افسانے

روداد زیست (غیر مطبوعہ ناول) ۔۔۔ تحریر : صفیہ انور صفی

سفید پوشاک میں لپٹارفیع ماسلف کو بھلائے ماہ طلعت لگ رہا تھا۔افتاب سحر نے بہن کو روتے ہوئے کہا۔۔۔ ”فائزہ بہن۔۔۔۔۔ربااللرباب کی مرضی کے اگے ہم کوئی مبارزت نہیں کر سکتے۔۔۔جس ذات نے پیدا کیا۔۔۔۔۔ اسی کے پاس ہمیں لوٹ

پھوار ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

امّی آپ نے مجھے کبھی کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔لیکن اب میں ایگزیم سے فارغ ہوئی ہو ں۔۔۔۔۔۔بس مجھے خالہ لوگوں کے گھر جا نا ہے۔ رابیل نے بی ایس سی کے امتحان سے فارغ ہوتے ہی گھر

پہلی رات ۔۔۔ تحریر : شگفتہ یاسمین

سر! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔خلیل الرحمن نے اپنے بعد اپنے بھائی کو فوج میں بھرتی کروانے کے بعد ہی میجر صاحب کے پاس حاضری بھرتے ہوئے ۔ایک زور دار سلیوٹ کیا اور پھر اپنا مقصد

گورکن (مائیکرو افسانہ) ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

آج میرے شہر کے سب سے بڑے شہر خموشاں (قبرستان) کا گورکن عبدالرحمان مانا ہے۔جو اٹھارہ سالہ بھر پور عمر شباب میں اپنے کام میں ہمیشہ مصروف و مست دکھائی دیتا ہے۔یہ پیشہ اس نے اپنی مرضی سے نہیں چنا

نگران سے ملاقات ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ہم کچھ دیر تو وہیں کھڑے رہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔اگر غلط مقام پر جا پہنچے تو واپسی کی ہمت بھی نہیں ہونی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اور چل پڑے۔ کچھ ہی آگے چلے تھے

ہنوذ جامعہ دور است ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ان خاتون سے ہم نے پوچھا کہ ہم اپنے نگران سے ملنے جامعہ کے کس دفتر میں جائیں تو انھوں نے کہا کہ پائو کیمپس جانا ہو گا۔ پوچھا کہ یہ کہاں ہے تو کہا گیا کہ ٹیکسی والوں کو

ملائشیا والوں کے غسل خانے کے دروازے بھی اہم ہوتے ہیں ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ڈاکٹریٹ میں داخلے کے لئے ہم نے ملائشیا کی ایک جامعہ میں در خواست کی جو کہ قبولیت سے سرفراز ہوئی۔ اس میں ہمارا کمال نہیں، انھیں ہی ہم سے لائق شاید کوئی نہ ملا تھا۔ ورنہ ہم نے تو

ہم نے ‘لنکاوی’ ڈھا دیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ابھی ہم سعودی عرب میں ہی تھے کہ اپنے ایک رفیق کار سے ہم نے ملایشیا میں داخلے کا ذکر کیا اور بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کا کچھ حصہ ہمیں ملائشیا میں گزارنا ہے۔ ہمارا وہ ساتھی اردن سے

کانگر کے ابتدائی شب و روز ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ٹیکسی والے کو کرایہ اوردل ہی دل میں صلواتیں دینے کے بعد ہم نے ہوٹل استقبالیہ کا رخ کیا۔ استقبالیہ پر ایک خاتون تھی۔ بکنگ تو پہلے ہی ہو چکی تھی تا ہم انھوں نےہمارا پاسپورٹ لیا اور کچھ اندراج

کوالالمپور سے کانگر تک ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

غسل خانے کے دروازے سے زور آزمائی کے بعد ہم سو گئے۔ تھکے ہوئے تو یقینًا تھے سو چند ہی لمحوں میں نیند کو پیارے ہو گئے۔ صبح تاخیرسے بیدار ہوئے۔ اچھا یہ ہوا کہ کھانا قریب سے ہی مل

ڈھونڈنا ہمارا جامعہ کو ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے رو ز یعنی کہ پیر کو ہمیں جامعہ جانا تھا کہ اپنا وہاں بطور طالب علم اندراج کروا سکیں۔ اتوار کی رات ہی ہم نے کپڑےاستری کے لئے اور گوگل میں ہم نے کانگر کا نقشہ کھولا اور لگے

خدا حافظ ملائشیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

لنکاوی سے واپس آنے کے بعد ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ یہ دو دن ہمیں وہیں گزارنے تھے۔ ایک تو ہمارے پاس رقم کم تھی اور دوسرے صحت بھی زیادہ سفر کی متحمل نہیں تھی۔ہم نے وہ دن کانگر

بالآخر ہم جامعہ پہنچ گئے ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے روز ہم اٹھے اورپاؤ کیمپس جانے کی تیاری شروع کی۔ گلا تو خراب تھا۔سوچا کہ اگر نگران نے گانا سننے کی فرمائش کر دی تو اگلی ملاقات پر ٹال دیں گے۔ باقی تیاری ہم نے کر لی۔ کپڑے یعنی

چاکلیٹ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔ کمالیہ

بچےّ گھر کی صفائی میں ماں کی مدد اس طرح کر رہے تھے جیسے خدائی فوجدار ،ماں نے رات ہی بچوں کو بتا دیا تھا صبح جو بچہ گھر کی صفائی کرنے میں اس کی مدد کرے گا وہ اسے

کاتک کی دلہن ۔۔۔ تحریر : محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ،

سفر نامہ ویت نام ۔۔۔ تحریر : عبدالرؤف خاں

اللہ بھلا کرے میری کمپنی ڈائریکٹر کا کہ جنہوں نے ایک دن مجھے کہا کہ یہ کیا تُم چوبیس گھنٹے مشینوں میں رہ رہ کر مشین ہی بنتے جارہے ہو؟ چلو اس ہفتے کے اختتامی ایّام میں کہیں  سیر کے

سبق ۔۔۔ تحریر : عمارہ کنول

میں تم سے محبت کرتا ہوں تم نا ہوتی تو علم ناہو پاتا کہ زندہ بھی ہوں تم مجھ سے ملنے آو تمہیں بہت سا پیار دینا ہے زندگی کا مطلب سمجھانا ہے۔ جاوید کی محبت میں ڈوبی آواز بوجھل

اک چھوٹی سی  کہانی ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

۔18۔ویں سن چڑھتی وہ الہڑ دوشیزہ جب بات کرتی تو گویا چڑھتی جوانی بولتی اور وہ اس چڑھتی جوانی کے سمندر کو بد مستی نگاہوں سے تکتا اسے وہ کسی شاعر کا خواب لگتی اس کا چڑھتا شباب اسے دیوانہ

کردار ۔۔۔ تحریر : نبیلہ خان

تمہاری کہی ہر بات میرے دل پہ ایمان کی صورت اترتی ہے۔ہر نقط ہر لفظ پر یقینِ کامل ہے مجھے۔میرا دل تمہاری محبت کے کلمے پہ دل وجان سے یقین لایا ۔۔۔ پاکیزہ نے جمال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے

خواب، خواہش، زندگی !! ۔۔۔ تحریر : ثمینہ طاہر بٹ

۔’’ شہروز صاحب!! آپ نے کبھی کنول کا پھول دیکھا ہے۔؟‘‘ میں ، جو اس حسینہ کے جلوں اور اداؤں میں کھویا ہوا، حال سے بے حال ہوا جا رہا تھا، اس کے لرزتے ، کانپتے، ٹوٹے کانچ جیسے لہجے