غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 4 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری کے پاپا کا

import Export

کا بزنس تھا۔۔۔
ان کا اسلام آباد میں فلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی اپنی زاتی گاڑی بھی تھی حُوری خود ڈرائیو کر کے یونیورسٹی آتی جاتی۔۔۔
ڈرائیور کے ہوتے سوتے اُسے کہیں بار ماما پاپا کی طرف سے ھدایات جاری کی گئیں کہ ڈرائیور کو ساتھ لے جایا کرو مگر اسے ڈرائیور کے ساتھ جانا بالکل پسند نہیں تھا۔

وہ جیسے ہی گھر سے نکلتی گاڑی کے سپیکرز فل والیوم میں کھول کر ڈرائیونگ کرتے کرتے یونیورسٹی تک کا سفر طے کرتی، کبھی کبھی تو وہ دیر ہونے کی صورت میں جلدی میں بریڈ ٹوسٹ بھی ھاتھ میں اُٹھائے گاڑی کو ہوئی جہاز بنا لیتی۔۔۔
مگر لاڈلی ہونے کی وجہ سے ماں باپ کی ڈانٹ ڈپٹ بس وقتی ہوتی ۔۔۔
حُوری کی ایک اچھی عادت یہ بھی تھی کہ اسے کوئی کچھ بھی کہہ دے وہ آگے سے جواب نہیں دیتی، بس چُپ چاپ سن لیتی اُسکی ایک مسکراھٹ ہی کافی تھی سب کے غصے کو چُھو منتر کرنے کو۔
جبکہ،
“علیشاہ” ۔۔۔
تو اُفففف!!۔
آفت کی پُریا تھی پورے گھر کو سَر پر اُٹھائے رکھتی زرا زرا سی بات پر شور شرابا ہنگامہ، ماما زرا سا ڈانٹ دیتیں تو ہفتہ بھر منہ سجھائے رکھتی۔ ماما کی ڈانٹ کی شکایت پاپا سے اور پاپا کی شکایتیں ماما سے اُسکا بس یہی کام تھا۔
جبکہ حُوری اس سے بالکل مختلف سب کے ساتھ گھل مل کر رہنے والی آسان الفاظ میں کہا جائے تو کافی “میچور” تھی۔
30 منٹ کے وقفے کے بعد حُوری نے جلدی جلدی گرم چائے بمشکل حلق سے اُتاری ہی تھی کہ اگلے لیکچر کا ٹائم ہو گیا ۔
اور یہ اس کا آخری لیکچر تھا جو کہ سر “شاہ سلمان ” کیساتھ تھا۔ جس کے متعلق وہ اسے اپنا تعارف کینٹین کے باہر ہی کروا چکے تھے ۔
سر “سلمان” جو کہ نیچر کے کافی اچھے انسان تھے، اور شکل و صورت میں بھی کافی اچھے دکھتے تھے۔

حُوری بیگ اُٹھا کر کلاس روم تک پہنچی جہاں اُس کی سیٹ پر پہلے سے ہی قبضہ کیا جا چکا تھا،
اس لیے اُسے مجبوراً دوسری لائن میں ہی بیٹھنا پڑا۔
یہ وہ واحد لیکچر تھا صُبح سے سنے جانے والے تمام لیکچرز میں سے، جسے وہ واقعی ہی دھیان سے سن بھی رہی تھی اور سننے کے ساتھ ساتھ ضروری پوائنٹس کو نوٹ بھی کرتی جا رہی تھی ۔

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *