افسانے

ہنوذ جامعہ دور است ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ان خاتون سے ہم نے پوچھا کہ ہم اپنے نگران سے ملنے جامعہ کے کس دفتر میں جائیں تو انھوں نے کہا کہ پائو کیمپس جانا ہو گا۔ پوچھا کہ یہ کہاں ہے تو کہا گیا کہ ٹیکسی والوں کو

ملائشیا والوں کے غسل خانے کے دروازے بھی اہم ہوتے ہیں ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ڈاکٹریٹ میں داخلے کے لئے ہم نے ملائشیا کی ایک جامعہ میں در خواست کی جو کہ قبولیت سے سرفراز ہوئی۔ اس میں ہمارا کمال نہیں، انھیں ہی ہم سے لائق شاید کوئی نہ ملا تھا۔ ورنہ ہم نے تو

ہم نے ‘لنکاوی’ ڈھا دیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ابھی ہم سعودی عرب میں ہی تھے کہ اپنے ایک رفیق کار سے ہم نے ملایشیا میں داخلے کا ذکر کیا اور بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کا کچھ حصہ ہمیں ملائشیا میں گزارنا ہے۔ ہمارا وہ ساتھی اردن سے

کانگر کے ابتدائی شب و روز ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ٹیکسی والے کو کرایہ اوردل ہی دل میں صلواتیں دینے کے بعد ہم نے ہوٹل استقبالیہ کا رخ کیا۔ استقبالیہ پر ایک خاتون تھی۔ بکنگ تو پہلے ہی ہو چکی تھی تا ہم انھوں نےہمارا پاسپورٹ لیا اور کچھ اندراج

کوالالمپور سے کانگر تک ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

غسل خانے کے دروازے سے زور آزمائی کے بعد ہم سو گئے۔ تھکے ہوئے تو یقینًا تھے سو چند ہی لمحوں میں نیند کو پیارے ہو گئے۔ صبح تاخیرسے بیدار ہوئے۔ اچھا یہ ہوا کہ کھانا قریب سے ہی مل

ڈھونڈنا ہمارا جامعہ کو ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے رو ز یعنی کہ پیر کو ہمیں جامعہ جانا تھا کہ اپنا وہاں بطور طالب علم اندراج کروا سکیں۔ اتوار کی رات ہی ہم نے کپڑےاستری کے لئے اور گوگل میں ہم نے کانگر کا نقشہ کھولا اور لگے

خدا حافظ ملائشیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

لنکاوی سے واپس آنے کے بعد ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ یہ دو دن ہمیں وہیں گزارنے تھے۔ ایک تو ہمارے پاس رقم کم تھی اور دوسرے صحت بھی زیادہ سفر کی متحمل نہیں تھی۔ہم نے وہ دن کانگر

بالآخر ہم جامعہ پہنچ گئے ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے روز ہم اٹھے اورپاؤ کیمپس جانے کی تیاری شروع کی۔ گلا تو خراب تھا۔سوچا کہ اگر نگران نے گانا سننے کی فرمائش کر دی تو اگلی ملاقات پر ٹال دیں گے۔ باقی تیاری ہم نے کر لی۔ کپڑے یعنی

چاکلیٹ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔ کمالیہ

بچےّ گھر کی صفائی میں ماں کی مدد اس طرح کر رہے تھے جیسے خدائی فوجدار ،ماں نے رات ہی بچوں کو بتا دیا تھا صبح جو بچہ گھر کی صفائی کرنے میں اس کی مدد کرے گا وہ اسے

کاتک کی دلہن ۔۔۔ تحریر : محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ،