شہزاد عمران رانا ایڈووکیٹ ) نیب کی کارکردگی اور ہاءوسنگ سوساءٹیز )

بلاشبہ نیب نے حرکت میں آنے کے بعد سے اب تک ’’نمبر2‘‘ ہاءوسنگ سوساءٹی بناکر معصوم لوگوں کا پیسہ ہڑپ کرنے والوں کو’’ لگام‘‘ ڈالی ہوئی ہے جس کی وجہ سے جعلی سوساءٹیز بنانے والے فراڈیے اب ’’محتاط‘‘ ہوگئے ہیں مگر ایسے عناصر اب بھی موجود ہیں جومختلف طریقوں اور ناجائز ذراءع استعمال کرکے معصوم لوگوں سے مختلف مد میں پیسہ نکلوانے میں مصروف ِ عمل ہیں ۔

چیئر مین نیب اکثر اوقات مختلف مقامات پر خطاب کے دوران اپنی کارکردگی بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جن کے مطابق نیب نے فراڈیوں سے متاثرین یعنی معصوم لوگوں کا پیسہ نکلواکر اُن کے حوالے کیا ہے مگر انہوں نے کبھی اِس بات کا ذکر نہیں کیا کہ فراڈ کرنے والوں نے معصوم لوگوں کے پیسہ سے جو نئے نئے کاروبار چمکائے ہیں ۔ کیا نیب نے کاروائی کرتے ہوئے اُن کاروباروں کو بند کرانے کیلئے کوئی اقدام کیا;238; صرف اور صرف متاثرین کو اُن کی رقم کی واپسی ہوئی ہے جبکہ اُن کا نقصان پورا نہیں ہوا کیونکہ دس سال پہلے روپے کی جو قدر تھی وہ آج کافی کم ہوچکی ہے ۔

فراڈ کرنے والوں سے متاثرین کے نقصان کا ازالہ صرف اورصرف اُن کے نئے نئے چمکتے ہوئے کاروباروں کی نیلامی سے ہی ممکن ہے کیونکہ اِن عناصر میں سے کچھ نے بیرون ملک جائیدادیں خرید رکھی ہیں ،کچھ میڈیا ہاءوسز چلارہے ہیں اور کچھ کھانے پینے جبکہ چند مختلف نوعیت کے کاروبار سجائے بیٹھے ہیں ۔ تفتیش یاتحقیقات سے اِس بات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ یہ عناصر پہلے سے ہی خاندانی رئیس تھے یا معصوم لوگوں کا مال ہڑپ کرکے امراء کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں ۔

میری ذاتی رائے میں نیب ،ہاءوسنگ سوساءٹیز کے معاملے میں موثر کاروائی کررہا ہے مگر اپنے خون پسینہ کی کمائی اور جمع پونجی سے اپنے گھر یا پلاٹ خریدنے کا خواب لیکر آنے والے معصوم لوگوں کے نقصان کا ازالہ بھی ہونا چاہئے اویہ معاملہ میری اوپر دی گئی تجاویزکو اِس کاروائی میں شامل کرنے سے بھی ممکن ہوسکتا ہے ۔ میں خود بھی اِن متاثرین میں شامل رہا ہوں اور کسی حد تک اب بھی میرا شمار انہی متاثرین میں ہوتا ہے ۔ میں اچھی طرح واقف ہوں کہ معصوم لوگوں سے فراڈ کرنے والے عناصرکس طرح اُن کی جمع پونجی اپنے ناجائز مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور اِس مال سے مختلف نوعیت کے کاروبار اور جائیدادیں بناتے ہیں ۔ میں اور میری طرح کے کئی متاثرین نیب کی کارکردگی سے کافی حد تک ’’مطمئن‘‘ہیں مگرمجھے، میرے وکیل ہونے کی وجہ سے دوسری ’’آپشن‘‘ پر عمل کرنا بھی آتا ہے کیونکہ نیب کی کاروائی کا دائرہ ایک حد تک ہے ۔ جس کے بعد ’’دیوانی اور فوجداری‘‘ کاروائیوں بھی کی جاسکتی ہیں جس کی اصل وجہ نیب حکام کی ایک حد تک کاروائی کے بعداُن کی بے بسی کا اظہار ہے ۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ ’’دیگر مقدمات‘‘ کی طرح ہاءوسنگ سوساءٹیز کے معاملات میں بھی نیب کو اور زیادہ مضبوط کرے ۔

آخر میں ، میں اُمید کرتا ہوں کہ وزیراعظم پاکستان ،چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیب مل کر بہت جلدملک میں عدالتی نظام سمیت نیب قوانین کو موثر بنانے کیلئے کوئی عملی قدم اٹھائے گے جس کا مقصد صرف اور صرف معصوم لوگوں تک انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور آنے والی نسلوں کیلئے ایسا ’’پاکستان‘‘ چھوڑ کر جاناہوگا جس میں امیر اور غریب دونوں کیلئے مساوی قانون اور انصاف کی ہر ممکن فراہمی لازمی جزوہو ۔ ویسے بھی ہمارے وزیراعظم نے ملک کو ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کی طرز پرحقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کا اعلان اور تمام ’’دیوانی مقدمات‘‘کا فیصلہ ایک سال میں سنانے کاوعدہ اپنے پہلے ’’قوم سے خطاب‘‘ میں کیا تھا جس کا انتظار قوم آج بھی کررہی ہے ۔ اِس دعا کے ساتھ میں اپنے کالم کا اختتام کرنا چاہوں گاکہ’’اللہ پاک ملکِ پاکستان میں انصاف و قانون کا بہترین نظام راءج فرمائے اور ہمارے پیارے وطن کو تا قیامت سلامت رکھے ۔ آمین

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *