بائیپو لر افیکٹو ڈس آرڈرکیا ہے؟……تحریر :علینہ ارشد

بائیپو لر افیکٹو ڈس آرڈرکیا ہے؟

 

بائی پولر ڈس آرڈر کو پہلے مینک ڈپریشن کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جیسا کہ نام بتاتا ہے، اس بیماری میں موڈ کبھی حد سے زیادہ خوش ہو جاتا ہے اور اس میں بے انتہا تیزی آ جاتی ہے، اور کبھی اس میں بے انتہا اداسی ہو جاتی ہے۔ اس بیماری میں مختلف اوقات میں مختلف کیفیات پائی جاتی ہیں؛

1۔ اداسی (ڈپریشن) (Depression)

بہت زیادہ غم زدہ اور مایوس محسوس کرنا۔

۲۔ بےانتہا تیزی (مینیا)(Mania)

حد سے زیادہ خوشی اور جوش محسوس کرنا۔

۳۔ ملا جلا موڈ (مکسڈ)(Mixed)

مثلاً اداس موڈ کے ساتھ بہت زیادہ کام کرنے لگنا۔

عام طور سے اس بیماری کے مریضوں کو ڈپریشن اور مینیا دونوں ہوتے ہیں لیکن بعض مریضوں کو صرف مینیا بار بار ہوتا ہے۔
____________________________________
بائی پولر ڈس آرڈر کتنا عام ہے؟

بائی پولر ڈس آرڈر تقریباً ایک فیصد لوگوں کو زندگی کے کسی حصے میں ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری بلوغت کے بعد کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد یہ بیماری شاذونادر ہی شروع ہوتی ہے۔ مرد اور عورت دونوں میں اس کی شرح یکساں ہے۔
_______________________________
بائی پولر ڈس آرڈر کی وجوہات۔

ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم مگر:

  • تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خاندانی مرض ہے۔ اس کا وراثت سے زیادہ اور ماحول سے کم تعلق ہے۔
  • ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دماغ میں جو نظام ہمارے موڈ کو صحیح رکھتا ہے، بائی پولر ڈس آرڈر میں اس نظام میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس بیماری کی علامات دواؤں سے صحیح ہو جاتی ہیں۔
  • یہ بیماری کبھی کبھی مشکل حالات ، ذہنی دباؤ یا جسمانی بیماری کے بعد بھی شروع ہو جاتی ہے۔

_________________________________

اس بیماری میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟

#ڈپریشن (Depression)

ہر انسان کبھی نہ کبھی اداس محسوس کرتا ہے، لیکن جب یہ اداسی بڑھ کر ڈپریشن کی بیماری کی حدود میں داخل ہو جائے تو انسان کے لیے روز مر ہ کے کام کاج کرنا بھی مشکل ہونے لگتا ہے۔ جن لوگوں کو ڈپریشن ہو جائے ان میں عموماً اس طرح کی علامات نظر آنے لگتی ہیں:

  • ہر وقت اداس یا نا خوش رہنا۔
  • جن کاموں میں پہلے مزا آتا تھا ، دل لگتا تھا، اب ان میں دلچسپی نہ ہونا۔ کسی بات سے خوشی نہ ہونا۔
  • ہر وقت تھکا تھکا محسوس کرنا، کمزوری محسوس کرنا۔
  • چیزوں اور باتوں پہ توجہ نہ دے پانا۔
  • خود اعتمادی کھو دینا،اپنے آپ کو بے کار اور ناکارہ سمجھنا
  • ماضی کی ہر بری بات کا خود کو زمہ دار ٹھہرانا۔
  • خودکشی کے خیالات آنے لگنا یا خود کشی کی کوشش کرنا۔
  • نیند آنے میں مشکل ہونا یا جلدی آنکھ کھل جانا۔
  • بھوک اور وزن کم ہونا (کچھ لوگوں میں بھوک اور وزن میں زیادتی ہو جاتی ہے)

#مینیا (Mania)

کبھی کبھی ہم سب بہت زیادہ خوش محسوس کرتے ہیں اور طاقت، توانائی اور نئے نئے خیالات اور منصوبوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ عام طور سے یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن اگر یہ کیفیت ایک حد سے بڑھ جائے اور مستقل رہنے لگے تو یہ مینیا کی بیماری ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کو مینیا ہو جائے تو عام طور سے اس میں اس طرح کی علامات نظر آتی ہیں:

  • بغیر کسی وجہ کے حد سے زیادہ بے انتہا خوش اور پرجوش رہنا۔
  • بعض دفعہ زیادہ چڑچڑا ہو جانا ۔
  • اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی ہستی یا شخصیت سمجھنے لگنا۔
  • اپنے آپ کو بے انتہا طاقت اور توانائی سے بھرا ہوا محسوس کرنا۔ ۔
  • بہت زیادہ تیزی آ جانا، بہت تیز تیز حرکت کرنا۔
  • بہت تیزی سے، اونچی آواز میں، اور بہت زیادہ بولنا۔ اگر آپ کے موڈ میں بہت زیادہ تیزی آ گئ ہے تو جو آپ بولتے ہیں وہ دوسروں کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔
  • نیند بہت کم ہو جانا اور نہ سونے یا بہت کم سونے کے باوجود مزید سونے کی ضرورت یا تھکن محسوس نہ ہونا۔
  • بہت سارے کام شروع کرنا لیکن ان کو ادھورا چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ جانا۔
  • بہت بڑے بڑے ایسے منصوبے بنانا جن کے پورا ہونے کا کوئی امکان نہ ہو۔
  • پیسے معمول کے مقابلے میں بہت زیادہ خرچ کرنے لگنا۔

اگر کسی کو پہلی دفعہ مینیا ہوا ہو تو اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے یا اس کا رویہ نارمل نہیں ہے۔جب کہ دوستوں یا گھر والوں کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ مریض کا رویہ بدل گیا ہے اور کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ مریض کو ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ اس نے زندگی میں اس سے بہتر کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے اسے بہت برا لگتا ہے جب کوئی اسے بتاتا ہے کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ لیکن جب مریض اس کیفیت سے باہر آتا ہے تو اسے اپنے کیے ہوئے کاموں اور کہی ہوئی باتوں پر بہت شرمندگی ہوتی ہے۔

_____________________________________

سائیکوسس کی علامات Psychotic Symptoms

اگر مینیا یا ڈپریشن کا دورہ بہت شدید ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ مریض کو ایسے خیالات آنے لگیں یا تجربات ہونے لگیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ جو مریض مینیا میں ہو اسے ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی ہستی ہے مثلاً پیغمبر ہے اور اسے کسی عظیم مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے، یا اس کے اندر ایسی غیر معمولی صلاحیتیں ہیں جو کسی عام انسان میں نہیں ہوتیں۔ جو مریض ڈپریشن کا شکار ہو اسے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ برا اور خطا کار کوئی بھی نہیں ہے۔ دونوں کیفیتوں میں بعض دفعہ مریضوں کو اکیلے میں آوازیں آتی ہیں جب کہ ان کے آس پاس کوئی بھی نہیں ہوتا یا ایسے چیزیں نظر آتی ہیں جو کسی اور کو نہیں دکھائی دیتیں۔
________________________

دوروں_کے_درمیان:

پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ جن لوگوں کو با ئیپولر کا مرض ہےوہ ڈپریشن یا مینیا کے دورے کے ختم ہونے کے بعد مکمل صحیح حالت میں واپس آجاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کے ساتھ تو واقعی ایسا ہوتا لیکن اب ہمیں معلوم ہے کہ بائی پولر کے بہت سے مریض ڈ پریشن یا مینیا ختم ہونے کے بعد بھی مکمل صحیح نہیں ہوتے۔ انہیں ڈپریشن کی تھوڑی بہت علامات محسوس ہوتی رہتی ہیں اور سوچنے یا فیصلہ کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے ، حالانکہ دوسرے لوگوں کو وہ بالکل صحیح لگ رہے ہوتے ہیں۔
_______________________

موڈ میں تبدیلی کو روکنا۔ اپنی مدد آپ ۔

#خود_پہ_نظر_رکھنا:

اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب آپ کا موڈ ڈپریشن یا مینیا کی طرف جانا شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلے کیا تبدیلی آتی ہے تا کہ آپ فوراً مدد لے سکیں۔ایسا کرنے سے ممکن ہو سکتا ہے کہ طبیعت پوری طرح سے خراب ہونے سے بچا جا سکے اور ہسپتال میں داخل نہ ہونا پڑے ۔ ایک موڈ ڈائری رکھنے سےہو سکتا ہے آپ جان سکیں کہ آپ کی زندگی میں کون سی باتیں آپ کا موڈ برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہیں اور کون سی اس کو خراب کرتی ہیں۔

#معلومات:

اپنی بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور یہ معلوم کر کے رکھیں کہ جب طبیعت خراب ہونا شروع ہو تو آپ کیسے جلد از جلد مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

#اسٹریس ، #دباؤ یا #ذہنی_تناؤ۔

اگر ممکن ہو تو بہت زیادہ ذہنی دباؤ والے حالت سے بچیں ، ان سے ڈپریشن یا مینیا کا دورہ شروع ہو سکتا ہے ۔ تمام ذہنی دباؤ والے حالات سے دور رہنا عام طور سے انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا اس لیے دباؤ کا بہتر مقابلہ کرنے کی تدابیر سیکھیں۔
#دوست:

مینیا یا ڈپریشن کا دورہ دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ تعلقات میں بڑے مسئلے پیدا کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹھیک ہونے کے بعد آپ کو اپنے بعض تعلقات دوبارہ سے استوار کرنے پڑیں۔ اگر آپ کا ایک ہم راز یا بااعتماد شخص ہو جس سے آپ بات کر سکیں اور جس پہ آپ بھروسہ کر سکیں۔ جب آپ بہتر ہوں تو اپنے قریبی لوگوں کو اپنی بیماری کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہیں یہ سمجھنے سے فائدہ ہو گا کہ اس بیماری میں کس طرح کی علامات ہوتی ہیں اور جب آپ میں اس طرح کی علامات نظر آئیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔

#سرگرمیاں:

اپنی زندگی، کام ، اور گھر والوں ، رشتےدار وں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے میں توازن پیدا کریں۔ اگر آپ کام کا بوجھ بہت زیادہ لے لیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو مینیا کا دورہ شروع ہو جائے۔

خیال رہے کہ آپ کے پاس آرام اور سکون کا وقت ہو۔ اگر آپ بے روزگار ہیں، تو کچھ کورس وغیرہ کرنے کا سوچیں، یا کوئی فلاحی کام کریں جس کا دماغی یا نفسیاتی امراض سے کوئی تعلق نہ ہو۔

#ورزش:

ہفتے میں کم از کم تین بار تقریباً 20 منٹ تک مناسب حد تک ورزش کرنے سے موڈ پہ اچھا اثر پڑتا ہے۔

#تفریح:

خیال رہے کہ آپ ایسے کام روزانہ کریں جو آپ کو خوشی و تفریح فراہم کریں اور جن سے آپ کو اپنی زندگی کا کوئی مقصد نظر آئے۔

#دوا_کا_استعمال_جاری_رکھنا:

اگر آپ ڈاکٹر کے دیے گئے مشورے سے قبل ہی دوائی کا استعمال روک دیں گے تو اس سے بیماری کے واپس آنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

_______________________________

#گھر_والوں_اور_دوستوں_کے_لئے_مشورے۔

مینیا اور ڈپریشن کے دورے مریض کے ساتھ ساتھ گھر والوں اور دوست و عزیز کے لئے بھی کافی پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتے ہیں ۔

موڈ کے تبدیلی کے دورے کو کیسے سنبھا لا جائےا:

#ڈپریشن۔

جب کوئی شدید ڈپریشن میں ہو تو سمجھ نہیں آتا کہ اسے کیا کہا جائے۔مریض ہر بات کا منفی پہلو ہی دیکھتا ہے۔ یہ سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ انہیں کس بات سے بہتری محسوس ہوگی اور شاید انہیں خود بھی نہیں پتہ ہوتا۔ ان کے لیے لوگوں سے تعلق رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے ، مگر ساتھ ساتھ وہ آپ کی مدد کے بغیر بھی نہیں رہ پاتے۔ صبر اور تحمل سے کام لینے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا اپنی زندگی کو ختم کرنے کی بات کریں تو اس کو ذرا سا بھی نظر انداز نہ کریں اور فوراً کسی سائیکائٹرسٹ سے مدد طلب کریں۔

#مینیا۔

مینیا کے دورے کے شروع میں مریض بہت خوش ، پر جوش اور دوستانہ نظر آئے گا کہ “زندگی جینے کے لئے ہے خوب جیو”۔انہیں لوگوں میں توجہ کا مرکز بنے رہنا پسند ہو گا حالانکہ اس سے ان کے موڈ میں اور تیزی آئے گی۔ بہتر ہو گا کہ آپ انہیں ان حالات سے دور رکھیں اور انہیں کہتے رہیں کہ وہ ماہرین سے مدد لیں اور  فوراً کسی سائیکائٹرسٹ کی مدد طلب کر لیں۔

(Visited 126 times, 1 visits today)

One Response to بائیپو لر افیکٹو ڈس آرڈرکیا ہے؟……تحریر :علینہ ارشد

  1. Muhammad Younus says:

    Nice information. Stay blessed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *