افسانے

چاکلیٹ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔ کمالیہ

بچےّ گھر کی صفائی میں ماں کی مدد اس طرح کر رہے تھے جیسے خدائی فوجدار ،ماں نے رات ہی بچوں کو بتا دیا تھا صبح جو بچہ گھر کی صفائی کرنے میں اس کی مدد کرے گا وہ اسے

کاتک کی دلہن ۔۔۔ تحریر : محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ،

سفر نامہ ویت نام ۔۔۔ تحریر : عبدالرؤف خاں

اللہ بھلا کرے میری کمپنی ڈائریکٹر کا کہ جنہوں نے ایک دن مجھے کہا کہ یہ کیا تُم چوبیس گھنٹے مشینوں میں رہ رہ کر مشین ہی بنتے جارہے ہو؟ چلو اس ہفتے کے اختتامی ایّام میں کہیں  سیر کے

سبق ۔۔۔ تحریر : عمارہ کنول

میں تم سے محبت کرتا ہوں تم نا ہوتی تو علم ناہو پاتا کہ زندہ بھی ہوں تم مجھ سے ملنے آو تمہیں بہت سا پیار دینا ہے زندگی کا مطلب سمجھانا ہے۔ جاوید کی محبت میں ڈوبی آواز بوجھل

اک چھوٹی سی  کہانی ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

۔18۔ویں سن چڑھتی وہ الہڑ دوشیزہ جب بات کرتی تو گویا چڑھتی جوانی بولتی اور وہ اس چڑھتی جوانی کے سمندر کو بد مستی نگاہوں سے تکتا اسے وہ کسی شاعر کا خواب لگتی اس کا چڑھتا شباب اسے دیوانہ

کردار ۔۔۔ تحریر : نبیلہ خان

تمہاری کہی ہر بات میرے دل پہ ایمان کی صورت اترتی ہے۔ہر نقط ہر لفظ پر یقینِ کامل ہے مجھے۔میرا دل تمہاری محبت کے کلمے پہ دل وجان سے یقین لایا ۔۔۔ پاکیزہ نے جمال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے

خواب، خواہش، زندگی !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

۔’’ شہروز صاحب!! آپ نے کبھی کنول کا پھول دیکھا ہے۔؟‘‘ میں ، جو اس حسینہ کے جلوں اور اداؤں میں کھویا ہوا، حال سے بے حال ہوا جا رہا تھا، اس کے لرزتے ، کانپتے، ٹوٹے کانچ جیسے لہجے

نصیب !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

کہتے ہیں کہ انسان کے نصیب میں جولکھا ہو، اسے ہر حال میں مل کر ہی رہتا ہے۔ اور اگر کوئی چیز نصیب میں نہ ہو تو لاکھ کوشش کے باوجود اس کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ ۔ ’’ زینب

غیرت مند…..تحریر:ثمینہ طاہر بٹ

زید نے کمال کر دیا۔ اپنی غیرت کا وہ ثبوت دیا ہے کہ دنیا عش عش کر اٹھی ہے۔ واہ بھئی، مرد ہو تو زید جیسا اور غیرت ہو تو زید کی غیرت جیسی۔ کیا بات ہے۔‘‘ عاطر نے کمرے

عشق آتش …..ثمینہ طاہر بٹ

’’ انزلہ۔!! پھر کیا سوچا تم نے۔؟ ابھی بھی تمہارے دل میں اسکی کوئی جگہ ہے، یا پھر اس کی اس ’’مہربانی ‘‘ کے بعد تمہاری عقل کچھ ٹھکانے آئی ہے۔؟ ‘‘ وہ اپنے خیالوں میں گم نڈھال سی لیٹی