ ہاءصم نے بھی نرم لہجے سے کہا تو شاہد بس ان دونوں کو دیکھ کر رہ گیا ۔

******************************

تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا ۔ مگر اس بار واقعات کا تسلسل بری طرح مجروع ہوا تھا ۔ نادیہ کو ہاءصم اور عایشہ کی کسی بات سے بھی اتفاق نہیں ہوا تھا ۔ وہ تو انکی دی گئی تجاویز سنتے ہی ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی ۔

’’ کیا ۔ ;238; یہ سب بھائی جان نے کہا آپ سے، اور آپ چپ چاپ انکی باتیں سنکر چلے آئے ۔ ;238;کمال ہے شاہد ۔ میں تو آپکو بڑا بہادر سمجھتی تھی، مگر آپ تو نرے بزدل ہی نکلے ۔ ‘‘

’’ تو ۔ ;238; کیا کرتا ۔ ;238; بڑے بھائی بھابھی ہیں وہ میرے ۔ میں ان کے سامنے کیسے ۔ ۔ ۔ !! ‘‘

’’ اچھا ۔ ;238; وہ بڑے بھائی بھابھی ہیں ، تو میں اور آپ کون ہیں ۔ ;238; میں بڑی بھابھی نہیں ہوں احد اور سنبل کی ۔ ;238; آپ بڑے بھائی نہیں ہیں انکے ۔ ;238; جب ہماری کوئی عزت نہیں انکی نگاہ میں تو ہم کسی کی عزت کیوں کریں ۔ ‘‘ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والے انداز میں وہ چلا اٹھی تھی ۔

’’ لیکن احد اور سنبل نے کبھی میرے ساتھ تو کوئی بدتمیزی ۔ ۔ ۔ !! ‘‘

’’ ہاں ۔ !! انکی بدتمیزیاں آپکو کیوں دکھائی دینے لگیں ۔ آپکے تو سگے ہیں ناں وہ ۔ ;238; وہ کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ ایک جھوٹی تو میں ہی رہ گئی ہوں سارے زمانے کی ۔ بے غیرت کہیں کے ۔ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔ امی ابو نے بھی جانے کیا دیکھ کر میرا نصیب ان جاہلوں کے خاندان میں پھوڑ دیا ۔ ‘‘ وہ اپنی آئی پر آ چکی تھی، اور اب اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا ۔ سارے خاندان کو آگے لگا کر رکھنے والا شاہد بھی نہیں ۔ وہ بھی سر جھکائے اسکی گالیاں سن رہا تھا ۔

’’ میں آپکو آخری وارننگ دے رہی ہوں شاہد ۔ ایک ہفتے کے اندر اندر مجھے یہ گھر خالی چاہئے اور ساری پراپرٹی میں برابر کا حصہ ۔ اب آپ یہ سب کیسے کرتے ہیں ۔ مجھے کچھ نہیں پتا ۔ مگر مجھے میرا حق چاہئے ۔ سمجھے آپ ۔ ‘‘

’’ ایک ہفتہ ۔ ;238; اتنے کم وقت میں تو شائد کچھ بھی نہ ہو سکے ۔ میری تو ابھی احد سے اس موضوع پر بات ہی نہیں ہو پائی ۔ ;238; ‘‘

’’ میں کچھ نہیں جانتی ۔ میں نے آپکو ایک ہفتے کا ٹائم دیا ہے اور ایک ہفتے کا مطلب ایک ہفتہ ہی ہے سمجھے آپ ۔ ورنہ ۔ ‘‘

’’ ورنہ کیا ۔ ‘‘ نادو کے انداز نے شاہد کو شاکڈ کر دیا تھا ۔

’’ ورنہ خود بھی مر جاوَنگی اور آپ کے بچوں کو بھی مار دونگی ۔ پھر ساری عمر سیدھی کرتے رہنا بھائی بھابھیوں کی جوتیاں ۔ کیونکہ پھر تو آپ ہمیشہ کے لیئے ویلے ہی ہو جائیں گے ناں ۔ نہ کوئی بیوی ہوگی اور نہ ہی بچہ ۔ سارا سیاپا ہی ختم ۔ ‘‘ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے زہر بھرے انداز میں کہتی وہ کہیں سے بھی پڑھی لکھی نہیں لگ رہی تھی ۔ شیطان نے ایک بار پھر ایک زن کے دماغ پر قبضہ کیا اور اس کے ذریعے ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑنے کی بھرپور کوشش کر ڈالی ۔

’’ ابو ۔ !! شاہد چاچو نے احد چاچو کو گولی مار دی ۔ جلدی چلئے ۔ انہیں ہاسپٹل لے گئے ہیں ۔ ‘‘ ہاءصم کا بیٹا گھبرایا ہوا گھر میں داخل ہوا اور روتے ہوئے باپ کو یہ روح فرسا خبر سنائی ۔ ہاءصم کی ہوائیاں اڑ گئیں ۔ عایشہ رونے لگیں کہ یہ کیا ہو گیا ۔ اسد ہاءصم کو بایءک پر بٹھائے اڑتا ہو ہاسپٹل پہنچا تھا ۔ گولی احد کی ٹانگ میں لگی تھی اور ران کی ہڈی کو چکنا چور کرتی ہوئی آر پار ہوگئی تھی ۔ اس حادثے کی خبر ملتے ہی پورا خاندان وہاں اکٹھا ہو چکا تھا ۔ شاہد بھی ان میں شامل تھا ۔ جذبات کی رو میں بہہ کر وہ بھائی کو خون تو بہا چکا تھا، مگر اب پچھتاوں کے ناگ اسے ڈس رہے تھے ۔ اس پر یہ خوف کہ اگر احد یا ہاءصم نے اسکے خلاف پرچہ کٹوا دیا تو اس کا کیا بنے گا ۔ ;238;

’’ انسپکٹر صاحب ۔ !! میں اپنی گن صاف کر رہا تھا ۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا ، گولی چیمبر میں پھنسی ہوئی تھی، بس میری انگلی کے دباوَ سے ٹریگر دب گیا اور گولی میری ٹانگ میں گھس گئی ۔ ‘‘ ہاءصم کی التجا بھری نگاہوں کو دیکھتے ہوئے احد نے اپنا بیان خلفی رکارڈ کروایا اور شاہد کے سر پر ایک اور احسان رکھ دیا ۔

’’شاہد ۔ !! یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔ میں ے تمہیں کہا بھی تھا کہ بھائی سے لڑنا مت ۔ زمانے کو اپنا تماشہ مت دکھانا، مگر تم نے میری ایک نہیں سنی اور اپنی کر کے رہے ۔ اب بتاوَ مجھے ۔ مل گیا تمہیں تمہارا حصہ ۔ ;238; بن گئے ففٹی ففٹی کے پارٹنر ۔ ;238; کچھ تو بولو ۔ اس طرح سر جھکا کے کیوں بیٹھے ہو اب ۔ ;238;‘‘ احد کا آپریشن چل رہا تھا ۔ اسکی ٹانگ کی ہڈی کی حالت دیکھ کر ڈاکٹرز بھی پریشان تھی کہ کیا کریں ۔ ادر ہاءصم کو جیسے ہی موقع ملا، وہ شاہد کو ایک کونے میں لے گیا اور لگا اسکی کلاس لینے ۔

’’ مجھے نہیں پتا کہ مجھے کیا ہوا تھا ۔ میرے پاس صرف ایک ہفتے کا وقت تھا بھائی جان، اور احد میری بات سننے کو ہی تیار نہیں تھا ۔ میں نے اسے کہا بھی تھا کہ سب کچھ نادو کے نام لگا دے ۔ مگر ۔ ۔ ۔ !! ‘‘

’’ نادو کے نام ۔ ;238; لیکن کیوں ۔ ;238; یہ تم دونوں بھائیوں کے بیچ نادو کہا ں سے آ گئی ۔ ;238; اور یہ ہفتے کا وقت تمہیں کس نے دیا ۔ ‘‘ ہاءصم حیرت سے اسکی بات کاٹتے ہوئے بولا تو شاہد نے جھکا سر اٹھا کر بھائی کو دیکھا تھا ۔ اسکی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ ہاءصم کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا ۔

’’ تو یہ سب تم سے تمہاری بیوی نے کروایا ۔ وہ احد کا گھر توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تو اس نے احد کو ہی توڑ ڈالا ۔ اور تم نے ایک مرد ہو کر اپنی عقل ایک عورت کے ہاتھ دے دی ۔ ;238; تف ہے تم پر شاہد ۔ تف ہے ۔ دفع ہو جاوَ ۔ میری نگاہوں سے دور ہو جاوَ ۔ میں اب تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ہاءصم کا پارہ چڑھتا ہی جارہا تھا ۔ شاہد چپ چاپ اٹھ کر وہاں سے باہر چلا گیا اور ہاءصم شدید صدمے اور دکھ کی حالت میں وہیں بیٹھا رہ گیا ۔

’’ کاش شاہد ۔ آپ عقل سے کام لے لیتے، اس قدر جذباتی نہ ہوتے، تو آج یہ گھر، ہمارا ہوتا ۔ میں کسی نہ کسی طرح سنبل کو احد کی زندگی سے نکال ہی دیتی، مگر آپکی جلد بازی نے سارا کھیل ہی بگاڑ دیا ۔ آپکی اس گھٹیا حرکت کے بعد اب مجھے بھی آپکے ساتھ رلنا پڑے گا ۔ کہاں تو میں پوری کے خواب دیکھ رہی تھیِ اور کہاں اب آدھی بھی ہاتھ سے جاتی نظر آ رہی ہے ۔ اور وہ بھی صرف آپکی وجہ سے ۔ ‘‘ نادو کا غصے کے مارے برا حال تھا ۔ شاہد بھائیوں کی نگاہوں میں تو ذلیل ہوا ہی تھا، بیوی کی نگاہوں میں بھی اپنے لیئے غصہ اور نفرت دیکھ کر گم صم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا تھا ۔ اسکی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اس ’’ زن ‘‘ کو کیا جواب دے، جسکی وجہ سے وہ ان حالوں کو پہنچا تھا ۔ اور وہ تھی کہ ابھی تک اسکے گلے شکوے ہی نہیں ختم ہو رہے تھے ۔

******************************

اس ’’زر، زن، زمین ‘‘ کے چکر میں آج تک کئی گھر برباد ہوئے ۔ بھائیوں نے بھائیوں کا خون بہایا ، تو کہیں بہنوں کو سولی پر چڑھایا، مگر یہ تین ’’ ز ‘‘ کا چکر روز ازل سے چل رہا ہے، اور شائد روز ابد تک یونہی چلتا رہے گا ۔ اس لالچ اور ہوس کا انجام کیا ہوگا، کسی کو کچھ پتا نہیں ، مگر یہ راستہ اتنا پرکشش ہے کہ بنی آدم آنکھ بند کیئے بس اس پر چلتا چلا جارہا ، چلتا ہی چلا جارہا ۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *