افسانے

عزت کی چھوٹی چادر ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

ماں یہ عزت کی چادر چھوٹی کیوں ہوتی ہے مریم نے ماں سے پوچھا ،ماں نے بیزار ہو کر کہا کہ مجھے نہیں پتا بڑوں سے ایسے ہی سنا ہے ۔ جب سے اس نے ماسی رحمت کو یہ کہتے

گم شدہ جنت ۔۔۔ تحریر : عالیہ ذوالقرنین ۔ لاہور

دعا کافی دیر سے ماتھے پر سلوٹیں ڈالے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی ۔ پریشانی اور تفکر چہرے سے عیاں تھا ۔ کھڑی رات کے دو بج کر دس منٹ بجا رہی تھی ۔ اضطرابی کیفیت میں

مکافات عمل ۔۔۔ تحریر : ایم پی خان

ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے دلاور کے قیافہ سے گہری سنجیدگی اورمتانت ظاہرہو رہی تھی ۔ بڑا گول چہرہ، نیم سفید باریک ڈاڑھی،بڑا تندرست جسم،موٹی موٹی کلائیاں، رانوں پر سفید چادر پڑی ہوئی تھی، جس میں دونوں ٹانگیں انگلیوں تک

محبت جرم ہے ۔۔۔ تحریر : اختر مرزا

کیا محبت جرم ہے؟ کیا محبت بری ہے؟ نہیں اگر بری نہیں ہے تو اچھی بھی نہیں۔ اگر اچھی ہے تو میرے لیے تو نہیں۔ اگر میں مان بھی لوں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اظہار کیسے

روداد زیست (غیر مطبوعہ ناول) ۔۔۔ تحریر : صفیہ انور صفی

سفید پوشاک میں لپٹارفیع ماسلف کو بھلائے ماہ طلعت لگ رہا تھا۔افتاب سحر نے بہن کو روتے ہوئے کہا۔۔۔ ”فائزہ بہن۔۔۔۔۔ربااللرباب کی مرضی کے اگے ہم کوئی مبارزت نہیں کر سکتے۔۔۔جس ذات نے پیدا کیا۔۔۔۔۔ اسی کے پاس ہمیں لوٹ

پھوار ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

امّی آپ نے مجھے کبھی کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔لیکن اب میں ایگزیم سے فارغ ہوئی ہو ں۔۔۔۔۔۔بس مجھے خالہ لوگوں کے گھر جا نا ہے۔ رابیل نے بی ایس سی کے امتحان سے فارغ ہوتے ہی گھر

پہلی رات ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

سر! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔خلیل الرحمن نے اپنے بعد اپنے بھائی کو فوج میں بھرتی کروانے کے بعد ہی میجر صاحب کے پاس حاضری بھرتے ہوئے ۔ایک زور دار سلیوٹ کیا اور پھر اپنا مقصد

گورکن (مائیکرو افسانہ) ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

آج میرے شہر کے سب سے بڑے شہر خموشاں (قبرستان) کا گورکن عبدالرحمان مانا ہے۔جو اٹھارہ سالہ بھر پور عمر شباب میں اپنے کام میں ہمیشہ مصروف و مست دکھائی دیتا ہے۔یہ پیشہ اس نے اپنی مرضی سے نہیں چنا

نگران سے ملاقات ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ہم کچھ دیر تو وہیں کھڑے رہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اگر غلط مقام پر جا پہنچے تو واپسی کی ہمت بھی نہیں ہونی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور چل پڑے۔ کچھ ہی آگے چلے تھے

ہنوذ جامعہ دور است ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ان خاتون سے ہم نے پوچھا کہ ہم اپنے نگران سے ملنے جامعہ کے کس دفتر میں جائیں تو انھوں نے کہا کہ پائو کیمپس جانا ہو گا۔ پوچھا کہ یہ کہاں ہے تو کہا گیا کہ ٹیکسی والوں کو