معروف ادیبہ افسانہ نگار بانو قدسیہ کی پہلی برسی کے موقع پر تعزیتی نشست

کمالیہ ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے زیر اہتمام معروف ادیبہ افسانہ نگار بانو قدسیہ کی پہلی برسی کے موقع پر تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سوسائٹی کے ایم ڈی، ایم افضل چوہدری نے کہا کہ بلاشبہ سماجی اور معاشرتی برائیوں کے خلاف قلم کار خواتین کی ادبی اور سماجی خدمات نا قابل فراموش ہیں کیونکہ بانو قدسیہ اپنے عہد کی نا صرف قدآور مصنفہ تھیں بلکہ ان کی کہانیاں ، افسانے اور ناول معاشرے کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے سماج کی پسی ہوئی عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے نئی نسلوں میں شعور آگہی کے چراغ روشن کئے۔ اور اپنی بے باک اور معنی خیز تحریروں کے ذریعے معاشرتی بے چینی اور نا انصافیوں اور بالخصوص خواتین کے مسائل کے حوالے سے اپنے قلم کو اٹھایا۔۔ ان کے حل کے لئے ادب کا زینہ اپنایا ۔ بانو قدسیہ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے 2003ء میں ستارہ امتیاز اور 2010ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو انجنئیر ظہیر عباس چوہدری نے کہا کہ بانو قدسیہ کے ڈراموں کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ پنجابی کے علاوہ کئی ایک کالج میگزین ، دوسرے رسائل جن میں راجہ گدھ، باز گشت، امر بیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب قابل ذکر ہیں۔ ان کے اس ادبی خلاء کو صدیوں تک پورا نہیں کیا جا سکتا۔

(Visited 26 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *