استفسار ۔۔۔ تحریر : زینب ملک ندیم

انسانیت کا انحصار ہمدردی پر ہے جس کی قلت اب ہم میں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے ۔انسانیت کی جگہ اگر کہا جائے کے درندگی نے لے لی ہے تو غلط نا ہوگا بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ انسانیت بری طرح روندھ دی گئی ہے۔کوئی ہمدردی کوئی احساس جیسے جذبات ہی نہیں رہے۔نفسا نفسی کا عالم ہے ہر شخص دوسرے سے برتری اور اپنے نفس کی تسکین کیلئے بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔
اس بات سے نا آشنا کہ یہ سب اعتبار ،اخوت اور بھائی چارے کو مکمل ختم کرنے کا باعث بنتا جارہا ہے۔
آئے دن نئے سے نئے اسکینڈل نئے سے نئے حادثات ، زیادتی کے کیس،قتل کے کیس ان سب کی بھرمار ہے۔
مگر حل؟؟؟؟۔
حل کیا ہے ہر کیس کی جمع شدہ فائل دو دن نظروں سے گزارنے کے بعد ان پر نئی فائلز کا ڈھیر اور اس ڈھیر پر مٹی کی دبیز تہہ۔۔۔
بس انسانیت یہاں تک ہی محدود رہ گئی ہے۔
کوئی حادثہ سر اٹھاتا ہے تو مدد کیلئے آگے بڑھنے والوں سے زیادہ تعداد موبائل نکال کر کیمرہ آن کرنے اور ویڈیو بنانے والوں کی ہوتی ہے۔انسانی آنکھیں اب حادثات کی عادی بن کے مکمل بےحس بن چکی ہیں
نا ہم احساس رکھتے ہیں نا دل میں ہمدردی پھر بھی امید رکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اچھا ہو ہمارے سروں سے یہ کالے بادل اب ہٹ کیوں نہیں جاتے ہیں؟ کیوں مصیبتوں نے ہمارا ہی گھر دیکھ لیا ہے۔
ہم سوال کرتے ہیں اپنے رب سے گلہ کرتے ہیں مگر اپنی ذات سے ایک بار بھی سوال نہیں کرتے ایک بار بھی اپنے ضمیر سے نہیں پوچھتے کہ ان سب میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے وہ ذات تو ہماری بےشمار غلطیوں کے باوجود بھی ہمیں رزق عطا کرتی ہے پھر بھی ہم اس سے گلہ کرتے ہیں اور بےشمار کرتے ہیں۔ اپنی ذات کی تعمیر میں ہم اپنی تربیت کرنے کے بجائے ہر چیز کا ہر فعل کا قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔
نا عدل نا انصاف ہے آئے دن کی بری خبریں اور پھر مجرم کا نا پکڑا جانا ہر نئے بننے والے مجرم کو حوصلہ دیتا ہے ۔عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ جوان تو جوان چھوٹے بچے تک اس ہوس سے محفوظ نہیں۔نفس کی خواہشات پوری کرنے کیلئے ماحول میں گندگی بڑھائی جارہی ہے فخش ویب سائٹس سے لیکر سوشل میڈیا پر بنے فحش پیجز تک جہاں ہر جنس کی نمائش کرکے داد وصول کرکے خود کو سکون فراہم کیا جاتا ہے جس میں سکون پورا کرنے کیلئے ناجانے جنس کو کتنا ٹارچر کیا جاتا ہے اور پیچھے بچتا ہے تو صرف گناہ جس کا امتزاج اکھٹا ہوکے مسلم امہ پر کالے بادل لے آتا ہے جن سے ہونے والی بارش پانی نہیں خون کی ہوتی ہے اور ان کے چھٹنے کے بعد موسم خوشگوار ہونے کی بجائے سوگوار ہوجاتا ہے۔
مظلوم کا مال یتیم کے حق پر ڈاکہ ہم انسان ڈالتے ہیں۔اور پھر۔۔۔۔۔
ہم قصور وار ہر آنے والی حکومت کو ٹھہراتے ہیں مگر قدرت کا اصول تو اس طرح گردش کرتا ہے نا کہ جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران ہونگے۔
تو پہلے خود کو سدھارنا ضروری ہے تبھی تو اللہ جی ہم گناہگار انسانوں کو ان مصیبتوں سے نکالیں گے اور ہم اچھی سکون والی زندگی گزار سکیں گے ورنہ کسی کو تکلیف دے کر حاصل کی گئی آسائشیں وقتی نفسی تسکین تو دے سکتی ہیں مگر پھر مظلوم کی آہ سے زندگی بھر کا سکون برباد کردیتی ہیں۔
تمام سوالوں جواب جگہ سے نہیں ملے گا جواب ہمارے اندر چھپا ہے جسے کھرید کر معلوم کرنا ضروری ہے تبھی ہم بچ سکیں گے ہر آفت سے ورنہ دلی قوی ہار کر الٹی راہ ہر چلنے سے سوائے برباد مستقبل کے ہمارے پاس اور کچھ نہیں۔۔۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *