بالآخر ہم جامعہ پہنچ گئے ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے روز ہم اٹھے اورپاؤ کیمپس جانے کی تیاری شروع کی۔ گلا تو خراب تھا۔سوچا کہ اگر نگران نے گانا سننے کی فرمائش کر دی تو اگلی ملاقات پر ٹال دیں گے۔ باقی تیاری ہم نے کر لی۔ کپڑے یعنی کہ پینٹ شرٹ ہم نیرات میں ہی استری کر دی تھی۔ باقی حاجات ضروریہ سے فراغت کے بعد ہم کمرے سے نکلے اور جا پہنچے پاؤ کیمپس کے روٹ کی بس کے سٹاپ پر۔ راستے میں ہم نے ناشتہ کیا۔ کیا کیا یہ تو ہمیں یاد نہیں پر کچھ کھایا ضرور تھا۔شاید چائے پراٹھا۔جب ہم اسٹاپ پر پہنچے تو ابھی گاڑی کے آنیمیں کچھ وقت تھا۔
ہم نے ادھر ادھر گھومنا شروع کر دیا۔شہر کی صفائی کے تو ہم پہلے ہی قائل تھے۔ جہاں اس وقت ہم تھے وہ مقام بھی بہت صاف ستھرا تھا۔ تاہم بارش کے باعث سڑکیں گیلی تھیں۔ اردگرد پلازے اور دکانیں تھیں۔ ہم دوکانوں میں تانکا جھانکی کر رہے تھے کہ ہمیں اپنے گلے کا خیال آیا جو کہ پراٹھا کھا کر مزید تان سین ہو چکا تھا۔ ہم نے ایک دکان دار سے پوچھا کہ قریب کوئی دواخانہ ہے تو اس نے ہمیں کہا کہ سیدھے چلے جاؤ۔ ہم دواخانے میں جا پینچے۔ وہاں کافی ساری خواتین کم کر رہی تھیں۔ انمیں سے ایک سے ہم نے کہا کہ ہمارا گلا خراب ہے۔ ہمیں ‘اریتھروسین’ دے دو۔ اس خاتون نے ہمیں انتظار کرنے کا کہا۔ہم اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے سو کھڑیرہے تصورِ جاناں کیے ہوئے۔ کچھ دیر بعد وہ آئی اور معذرت کرنے لگی کہ یہ تو جراثیم کش دوا ہے یہ ہم ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں دے سکتے۔ اب ہم ڈاکٹر کہاں سے ڈھونڈتے۔ بے اختیار اپنا ملک یاد آیا کہ وہاں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ زہراورتیزاب بھی عام دستیاب ہے تو ‘اریتھروسن’ کس کھیت کی مولی۔ مگر یہاں ہم دم نہیں مار سکتے تھے۔ تاہم جب ہم ‘تصورجاناں’ میں مستغرق تھے تو ہماری نظر ‘سٹریپ سلز’ پر پڑی تھی۔ بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق ہم نے اس پر ہی اکتفا کیا۔
گاڑی آ چکی تھی مگر ابھی اس کی روانگی میں نصف گھنٹہ باقی تھا۔ہمارے ایک دوست نے ہمیں بینک میں ایک کام کا کہا تھا۔ دراصل اس کی فیس جامعہ کو وصول نہیں ہوئی تھی۔ہم بینک گئے انھیں متعلقہ تفصیل سے آگاہ کیا تو انھوں نے اپنا ریکارڈ دیکھا اور ہمیں بتایا کہ ان تک یہ رقم نہیں پہنچی۔جس بینک سے رقم ترسیل کی گئی وہاں سے معلومات لیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور واپس جامعہ کی بس کی جانب آ گئے۔ اب روانگی کا وقت تھا۔ ہم سب سیپہلے بس میں سوار ہوئے۔ بس بہت ٹھنڈی تھی اے سی کے باعث یا پھر ہمیں اپنی طبیعت کے پیش نظر محسوس ہوئی۔ چونکہ بس ابھی خالی تھی ہم ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ پر براجمان ہو گئے اور اس سیٹ کا اے سی بند کر دیا۔کچھ دیر بعد ایک لڑکی آئی اور ہم سے کچھ سیٹیں پیچھے بیٹھ گئی۔ اس کے بعد ایک اور طالب علم آیا اور ہمارے مقابل والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔اس کے ساتھ کافی سارا سامان بھی تھا۔ وہ ہوسٹل جا رہا تھا کم از کم ہمارا قیاس یہی تھا۔بس ہم تین طالب علموں کو لے کر روانہ ہو گئی۔ بس شہر سے باہر نکلی تو ہم اپنے اطراف کے نظاروں میں کھو گئے۔ بادل تو وہاں ہوتے ہی ہیں اکثر و بیشتر مگر سڑک کے دونوں اطراف ہریالی اور سبزہ دل موہ رہا تھا۔چھاٹی چھاٹی پہاڑیاں اور کھیت منظر میں مزید رنگ بھر رہے تھے۔جامعہ شہرسے باہر بیس پچیس کلومیٹر کی مسافت پر تھی۔ یہ نصف گھنٹہ کیسے گزرا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔
جامعہ پہاڑوں میں گھری تھی۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم دوبارہ ٹیکسلا جا پہنچے ہیں یا پھر کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا دل چاہا کہ کسی کو چٹکی کاٹ کے کود کو یقین دلائیں کہ یہ حقیقت ہے مگر ایسا نہ کر پائے کہ ساتھ کوئی تھا ہی نہیں۔ جامعہ کے آغاز پر ہی طالب علم اپنا سامان لے کر اتر گیا۔ اس کے بعد وہ طالبہ ہمارے پاس آئیں اور ہم کو سلام کیا۔ ہم نے جواب دیا اور پوچھا کہ نام کیا ہے؟
کس شعبے کی ہو؟ کب سے ہو؟ کیوں ہو؟اپنے ملک میں کیوں نہیں پڑھتی؟(وہ کسی طرح بھی ملائشین نہیں لگتی تھی)؟ آگے کیا ارادے ہیں؟اس کے علاوہ بھی کچھ سوال تھے جو اس وقت حافظے سے محو ہو گئے۔ وہ ہکا بکا رہ گئی۔ اسے پریشان دیکھ کر ہم نے کہا کہ چلو کوئی سے پانچ سوالوں کے جواب دے دو مگر سوال نمبر ایک لازمی ہے۔استاد کہیں بھی جائے اپنی ادا سے پہچانا جاتا ہے۔ اس وقت ہم ایک طالم علم کی حیثیتسے جا رہے تھے مگر ہمارا حافظہ کمزور ہے اور اکثر اہم نکات ہم بھول جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ طالبہ نے بتایا کہ اس کا نام عمیس ہے اوراس کا تعلق عراق سے ہے۔ اس دوران گاڑی منزل پر پہنچ چکی تھی۔ ہم نے ڈرائیور سے واپسی کا وقت معلوم کیا اور اتر گئے۔ ہمارے پیچھے وہ طالبہ بھی اتر گئی اور مزید بتایا کہ اس کا تعلق شعبہ حساب(میتھس ڈیپارٹمنٹ) سے ہے اور وہ اس میں ماسٹرز کر رہی ہے۔ہم نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ پاکستان سے ہیں اور یہاں پی ایچ ڈی کے سلسلے میں ائے ہیں۔ گاڑی سے اتر کر ہم نے دیکھا کہ بائیں ہاتھ پر عمارات ہی عمارات ہیں جبکہ دائیں ہاتھ پر کوئی چار پانچ سو سائیکلیں کھڑی ہیں۔ ہم طلبا کی ہمت کے قائل ہو گئے کہ جو اتنی زیادہ سائیکل چلا کرآتے ہیں تاہم حیرت بھی ہوئی کہ کوئی موٹر سائیکل کیوں نہیں یہاں کہ وہاں شہر میں تو خواتین کے پاس لباس پورا ہو نہ ہو مگر موٹر سائیکل ضرورہوتی تھی۔شاید کپڑوں کے عوض یہ خریدتی ہوں، ہمیں کیا۔ہم نے یہ بات عمیس سے کی تو ہماری بات پر وہ ہنسنے لگی اور کہا کہ یہ سائیکلیں جامعہ کی ہیں تا کہ طلبا جامعہ کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے انھیں استعمال کریں۔ ہم نے ابھی اس سے عراق کے بعد از صدام دور پر تبادلہ خیال کرنا تھا مگر وقت کی قلت تھی۔ سوچا یہ بات اگلی ملاقات پر اٹھا رکھتے ہیں، ابھی اپنے شعبے کا پتہ معلوم کرتے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ ہماے شعبے کا کچھ علم ہے تو اس نے کہا کہ بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے ہم نے ہم سے واپسی کا وقت معلوم کیا اور چلی اپنے شعبے کی طرف۔سامنے دوافراد ایک کمرے میں تھے جو کہ سائیکلوں کے ساتھ تھا۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اب ہم پریشان ہوئے کہ عمارات کے اس جنگل میں اپنے مطلوبہ مقام تک کیسے پہنچیں گے جبکہ ہمیں سائیکل بھی چلانی نہیں آتی اور یہاں ہمارے پاس گاڑی بھی نہیں۔

(Visited 38 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *