تبصرہ کتب

۔’’پل پل بکھرا جیون ‘‘ کی تقریب رونمائی ۔۔۔ رپورٹ : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

سید فہیم الدین ہاشمی کی شخصیت دوحہ قطر کے ادبی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔وہ جدید اسلوب،دبنگ لہجہ،سنجیدہ و مزاحیہ شاعری کے قادرالکلام شاعراور کہنہ مشق ادیب کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ان کی کتب

کتابِ محسن بزبانِ محسن ۔۔۔ تعارف و تبصرہ : مدثر علی محسنی

کتابِ محسن بزبانِ محسن عرف محسن اعظم فی مناقب غوث اعظم ازقلم : محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی  مدظلہ تعارف مصنف : پیر طریقت محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی دامت برکاتہم العالیہ ١٦نومبر ١٩٦٦ کوبہاولپور میں پیدا ہوئے

وحید رضا عاجز کا شاہکار’’ سوچ دا سُورج‘‘۔۔۔ تبصرہ : مجید احمد جائی

سوچ دا سُورج ،وحید رضا عاجز کا شاہکارپنجابی شاعری مجموعہ پر مشتمل خوبصورت کتاب ہے ۔سرورق بہت پیار،دل کش ،خوبصورت اور دیدہ زیب ہے ۔بیک پر وحید رضا عاجز آنکھوں پر کالا چشمہ سجائے ،بہت سُندر لگ رہے ہیں ،ساتھ

کچھ شگوفہ سحر کے بارے میں ۔۔۔ تحریر : ام حذیفہ

۔”شگوفہ سحر ”ابن ریاض صاحب کے مزاحیہ کالموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے 75کالم شامل ہیں۔اپنی کتاب کے پیش لفظ میں ابن ریاض لکھتے ہیں کہ وہ اپنی مزاحیہ تحریروں کے ذریعے دکھی انسانیت کے لیے مسکراہٹ کا

۔’’دبیز پانیوں کے نام ایک خط‘‘۔۔۔ تحریر : :مجید احمد جائی

دبیز پانیوں کے نام ایک خط گزشتہ کئی دنوں سے میرے ساتھ رہی ہے ۔یہ خوبصورت کتاب افسانوں پر مشتمل ہے اور اس کے لکھاری الطاف فیروز صاحب ہیں ۔گو کے الطاف فیروز صاحب سے پہلے میرا رابطہ نہیں تھا

شگوفہ سحر ۔۔۔ تبصرہ : عمارہ کنول

کہتے ہیں لاہور پنجاب کا دل ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا اس کی پیدائش بھی زیر شبہ ہے ۔گو کہ ہماری پیدائش کہیں اور کی پرورش لاہور کی ہے اور آئندہ مرقد بھی لاہور ہی متوقع ہے مگر

وُجُود کیا حَباب کا ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار: مجید احمد جائی’’

’’وجو د کیا حباب کا ‘‘گزشتہ چند روز میرے زیر مطالعہ رہی ہے ۔یہ شاعری مجموعہ ہے ،جس کے مصنف مُشبر حسین سید صاحب ہیں ۔ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے کرتے ہیں اور آقا دو جہاں ﷺ پر دورو

۔’’گاڑی جا چکی ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

’گاڑی جا چکی ‘‘ بظاہر سادہ اور آسان جملہ ہے لیکن اپنے اندر تجسس لیے ہوا ہے ۔اس میں جو درد ،کرب ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،تڑپ ،زخم ہیں وہ اس کو پڑھے بغیر آشکار نہیں ہوتے ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘صرف

لوٹ آتے تو اچھا تھا‘‘ ۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی’’

لوٹ آتے تو اچھا تھا ،یہ فریاد ی جملہ نہیں کتاب کا نام ہے ۔یہ کتاب شاعری مجموعہ ہے جس کی مصنفہ ’’ھما خان ‘‘ہیں۔کتاب کا سرورق بہت دیدہ زیب ہے ۔بیک فلاپ پہ مایہ ناز شاعر ارشد ملک کے

کمرہ نمبر 109‘‘۔۔۔تبصرہ نگار : مجید احمد جائی ’’

کمرہ نمبر109اپنے اندر بہت سے طوفان لئے ہوئے ہے ۔یونہی کمرہ نمبر109کا لفظ پڑھتے ہیں تو فوراذہن پوری دُنیا کا نقشہ اپنے اندر لے آتا ہے اور پھر متلاشی نظروں کو ،کسی ہسپتال ،جیل کی بیرک اور یا پھر ہوسٹل