Monthly Archives: March 2018

۔23۔ مارچ، تجدیدِ عہد کا دن ۔۔۔ تحریر : ماشاء اللہ خان نیازی

؂  وطن پرفداہرمسلمان ہے   ۔۔   کہ حبِ وطن جزوِایمان ہے۔ ۔23۔ مارچ 1940 کا وہ یادگار دن جب مسلمانِ برصغیر نے لاہور کے مِنٹو پارک میں جمع ہوکر اپنے مستقبل کا اعلان کیا۔ اگر دیکھا جائے تو اس دن کی

عورت اور معاشرہ ۔۔۔ تحریر : سکینہ بنت محمد اسلم

بیٹی کل بھی بوجھ تھی بیٹی آج بھی بوجھ ہے ۔۔فرق بس اتنا ہے۔۔ کل دفنائی جاتی تھی آج بیاہی جاتی ہے کہتے ہیں عورت کمانے لگی ہے با اختیار ہو گئی ہے لکین مردوں کے اس معاشرے میں سب

چشموں اور جھرنوں کی وادی ۔۔’’وادی کشمیر‘‘ ۔۔۔ تحریر : سکینہ بنت محمد اسلم

جسے قدرت نے بے بہا حسن سے نوازا بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیاں پتھروں سے پھوٹتے چشمے خوبصورت کھیت کھلیان دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتے ہیں۔مگر افسوس کے جنّت نظیر وفی عرصہ 70 سال سے زیر تسلط ہے

عزم عالی شان پیار پاکستان ۔۔۔ تحریر : عبدالجبار خان دریشک

انسان کسی چیز کے حصول کے لیے سب پہلے اس خیال دل و دماغ میں لاتا اس تصور کرتا ہے اسے اپنے خوبوں اور خیالوں میں بنا ہوا دیکھتا کہ جس چیز کا تصور وہ کر رہا ہے وہ چیز

کمالیہ کی خبریں ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ سے

کمالیہ  ( ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ۔ ایڈیٹر ہماری بات پاکستان ) کمالیہ لوگوں نے محکمہ جنگلات کے ملازمین اور افسران کو جنگل کی تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ محکمہ جنگلات کے افسران اور ملازمین کی ملی بھگت کے

پرندوں کا قدرتی حسن ۔۔۔ تحریر : عارف اے نجمی ۔ قلعہ احمد آباد ( نارووال)۔

ہم قدرتی حسن چرند پرند اور انسان سب خدا کی پیدا کی ہو ئی مخلوق ہیں ،چرند، پرند اورانسان کا صدیوں سے ایک دوسرے کیساتھ جھولی دامن کا ساتھ ہے، پرندے کسی بھی ملک اور علاقے کاقدرتی حسن ہوتے ہیں

ووٹ کی حقیقی عزت کیا ہے۔۔

تحریر : سراج احمد تنولی آج کل پاکستان میں ووٹ کی عزت لے کر ایک بڑا مسلۂ بنا دیا گیا ہے ہر طر ف جا بجا ووٹ کو عزت دو کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ نواز شریف سپریم کورٹ

مسلمان بنو، فرقہ واریت نہ پھلاؤ ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

دنیا چار دن کا کھیل ہے ، تماشہ ہے انسان اسے فتنہ فساد کرنے میں برباد نہ کر!!۔ ماضی سے لے کر آج تک جو ایک مسئلہ مسلسل چلتا آ رہا ہے وہ فرقہ واریت ہے۔سوال یہ ہے کہ فرقہ

شام کے مظلوم مسلمان ۔۔۔ تحریر : عبدالجبار خان دریشک

پوری دنیا اس وقت عالمی جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے ، اسحلہ کی دوڑ اور اقتصادی اجارہ داری کی وجہ سے عالمی طاقتیں سرحدوں کے پار اپنی بھی سوچنے لگے ہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے یہ طاقتیں

سیاست میں شرافت کا پیکر ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

سیاست میں اپنی پسندیدہ شخصیت کے لئے ہم نے قائداعظم کا سوچ رکھا تھا کہ ان جیسا باکمال اور قابلِ تقلید رہنما ہماری قوم کو پھر نصیب نہیں ہوا۔ اس کے بعد سے ملک جن حالات کا شکار ہے وہ