افسانے

کوالالمپور سے کانگر تک ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

غسل خانے کے دروازے سے زور آزمائی کے بعد ہم سو گئے۔ تھکے ہوئے تو یقینًا تھے سو چند ہی لمحوں میں نیند کو پیارے ہو گئے۔ صبح تاخیرسے بیدار ہوئے۔ اچھا یہ ہوا کہ کھانا قریب سے ہی مل

ڈھونڈنا ہمارا جامعہ کو ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے رو ز یعنی کہ پیر کو ہمیں جامعہ جانا تھا کہ اپنا وہاں بطور طالب علم اندراج کروا سکیں۔ اتوار کی رات ہی ہم نے کپڑےاستری کے لئے اور گوگل میں ہم نے کانگر کا نقشہ کھولا اور لگے

خدا حافظ ملائشیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

لنکاوی سے واپس آنے کے بعد ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ یہ دو دن ہمیں وہیں گزارنے تھے۔ ایک تو ہمارے پاس رقم کم تھی اور دوسرے صحت بھی زیادہ سفر کی متحمل نہیں تھی۔ہم نے وہ دن کانگر

بالآخر ہم جامعہ پہنچ گئے ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

اگلے روز ہم اٹھے اورپاؤ کیمپس جانے کی تیاری شروع کی۔ گلا تو خراب تھا۔سوچا کہ اگر نگران نے گانا سننے کی فرمائش کر دی تو اگلی ملاقات پر ٹال دیں گے۔ باقی تیاری ہم نے کر لی۔ کپڑے یعنی

چاکلیٹ ۔۔۔ تحریر : محمد نواز ۔ کمالیہ

بچےّ گھر کی صفائی میں ماں کی مدد اس طرح کر رہے تھے جیسے خدائی فوجدار ،ماں نے رات ہی بچوں کو بتا دیا تھا صبح جو بچہ گھر کی صفائی کرنے میں اس کی مدد کرے گا وہ اسے

کاتک کی دلہن ۔۔۔ تحریر : محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ،

سفر نامہ ویت نام ۔۔۔ تحریر : عبدالرؤف خاں

اللہ بھلا کرے میری کمپنی ڈائریکٹر کا کہ جنہوں نے ایک دن مجھے کہا کہ یہ کیا تُم چوبیس گھنٹے مشینوں میں رہ رہ کر مشین ہی بنتے جارہے ہو؟ چلو اس ہفتے کے اختتامی ایّام میں کہیں  سیر کے

سبق ۔۔۔ تحریر : عمارہ کنول

میں تم سے محبت کرتا ہوں تم نا ہوتی تو علم ناہو پاتا کہ زندہ بھی ہوں تم مجھ سے ملنے آو تمہیں بہت سا پیار دینا ہے زندگی کا مطلب سمجھانا ہے۔ جاوید کی محبت میں ڈوبی آواز بوجھل

اک چھوٹی سی  کہانی ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

۔18۔ویں سن چڑھتی وہ الہڑ دوشیزہ جب بات کرتی تو گویا چڑھتی جوانی بولتی اور وہ اس چڑھتی جوانی کے سمندر کو بد مستی نگاہوں سے تکتا اسے وہ کسی شاعر کا خواب لگتی اس کا چڑھتا شباب اسے دیوانہ

کردار ۔۔۔ تحریر : نبیلہ خان

تمہاری کہی ہر بات میرے دل پہ ایمان کی صورت اترتی ہے۔ہر نقط ہر لفظ پر یقینِ کامل ہے مجھے۔میرا دل تمہاری محبت کے کلمے پہ دل وجان سے یقین لایا ۔۔۔ پاکیزہ نے جمال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے