بے مثال و بے نظیر قوم ۔۔۔ تحریر : رانا احسان الحق

پاکستان کے جنم لیتے ہی مصائب وآلام نے اس کی راہ تاڑی ،پاکستان کے کشادہ سینے پرشکست وہزیمت جیسے ناسورسے بڑھ کرزخموں نے چھیدکئے۔ہرمیدان میں ننگ دین وملت غداروں نے ضمیرفروشی کے مظاہرپیش کئے ۔عزتیں پامال ہوئیں ،دوشیزائوں کی آبروریزی کی گئی ،اغیاراپنی تمام ترحشرسامانیوں کے ساتھ وطن عزیزپرجھپٹ پڑا۔ہرسودل خراش مناظرنے فضاکوسوگوارکیا،بم برسے ،گولیاں چلیں،خون کی ہولی کھیلی گئی،لاشیں گرتی نظرآئیں ،اعضاء بکھرتے رہے،گھراجڑتے رہے،بچے یتیم ہوتے رہے ،چہارسوموت نے ڈیرے ڈالے ،زندہ گھرسے نکلتے مگرکاندھوں پہ کٹی پھٹی لاش لوٹتی ۔دشمن نے جبرواستبدادکی انتہا کر دی،غیرتوغیراپنوں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ۔ہمارے ایمان لوٹنے کی جسارت کی گئی ۔دین کی تعلیم وتربیت اورمذہب کے پھلنے پھولنے کے تمام راستے مسدودکرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی گئی۔ملک پاکستان کودولخت کردیاگیا،کرپٹ حکمرانوں نے ملک عزیزپرظلم وستم کی انتہاکردی۔پاکستان کے مسلمانوں کودنیاکے سامنے ذلیل ورسواکرنے کی سازشیں کی گئیں ۔جگہ جگہ دہشت پھلائی گئی اورلوگوں کے چیتھڑے اڑائے گئے جوآوارہ کتوں کی خوراک بنے ،مائوں سے ان کے لعل ،بہنوں سے ان کے عزیزتربھائی اورسہاگنوں سے ان کے محافظ چھین کریاتولاپتہ کردیئے گئے یاپھرامریکہ کے ہاتھ بیچ دیئے گئے ،بھارت دشمنی میں اس قدرآگے بڑھ گیاکہ بلاناغہ نہتے شہریوں کونشانہ بنانے لگا۔پوری دنیاملک پاکستان کودہشت گردوں کی آماجگاہ سمجھنے لگی ،تمام دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں ملک کی بنیادوں کوکھوکھلاکرنے لگیں ۔وطن عزیزکے مسلمانوں کوپردیس میں بھی ذلیل ورسواکیاگیا۔لوگ اپنے اس وطن کودہشت کی علامت سمجھ کراسے ہی چھوڑکراغیارکی پناہ میں جانے لگے،پوری دنیانے اس کے خلاف محاذکھول دیا۔کیاکچھ نہیں کیاگیااس ملک کے ساتھ ۔غربت نے قوم کی کمرتوڑڈالی،کرپشن کاعفریت بے قابوہوکرسب کونگلنے لگا،فرقہ واریت کوہوادی گئی،اپنے ہی دہشت گردوں کے آلہ کاربننے لگے ،حکمران بھی دشمنوں کی کٹھ پتلی بنے ،رشوت ستانی نے ہرفردکواپنے شکنجے میں جکڑڈالا،معیشت نے دم توڑا۔میں کیاکچھ گنوائوں فقط اتناہی کافی ہے کہ ہماری پوری تاریخ قتل وغارت،تباہی ودہشت گردی اورانسانیت سوزکرتوتوں سے بھری پڑی ہے ۔بیرونی دنیاکی مداخلت اوربراہ راست اس میں حصہ لینے والوں کی سیاہ تاریخ رقم ہے ۔حرف آخریوں کہیے برستی آگ ،بھڑکتے شعلوں کے خون آشام مناظر،ملک میں دریائے آگ وخون کی طغیانی ،اس کی دردناک موجیں ،اس قوم کی شکست وریخت ،ان کے انحطاط وزوال کی داستانیں ،ان کے اختلافات وانتشاراوران کی بے بسی وبے کسی سب کچھ توہے جوکسی بھی قوم وملت اورملک کی بنیادیں ہلاکراسے منہدم کرنے کے لیے کافی ہے ۔
مگرآفرین ہے ایسی قوم پرجوسب کچھ سہنے کے باوجودبھی استقامت کاپہاڑبنی رہی،انگ انگ کٹوانے کے بعدبھی دنیائے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیواربنی رہی ۔اس پرلاکھوں غموں نے ہلہ بولامگرحوصلہ اس قدرکہ دنیاورطہ حیرت میں گم یہ سوچنے پرمجبورکہ یہ لوگ یقیناکوئی خلائی مخلوق ہیں جودردتوسہتے ہیں مگرنہ توآہ وبکاکرتے ہیں اورنہ ہی اپنی جگہ کوچھوڑنے پرتیارہوتے ہیں ۔دنیانے ان کے اتحادواتفاق کے روح پرورمناظربھی دیکھے اوران کی طویل وپرمشقت جدوجہدکاسفربھی جانا۔ان کی اخوت ومحبت اور یگانگت کی مثال دینے سے دنیا توکجا تاریخ بھی قاصر ہے ۔ یہ لوگ شائد مٹی کے نہیں فولاد کے بنے ہیں کہ جن کے عزیزوں کوبم دھماکوں میں اڑ ادیا گیا یا پھر کہیں بھی کسی بھی طرح کی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا مگر پھر بھی یہ پرامید بلکہ دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن کیے پھرسے نئے عزم وولولہ کے ساتھ ایک ایسے حکمران کا انتخاب کیا ہے کہ جس کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ یہ حکمران اپنے وعدوں کی تکمیل کرے گا، جوباتیں یہ برملااورپورے وثوق سے کہہ رہاہے ، یہ ضروراپنی باتوں پر پورا اترے گا۔ یہ قوم باشعورہے اورباشعورحکمران ہی کو برسراقتدار لائی ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ یہ ملک باشعوراور بے مثال و بے نظیرقوم کا ملک ہے۔اب یہ نئے حکمران پر ہی منحصر ہے کہ وہ اپنے کردار سے ثابت کردے کہ وہ واقعی ایک ایسی قوم کا لیڈر ہے جوقوم اپنے ملک وملت کے لئے ہرحد سے گزرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔

(Visited 49 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *