آخری بسیرا ۔۔۔ تحریر : اختر مِرزا

اسلم ایک بہت ہونہار اور اچھا لڑکا تھا۔ وہ اپنی عمر سے پہلے ہی عقل مند ہو گیا تھا۔ مگر بد قسمتی سے وہ جس معاشرے کا رہنے والا تھا وہاں چالیس سال سے پہلے عقل مندی کی ڈگری نہیں ملتی تھی۔ اس سے پہلے سب بچےّ ہی ہوتے اور ان پر فرض ہوتا کہ اپنے بڑوں کی سب باتیں ماننی ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے کوئی سروکار نہیں بس اس پر ایک بڑے کی مہر لگی ہے، تو اس کو درست ہی تصور کیا جانا ہے۔ اگر کوئی بات غلط ہو اور کوئی اسلم جیسا لڑکا غلطی عیاں کر کے بتلائے تو ایک عجیب قسم کا بھوچال آجاتا، جو بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوتا۔ اس طوفان کی خاص بات یہ ہوتی کہ باقی طوفانوں میں تو لوگ خود کو بچاتے اور اگر کسی کی جان خطرے میں ڈال کر خود بچایا جا سکتا تو وہ بھی کرتے مگر اس طوفان میں ایسا ہے کہ لوگ خود کو بچاتے تو ہیں مگر سب مل کر ایک ہی بندے کو اس طوفان میں دھکیل دیتے اور اسے قربان کر دیتے ہیں، یہ قربانی اسلم جیسے لڑکے کی ہوتی۔ پھر لڑکے کو اندازہ ہوتا کہ وہ ایک بنجر دماغ میں شجر کاری کرنے کی بے کار کوشش کر رہا تھا۔
اسلم کی زندگی میں صرف یہ ہی ایک روگ نہیں تھا بلکہ ایک اور بھی تھا۔ جو دراصل اس سے بھی بڑا تھا۔ اسلم نے جب اتنی جلدی عقل حاصل کر لی تو اس میں بغاوت کا عنصر بھی آگیا تھا اور جیسا کے تاریخ گواہ ہے کہ باغی کے سب خلاف ہوتے ہیں اور اس کی زندگی میں بیابانی کی خاک ہی ہوتی ہے۔ اب اسلم بھی ایک باغی تھا۔ اس نے بغاوت اپنے بڑوں سے کرنی تھی، ان کی خواہشوں سے، اور جو سب سے پہلے اس کے راستے میں تھے وہ اس کے اپنے والدین تھے۔ جن کو وہ اپنے سر کا آسمان سمجھتا تھا مگر یہ بھلا بیٹھا تھا کہ آسمان ہی بارش برساتا ہے جو بعض اوقات سیلاب بن کر تباہی کا باعث ہوتا ہے۔
وہ اب انیس سال کا تھا۔ انیس سال اورکچھ مہینے پہلے جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں گلاٹیاں مارتا تھا تب ہی اس کی ماںّ نے سوچ لیا تھا کہ اس نے بڑے ہوکر کیا کرنا ہے۔ اگر سچ کہا جائے تو اس سے بھی پہلے وہ سوچ چکی تھی۔ جب اس کے والد اور والدہ دونوں کنوارے تھے اور نئے نئے جوان ہوئے تھے تو وہ اس رشتہ ازدواج کے بارے میں سوچتے، اسی سوچ کے ساتھ ہی وہ اپنے آنے والے بچوّں کے بارے میں سوچنے لگ گئے جو ابھی مائع کی حالت میں تھے۔ اسلم کا ایک بھائی اور ایک بہن اور تھی۔ بھائی کا پڑھنے میں دل نہیں لگتا تھا مگر وہ والدین کا بہت فرمانبردار تھا۔ بہن بھی ایک حد تک اطاعت کرتے تھی مگر اس نے فیلڈ اپنی مرضی کی ہی چنی تھی۔ اسلم بھی اکثر یہ اعتراض کرتا تھا مگر اس کے والدین اسے یہ کہ کر چپ کروا دیتے کہ ”افشین” لڑکی ہے اور اس نے کنبہ نہیں چلانا ہوتا۔ اب اسلم ٹھوس ہو گیا تھا۔ یہ اس لیے یقین سے کہا جاسکتا کہ اس کے ارادے بھی ایسے ہی پختہ تھے۔ مگر وہ ٹھوس کچھ اس طرح ہوا جس طرح آئس ہوتی ہے اور اس میں کچھ خالی جگہیں بن جاتی ہیں۔ ویسے تو وہ بہت پکے ارادوں والا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کے پاس ان ارادوں کی تکمیل کے طریقے بھی تھے۔ مگر جب وہ اپنے والدین کی خواہش کی طرف دیکھتا تو وہ خواہش اس خلا ء میں جگہ بنا لیتی، وہ خواہش بالکل بری نہیں تھی۔ دراصل کوئی بھی خواہش بری نہیں ہوتی، خواہ وہ کسی لڑکی کی ہو یا کسی بھی چیز کی خواہش بس خواہش ہوتی۔
اسلم کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور یہ تو ایسا شوق ہے جو سب کو ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات تو سب کہتے ہیں مگر ان لڑکوں کو اس شوق کو بالکل نہیں پالنا چاہیے جو غریب ہیں یا ان کے والدین نے ان کے لیے کوئی اور فیلڈ چنی ہوئی ہے۔ اسلم غریب نہیں تھا مگر دوسری بات ضرور تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا سائنسدان بنے، جو بہت اچھی بات ہے اور اسلم کو بھی اس کا بہت شوق تھا مگر پڑھنے اور خود کو جاننے کے بعد اس کا ارادہ تبدیل ہو گیا اور اس نے افسانہ نگار بننے کی ٹھان لی۔ انسان میں ایک نا ایک صلاحیت ہوتی ہے، اس کو وہ بننا نہیں پڑتا وہ پہلے سے ہوتا ہے بس کھوجنا ہوتا۔ اسلم بھی قدرتی افسانہ نگار تھا اور اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی بس لغت بہتر کرنی تھی جس کے لیے اس نے بڑے بڑے افسانہ نویس کو پڑھا۔
اسی دوران اس نے کالج سے رخصت ہونا اور یونیورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔ نمبر اس کے خاصے اچھے تھے کہ اسے کوئی بھی یونیورسٹی ہنس کر لے سکتی تھی۔ مگر اب تو بیچلر میں داخلہ لینا تھا اور یہ سب سے اہم مرحلہ ہوتا پے کیوں کہ اسی کی بنیاد پر ایک طالب علم کے مستقبل کی فیلڈ کا تعین ہوتا ہے۔ اب اسلم نے اردو ادب چن لیا مگر یہ بات اس کے والدین کو ناگوار گزری کہ ایک سائنس کا طالب علم اب آرٹس میں کیوں جارہا۔ اب سائنس کا دور چل رہا اور لوگ سائنس کی طرف زیادہ دیکھتے مگر یہ ان کا بیٹا کیسا چغد ہے جو سائنس کی فیلڈ چھوڑ کر جارہا ہے۔ اسلم نے اپنی جماعت میں ٹاپ کیا تھا اور جو استاد بھی اس کی بات کرتا وہ تعریف ہی کرتا۔ اس کے والدین اب اس سے خفا ہو گئے تھے۔ اسلم کو بھی اپنے والدین پر ترس آرہا تھا کہ انہوں نے اپنے فرض کے مطابق اس کی ہر خواہش پوری کی تھی۔ مگر اب وہ کیا کرے ایک طرف اس کی اپنی خواہش، اس کہ دلی مراد اور دوسری طرف والدین۔ آخر آرٹس میں برا کیا ہے؟ اسلم نے اپنی ایک عزیز دوست سے اس بارے میں بات کی۔ ”اصل میں آرٹس کے لوگ ہی ہر جگہ راج کرتے ہیں وہ خواہ کسی کا دل ہی کیوں نہ ہو،”مومنہ عقیل نے اسے بتایا۔ مومنہ آرٹس کی ہی طلبہ تھی تو اس نے تو تعریف کرنی ہی تھی مگر اس نے غلط نہیں کہا تھا، اسلم نے اس بارے میں سوچا تو اسے مومنہ کی بات میں سچائی نظر آئی، جیسا اس نے کہا تھا بالکل ویسا ہی ہوتا ہے۔
اب اسلم ایک عجیب کش مکش میں پڑ گیا کہ وہ اب کیا کرے، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ کسی سے مشورہ بھی نہیں لے سکتا تھا کہ سب نے اسے چھوٹا اور کم عقل بتا کر والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کا کہنا۔ بس وہ اندر ہی اندر پریشان رہتا اور جو دنیا وہ اپنے اندر لے کر گھومتا تھا اس میں چیخ چیخ کر پوچھتا کہ وہ کیا کرئے۔ وہ شش و پنج میں غرق تھا اور اس نے جتنا سوچا کام ہونے میں اتنی ہی تاخیر ہوئی اور آخر پر جا کر وہ کام ہوا ہی نہیں۔
جب آخری تاریخ رہ گئی تھی تو اس کے والدین نے اسے اپنی رائے دی مگر وہ ابھی بھی اپنی دنیا میں ہی تھا اور اس نے غیر ارادی طور پر ہاں کہ دی۔ اس کا داخلہ فزکس میں ہوگیا۔ فزکس اسے صرف اس وجہ سے پسند تھی کہ آئنسٹائن بھی اسی فیلڈ سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر ہر وقت اس کے اساتذہ نے آئنسٹائن کو تو نہیں پڑھانا تھا تو اسے خود ہی اس عظیم انسان کے بارے میں پڑھنا پڑا۔ وہ زیادہ وقت آئنسٹائن کو ہی پڑھتا اور جو بھی اسے فزکس میں پڑھایا جاتا اسے آئنسٹائن کے نظریے سے ہی دیکھتا تھا۔ اب جب اس نے آئنسٹائن کو پڑھ لیا تو اس کا دل فزکس سے اکتا گیا۔ وہ اگر فزکس پڑھنے لگتا تو اس کا دھیان کہیں اور چلا جاتا، وہ کبھی عصمت چغتائی کے بارے میں سوچتا کبھی منٹو کے بارے میں کبھی موپساں، مگر فزکس نہیں۔ اس نے پھر اردو ادب پڑھنا شروع کر دیا، تقریبا چھ مہینے بعد۔ اس کا خیال تھا کہ اسے افسانہ لکھنے کے پیسے مل جائیں گے اور اس کے والدین کی یہ فکر ختم ہو جائے گی کہ اسلم روٹی کیسے کمائے گا۔ مگر ایساا کیسے ہو سکتا، کوئی بھی اخبار اسے افسانہ نویس سمجھتا ہی نہ تھا اور نہ ہی اسکو سپورٹ کیا جاتا تھا۔ نہ ہی کوء ایسی ویبسائٹ تھی جو اردو کو فروغ دے اور جہاں لوگ اپنا لکھا ہوا اپلوڈ کر کے پیسے کما سکیں، جیسے ”میڈیم۔کوم”، ”ورڈپریس” وغیرہ ہیں۔
اب جب اس نے اردو پڑھنا شروع کر دیا تو اس کا جی پی اے بھی کم ہوگیا۔ اس کے والدین نے تنگ آکر اسے ڈانٹنا شروع کر دیا اور اسے دھمکی بھی ایسی دی کہ اگر وہ جان مانگ لیتے تو وہ کم ہوتی۔ انہوں نے اسے سختی سے کتابیں پڑھنے سے منع کر دیا۔ مگر اب اس نے کہاں باز آنا تھا، اب وہ بغاوت پر آ چکا تھا اور اس نے کسی کی نہ سنی۔ اور جب بھی اگر کسی کے بارے میں سوچنے لگتا تو وہ ایک قسم کا مہین پاگل ہوجاتا۔ اس پاگل پن کو ختم کرنے کے لیے اور بغاوت کی آخری حد پار کرنے کے لییاس نے اپنے ایک عزیز اور بہترین دوست سے وہسکی منگوائی۔ اسلم پہلے تو چھپ چھپ کر پیتا تھا مگر بعد میں جب وہسکی کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی تو گھر والوں کو بھی اس کی خبر ہوگئی۔ انہوں نے اسے سمجھایا، پیار سے بھی اور مار سے بھی مگر اب پانی سر پر سے اوپر تھا۔
آخرکار وہ مہین پاگل اس دنیا سے الگ ہو کر پاگل خانے چلا گیا۔ یہ خبر مشہور ہوگئی کہ اکیس بائیس سال کا لڑکا پاگل خانے میں داخل ہوا اور اس کی وجہ شراب تھی۔ اب اسلم مشہور ہوگیا۔ آج کل وہ پاگل خانے میں بیٹھ کر کتابیں پڑھتا اور افسانے لکھتا ہے۔ لوگ اس کے افسانے پرھتے بھی ہیں اور اسے داد بھی دیتے ہیں۔
نوٹ: اوپر جو مومنہ عقیل کے نام سے ایک قول ہے وہ خالصتاً ان کا ہی ہے اور یہاں ان کی اجازت سے درج کیا ہے۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

One Response to آخری بسیرا ۔۔۔ تحریر : اختر مِرزا

  1. sheheryar malik says:

    Mashallah mirza good one

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *