گھنا جنگل۔۔۔۔۔۔ تحریر: فلک زاہد

 

رات کے کوئی نو دس بجے کا وقت ہوگا ہر طرف خاموشی اور سناٹا دل دہلاے دے رہا تھا ہاتھ میں بریف کیس تھامے وہ بڑی دیر سے چلا جارہا تھا وہ سفید شرٹ اور کالی پینٹ میں ملبوس تھا.آسمان پر کالے بادل ڈیرے ڈالے ہوے تھے.وہ غالباً کام سے آرہا تھا اور پیدل ہی گھر کی جانب رواں دواں تھا.یہ ایک طویل سڑک تھی جس پر وہ چل رہا تھا سڑک کے دونوں اطراف گھنے جنگلوں کا لامتناہی سلسلہ پھیلا ہوا تھا دور دور تک کوئی ذی نفس دکھائی نہیں پڑتا تھا حشرات العرض بھی سناٹے اور خاموشی کے ڈر سے دبکے پڑے تھے ہلکی سی آواز کا بھی سنا جانا مشکل تھا.مگر وہ ہر چیز سے بے نیاز لاپرواہی سے ناک کی سیدھ چلا جارہا تھا اسکا انداز ایسا ہی تھا گویا اسے آس پاس کے ماحول سنسان سڑک اور گھنے بادلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا…بارش کسی بھی وقت آسکتی تھی ہواؤں میں ابھی شدت نہیں تھی مگر اتنا زور ضرور تھا کہ درختوں کی شاخیں اور پتے جھول رہے تھے.وہ ایک جیب میں ہاتھ اڑسے اور دوسرے ہاتھ سے بریف کیس کو بیپرواہی سے جھولاتے ہوے جاہی رہا تھا کہ دفعتاً اسکے کانوں سے کوئی نسوانی چیخ ٹکرائی.وہ چونک کر رک گیا اور آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا.آواز غالباً گھنے جنگلوں کے بیچ سے آئی تھی مگر اندھیرے کی وجہ سے اس کے پار دیکھنا دشوار تھا.اس نے آنکھیں ترچھی کر کے ادھر ادھر دیکھا مگر سب کچھ ویسا ہی ٹھیک ٹھاک اور نارمل تھا وہ واپس چلنے ہی والا تھا کہ درد میں ڈوبی نسوانی آواز ایک بار پھر ابھری “بچاؤ”
آواز اس دفعہ کافی واضح اور قریب سے آتی محسوس ہوئی تھی وہ رک کر ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا آواز ایسی ہی تھی گویا لڑکی بہت تکلیف میں ہو اور کسی کو مدد کیلے پکار رہی ہو مگر سوال یہ تھا کہ ایک لڑکی رات کے اس پہر گھنے جنگلوں میں کیا کرہی تھی
کہیں کوئی اوباش قسم کے لڑکے اسے اغوا کر کے اس گھنے جنگل میں اسکے ساتھ دست درازی تو نہیں کررہے…یہ سوچ آتے ہی اسکے بدن میں پھریری دوڑ گئ اگر ایسا تھا تو اسے لڑکی کی مدد کرنی چاہیے وہ ایک نڈر اور باہمت نوجوان تھا جبھی رات کے اس پہر بیپرواہی سے یہاں سے گزر رہا تھا کہ یہ نسوانی چیخ سنائی دے گئ یہ سڑک دن کے وقت بھی آمدورفت کیلے کم ہی استعمال ہوتی تھی رات کے وقت تو ویسے ہی یہاں کوئی نہیں آتا تھا جسکی وجہ کچھ ڈاکوؤں کا گرو تھا جنکے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ان گھنے جنگلوں میں ڈیرے ڈالے ہوے تھے اور ہر آنے جانے والوں کو لوٹ لیتے تھے پولیس بھی اس مامعلے میں کچھ کرنے سے قاصر تھی. وہ آج خاصا لیٹ ہوگیا تھا سب کچھ جانتے ہوے بھی ٹرانسپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے اس نے بھی پہلی بار شاٹ کٹ کے طور پر اس راستے کا انتخاب کیا تھا مگر آج پہلی ہی دفعہ یہ کیا ہوگیا تھا کہیں لڑکی ڈاکوؤں کے ہتھے تو نہیں چڑھ گئ اگر ایسا تھا تو وہ نہتا تھا ڈاکوؤں سے مقابلہ نہیں کرسکتا تھا.ابھی وہ کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ معاً دلسوز نسوانی آواز ایک بار پھر ابھری “کوئی ہے پلیز مجھے بچاؤ”
اب کی بار اس نے زیادہ نہ سوچتے ہوے آواز کی سمت کا تعین کر کے گھنے جنگل میں قدم رکھ دیا.دبیز اندھیرا چاروں اور تنا ہوا تھا ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ یخلت کوئی پیچے سے آکر اس سے ٹکرایا تو وہ بری طرح سے منہ کے بل جاگرا تاہم اسکا بریف کیس اسکے ہاتھ میں ہی رہا اس نے غصے سے چہرہ اوپر اٹھا کر دیکھا تو کالے گاؤن میں ملبوس وہ نجانے کون تھا جسکی پشت اسکی جانب تھی وہ بنا پیچھے مڑے ایک طرف کو تیزی سے چلا گیا اور درختوں کے جھڈ میں غائب ہوگیا..وہ غصے میں بھپرا ہوا تیزی سے اٹھا اور حلق پھاڑ کر چلایا “اے رکو کون ہو تم دھکا کیوں دیا مجھے” وہ اسکے پیچھے تک گیا مگر وہ جو کوئی بھی تھا گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگیا تھا
“ڈاکو کا بچہ ہوگا” وہ غصے سے پھنکارا
اس نے اپنی سفید شرٹ کو ہاتھوں سے جھاڑا کہ بے خیالی میں ہی اسکی نظر اوپر درخت کے پاس جا ٹھہری جسکے موٹے سے تنے کے پیچے کوئی کھڑا اسے گھور رہا تھا.وہ کوئی بونے قد کا گنجا شخص معلوم ہوتا تھا اندھیرے میں ہونے کی وجہ سے اسکا چہرہ واضح نہیں تھا
“کون ہو تم سامنے آؤ” وہ غصے سے بولا مگر تنے کے پیچھے سے گھورتا شخص ٹس سے مس نہ ہوا وہیں کھڑا اسے گھورتا رہا
“میں کہتا ہوں سامنے آؤ” اس نے ایک بار پھر کہا مگر اس بار وہ بونے قد کا آدمی اسکے ایسا کہنے پر اس درخت سے بھاگتا ہوا دوسرے تناور درخت کے پچھے جاکر کھڑا ہوگیا اور اسے دیکھنے لگا.
وہ چلتا ہوا اسکے نزدیک گیا مگر یہ کیا وہاں کوئی بھی نہیں تھا اس نے درخت کے گرد چکر کاٹا مگر وہ بونا آدمی وہاں ہوتا تو نظر آتا…اففف یہ کہاں پھنس گیا تھا وہ اس دوران اس لڑکی کی آواز بھی دوبارہ سنائی نہ دی تھی وہ ابھی پیچھے پلٹا ہی تھا کہ کوئی لڑکی اسے دکھائی دی جو سر تا پیر سفید لباس میں ملبوس تھی اور ہاتھ میں لالٹین پکڑے نجانے کہاں جارہی تھی لڑکی کی پشت اسکی جانب تھی جس وجہ سے وہ اسکا چہرہ نہ دیکھ پارہا تھا اسکے کالے سیاہ بال اسکی کمر پر بکھرے پڑے تھے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی نجانے اس وقت کدھر جارہی تھی وہ اسکے پیچھے ہولیا اور دبے پاؤں اسکے پیچھے جانے لگا
“رکو کون ہو تم” اس نے پکارا
وہ لڑکی یخلت اپنی جگہ رک گئ مگر پیچھے نہیں پلٹی اسی اثنا میں وہ درد میں ڈوبی نسوانی آواز ایک بار پھر ابھری “کوئی ہے مجھے بچاؤ”
آواز اسکے پیچھے سے آئی تھی وہ فوراً پلٹا مگر آس پاس تو کیا دور دور تک بھی کوئی نہیں تھا صرف سائیں سائیں کرتا سناٹا ہی پیر پھلاے ہوے تھا وہ واپس اس لڑکی کی جانب متوجہ ہوا مگر وہ بھی اپنی جگہ سے غائب ہوچکی تھی وہ چکرا کر رہ گیا یہ کیا گھن چکر تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی.اس نے تو سنا تھا کہ یہ جنگل ڈاکوؤں کی آماجگا ہے مگر یہ جنگل تو آسیبی نکلا یہاں کوئی ڈاکو دکھائی نہ دیا تھا الٹا چلتے پھرتے بھوت نظر آنے لگے تھے.اس نے واپسی کیلے قدم بڑھاے ہی تھے کہ کسی نے درخت کی اونچی شاخ سے اس پر چھلانگ لگا دی وہ زمین پر جاگرا اور بریف کیس اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور پھسل گیا.اس کے سینے پر سوار وہ بلا کوئی نہایت خوفناک اور کراہیت زدہ صورت کی حامل بوڑھیا تھی جسکے دانت بڑے بڑے اور خون آلود تھے اسکی آنکھیں, آنکھیں نہیں دو گھڑے تھے اور سر کے بال اسکارف میں لپٹے ہوے تھے وہ اپنی مکرو اور کراہیہ آواز میں چلائی تو وہ بھی اسکی بھیانک شکل اور گندی آواز سن کر بری طرح چیخنے لگا اس نے اپنے حواس بحال رکھتے ہوے اسکے منہ پر ایک زوردار مکا مارا جس سے وہ اسکے سینے سے اتر کر دور جاگری موقع غنیمت جان کر وقت ضائع کیے بغیر وہ تیزی سے اٹھا اور دور پڑا بریف کیس اٹھا کر جدھر کو منہ پڑا بھاگ اٹھا اس نے یہ جاننے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی کہ وہ بڑھیا اسکے پیچھے آرہی تھی کہ نہیں وہ بس بھاگتا گیا اور بھاگتا ہی چلا گیا.اس نے ایک بار بھی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا اتنی ہمت وہ خود میں نہیں پارہا تھا وہ اس منحوس بڑھیا کی مکرو شکل دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا.پتا نہیں وہ کس قسم کی بھیانک چڑیل تھی.بھاگتے بھاگتے اسے رکنا پڑا کیونکہ اسکے سامنے تین لوگ محو گفتگو تھے وہ جلدی سے درخت کی آڑ میں ہوگیا اور منتشر سانسوں کے ساتھ انکی گفتگو سننے لگا
ایک عورت تھی ایک مرد تھا اور ساتھ کوئی چھوٹا بچہ تھا بارہ تیرا سال کا رہا ہوگا
“مجھے بھوک لگی ہے مما” وہ بچہ اس عورت سے بولا
“تجھے تو ہر وقت بھوک ہی لگی رہتی ہے میں اس وقت تیرے لیے کھانا کہاں سے لیکر آؤں” وہ عورت اسے جھاڑ دیتے ہوے بولی
وہ تینوں اندھیرے میں کھڑے تھے انکا چہرہ وہ دیکھ نہیں پارہا تھا.
“فکر نہ کر تیرے کھانے کا انتظام ہوگیا ہے” آدمی لاڈ سے بولا
“کہاں” بچہ اور عورت یک زبان ہوکر بولے
“وہ دیکھو درخت کے پیچھے ہٹا کٹا نوجوان کھڑا ہے آج رات اسی کے گوشت سے ضیافت اڑاتے ہیں” آدمی درخت کی طرف اشارہ کر کے بولا تو وہ بچہ اور عورت بھی اس درخت کی جانب دیکھنے لگے.
وہ بری طرح بدحواس ہوگیا اور دہشت سے ہانپتا کانپتا وہاں سے بھاگ نکلا لڑکی کی مدد کے چکر میں وہ کن بھوتوں کے چکر میں گھر گیا تھا فی زمانہ مدد کا جزبہ اور ہمدردی کرنا بھی کتنا مہنگا ہوگیا تھا اسے اپنے صرف نیک خیالات کی کیا قیمت چوکانی پڑگئ تھی.دیوانہ وار بھاگتے بھاگتے اسے ایک بار پھر رکنا پڑا کیونکہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر کوئی کالے لباس میں ایستادہ تھا جسکے چہرے پر جالیوں والا نقاب تھا اسکا رنگ لٹھے کی مانند سفید تھا اور اس نے ہاتھ میں موم بتی پکڑ رکھی تھی…غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ وہ کوئی بڑھیا تھی جسکا جھریوں زدہ چہرہ نہایت بھیانک تھا اور اسکے لبوں پر خفیف سی مسکراہت تھی وہ ایک قدم آگے بڑھی تو وہ دہشت کے مارے ایک قدم پیچھے ہٹ گیا
“دور رہو مجھ سے سمجھی تم” وہ خوف اور غصے کے ملے جلے تاثر میں بولا…اسکا چہرہ سرد رات میں بھی پسینہ پسینہ ہوگیا تھا
وہ ایک قدم مذید آگے بڑھی تو وہ ڈر کے مارے الٹے قدموں پیچھے کی طرف بھاگنے ہی والا تھا کہ پیچھے اسکی ٹکر بڑی زور سے کسی سے ہوگئ وہ گرتے گرتے بچا.
“کیا ہوا بھائی اتنے گھبراے ہوے کیوں ہو اور اس وقت یہاں کیا کررہے ہو” ہاتھ میں بندوق پکڑے کالے لباس میں ملبوس وہ کوئی آدمی تھا جسکی بڑی بڑی مونچھیں تھیں
“و..وو…وہ” اس نے ہکلاتے ہوے پیچھے دیکھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ بوڑھی چڑیل غائب ہوچکی تھی
“کیا بھئ کوئی نہیں ہے وہاں” مونچھو والے شخص نے وہاں دیکھتے ہوے کہا جدھر وہ لڑکا دیکھ رہا تھا
وہاں کسی کو نہ پاکر لڑکا حواس باختہ ہوچکا تھا چند لمحوں میں پہ درپہ جو واقعات اسکے ساتھ پیش آے تھے انہوں نے اسکے ذہن کو خاصا منتشر کردیا تھا
“چلو میرے ساتھ پانی وانی پی لو اس وقت یہاں کیسے چلے آے” بندوق والا شخص بولا تو وہ حواس باختہ اسکے ساتھ ہو لیا
“میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ مجھے ایک لڑکی کی آوازیں سنائی دی گئیں جو مدد کیلے پکار رہی تھی میں اسکی مدد کرنے کیلے جنگل میں چلا آیا مگر وہ لڑکی مجھے نظر نہ آئی الٹا میں راستہ بھٹک گیا” لڑکے کی حالت درست ہوچکی تھی کیونکہ ایک سے بھلے دو.
“دیکھ بھائی تجھ سے کس نے بولا تھا یہاں سے گزرنے کیلے نہیں جانتا رات کے پہر جنگلوں میں بھوت وغیرہ گھومتے ہیں” بندوق برادر بولا
“تم بھی کوئی بھوت تو نہیں ہو” لڑکے نے کہا تو بندوق برادر ہنسنے لگا
“بھوت بھی اتنے مہذب ہوتے ہیں کیا…نام کیا ہے تمارا”
“ورشام”
میرا نام سردار خان ہے دیکھ ورشام پاس ہی میرا ہٹ ہے وہاں زرا تازہ دم ہوجا” سردار خان بولا.
سردار خان ورشام کو ساتھ لیے اپنے ہٹ میں چلا آیا اس نے ورشام کو بیٹھنے کیلے کرسی پیش کی اور اسے پینے کیلے گلاس میں تازہ پانی فراہم کیا جسے ورشام غٹاغٹ حلق سے اتار لے گیا اس نے ہٹ کا جائزہ لیا جو چھوٹا سا تھا مگر ضرورت کی ہر چیز اس میں موجود تھی
“تم اس جنگل میں کیوں رہتے ہو تمہیں رہنے کیلے کوئی اور جگہ نہیں ملی کیا” ورشام خالی گلاس اسے واپس تھماتے ہوے بولا
سردار خان ہنسے لگا اور بات کا رخ دوسری طرف مورٹے ہوے بولا “اس بریف کیس میں کیا ہے جسے ساتھ ساتھ لیے گھوم رہے ہو”
“کچھ نہیں بس چند ضروری کاغظات ہیں اور کچھ نہیں” ورشام نے کہا
“کیا میں دیکھ سکتا ہوں” سردار خان نے کہا تو ورشام نے نفی میں سر کو ہلایا
“اگر اس میں صرف کاغظات ہیں تو دیکھانے میں کیا حرج ہے” سردار خان بولا
“تم کاغظات دیکھ کر کیا کرو گے” ورشام نے الٹا سوال داغ دیا
سردار خان نے اس دفعہ کچھ کہنے کی بجاے بندوق کا رخ ورشام کی جانب موڑ دیا اور سختی سے بولا “کوئی چالاکی دیکھانے کی کوشش مت کرنا سیدھی طرح بریف کیس کھول کر دکھاؤ ورنہ گولی مار دوں گا”
ورشام اس اچانک افتاد پر گھبرا گیا اسے ابھی کچھ سمجھ نہیں آئی تھی کہ ساتھ ملحقہ ایک کمرے سے چند لوگ برآمد ہوے جنہوں نے ورشام کو پکڑ کر کرسی سے باندھ دیا وہ مزحمت کرتا رہا مگر بے سود وہ اکیلا تھا اور وہ سب اتنے زیادہ
کچھ لڑکیاں بھی اب وہاں چلی آئیں تھی اور بے دست و پا بندھے ورشام کو دیکھ کر طنزیہ ہنس رہی تھیں.ورشام کے ہاتھ کرسی سے پیچھے کو بندھے ہوے تھے وہ اس اچانک بدلنے والی صورتِ حال پر حواس باختہ تھا اور یہاں ان سب لوگوں خاص کر لڑکیوں کو دیکھ کر حیران تھا
“تم نے پوچھا تھا ہم یہاں جنگل میں کیوں رہتا ہے اب تمہیں بتاتا ہے کہ ہم یہاں کیوں رہتا ہے یہ جنگل ہمارا ہے اور ہم اسکے سردار ہیں…ہم ڈاکو ہیں جنکے قصے غالباً تم نے نہیں سنے ہونگے تبھی منہ اٹھاے اس وقت لڑکی کی مدد کرنے یہاں چلے آے ہاہاہا” سردار نے کہہ کر قہقہ لگایا تو اس کا ساتھ باقیوں نے بھی بھرپور دیا.ورشام چپ چاپ بیٹھا اسکی بک بک سن رہا تھا
“شائد تمہاری بری قسمت تمہیں یہاں کھنیچ لائی ہم نے تمہیں دیکھا اور تمہیں لوٹنے کا پلان بنا لیا…یہ سب جو تم دیکھ رہے ہو ان سب نے میرے کہنے پر ہی تمہیں بھوت بن کر ڈرایا ذرا غور سے دیکھ انکی شکلیں شائد پہچان میں آجائیں”
سردار کے کہنے پر ورشام ایک ایک کا جائزہ لینے لگا واقعی وہ سب وہی تھے جو بھوت بن کر اسکے سامنے آے تھے ان میں وہ بچہ بھی تھا مگر اس وقت وہ سب میک اپ سے عاری چہروں کے ساتھ تھے
“ہاہاہا دیکھ لیا ہم یہاں سے ہر آنے جانے والے کو یونہی بیوقوف بنا کر لوٹ لیتے ہیں ہمارا پورا گرو ہے ہم مل کر یہ سب کرتے ہیں پولیس بھی اس لیے آج تک ہمیں پکڑ نہیں سکی ڈاکوؤں کو پکڑنے سے پہلے انہیں بھوتوں سے نمٹنا ہوگا جو اتنا آسان نہیں” سردار نے کہہ کر پھر سے قہقہ لگایا جس پر سب نے اسکا ساتھ دیا
“اب میں یہ بریف کیس کھول کر تیرا مال لوٹنیلگا ہوں مگر اس سے پہلے تلاشی لو اسکی” سردار نے تحمکانہ لہجے میں کہا تو ایک لڑکے نے اگے بڑھ کر ورشام کی اچھے سے تلاشی لی “یہ صاف ہے اسکے پاس کچھ نہیں ہے” لڑکے نے کہا تو سردار نے نفرت سے “ہوں” کیا
“میں پھر کہہ رہا ہوں بریف کیس کو ہاتھ مت لگانا” ورشام نے اس بار قدرے سخت لہجے میں کہا
“ہاہاہا لگتا ہے بڑا قیمتی ہے اس میں کچھ” سردار کمینگی سے بولا
“ہاں بہت قمیتی” ورشام نے سنجیدگی سے کہا
“اچھا زیادہ بک بک مت کر چپ کر کے بیٹھ” سردار نے غصے سے کہا اور بندوق سیدھی کر کے بریف کیس پر لگے تالے کا نشانہ لیا اور ایک ہی فائر میں تالا ٹوٹ کر کھل گیا.
“دیکھ کیا ہے اس میں” سردار نے ایک لڑکے کو کہا جس نے آگے بڑھ کر بریف کیس کو کھولا مگر اسکے اندر کا منظر دیکھ کر چیخ کر پیچھے ہٹ گیا
“کیا ہوا” سردار غصے سے بولا
“وو..وہ” الفاظ لڑکے کے حلق میں ہی اٹک گے..سردار غصے سے خود آگے بڑھا اور بریف کیس کھول کر اندر جھانکا اور خود بھی ششدرہ رہ گیا….منظر ہی کچھ ایسا تھا.بریف کیس کے اندر کسی آدمی کی لاش کئ حصوں میں تقسیم ہوئی پڑی تھی.اسکا سر الگ تھا بازو الگ تھے اور ٹانگیں الگ تھیں سردار گبھرا کر پیچھے ہٹ گیا “یہ یہ,,,یہ کیا ہے”
ورشام مسکرایا اور اسکے کرسی سے پیچھے بندھے ہاتھ اپنے آپ کھلے گے اور وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اسے یوں کھڑا ہوتے دیکھ کر سب ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوگے
“میں نے بولا تھا بریف کیس کو کھولنے کی غلطی مت کرنا مگر تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی” ورشام نے کہا اسکے ساتھ ہی اسکی کالی آنکھیں سرخ ہوگئیں جسے دیکھ کر لڑکیوں کی چیخیں نکل گئیں
“رات کے اس وقت ہر آنے جانے والا انسان بھی نہیں ہوتا وہ اصلی جن بھی ہوسکتا ہے میری طرح تم لوگوں کی طرح نقلی بھوت نہیں…میں شکار کر کے آرہا تھا کہ تم لوگوں سے مدبھیڑ ہوگئ سوچا چلو ان بیوقوفوں کے ساتھ بھی تھوڑی مستی کر لی جاے اور میں نے تم لوگوں کو خوب الو بنایا ہاہایا اب مرنے کیلے تیار ہوجاؤ” اتنا کہہ کر ورشام کا خوبصورت چہرہ بھیانک حد تک تبدیل ہوگیا اور اپنی سحرانہ آنکھوں سے اس نے تمام ڈاکوؤں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا اور انکا بھی بریف کیس میں پڑی لاش جیسا حال کردیا آج اسکے ہاتھ اتنے زیادہ شکار لگ گے تھے جس پر وہ بہت خوش تھا.
طویل مدت سے جب کوئی واردات نہ ہوئ تو پولیس نے جنگل کا چھاپا مارا جہاں ایک ہٹ سے انہیں ڈاکوؤں کا اسلحہ بھوتوں کے ماسک اور دیگر چیزیں برآمد ہوئیں.ڈاکو یہ سب چھوڑ کر کہا چلے گے تھے کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا البتہ دوبارہ دن دہاڑے اور راتوں کو کوئی لوٹا نہ گیا جس وجہ سے یہ سڑک روز سادا سارا دن آمدورفت کیلے استعمال رہنے لگی….!!!
ختم شدہ.

(Visited 11 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *