بہ اعزاز ناصر ناکا گاوا (جاپان)،زینت کوثر لاکھانی (پاکستان) ادبی نشست و مشاعرہ۔۔۔ رپورٹ : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

پاکستان ایسوسی ایشن قطر کے زیرِانتظام و انصرام ایک بھرپور علمی و ادبی نشست و مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔پروگرام میں شمولیت کے لئے معروف کالم نگار،مصنف،اردو نیٹ جاپان کے چیف ایڈیٹر،سفر نامہ نگار،ناصر ناکا گاوا(جاپان)اور علم و ادب کے شعبہ سے منسلک ماہرِ تعلیم،نثر نگار اور شاعرہ زینت کوثر لاکھانی(پاکستان) کو خصوصاًمدعو کیا گیا ۔ناصر ناکا گاوا جاپان میں اردو نیٹ کے مدیر اور jija جاپان انٹر نیشل جرنلزم ایسو سی ایشن کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پاکستانی جو جاپان میں کسی بھی قسم کے قانونی مسائل کا شکار ہوں یا جاپانی بولنے سے قاصر ہوں تو ان کے لئے بطور مترجم اپنی ذمہ ساریاں سر انجام دے رہے ہیں۔اب تک ان کی تین کتابیں منصہ شہود پہ آکر شہرتِ دوام حاصل کر چکی ہیں۔دیس بنا پردیس،دیس دیس کا سفراور دنیا میری نظر میں۔ناصر ناکا گاوا کے ہمراہ ان کے ہمدمِ دیرینہ عبدالاحد بٹ بھی تھے جو ایک سیاسی جماعت کے معتمد خاص ہیں ۔جنہیں دوحہ کی روز افزوں ترقی کشاں کشاں لے آئی۔پاکستان سے تشریف لائی ہوئی خصوصی مہمان زینت کوثر لاکھانی بطور معلم پاکستان،متحدہ عرب امارات اور کینیڈاکی مختلف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ شاعری اور تربیتی لیکچرز میں یدِ طولیٰ رکھتی ہیں۔’’متاعِ جہاں‘‘انکی کتاب ہی نہیں بلکہ زندگی بھر کے تدریسی تجربات کا نچوڑ بھی ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی کموڈور عرفان تاج ڈیفنس اتاشی سفارتخانہ پاکستان جبکہ مہمانِ اعزازی عبدالاحد بٹ تھے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض سید فہیم الدین ہاشمی چئیرمین پاکستان ایسو سی ایشن نے ادا کئے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے کیا گیا جس کی سعادت فیضان سید نے حاصل کی۔راقم الحروف کو ناصر ناکا گاوا کی شخصیت و فن پر مقالہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔مقالہ کے فوراً بعد مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں امیر اللہ دیوان،جسوندر سنکھ کالا،عبدالوکیل نور،شاہد رفیق،طاہر جمیل،مشرف کمال شاہد،سید فہیم الدین اور شوکت علی ناز نے اپنے اپنے کلام سے حاضرین کی سماعتوں کو ذوقِ تسکین بخشا۔مشاعرہ کے اختتام پر ناصر کی کتاب دنیا میری نظر میں کی رونمائی بھی کی گئی بعد از رونمائی انہوں نے اپنی کتاب میں سے طنز و مزاح پہ مبنی ایک مضمون پیش کر کے حاضرین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔زینت آپا نے اپنے تدریسی تجربات اور تبحرِ علمی سے حاضرین کو مستفید کرتے ہوئے کہا کی ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اردو نہ بولنے والوں کو روشن خیال جبکہ اردو سخن اور سخن نوازی کو قدامت پسند اوربنیاد پرست خیال کرنا شروع کر دیا ہے۔تاہم مجھے آج ایسوسی ایشن کی خدمات اور منتظمین کا جذبہ اور اردو نوازی دیکھ کے احساس ہو رہا ہے کہ ہاں ابھی بہت لوگ ہیں جو اپنی قومی زبان سے بہت پیار کرتے ہیں۔پروگرام کا اختتام مہمانان کو لوحِ خدمات اور مہمانِ خصوصی کے اختتامی کلمات سے ہوا۔خصوصی لوحِ خدمت نائب سرپرست ایسوسی ایشن تجمل چیمہ کی خدمت میں پیش کی گئی جن کی شب و روز کی کاوشوں سے ایسوسی ایشن ترقی کی راہ پہ گامزن دکھائی دیتی ہے۔
کموڈورعرفان تاج سفارت خانہ پاکستان نے اپنے اختتامی کلمات میں تنظیم عہدیداران و حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کہ میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداران کو کہ جو کم سے کم وقت میں بھی ایسا خوبصورت پروگرام کے انعقاد میں کامیاب و کامران دکھائی دیتی ہی۔قلیل مدت میں طویل ادبی خدمات کا سہرا یقیناً منتظمین و عہدیداران کے سر جاتاہے۔جو ادب اور ادب نوازی میں ہمیشہ پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔میری دعا ہے اردو زبان ایسے ہی پھلتی پھولتی رہے۔آمین۔

(Visited 26 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *