وہ کتاب جس سے مجھے محبت ہے!تحریر: فاطمہ شیروانی

 

کچھ روز پہلے فیس بک پر کبریٰ نوید کی وال پر ایک جملہ پڑھنے کا اتفاق ہوا جسے بہت سے لوگوں نے شیئر کیا ہوا تھا۔کبریٰ نے لکھا تھا کہ کبھی کسی لکھنے والے سے محبت کرکے دیکھو،وہ تمہاری عام سی محبت کو بھی خاص بنا دے گا۔میرا یہ کہنا ہے کہ جیسے لکھنے والے بہت خاص ہوتے ہیں ویسے ہی ان کی محبتیں بھی انمول ہوتی ہیں۔ان کے پاس لفظ ہوتے ہیں اور جب یہی لفظ محبت میں ڈوبے ہوئے ہوں تو دل کو چھو لینے والی تحریریں جنم لیتی ہیں۔میرے بیڈ پر میرے کمپیوٹر کے ساتھ ہی بابِ عشق مسکراتا ہوا میری طرف دیکھ رہا ہے۔وہ جانتا ہے میرے لئے وہ بہت خاص ہے اور میں اس کو نہایت محبت سے اپنی دیگر کتابوں سے ذرا علحدٰہ ہی رکھتی یہ

خاص چیزوں کی حفاظت بھی خاص انداز میں ہی کی جاتی ہے۔باب ِ عشق میری دوست نایاب جیلانی کی چودھویں کتاب ہے۔یہ ناول نایاب کے پچھلے سارے ناولز سے ذرا ہٹ کر ہے۔میرے لئے یہ اس لئے بھی خاص ہے کہ میں نے اس ناول کو کمپوز کیا ہے۔تھکی ہوئی بوجھل راتوں میں بہت بار یہ ناول مجھ سے ہمکلام ہوا ہے۔میں نے نایاب کے جملوں میں موجود خوشبو کو اپنے اندر اتارا ہے۔باب عشق کتابی شکل میں میرے سامنے ہے اور منتظر ہے کہ میں رنگوں میں ڈوبے چند لفظوں کے ساتھ اس کی خوبصورتی کو بیان کروں۔بابِ عشق کا ٹائیٹل کتاب کے اندر کی کیفیات کو کافی حد تک بیان کر دیتا ہے۔بلاشبہ ٹائٹل دل کو چھو لینے والا ہے۔ناول کھلتا ہے اور ساتھ ہی آپ محبت کرنے والوں کے ایک ایسے شہر میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں راستوں میں جا بجا خواب بکھرے ہیں۔پہلا خواب انتساب کی شکل میں نظر آتا ہے۔میں نے تو بہت عام سے انتساب پڑھے ہیں مگر بابِ عشق کا چار سطروں پر مشتمل انتساب اس لحاظ سے مختلف ہے جس میں نایاب نے کسی کا نام نہیں لیا مگر ان جملوں میں بہت کچھ کہہ دیا ہے۔خوشبو میں ڈوبے اس انتساب کے بعد اگلا صفحہ پلٹتے ہی باب ِ عشق کے اندر موجود کچھ خوبصورت تبصروں کا آغاز ہو جاتا ہے۔عموماً تبصروں کی زیادتی کتاب کی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہے مگر یہ تمام کے تمام تبصرے بہت خوبصورت انداز میں لکھے گئے ہیں۔نایاب کے لفظوں کی مہک پیش لفظ سے ہی آپ کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔عشق اب سامنے آنے لگا ہے اور پڑھنے والوں کے سامنے عشق کے رنگ اترنے لگے ہیں۔

 

انمول اور عون کے عشق کے رنگ آپ کے سامنے ہیں۔پڑھنے والا حیران ہے کہ کیا کوئی محبت کو اتنا خوبصورت بھی بیان کر سکتا ہے۔کیا محبت اتنی دلکش بھی ہو سکتی ہے۔انمول دھیرے دھیرے عون کی محبت کے رنگوں سے کھیلنے لگی ہے۔اب یہ محبت صرف انمول کی نہیں ہے اب باب عشق پڑھنے والوں کی ہے۔”محبت چاندی کے مجسموں کی طرح خوشنما ہے“ محبت صبح بنارس بھی ہے اور شام اودھ بھی“محبت سوگوار انبساط میں بہتا دریا ہے جس میں ڈوب جاتے ہیں محبت کے مارے لوگ اور عشق میں ہارے لوگ“۔یوں لگتا ہے محبت کا ہاتھ پکڑے یہ جملے قطار در قطار میرے سامنے چلے آ رہے ہیں۔میں ان جملوں کے حصار میں ہوں۔ابھی دربارِ عشق میں عشق کی دلکش دھنیں گونج رہی تھیں کہ باب عشق کا ساتواں باب سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ انمول اور عون کے بعد اس باب میں بہت سے نئے کردار ناول کا حصہ بنتے ہیں۔حال سے کہانی ماضی میں داخل ہو چکی ہے۔ماضی بھی ایسا جس میں درد،آنسو،اذیت سب ایک ساتھ ہی برس پڑے ہوں۔نایاب کو منظرکشی میں کمال حاصل ہے۔بابِ عشق بنیادی طور پر گاؤں کی مٹی سے جڑے چند وفا پرست لوگوں کی کہانی ہے۔یہ کینوؤں کے باغ میں گھرے گاؤں کی کہانی ہے۔وہ گاؤں جہاں کے لوگوں کے مزاج بھی کینو کے نومولود پھل جیسے ہو گئے ہیں۔بدمزہ،نہایت کڑوے اور ترش۔غفریٰ بابِ عشق کا ایک نہایت ہی خوبصورت کردار ہے۔اس کردار کی بزدلی نے اسے اندر سے زخمی کر دیا۔غفریٰ کے زخموں کو دیکھ کر پڑھنے والا تڑپ اُٹھتا ہے۔غفریٰ جو اچھی بہو بننے کی کوشش میں ہر درد کو ہنس کر جھیل جاتی ہے کہ ایک روز اس کے پورے وجود کو کسی نے نوکیلے کانٹوں کی طرف اچھال دیا۔

 

سائرہ جو بابِ عشق کا ایک خوبصورت پھول ہے۔جب اس پھول کو نوکیلے کانٹے نوچ کھاتے ہیں تو غفریٰ کے لئے یہ درد ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔اپنے آدھے ادھورے وجود کے ساتھ انمول کی پرورش کرتی ہے۔ماضی کی یہ داستان اپنے دامن میں بہت سے کرداروں کو چھپائے بیٹھی ہے۔یہ تمام پڑھنے والوں کو اپنے اپنے سے لگتے ہیں کیونکہ یہ تمام کردار ہمارے معاشرے کا ہی حصہ ہیں۔ابھی ہم انمول کے ماضی سے نکلے ہی تھے کہ عون عباس کی کہانی شروع ہو گئی۔انمول کا ماضی کینوؤں والے باغ کے سائے میں سانس لیتا ہے جبکہ عون عباس کا ماضی بوڑھے آم کے درخت کی شاخوں سے جڑا ہے۔اب کہانی ایک بالکل مختلف ماحول میں داخل ہو گئی ہے۔یہاں دو کردار امر اور حسین اپنی شرارتوں کی وجہ سے ہمارے دل کے قریب ہو جاتے ہیں۔نایاب کے یہ کردار جہاں ہمیں ہنساتے ہیں وہیں آنسوؤں کا انمول رشتہ بھی انہی کرداروں کے ساتھ جڑا ہے۔بابِ عشق کے قدموں میں بکھرئے آنسو سمیٹتے سمیٹتے کہانی آگے بڑھتی ہے۔کالج اور یونیورسٹی کی زندگی کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔عون اور انمول کے ماضی کے ساتھ سفر کرتی کہانی اب دوبارہ سے حال میں داخل ہونے لگی ہے۔تم جو بابِ عشق ہو اس ناول کا ایسا باب ہے جس میں عشق اپنی بلندیوں پر نظر آتا ہے۔دربارِ عشق میں جہاں نغمہ عشق کی صدائیں مدھم پڑ گئی تھیں۔اب وہاں ایک بار پھر سے عشق کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔کہانی مختلف حوالوں سے اب آگے بڑھنے لگی ہے۔کہانی موجودہ زمانے کی ہے اس لئے محبت کے رنگ اب کبھی میسنجر اور کبھی واٹس ایپ کے اندر نظر آنے لگے ہیں۔ناول کا سب سے خوبصورت پیراگراف وہ ہے جب انمول عون کی محبت پر ایمان لے آتی ہے۔عشق ملن کے شوخ رنگوں میں سج کر اور بھی خوبصورت لگنے لگا تھا۔

 

انمول عون کے عشق کو اوڑھ کر جہاں بھی جاتی ہے جابجا اپنے محبوب کو ہی دیکھتی ہے۔وہ چاہے برج خلیفہ ہو یا پھر ڈیزرٹ سفاری اسے ہر طرف عشق دکھائی دینے لگا ہے۔خانہ خدا میں دعا مانگتے ہوئے انمول اپنے محبوب کا نام پکارتی ہے۔تب پڑھنے والا بھی ساتھ ہی دل سے دعا مانگتا ہے کہ عشق کی تکمیل ہو جائے۔دو محبت کرنے والے مل جائیں۔بابِ عشق میں اس ملن کو بھی ایک نہایت دلکش پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔کیا محبت کرنے والوں کی شادیاں اتنی خوبصورت ہوتی ہیں جتنی خوبصورت شادی عون اور انمول کی شادی ہے۔شاعری سے میرا لگاؤ بہت پرانا ہے۔بابِ عشق میں شاعری اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔تمام تر انتخاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔
”کبھی اس پار ملنا تم
جہاں پر خواب بوڑھے ہوں مگر تعبیر بنتی ہو
جہاں پر سات رنگوں سے میری تصویر بنتی ہو
تمہاری زلفیں خم کھائیں تو ان کو صرف میں دیکھوں
انہی خم دار زلفوں سے کوئی زنجیر بنتی ہو۔“

 

میں اس ناول کے حصار میں گم ہوں۔میں نے محبت کے موضوع پر بہت سی تحریریں پڑھی ہیں۔مگر اس ناول نے محبت کو جتنے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے مجھے لگتا ہے محبت بھی حیران ہوئی پھرتی ہوگی کہ کوئی اسے اس قدر احترام سے بھی پکارتا ہے۔کسی کے پاس یہ کیسا ہنر ہے کہ وہ لفظوں کی محبت سے دوستی کروا دیتا ہے۔نایاب جیلانی کے اس ناول کا اسلوب بہت منفرد ہے۔یہ ناول محبت کی علامت ہے۔محبت کرنے والوں کو یہ ناول ضرور پڑھنا چاہیے اور اس محبت کو محسوس کرنا چاہیے جو نایاب جیلانی نے بابِ عشق لکھ کر امر کر دی ہے۔

 

(Visited 10 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *