معافی۔۔۔۔تحریر :علینہ ارشد

آج بہت شدت سے تمھاری یاد آ رہی ہے. دوستی کا جب ہاتھ بڑھایا تھا تو کچھ اصول تم نے طے کیے تھے. اور میں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اصول کچھ نہیں ہوتے دوستی تو بس دوستی ہوتی ہے.
میں نے کہا تھا کہ لوگ جلد چلے جاتے ہیں اور یاد ہے تم نے کہا تھا کہ شجر کا کام تو سایہ دینا ہے. لوگ آئیں گے تمھاری چھاؤں میں بیٹھیں گے پل بھر تم سے مل کر انہیں سکون ہو گا مگر پھر وہ چلے جائیں گے. اور میں نے سوال کیا تھا کہ اس درخت کا کیا؟ کیا اسے محبت اور خلوص کی بارش کی ضرورت نہیں ہے اور تم نے مسکرا کر جواب دیا تھا وہ رب کا کام ہے وہ خودی کر لے گا…
تم بھی مسافر کی طرح آئی دو گھڑی بیٹھی اور بس پھر چل پڑی. اب وہ شجر کسی کو سایہ نہیں دیتا اسکی بنیادیں کھوکھلی پڑ گئیں ہیں اب وہ کسی دن گر جائے گا اور رفتہ رفتہ گل سڑ جاۓ گا.
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں.
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا.
اسکی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے
اس پہ کیا لڑنا کہ فلاں میری جگہ بیٹھ گیا

میرے قدم اب اسکی جانب بڑھتے بڑھتے جانے کیوں رک جاتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہمارے درمیاں کوئی رنجشیں ہیں. مگر اس نے جو دیوار کھڑی کر دی اسے گرانے میں نا جانے کتنا وقت لگ جاۓ. ہر بار قدم بڑھتے ہیں مگر کچھ کہتے کہتے زبان رک جاتی ہے یہ سوچ کر کہ وہ سب کے ساتھ ہی ایسی ہے تمھارے ساتھ کچھ خاص نہیں.
دل بار بار کہتا ہے کہ تمھارے حصہ میں اب سمندر نہیں آنے والا مگر دماغ کہتا ہے کہ چلو ریت نچوڑی جاۓ. ہر بار کی طرح وہ میرے سامنے یوں بیٹھی تھی جہسے کچھ ہوا ہی نہیں اور سچ تو ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا. مان تھا ہی کہاں جو ٹوٹتا، رشتہ تھا ہی کہاں جو سمٹتا، وفا تھی ہی کہاں جو بے وفائی میں بدل جاتی، انا کہاں تھی جو ٹوٹتی یا جھک جاتی. کچھ تھا ہی تو نہیں.
اس ایک بار کی طرح آج بھی دروازے پر کھڑی تھی وہ اور دل نے ہزارہا چاہا کہ مڑ کر دیکھا جائے دیکھا تو اسکی آنکھوں میں سوال تھے شاید جنکا جواب نہ میرے پاس تھا نہ اسکے پاس. بس مجبوریاں تھی اور کچھ عہد وفا جو میں نے اسکے ساتھ کیے تھے. وہ تو شاید بھول گئی ہو مگر مجھے حرف حرف لفظ بالفظ یاد ہے.
نا چاہتے ہوئے بھی میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی. اور اب بھی نہ پوچھتی تو شاید یہ سوالات مجھے اندر ہی اندر توڑ دیتے، اور اب میں ٹوٹنا ہی تو نہیں چاہتی تھی. آنکھیں نم تھی اور میں اس سے سوال پوچھ رہی تھی آخر میری غلطی کیا ہے اور کتنا بے بس ہو جاتا ہے نا انسان جب آگے سے جواب میں رب کریم کی مرضی کا حوالہ آ جاۓ. تب میرا دل چیخ چیخ کر مجھ سے کہہ رہا تھا اللہ کی مرضی سے ہر کام ہوتا ہے مانتی ہوں مگر پھر رب نے جنت، دوزخ دو الگ جگہیں کیوں بنائی رب کریم نے جزا اور سزا کیوں رکھے. دل نے اسکی کبھی غلطی گردانی ہی نہیں وگرنہ معاف ضرور کر دیتی. کاش کہ اسے علم ہو کہ ہر روز بہتے آنسوؤں کا کفارہ بہت مہنگا ہے. کاش کہ وہ اس درد کا اندازہ بھی کر پاتی، اس پر ادھار رہ گئ وہ راتیں جس میں اسے سوچ کر لمحہ بھر چین نہیں پایا میں نے. اسکا کردار میری زندگی میں بس اتنا تھا کہ وہ مجھے قناعت اور صبر سکھانے آئی اور پھر چلی گئی. اسکا کام مکمل ہوۓ. مگر میں اسے صدق دل سے یہ کہہ چکی کہ میرے دل میں اسکے لیے کوئی میل نہیں. باقی کی ہر چیز حساب اس رب کے ہاں جسکے حکم سے یہ سب ہوا. کیونکہ جزا اور سزا کا مالک تو وہ رب کی زات ہے نا. بہت سے لوگوں نے میری زندگی کو آزمائشوں سے دوچار کیا لیکن انکے چلے جانے کے بعد میں نے انہیں معاف کر دیا. آزمائشیں تو امتحان تھی گزر گئ جزا اور سزا امر ہے وہ نہیں ٹلتی اور یہ کہ کسی کو میری وجہ سے کسی عذاب گزرنا پڑے سوچ کر ہی میری روح کانپ جاتی ہے.
معاف کریں تاکہ آپ بھی معاف کیے جا سکیں

(Visited 34 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *