امانت دار دلال اور روپوش وزیر خزانہ ۔۔۔ تحریر : ایم اے جامی

قیام پاکستان سے قبل لکھنؤ کے کھوٹے پورے ہندوستان میں مشہور تھے جہاں کھوٹے صرف عیش وعشرت کا ساماں ہی مہیا نہیں کرتے تھے بلکہ یہاں عمدہ تعلیم رہائش،علمی مذاق ادبی ذوق اور شاعرانہ طبیعت ،اور فن موسیقی کی اندر چھپی صلاحیتوں کو بروئے کار آنے کو موقعہ دیا جاتا تھا۔اور یہی وجہ تھی شاید کھوٹوں پر بیٹھی رنڈیاں ماحول اور تربیت کی وجہ سے رنڈی تو بن جاتی تھیں لیکن وہ فطری طور پر رنڈی نہیں ہوتی تھیں اور ان کی شخصیت کا یہی تضاد ان کے کردار کی دلچسپی اور دلکشی کا باعث بنتے تھے۔امراؤ جان ادا ، خورشید بیگم ،خانم بوا حسینی اور سلطانہ جیسی نامور رنڈیوں کے اندر بھی شرافت ،ایمانداری اور گھریلوخاتون بننے کی کسک ہمیشہ رہی ہے۔امراؤ ، سلطانہ سمیت کئی رنڈیوں نے بغاوت کا علم بلند کر تے ہوئے اس ماحول سے دور جانے کی اور اپنا گھر بسانے کی کوشش کی لیکن ہمارا معاشرہ جسے ایک مرتبہ رنڈی کے روپ میں دیکھ لے اسے توبہ کی گنجائش فراہم نہیں کر تا اور اسے طعنوں اور تشنیع سے وہیں پہنچا دیا جاتا ہے جس کا لیبل ان کے ماتھے پر چسپاں کیا ہوتا ہے۔
پیشہ ورانہ اور نوکریاں کرنے والے لوگوں کا استحصال ہر معاشرے میں لوگ کرتے آئے ہیں وہ آج کے بڑے بڑے انڈسٹریوں کے مالک ہوں یا کھوٹا چلانے والی بیگم خانم ہو۔طوائفوں کو ملنے والی اجرت تو کھوٹے کی بائی ہتھیالیتی تھی گاہکوں سے ملنے والی زائد رقم کو سنبھالنے کے لیے اور اپنا گھر اور عزت کی زندگی گزارنے کا خواب ددیکھنے والی طوائفوں نے وہاں پر کام کرنے والے خواجہ سراؤں کا اپنا خفیہ وزیر خزانہ بنایاہوتا تھا ان کے پاس پیسے جمع کراتے جاؤ جب مناسب بندوبست ہوجائے گا تو نکل پڑیں گیں۔
“سہائے”ایک دلال تھا جو 1947کے فسادات میں مارا جاتا ہے مگر مرتے وقت اس کا لہو ایک عجیب طرح کی گواہی دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن طوائفوں کا دلال تھا ان کے لیے بھی امین تھا ۔زخمی حالت میں مرتے وقت اسے درد کی تکلیف تو بڑی مشکل سے برداشت کرتے ہوئے اپنی قمیض کے بٹن کھولتاہے اور اس کے بعد بے بس ہوکر رہ جاتا ہے اور بولتا ہے کہ نیچے بنڈی ہے ادھر کی جیب میں 1200روپے ہیں یہ سلطانہ کا مال ہے میں نے۔۔۔۔میں نے ایک دوست کے پاس رکھے ہوئے تھے آج اسے بھیجنے والا تھا کیونکہ۔۔۔۔۔آپ جانتے ہیں خطرہ بڑھ گیا ہے ۔۔آپ اسے یہ دے دینا اور آنکھیں بند کر کے بے جان ہوگیا۔
دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی 22کروڑ عوام کے ٹیکس کانمائندہ وزیر خزانہ پچھلے کچھ عرصہ سے روپوش ہے اور سب سے بڑی بات اس کے پاس صادق امین کا سرٹیفکیٹ تھا جس کی بدولت اس عوام نے اسے اپنے مال کا محافظ سمجھ کر ایک بھاری ذمہ داری اس کے کندھوں پر ڈالی تھی لیکن افسوس وہ نہ صرف اس عوام کے پیسے کا جواب دے رہا ہے بلکہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیں روز چڑا بھی رہا ہے۔
” سہائے “بھلے طوائفوں کا وزیر خزانہ تھا لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا پورا احساس رکھتا تھا اس کی آخری سانسوں میں بھی امانت صیح سلامت مالک تک پہچانے کا عزم تھا لیکن افسوس کہ اس پڑھے لکھے اور ذہنی جسمانی طور پر صحت مند معاشرے کے لوگ شاید اس سہائے جتنے بھی امانت دار نہیں ہیں۔
یہاں چوروں اچکوں کو عزت دی جاتی ہے یہاں امانت ہتھیا لینے والے معتبر ہیں یہاں آپ کا مال لے کر بھاگنے والے معزز ہیں۔آج عصر حاضر ترقی کی منازل طے کرتا ہوا بہت آگے نکل گیا لیکن ہمارے ہاں زندگی روز دم توڑ جاتی ہے ذمہ داریوں کا احسا س بوجھ بنتا جارہا ہے۔پاکستان کو آگے لے جانے کا عزم روز دم توڑ جاتاہے آج ہم آئی ایم ایف کے کشکول کو توڑنے کے دعوے کرتے ہیں لیکن پھر وقت کی مجبوری کے ہاتھوں مجبو ر ہوکر ہم قرض لے کر وہی لوگ خزانے کے مالک بنا لیتے ہیں جن کا کردار اور ایمان کا درجہ شاید سہائے جتنا بھی نہیں ہے۔۔ہاں لیکن ہم روز یہاں کئی سہائے جیسوں کو بے شرمی بے غیرتی اور دلال کا طعنہ دے کر سڑکوں پر زندہ جلادینے کو اپنے ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور جنت کی بشارت لیتے ہیں۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *