موسیقار خواجہ خورشید انور اور لیجنڈ گلوکارہ ریشماں کی برسی ۔۔۔ تحریر : محمد افضل چوہدری

ملکی فلموں میں وطن پرستی کے عنصر کا فروغ پانا خوش آنند امر ہے۔ فلم “وصل” میں پہلی بار وطن عزیز کے دشمنوں کی گھناؤنی سازشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے ۔ اور اُمید ہے کہ یہ فلم وطن عزیز سے محبت رکھنے والے افراد کے لئے ایک موثر پیغام لیکر آئے گی۔خواجہ خورشید انور کی 32ویں اور لیجنڈ گلوکارہ ریشماں کی تیسری برسی گزر گئی ۔ خواجہ خورشید انور نے 1939ء میں پہلی بار آل انڈیا ریڈیو سے بطور پروڈیوسر میوزک پروگرام کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ1940ء میں باقاعدہ طور پر فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ اور پہلی بار فلم کڑمائی کی موسیقی کی دھن ترتیب دی جس کے بعد وہ کئی ایک فلموں کے نغمات کی دھنیں تخلیق کرنے کے بعد 1952 ء میں فلم انتظار کے نغمات کی دھنیں بنائیں۔ انہوں نے اپنے کئیرئیر میں صرف27فلموں کی موسیقی تر تیب دی۔ جن میں 8بھارتی اور 19پاکستانی فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے 6فلمیں ذاتی طور پر پروڈیوس کیں، اور6فلموں کے سکرپٹ تحریر کئے۔ اور3فلموں کو ڈائریکشن دی۔ ان کے مشہور نغمات میں “جس دن سے پیا دل لے گئے ، بلم پردیسی سجن پردیسی، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، او بے وفا میں نے تم سے پیار کیا، چن ماہیا تیری راہ پئی تکدی آں “اور بلبلے صحرا کا لقب پانے والی لوک گلوکارہ ریشماں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے 1960ء میں ٹی وی پر آواز کا جادو جگانا شروع کیا۔ اور 80کی دہائی میں انہوں نے بھارتی ہدایتکار سہباش گھئی کی فلم ہیرو کے لئے گایا ہوا گیت بڑی لمبی جدائی جو آج تک دنیا کے کونے کونے میں گونج رہا ہے ۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز اور بیرون ممالک سے کئی ایک بیشمار ایوارڈ دئیے گئے۔ گلوکارہ ریشماں اور موسیقار خواجہ خورشید انورکے فن اور ان کے فنی کئیرئیر کے دوران ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

cas-afzal

(Visited 39 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *