بیرونی دفاع سے اندرونی دفاع تک ۔۔۔ ایک سبق‘‘۔۔۔ تحریر : گلشن ناز

۔6۔ستمبر کی جب چونڈہ اور کھیم کرن کے مقام پر بھارتی فوج نے حملہ کیا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا او ر ان سے نا صرف مقبوضہ علاقہ خالی کرا دیا بلکہ انھیں اپنی سر حدوں پر واپس لوٹ جانے پرمجبور کر دیا پاکستان کے اس سنہرے با ب کی یاد دہانی کے لئے یوم دفاع مناتے ہیں ہر چند کے اس وقت فرد عام سے لے کر پاک فوج تک سب نے کردار ادا کیا لوگوں نے اپنے خون اور عطیات کی فراہمی میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایثاردکھایا بلاشبہ وہ قربانی فراموش نہیں کی جا سکتی جب کہا گیا کہ ہم ایک ایک پیسے سے ٹینک بنائیں گے اور خود بھوکے رہیں گے مگر اپنا دفاع مضبوط کریں گے.اور اس وقت لوگوں نے اپنی ضروریات روک کر امداد کی فراہمی کی وہ زندہ قوموں کے لئے ایک مثال ہے بلاشبہ یہ ایک کٹھن دور کا سنہری باب ہے جسے آئندہ نسلوں تک پڑھا جانا چاہیے سرحدوں پر کھڑے مجاہدین آج تک اپنے فرائض جس حسن خوبی سے نبھا رہے ہیں وہ ان جیسے دلیر لوگوں کا شیوہ ہے کہ جس طرح بیرونی دفاع کے لٰئے اقدامات کئے گئے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ دفاعی قوت کو جس طرح مضبوط کیا گیا وہ قابل ستائش ہے. اگر چہ پاکستان70 سالوں میں بھی ابھی تک حا لت جنگ میں بھی اپنا استحکام برقرار رکھ کردشمن کا منہ توڑتے رہا جو کوئی آسان کام نہیں لیکن اگر پاکستان کے اندرونی دفاع کی بات جائے تو صورتحال نہایت مایوس کن نظر آتی ہے اس صورتحال کے لئے مجھے یہی کہنا پڑیگا کہ اندرونی دفاع کے معاملات میں پاکستان آج بھی اسی مقام پر ہے جہاں ستر سال پہلے تھا بلکہ شاید اس سے بھی پیچھے ہوگیا .ہم جس طرح افغانستان کی جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ضرب عضب,رد الفساد اہم اقدام تھے جو اس صورتحال کے نمٹنے کے لئے لازمی اٹھائے جانے تھے پاک فوج بیرونی دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے جس سے آج پاکستان امریکہ جیسے سپر پاور کو دو ٹوک جواب دینا آسان ہوا لیکن پاک فوج کے علاوہ باقی وہ لوگ جن کے ذمے اندرونی دفاعی معاملات کی ذمے داری ہے ان کی طرف سے ہمیشہ مایوس کن فیصلے ہی سامنے آتے رہے جس نے اندرونی مدافعت کی کشتی کو ڈانواڈول کردیاریمنڈیوس کی رہائی سے لیکر تمام خارجہ پالیسیوں اور بیرونی تعلقات تک جتنے اہم فیصلے لئے گئے اس میں اندرونی مدافعت کے مفادات اور تحفظ کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا یہ اندرونی معاملات ہی ہو تے ہیں جس نے 1971ء کے سقوط ڈھاکہ جیسا شرمناک باب پاکستان کی تاریخ سے جوڑ دیاورنہ پاک فوج محاذ تک آگے جا نے کے بعد کسی حتمی فیصلے کے بغیر لوٹنے والی نہیں تھی لیکن انھیں مجبور کیا گیاخود پاک فوج اپنے محاذ پر اس حکم پر حیران و پریشان تھی مگر حاکم کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔اسی طرح اگربات سانحہ ماڈل ٹاؤن کی کی جائے تو یہ بھی اندرونی دفاع کی کمزوری کا منہ بولتاثبوت ہے ہم یوم دفاع منا رہے ہیں لیکن اس حوالے سے میرے ذہن میں کئی سوالات ابھر رہے ہیں کیاحالت جنگ میں ہوتے ہوئے بھی ہمارا دفاع اتنا مضبوط ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر دفاع تو دونوں طرح کا مقصود ہوتا ہے محض سرحدوں کے تحفظ سے دفاع ممکن نہیں کیونکہ طوفان ہمیشہ سمندر کے اندر سے ہی پیدا ہوتے ہیں ہر شہری کے جان و مال عزت آبرو اسکے معاشرتی حیثیت کا دفاع اس لفظ میں شامل ہوجاتاہے پھر تو سڑکوں پر لٹتے شہری سر عام قتل ہوتی عوام،معاشی حالات اور کسم پرسی سے تنگ آکر خود کشی کرتے ہوئے لوگ،اپنے مستقبل کے حسین خواب سجائے دردر کی ٹھوکریں کھاتے نوجوان،گلی محلوں میں پستی نوع انسانی ہمیں کیوں نظرآتی ہے۔کیا ان کا دفاع ایک غیر ضروری امر ہے۔میرے وطن کے لوگ اتنے حقیر نہیں ہیں کہ سرحدوں کے تحفظ کے آگے نظر انداز کر دیا جائے۔میرا سوال یہ ہے کہ بیرونی دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی دفاع پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی جس طرح پاک فوج میں احتساب ہوتا ہے ان اداروں کا کیوں نہیں ہوتا کیوں ان کے ذاتی مفادات ملکی سالمیت کو قربان کر دیتے ہیں اور پاک فوج ان کے غلط فیصلوں کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہوجاتی ہے چونکہ ہم حالت جنگ میں ہیں ہم ہر شخص اپنے جان و مال عزت و آبرو کے دفاع کے لئے لڑ رہا ہے اور ہمیں لڑتے رہنا ہوگا تا آنکہ بیرونی دفاع کے استحکام کے ساتھ ساتھ اندرونی دفا ع بھی مضبوط ہو سکے۔
مقدر کی زنجیروں سے بندھے ہم بے بس لوگ۔
عمریں گزار دیتے ہیں معجزوں کے انتظار میں۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *