آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کی صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
پاکستان میں دل کے امراض انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ دنیا کے کئی دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی دل کی بیماریاں انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں آج پیدا ہونے والے ایک تہائی بچوں کو مستقبل میں امراض قلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Pakistan – World heart Day in Islamabad ۔(DW/I. Jabeen)
ورلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آج دنیا بھر میں منائے جانے والے ورلڈ ہارٹ ڈے کے موقع پر امراض قلب کے کئی پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان میں دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہیں کیونکہ پاکستان میں لوگوں کی خوراک، عادات اور طرز زندگی مجموعی طور پر غیر صحت مند ہو چکے ہیں.
پاکستان میں دل کی مختلف بیماریوں کے باعث ہونے والی انسانی اموات کی صورت حال جاننے کے لیے جب شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں امراض قلب کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اسد علی سلیم سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں کہا، ’’پاکستان میں قریب ساڑھے تین لاکھ افراد سالانہ دل کی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سترہ اعشاریہ پانچ ملین افراد ہر سال دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘‘۔

جب ڈوئچے ویلے نے ڈاکٹر سلیم سے یہ پوچھا کہ پورے پاکستان میں دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے فوری طبی امداد کی فراہمی کی شہری اور دیہی علاقوں میں مجموعی صورت حال کیسی ہے، تو انہوں نے بتایا، ’’حکومت کی توجہ شہروں پر ہے۔ تقریباﹰ تمام بڑے شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال تو بنائے گئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال تسلی بخش نہیں۔ شہروں میں ہسپتال تو ہیں لیکن علاج مہنگا ہے۔ مریضوں کو نوے فیصد علاج اپنی ہی جیب سے کرانا پڑتا ہے۔ دل کے عارضے میں مبتلا کسی مریض کا بائی پاس ہو یا انجیوگرافی، کم از کم ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن اتنا طویل اور مہنگا علاج خود اپنی جیب سے ادائیگی کے ساتھ کرا سکنے والے مریضوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اسی لیے جب متوسط طبقے کے کسی شہری کو دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، تو اسی علاج کے باعث اس کا پورا خاندان غربت کی نچلی سطح تک پہنچ جاتا ہے‘‘۔
حکومت پاکستان نے دل کی بیماریوں کی بڑتی صورتحال کے پیش نظر اگرچہ تقریباﹰ تمام بڑے شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال تو بنائے گئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال تسلی بخش نہیں

دل کی بیماریوں کے اسباب

امرض قلب کی بڑی وجوہات اور دل کی بیماریوں میں عمومی طرز زندگی کے عمل دخل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کسی عام آدمی کی نسبت فربہ انسان کو ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی، ناقص اور غیر متوازن غذا اور ورزش کا فقدان بھی امراض قلب کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں‘‘۔

ورلڈ ہارٹ ڈے ہی کی مناسبت سے امراض قلب سے بچاؤ کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہر امراض قلب ڈاکٹر ظہیر نے کہا کہ دل کی بیماریاں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک کی علامات میں بے چینی، سینے میں درد، بھاری پن محسوس ہونا، کچھ کیسز میں دل کا کام کرنا چھوڑ دینا، منہ سے خون آنا، چکر آنا، تھکن، متلی، بھوک کا نہ لگنا، ٹھنڈے پسینے آنا اور سانس لینے میں دشواری سمیت سب کچھ شامل ہے۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟۔

ڈاکٹر ظہیر نے احتیاطی تدابیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امراض قلب سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ جسمانی ورزش پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس طرح نہ صرف عارضہ قلب بلکہ کئی دیگر بیماریوں سے بھی، جن میں بلند فشار خون، ذیابیطس اور موٹاپا بھی شامل ہیں، بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ درست خوراک مناسب مقدار میں کھائی جائے اور سالانہ بنیادوں پر دل کی کارکردگی کا معائنہ بھی کرایا جائے تاکہ امراض قلب سے بچا جا سکے۔

کھانا ہضم کرنے میں پریشانی

اینڈرسن کینسر سینٹر کی ڈاکٹر تھیریزے بارتھولوميو بیورز کے مطابق اگر آپ کو کھانا ہضم کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے ملیں۔
اسی بارے میں حال ہی میں اپنے دل کا بائی پاس کروانے والی ایک پچپن سالہ مریضہ منیبہ اکرم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ کئی برسوں سے بلڈ پریشر کےعارضے میں مبتلا ہیں اور اسی لیے انہیں دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہو چکا ہے۔ منیبہ اکرم نے کہا، ’’اس مسئلے کا مناسب حل ابتدائی روک تھام ہے۔ کئی برس تو میں نے بلڈ پریشر کی کوئی دوا استعمال ہی نہیں کی تھی، یہ سوچ کر کہ معاملہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن مرض بڑھتے بڑھتے نوبت بائی پاس تک پہنچ گئی۔ اور علاج اتنا مہنگا ہے کہ منٹوں میں لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ہم تو مالی استطاعت رکھتے ہیں تو علاج کروا رہے ہیں، لیکن کوئی غریب شہری کیا کرتا ہو گا، یہ سوچ کر ہی تکلیف ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس وجہ سے بھی دن بہ دن اس بیماری کے باعث اموات میں اضافہ ہو رہا ہے‘‘۔

پاکستان میں حکومت صحت عامہ کے شعبے پر کس تناسب سے سرکاری رقوم خرچ کرتی ہے، اس بارے میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک مقامی سماجی کارکن مشاہد علی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا، ’’جس ملک میں زیادہ وسائل دفاعی بجٹ کے لیے مختص کیے جاتے ہوں، وہاں صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں کا حال ایسا ہی رہے گا جیسا ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں شہروں اور خاص کر دیہات میں بہت سے لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس لیے کہ ریاست جنگی ہتھیار خریدنے اور بنانے کو ترجیح دیتی ہے۔ جنگ کے بجائے داخلی امن اور علاقائی دوستی پر توجہ دی جائے گی، تو ہی پاکستان میں ایک صحت مند اور پڑھے لکھے معاشرے کا تصور ممکن ہو سکے گا‘‘۔

(Visited 12 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *