بدظن ۔۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ صحن میں بیٹھا محو گفتگو تھا کہ ایک دم پڑوس سے زنانہ و مردانہ آوازیں بلند ہوئیں۔پتہ چلنے پہ معلوم ہوا کہ بھائیوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا ہے۔میں اور میری بیوی فوراً باہر کی جانب لپکے۔تاکہ معلوم کر سکیں کہ معاملہ کیا ہے فضل منزل کے مکین آپس میں کیوں الجھ رہے ہیں۔ فضل منزل کے مرد حضرات آپس میں دست و گریبان تھے جبکہ خواتین گالم گلوچ اور طعنہ زنی کر رہی تھیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مسئلہ جائیداد کے بٹوارے کا ہے۔ایک بھائی کہتا ہے کہ مجھے فلاں زمین چاہیے کیوں یہ کہ میری محنت کا نتیجہ ہے۔جبکہ دوسرے بھائی کے بقول کہ میرے باہر سے ڈالر بھیجنے کی وجہ سے یہ زمین خریدی گئی ہیلہذا اس زمین پر میرا حق زیادہ بنتاہے۔ اور یوں تلخ کلامی سے نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔اور نتیجتا پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور کیس عدالت پہنچ گیا۔ عزیز واقارب کبھی بڑے بھائی کے پاس جاتے توچھوٹے بھائی کو بے دید اور احسان فراموش گردانتے۔تو کبھی چھوٹے بھائی کے پاس جا کر نام نہاد ہمدردی کا ڈھونگ رچاتے اور بڑے بھائی کو ظالم اور فرعون کہتے۔اس واقعے سے مجھے 30برس قبل پرانا واقعہ یاد آگیا۔جب میرے والد صاحب انتقال فرما گئے تھے۔ اور والدہ صاحبہ جوانی میں ہی بیوہ ہوگئیں۔ہم تین بہن بھائی تھے۔سب سے بڑے بھائی کی عمر 20 برس، میری 18 برس اور بہن کی عمر 10برس تھی۔مجھے تعلیم حاصل کرنے سے کوئی خاص رغبت نہ تھی۔ لہٰذا میں نے پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا۔لیکن باقی دونوں بہن بھائی نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔جبکہ میں نے والد صاحب کے گزر جانے کے بعد ان کے کام سنبھال لئے ۔ جس میں کھیتی باڑی اور بھینسوں کی دیکھ بھال شامل تھی۔میں خود بھی کام کرتا اور مزارعیسے بھی اپنی نگرانی میں کرواتا۔ اس کے علاوہ بھی گھر کے چھوٹے موٹے کام خود بخود میرے سپرد ہوتے چلے گئے۔کم عمر تھا یا یا پھر یوں کہہ لیں کہ چڑھتی جوانی کی نادان سوچ تھی۔جو یہ سمجھتا تھا کہ گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے ہی نازک کندھے پر ہیں۔جبکہ والدہ نے بڑے بھائی کو شہزادوں کی طرح رکھا ہوا ہے۔جس دن بھائی کی کالج سے چھٹی ہوتی تو میں کام کیوقت والدہ سے الجھ پڑتا کہ کبھی اس نواب کو بھی کا م کا کہہ دیا کریں جب بھی دیکھو گھر میں چارپائی توڑتا رہتا ہے۔ اور آپ ہیں کہ مجھے سے گدھے کی طرح کام کرواتی ہیں۔میں لڑتا جھگڑتا اور زور زور سے چیختا چلاتا۔ میری اس منفی سوچ کو بڑھاوا دینے والے میرے اپنے ہی قریبی رشتے دار (شریکہ)تھے۔جو اکثر مجھے والدہ اور بھائی کے خلاف بدظن کرتے رہتے کہ دیکھو تم سے نوکروں کی طرح کام لے رہے ہیں جبکہ بڑے (بھائی)کو شہزادوں کی طرح رکھا ہوا ہے۔ کچھ اس طرح سے میری دماغی صفائی کی جاتی کہ میں نادان انھیں اپنا ہمدرد سمجھ کر گھر کی ہر بات انھیں بتا دیتا۔شریکے کی ہمدردی کا بھید تو اس دن مجھ پر کھلا جب میں ڈیرے پر چارہ لینے کے لئے پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں چچا میرے بڑے بھائی سے کہہ رہے تھے۔دیکھو بھئی تمہاری ماں نے گھر اور جائیداد کا مختیار چھوٹے کو بنا دیا ہے۔اور تمہیں تعلیم کے نام پر جائیداد اور گھر سے بے دخل کر چکے ہیں ۔ چھوڑو تعلیم کو کچھ نہیں رکھا ان کتابوں میں بس تم اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔ بے وقوف تم تو صرف کتابیں ہی چاٹتے رہ جاؤ گے اور جائیداد چھوٹا لے اڑے گا۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *