تتلی ہوں ۔۔ میں تتلی ہوں ۔۔۔ تحریر : عارف اے نجمی

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا اور جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اسکو درست توازن دیا ہے،دنیا میں موجود تمام مخلوقات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی سبھی مخلوقات خدا کی ایسی تخلیق ہیں جن کا نہ کوئی بدل اور نہ کوئی ثانی ہے،اللہ نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے عین مطابق صفات عطا کی ہیں اوراس کو تکمیلیت کی معراج پر پہنچایا ہے ،رب کائنات نے جہاں لاتعداد خوبصورت مخلوقات پیدا فرمائی وہاں تتلی کو بھی پیدا فرمایا جو کہ خوبصورتی کا ایک حسین نمونہ ہے ، تتلی ایک خوبصورت کیڑا ہے جو کہ بہت نازک ہوتاہے اور اس کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے، تتلی کا وزن گلاب کی دو پنکھڑیوں سے بھی کم ہوتا ہے،اس کی خوبصورتی کی وجہ اس کے ’’ خوبصورت پر‘‘ ہیں جو خدا کی تخلیق کا حسین ترین نمونہ ہے ،اس کے پروں میں رنگ کا امتزاج اور تشاکل عقل انسان کو حیران کر دیتی ہے ،تتلی کے پورے وجود پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گاکہ تتلی کی ہر چیز مکمل اورخوبصورت ہے اسکے پورے وجودپر اللہ نے حسن رکھا ہے ، دیکھنے کو تتلی ایک پتنگاہے مگر حسن کے حساب سے اس کا کوئی ثانی نہیں ہے ، باغیچوں میں اڑتی پھرتی اور پھولوں کے گرد منڈلاتی ہوئی تتلیاں بہت خوبصورت لگتی ہیں بہارکے موسم میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے،بچپن سے لے کر آج تک ہر بچے کی زبان پر ایک ہی نظم سنتے آ رہے ہیں ’’تتلی ہوں ۔میں تتلی ہوں ۔۔پھولوں سے میں نکلی ہوں ‘‘آج بھی چھوٹی چھوٹی بچیاں تتلیوں جیسے خوبصورت لباس پہنے مختلف تقریبات میں اس نظم پر ٹیبلو پیش کر کے داد وصول کرتی نظر آتی ہیں،ننھے منے بچے جب اپنی توتلی زبان میں یہ نظم پڑھتے ہیں تو یقین جانئے ان پر بہت پیار آتا ہے،آج بھی یہ نظم بچوں کے نصاب میں شامل ہے،تتلی پر بہت سی نظمیں اور کہانیاں لکھی جا چکی ہیں اور شاعرحضرات نے بھی اپنی شاعری میں تتلی کی خوبصورتی کاذکر کیا ہے نظموں اور کہانیوں میں تتلیاں علامت تھیں،تتلی کی خوبصورتی کی وجہ سے بچے اور بڑے سب تتلی کو بہت پسند کرتے ہیں، پھولوں کے گرد منڈلاتی تتلیوں کو پکڑنا اور پھر ان کوکتاب میں بند اور کمرے میں قید کرلینا تقریباًہرایک کا دلچسپ مشغلہ رہا ہے ،بچے تتلی کو دیکھتے ہی پاگل سے ہوجاتے ہیں اور تتلی کو پکڑنے کے لئے دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور تتلی کے پکڑے جانے پر بہت خوش ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے تتلیوں کی ہزاروں نسلیں پیدا فرمائی ہیں جوکہ خوبصورتی کے حساب سے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ اب تتلیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور اب توکہیں کہیں تتلی دیکھنے کو ملتی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ تتلی اب ایک کہانی بنتی جا رہی ہے تو غلط نہ ہو گا، جہاں ایک طرف ہمارے اردگردماحول میں تتلیاں کم نظر آنے لگی ہیں وہیں دوسری طرف اس سے وابستہ بہت سی رومان پرور اور دلنشین رواتیں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں ، اب کھلی فضا میں اوریجنل تتلیاں کم جبکہ مارکیٹ میں مصنوعی تتلیوں کی تعداد زیادہ ہوتی جا رہی ہے جو ایک بہت ہی پریشانی والی بات ہے، تتلیوں کی تعداد کم اور ختم ہونے کی وجوہات پر روشنی ڈالی جائے توپتہ چلے گا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی،جگہ جگہ کھیتوں اور جنگلوں میں لگی ہوئی آگ ،بڑی تعداد میں درختوں اور پودوں کی کٹائی اور کھیت کھلیان اور باغچے ختم کر کے بڑی بڑی بلڈنگز کی تعمیرو ترقی اور انسانی آبادیوں میں دن بدن ہوتا ہوا اضافہ،صنعتی آلودگی ،ٹریفک کا شور دھواں اور فصلوں پر کیڑے مار دوائیوں کی سپرے جس کی وجہ سے رنگ بکھیرتی تتلیاں اور جگنو نہ پید ہوتے جا رہے ہیں اور ان رومان پرور حشرات کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور تتلیاں وقت کے ساتھ ساتھ خواب ہوتی جا رہی ہیں،بیس سال پہلے کے مطابق یہ مناظر اب کم ہوتے جا رہے اوراب ہماری خوش قسمتی ہوگی کہ ہماری آنے والی نسل جگنو اور تتلیوں کو اصل حالت میں دیکھ لے گی، اگر تتلیوں اور جگنو ؤں کوختم ہونے سے نہ بچایا گیااور ان کو ساز گار اور پر امن ماحول نہ دیا گیا تو ان کی بقا کو خطرہ ہے ، اگر ان کی بقاء کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے توہماری آنے والی نسل ان کی کہانیاں اور نظمیں صرف کتابوں میں ہی پڑھ پائے گی۔

(Visited 34 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *