اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے ۔۔۔۔ تحریر : محمد محسن منور یوسفی

۔ ’’ جو کام بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے۔یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا‘‘۔

قال اﷲ تبارک و تعالیٰ: اِنَّہُ مِنْ سُلَیْمٰن وَاِنَّہُ بَسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ’’ بے شک وہ سلمان کی طرف بے شک وہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔‘‘
بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اصطلاح میں تسمیہ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ سورۃ النمل کی آیت نمبر 30 کا کچھ حصہ ہے ۔ اس آیت مبارکہ میں حضرت سلمان علیہ السلام کے خط مبارک کا ذکر ہے۔ جسے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے۔
آئمہ امت میں سے زیادہ کا کہنا یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ النمل کی آیت ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں جہاں ہے دو سورتوں میں حد قائم کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے۔ شافعی آئمہ کے نزدیک یہ سورۃ الفاتحہ کا حصہ ہے جب کہ بعض علماء اسے سورت برات کے علاوہ ہر سورت کا حصہ تسلیم کرتے ہیں۔ زیادہ معروف قول یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن سورۃ الفاتحہ یا دیگر سورتوں کا جزو نہیں۔بلکہ ہر سورۃ سے قبل دو سورتوں کی حد کا کام کرتی ہے اور بطور تبرک لکھی جاتی ہے۔ ایک حدیث مبارک جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ بھی اسی قول کی تائید کرتی ہے ۔ فرماتے ہیں ۔
مسلمانوں کو دو سورتوں کے درمیان فرق و انفعال کا پتہ نہیں چلتا تھا چنانچہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے سے ایسی حد فاضل قائم ہوئی کہ لوگوں کو اس کے ذریعے ہر ایک سورت کے شروع ہونے یا ختم ہونے اور دوسری سورت کے شروع ہونے کی معرفت حاصل ہوگئی۔ ‘‘
۔(سنن ابی داؤد)۔
ہر کام کی ابتداء بسم اللہ سے:۔
ہر جائز اور شرعی کا کام آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنا چاہیے ۔ اگر انبیاء کرام کے واقعات کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ شریعت محمدی سے قبل بھی تمام انبیاء اپنے کاموں کی ابتدا بسم اللہ سے کرتے تھے۔ سورۃ ھود میں ہے :
وَقَالَ ارْکَبُوْ فِیْہَا بِسْمِ اﷲِ مَجْرِھَاط وَمُرْسٰھَا اِنَّ رَبِّی لَغَفُوْرَّ رَحِیْمٌ۔
’’ نوح علیہ نے فرمایا، تم لوگ اس میں سوار ہوجاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اورٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب بڑا مہربان بخشنے والا ہے۔‘‘
سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا کو خط لکھا تو اس کا آغاز اللہ کے نام سے کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے۔ کل امر ذی بال لا یبداء فیہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم فہو اجزم۔’’ جو کام بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے۔ یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا ‘‘۔
کھانے سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِن الشیطن یستحل الطام لایزکراسمُ۔ ’’تحقیق شیطان اس کھانے کو حلال جانتا ہے اور ساتھ کھانے میں شرکت کرتا ہے جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے۔‘‘
راقم کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ بسم اللہ سے شروع کیا گیا کھانے اگرچہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو وہ بھوک کے لیے کافی ہوتا ہے۔ جو لوگ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرتے ہیں وہ کم کھانے سے بھی سیر ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگرکوئی قبل از طعام بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے تب پڑھ لے۔ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’ جس وقت تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور بسم اللہبھول جائے تو وہ کہے ’’ بِسْمِ اﷲِ فِی اَوَّلِہٖ وَاٰخِرِہٖ‘‘
حکایت:۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک مسلمان اور کافر شخص کے شیاطین میں ملاقات ہوئی۔ کافر کا شیطان خوب موٹا تازہ اچھے کپڑے اور سر پر تیل لگائے ہوئے تھا۔ جب کہ مومن کا شیطان دبلا پتلا پراگندہ سر اور ننگا تھا۔ کافر کے شیطان نے پوچھا بھائی تیرا یہ حال کیونکر ہے۔ تو مومن کے شیطان نے جواب دیا میں ایک ایسے مردِ خدا کے ساتھ ہوں جو کھانا کھاتے ہوئے بسم اللہ پڑھ لیتا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے بھوکا رہنا پڑتا ہے اور جب وہ پانی یا کوئی مشروب پیتا ہے تو اس کا آغاز بھی بسم اللہ سے کرتا ہے اسی وجہ سے مجھے پیاسا رہنا پڑتا ہے۔ سر پر تیل لگاتے وقت وہ بسم اللہ کا ورد کرتا ہے اس لئے میں پراگندہ بال رہ جاتا ہوں۔ لباس زیب تن فرماتے وقت بھی وہ بسم اللہ کہتا ہے اس کی بدولت میں ننگا رہ جاتا ہوں۔ کافر کے شیطان نے کہا میں ایک ایسے شخص پر مسلط ہوں جو کسی کام میں بسم اللہ نہیں پڑھتا۔ اس لئے کھانے پینے اور دیگر امور میں شریک ہوجاتا ہوں۔ (مواہب الدنیہ)۔
دوا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا:۔
عوام الناس میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ دوا کھاتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی جائے کیونکہ بسم اللہ سے چیز میں برکت اور زیادتی ہوتی ہے کہیں بسم اللہ پڑھنے سے بیماری بڑھ نہ جائے۔ حالانکہ ایسی کوئی بھی بات نہیں بلکہ بسم اللہ پڑھنے سے دوا میں برکت ہوتی ہے اور اُس کا اثر جلد ہوتا ہے۔
جماع کے وقت بسم اللہ پڑھنا:۔
جب کوئی مسلمان اپنی منکوحہ سے مباشرت کرئے تو اسے چاہئے کہ لباس اتارنے سے قبل بسم اللہ پڑھ لے۔اس سے شیطان مداخلت نہیں کرے گا ۔ اور پیدا ہونے والی اولاد نیک اورصالح ہوگی۔ نزہۃ المجالس جلد اول میں ہے کہ سیّدِ دو عالم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ جب تم اپنی عورت سے جماع کرو تو بسم اللہ پڑھ لیاکرو۔ جب تک تم غسل جنابت نہیں کرو گے اس وقت تک فرشتے تمہارے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے اور اس جماع سے پیدا ہونے والی اولاد جب تک زندہ رہے گی اس کے ہر سانس پر تمہارے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی پھر اس کی اولاد کی اولاد ہوگی پھر ان کی اولاد ہوگی تو ہر سانس پر تمہارے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا۔ جب تک کہ اس کی اولاد کی اولاد اور ان کی اولاد ختم نہ ہوجائے۔
سواری کے وقت:۔
مواہب الدنیہ میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ سواری کرتے وقت بسم اللہ ، الحمد للہ پڑھنے والے کو ہر قدم پر ایک نیکی کا ثواب عنایت ہوگا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بسم اللہ شریف سے شیطان یوں بھاگتا ہے جسے آگ میں رنگ پگھل جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور موقع پر فرمایا اگر خدا کو میری امت پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو بسم اللہ شریف نازل نہ کرتا ۔ کیونکہ بسم اللہ کے حروف اُنیس ہیں اور اسی قدر دوزخ کے طبقات ہیں۔ اس لئے دوزخ سے رہائی پانے کے لئے بسم اللہ ایک لاجواب نسخہ ہے۔
اخیر پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اردو ترجمہ کا ایک لطیف نکتہ بیان کرنا چاہوں گا۔ عام طور پر اردو میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے ۔ ’’شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اس ترجمہ پر غور کریں تو ہم نے اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا بلکہ لفظ ’’شروع‘‘ سے شروع کیا ہے۔ جب کہ اردو میں ترجمہ کرتے وقت اگر یوں لکھا جائے ۔‘‘ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔‘‘
اس ترجمہ میں محاورہ کی رُو سے بھی اور بسم اللہ کے تقاضے کی رو سے بھی لفظ ’’ اللہ ‘‘ سے ہی کام کی ابتدا نظر آتی ہے۔

*****

(Visited 44 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *