ضلع بہاول نگر کی پسماندگی ۔۔۔ تحریر : ملک شاہد حنیف

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ایک پسماندہ ترین علاقہ ضلع بہاول نگر ہے۔ اس ضلع کی پسماندگی کا ایک عالم یہ بھی ہے کہ اکثر پاکستانیوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ضلع کہاں ہے؟ اکثر لوگ اس کو سندھ میں کہتے ہیں تو کچھ لوگ بلوچستان کا ضلع کہتے ہیں۔ ایک دفعہ میں میٹروبس لاہور میں سفر کر رہا تھا تو ایک نوجوان جو پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا مجھے کہنے لگا سر آپ کہاں کے رہنے والے ہیں تو میں نے کہا کہ میں ضلع بہاول نگر کا رہنے والا ہوں تو نوجوان نے کہا سر یہ ضلع بہاول نگر پاکستان میں ہی ہے۔ میں نے کہا جی پنجاب میں ہی ہے تو اس نے کہا آج پہلی بار ہی اس ضلع کا نام سنا ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ اس ضلع کو منسٹروں کا ضلع بھی کہا جاتا ہے اور اگر پسماندگی کا ذکر کیا جائے تو ہر طرف سناٹا ہی چھا جاتا ہے ۔ تعلیم کا حال یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں سرے سے سکول ہے ہی نہیں ۔ طلباء کو پڑھنے کے لئے کافی سفر کرنا پڑتا ہے اور جہاں سکول ہیں وہاں معیارِ تعلیم نہیں ہے۔ بچوں کے بیٹھنے کے لئے ڈیسک اور کرسیاں دستیاب ہی نہیں ہیں اور بچے زمین پر ٹاٹ پر بیٹھ کر علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں فرنیچر ہے وہاں عمارت موجود نہیں ہے اور جہاں عمارت موجود ہے وہاں بجلی اور پنکھے نہیں ہیں اکثر سکول چاردیواری سے بھی محروم ہیں۔ باقی ماندہ سکولوں میں پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں ہے اور کچھ سکولوں میں تو ایک ہی اُستاد پانچ کلاسوں کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ اگر اس سے آگے بڑھیں تو گاؤں اور ٹاؤن کے بچوں کو پرائمری کے بعد ہائی سکولوں کے لئے شہر کا رُخ کرنا پڑتا ہے ۔ اکثر بچے بچیاں دُور دراز علاقوں سے سفر کر کے شہر کے سکول میں آتے ہیں جو ان کے لئے بڑا مسئلہ ہے اور اُن کو ٹریفک کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور غریب لوگ اپنے بچوں کو سائیکل ، موٹر سائیکل اور رکشوں کے ذریعے گھروں سے نکلتے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔اس پسماندگی کو دور کرنے کے لئے حکومت کو ہر گاؤں کی سطح پر ہائی سکول قائم کرنے چاہئیں اور سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کو بڑھانا چاہئے اور معیار تعلیم بہتر کرنا چاہئے اور پورے ملک میں ایک ہی نصاب اور ایک ہی نظام تعلیم جاری رکھنا چاہئے۔ سرکاری کالج ضلع بہاول نگر میں پسماندگی کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ پڑھانے کیلئے لیکچرار کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی سال اکتوبر 2017 ؁ء میں ضلع بہاول نگر کے تمام شہروں میں C.T.Iکے لئے ہر ہر کالج میں کم سے کم 31لیکچرار کی ضرورت تھی۔ مگر حکومت نے C.T.I میں 12لیکچرار بھرتی کر کے اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات کر دی تو اِن حالات میں بہتر معیار کیسے ہو سکتا ہے اور سرکاری کالجز میں لیکچرار کی عدم توجہ سے معیار تعلیم بہت ناقص ہے۔ جو ضلع بہاول نگر کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے اس تعلیمی پسماندگی کی وجہ اس ضلع کے تمام سیاستدان ہیں۔ جنہوں نے کبھی بھی صوبائی یا قومی اسمبلی میں ان کیلئے آواز نہیں اُٹھائی۔ اِنہی کی وجہ سے ضلع بہاول نگر کی تعلیم سیاست کی نذر ہو رہی ہے اور حکومت بھی ہر سال ضلع بہاول نگر کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ پسماندگی آگے بڑھ کر ہسپتالوں کا رُخ کرتی ہے تو وہاں پر موجود ڈاکٹر قصابوں کا منظر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کی مسیحائی کی بجائے قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ پسماندہ ضلع بہاول نگر کے شہر تحصیل ہارون آباد میں لیڈی ڈاکٹر آئے روز ڈلیوری کیس میں ماں اور بچوں کی جان لیتی نظر آتی ہیں۔ جن میں ڈاکٹر روبینہ اور ڈاکٹر سمیرا معروف کے خلاف تو پولیس کیس بھی ہو چکے ہیں اور میل ڈاکٹر تو کمیشن کی دوائی کے بغیر لکھتے ہی نہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی کئی گھنٹے ڈاکٹر کے کمرے کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے اور ضلع بہاول نگر کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود ہونے کے باوجود بھی کئی کئی گھنٹے غائب ہوتے ہیں۔ عوام کو ایمرجنسی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہارٹ کے ڈاکٹر تو شاید ایک خواب ہے اور اس کے علاوہ سکن ، معدہ ، جگر ، شوگر اور دیگر امراض کے ڈاکٹر ایک دیرینہ مطالبہ ہے۔ ایمر جنسی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو فوراً بہاول پور یا لاہور ریفر کر دیا جاتا ہے۔ ضلع بہاول نگر سے بہاول پور کا سفر تقریباً3گھنٹے اور لاہور کا سفر تقریباً6گھنٹے کا بنتا ہے اور آئے روز مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ ضلع بہاول نگر کے تمام سرکاری ہسپتالوں کا منظر پسماندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ضلع بہاول نگر کی پسماندگی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس ضلع کے لوگ آج تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ یہاں ایک اہم بنیادی مسئلہ پینے کے صاف پانی کا ہے۔ آج تک ضلع بہاول نگر کی پسماندہ عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اور استعمال کیلئے پانی بھی لوگ شہروں میں سارا سارا دِن انتظار کرتے ہیں اور گاؤں میں عورتیں میلوں دور سے پانی لے کر آتی ہیں۔ پوری دنیا میں پانی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کی فراہمی حکومت کا اہم فریضہ ہوتا ہے۔ لیکن حکمرانوں کی نااہلی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ انہوں نے آج تک ضلع بہاول نگر کے لوگوں کو اس بنیادی سہولت سے محروم رکھا ہے ۔ اِس ضلع کے شہر اور گاؤں کے لوگ صبح و شام نہر کنارے لگے پانی کے نلکے کے اردگرد لمبی لمبی قطاریں بنائے پینے کے پانی کے حصول کے لئے حکومتی اداروں کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں اور ضلعی چیئرمین اور تحصیل چیئرمین کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے فوٹو سیشن کو بھی واضح طور پر ثابت کرتے ہیں۔ ضلع بہاول نگر کی پسماندگی میں اس علاقے کے جاگیرداروں اور سیاست دانوں کا بڑا کردار ہے۔ یہ سیاست دان اپنی ذاتی مفادات کی خاطر پورے ضلع کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں ضلع کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے حکومت کو بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

(Visited 47 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *