اے سی صاحب، مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟ ۔۔۔ تحریر : عبدالرؤف خاں

آپ نے ایک بھیڑئیے اور میمنے کی مشہور کہانی تو سُنی ہوگی ۔
کہ ایک بھیڑئیے نے میمنے کو جنگل میں ندی کنارے پانی پیتے دیکھا تو اُسے ہڑپ کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ بھیڑیا اپنی گرجدار آواز میں بولا ”دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں اور تم میرا پانی گندہ کئیے جارہے ہو”؟ میمنے نے آرام سے جواب دیا کہ پانی کا بہاو تو جناب کی طرف سے میری طرف آرہا ہے میں یہ پانی کیسے گندہ کرسکتا ہوں؟ بھیڑیا کھسیانہ ہوئے بغیر گرجا ” تم نے مجھے پچھلے سال گالی دی تھی ” میمنا بولا جناب میری عمر تو چھ ماہ ہے پچھلے سال تو میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ بھیڑیا اورغصے بولا ” پھر وہ تمہاری ماں ہوگی جس نے مجھے گالی دی” اور پلک جھپکتے ہی اُسے ہڑپ کرگیا۔
اس کہانی سے ہوبہو ملتا جُلتا واقعہ کل کمالیہ میں پیش آیا۔ اے سی کمالیہ کے آفس سے اُس کا ایک سیکورٹی گارڈ بمعہ ایک دوسرے شخص کے رحمانی کریانہ سٹور بسم اللہ چوک محلہ پگھلانوالہ پہ جاتے ہیں اور دُکان کے مالک جو کہ ایک انتہائی شریف شخص محمد عثمان ہیں اُن سے کہتے ہیں کہ آپکو اے سی صاحب نے بُلوایا ہے۔ عثمان کہنے لگا کہ جناب کیوں بلوایا ہے؟ خیر تو ہے؟ کہنے لگے بس تمہیں خود آنا پڑے گا اور آج ہی آو۔ تمہارے خلاف سپیشل برانچ نے شکایت کی ہے کہ تم انڈے زائد قیمت پر فروخت کرتے ہو۔
عثمان نے کہا کہ جناب میں تو صرف سردیوں میں انڈے فروخت کرتا ہوں پچھلے کئی ماہ سے میں نے انڈے فروخت ہی نہیں کئیے۔ ویسے بھی کیا ثبوت ہے آپکے پاس؟ کوئی خریداری کی رسید؟ کوئی ویڈیو ثبوت؟ کچھ تو پیش کرو۔ اے سی صاحب کا باڈی گارڈ جس کا نام بھی عثمان ہے کہنے لگا کہ جناب یہ سب آپکو اے سی آفس حاضر ہونے پر ہی بتایا جائے گا۔
خیر محمد عثمان اپنی دکان بند کرکے اے سی آفس چلا گیا اور اُسے اے سی صاحب کے پاس پیش کردیا گیا۔ اے سے صاحب نے کہا کہ تم ناجائز منافع خوری کرتے ہو؟ عثمان بولا کہ جناب کس نے کہ دیا آپکو؟ آپ ثابت کریں کہ میں ناجائز منافع خوری کرتا ہوں؟ اے سی صاحب کہنے لگے کہ ہمارے پاس سپیشل برانچ نے رپورٹ دی ہے کہ تم انڈے زائد قیمت پر فروخت کرتے ہو؟ عثمان نے کہا کہ جناب آپ کو غلط اطلاع فراہم کی گئی ہے میں گرمیوں میں انڈے فروخت ہی نہیں کرتا۔ جواب میں اے سی صاحب کہنے لگے ہمیں پتہ ہے کہ تم گرمیوں میں انڈے فروخت نہیں کرتے لیکن تم نے سردیوں میں زائد قیمت پر انڈے فروخت کئیے تھے۔
عثمان نے کہا کہ جناب آپ ثابت کریں کوئی خریداری کی رسید دکھا دیں جو چور کی سزا وہ میری۔ جواب میں اے سی صاحب نے کہا اچھا اس بات کو چھوڑو چلو میں تمہیں زیادہ نہیں جرمانہ کرتا ایک ہزار کردیتا ہوں تم ایک ہزار روپیہ جمع کرواو۔ کہاں اے سی صاحب جیسی طاقت ور شخصیت اور کہاں ایک معمولی کریانہ سٹور کا مالک ایک غریب انسان۔ خیر عثمان نے جیب سے ہزار روپیہ نکال کر دے دیا اور یوں اُس کی جان چھوڑی گئی۔
اے سی صاحب چونکہ نئے آئے ہیں اس لئیے شاید اعلی افسران کے سامنے اپنے نمبر بنانے کے چکر میں انہوں نے بالکل اُسی بھیڑئیے والا کردار ادا کیا جو میمنے کو ہر صورت ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔
کوئی اے سی صاحب سے پوچھے کہ جناب اگر آپ بُرا نہ مانیں تو اپنے اے سی والے ٹھنڈے دفتر سے باہر نکلیں اور دیکھیں کہ کمالیہ میں یعنی آپکی ذیلداری میں لوگ مرچوں کے نام پہ رنگا ہوا بورا کھارہے ہیں، کون نہیں جانتا کہ سب سے زیادہ ملاوٹ مرچوں میں ہوتی ہے منڈی سے گلی سڑی مرچیں عام مل جاتی ہیں ان کو کلر ڈال کر پیس لیا جاتا ہے اور روغنی مرچ کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ ان مرچوں کو بنانے کے لئے نجی سطح پر لوگوں نے چکیاں بنا رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ گندم کا چھلکا جسے عام زبان میں چوکر کہتے ہیں اس کو رنگ کرکے مرچوں میں ملادیا جاتا ہے اور بیچا جاتا ہے۔ دودھ کی جگہ پر یوریا کھاد اور مصنوعی کیمیل سے تیار کیا گیا دودھ نما سفید کیمیل پی رہے ہیں،دودھ کو سنگھاڑے کا پاوڈر، سرف، الائچی اور کوکنگ آئل سے بنایا جارہا ہے۔
اے سی صاحب برائے مہربانی اپنے ٹھنڈے دفتر سے اگر باہر نکلیں تو سبزی منڈی کا رُخ کریں کہ جہاں سبزیاں گندے سیورج والے پانی سے اُگا کر منڈی لاکر فروخت کی جاتی ہیں جو کہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔ مٹر اور کھیرے اتنے ہرے بھرے کیوں نظر آتے ہیں۔ باسی اور پیلے مٹر اور کھیرے پر کلر کیا جاتا ہے جو کپڑے اور کاغز کو رنگ دینے کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تربوز کو لال کرنے اور میٹھا کرنے کے لئیے اُس میں سکرین کے انجیکشن اور رنگ کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔
آپ باہرنکلیں اور دیکھیں کہ جعلی کوکنگ آئل اور بناسپتی گھی کس طرح سے کھُلا فروخت ہورہا ہے؟ کیسے جانوروں کی چربی سے تیار کرکے ہم انسانوں کو کھلایا جاتا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ ماش کی دال میں اور موتھ کی دال میں فرق بتانا مشکل ہوتا ہے جبکہ ان کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ موتھ کی دال پچاس روپے جبکہ ماش کی دال ایک سو تیس روپے ہوتی ہے۔ آپ کیوں نہیں پکڑتے ایسے دکانداروں کو جو ملاوٹ کرتے ہیں؟
اے سی صاحب آپ ہمت کریں اور پکڑیں ایسے دکانداروں کو جو کھلی پتی میں کالے چنوں کے چھلکے رنگ کرکے ملادیتے ہیں اس حوالے سے کے ٹو چائے بہت مشہور ہے اس میں رنگ ایسا ڈالا جاتا ہے کہ چائے کا رنگ بہت تیز آتا ہے۔

آپ دفتر کوچھوڑ کر نکلیں تو آپ کونظر آئے گا کہ بازار میں جعلی اور مضر صحت مشروبات اور بوتلوں کی بھرمار ہوچکی ہے۔ مارکیٹ میں برانڈ کی بوتل دکاندار کو انیس روپے تک ملتی ہے مگر جعلی بوتل چھ روپے میں دستیاب ہے۔ گندے غلیظ کیمیل سے تیار کئیے گئے چٹخارے دار پاپڑ جو فوڈ اتھارٹی نے ممنوع کئیے ہیں وہ کمالیہ کی ہر دکان پر فروخت ہورہے ہیں۔
اور ہاں اے سی صاحب میرے تلخ لہجے کی معذرت لیکن اگر آپ میں جرآت ہے اور بالکل ویسی ہی طاقت ہے جیسی غریب عثمان کو دکھائی تو جائیے کمالیہ کے ایک ایک پیٹرول پمپ کو چیک کیجئے جو ایرانی تیل ملا کر بیچ رہے ہیں۔ ہمت ہے تو ان پیٹرول پمپوں کے پیمانوں کو چیک کیجئے جو کم تولتے ہیں اور غریب عوام کی جیبوں پر دن دیہاڑے ڈاکے ڈالتے ہیں۔ اگر ہمت ہے تو برائے مہربانی اُٹھ کے کھڑے ہوجائیں اورکمالیہ شوگر ملز کی انتظامیہ کو جرمانہ کریں جنہوں نے غریب کسانوں کو پچھلے چارسال سے ادائیگیاں نہیں کیں اور غریبوں کے پیسے دبا کر اور غصب کرکے بیٹھے ہیں۔ تب تک شوگر مل میں بیٹھے رہیں جب تک غریب کسانوں کا ایک ایک پیسا ادا نہیں ہوجاتا۔
ہم سمجھتے ہیں اے سی صاحب کہ یہ سب کچھ کرنا آپ کے لئیے بہت مشکل ہے اور ایک غریب ریڑھی بان یا معمولی کریانہ سٹور کو ناجائز جرمانہ کرنا بہت آسان ہے۔
جو آپکا کام ہے آپ وہ کرنہیں رہے جو آپ پہ فرض ہے جس کی تں خواہ آپ وصول کرتے ہیں اُن تمام کاموں سے آپ نے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے اور آپ ایک دکاندار کو جرمانہ کررہے ہیں کیونکہ اُس نے اس وقت سردیوں کے موسم میں زائد قیمت پر انڈے فروخت کئیے تھے جب آپ کمالیہ میں تعینات ہی نہیں تھے۔
کیا یہ ہے آپکی منصفی؟
کیا یہ ہے آپکی فرائض کی ادائیگی؟
کیا ایسے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں جیسے آپ دے رہے ہیں؟۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *