تبصرہ کتب

ڈرامہ ۔ وہ میرا دل تھا ۔۔۔ تبصرہ : اسماء طارق ۔ گجرات

ڈرامہ وہ میرا دل تھا ایک لو سٹوری ہے بےشک اس میں باقی کہانیوں کے طرح سسپنس اور تھرل نہیں ہے مگر اس کہانی میں ایک اہم معاشرتی پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ کیسے بچے غلط

۔’’کھٹے میٹھے کالم‘‘ اور ’’حرف در حرف‘‘ کی تقریب رونمائی ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

پاکستان ایسوسی ایشن، قطر میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے لئے ایک ایسی کثیر جہتی تنظیم ہے جو پاکستانی کمیونٹی کی اخلاقی ،ادبی، ثقافتی اور فکری و نظریاتی فلاح و بہبود کے لئے شب و روز مصروفِ عمل ہے۔ماہانہ شعری

تقریب رونمائی کتب و ادبی نشست ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

پاکستان ایسوسی ایشن قطر واحد تنظیم ہے جس نے اپنے منشور میں چند بڑے مقاصد دوحہ کی تمام بڑی تنظیموں سے ہٹ کر نہ صرف شامل کئے بلکہ ا ن مقاصد کے حصول کی عمل پیرائی کو بھی باقاعدگی سے

بے دردی ۔۔۔ تبصرہ : اسماء طارق ۔ گجرات

ڈرامہ کسی بھی ملک یاں علاقے کے رسم و رواج کی جہاں عکاسی کرتا ہے وہی اس علاقے کی سماجی برائیوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل بھی دیتا ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان

۔’’پل پل بکھرا جیون ‘‘ کی تقریب رونمائی ۔۔۔ رپورٹ : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

سید فہیم الدین ہاشمی کی شخصیت دوحہ قطر کے ادبی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔وہ جدید اسلوب،دبنگ لہجہ،سنجیدہ و مزاحیہ شاعری کے قادرالکلام شاعراور کہنہ مشق ادیب کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ان کی کتب

کتابِ محسن بزبانِ محسن ۔۔۔ تعارف و تبصرہ : مدثر علی محسنی

کتابِ محسن بزبانِ محسن عرف محسن اعظم فی مناقب غوث اعظم ازقلم : محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی  مدظلہ تعارف مصنف : پیر طریقت محی السنۃ الشیخ محمد محسن منور یوسفی دامت برکاتہم العالیہ ١٦نومبر ١٩٦٦ کوبہاولپور میں پیدا ہوئے

وحید رضا عاجز کا شاہکار’’ سوچ دا سُورج‘‘۔۔۔ تبصرہ : مجید احمد جائی

سوچ دا سُورج ،وحید رضا عاجز کا شاہکارپنجابی شاعری مجموعہ پر مشتمل خوبصورت کتاب ہے ۔سرورق بہت پیار،دل کش ،خوبصورت اور دیدہ زیب ہے ۔بیک پر وحید رضا عاجز آنکھوں پر کالا چشمہ سجائے ،بہت سُندر لگ رہے ہیں ،ساتھ

کچھ شگوفہ سحر کے بارے میں ۔۔۔ تحریر : ام حذیفہ

۔”شگوفہ سحر ”ابن ریاض صاحب کے مزاحیہ کالموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے 75کالم شامل ہیں۔اپنی کتاب کے پیش لفظ میں ابن ریاض لکھتے ہیں کہ وہ اپنی مزاحیہ تحریروں کے ذریعے دکھی انسانیت کے لیے مسکراہٹ کا

۔’’دبیز پانیوں کے نام ایک خط‘‘۔۔۔ تحریر : :مجید احمد جائی

دبیز پانیوں کے نام ایک خط گزشتہ کئی دنوں سے میرے ساتھ رہی ہے ۔یہ خوبصورت کتاب افسانوں پر مشتمل ہے اور اس کے لکھاری الطاف فیروز صاحب ہیں ۔گو کے الطاف فیروز صاحب سے پہلے میرا رابطہ نہیں تھا

شگوفہ سحر ۔۔۔ تبصرہ : عمارہ کنول

کہتے ہیں لاہور پنجاب کا دل ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا اس کی پیدائش بھی زیر شبہ ہے ۔گو کہ ہماری پیدائش کہیں اور کی پرورش لاہور کی ہے اور آئندہ مرقد بھی لاہور ہی متوقع ہے مگر

وُجُود کیا حَباب کا ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار: مجید احمد جائی’’

’’وجو د کیا حباب کا ‘‘گزشتہ چند روز میرے زیر مطالعہ رہی ہے ۔یہ شاعری مجموعہ ہے ،جس کے مصنف مُشبر حسین سید صاحب ہیں ۔ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے کرتے ہیں اور آقا دو جہاں ﷺ پر دورو

۔’’گاڑی جا چکی ‘‘۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی

’گاڑی جا چکی ‘‘ بظاہر سادہ اور آسان جملہ ہے لیکن اپنے اندر تجسس لیے ہوا ہے ۔اس میں جو درد ،کرب ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،تڑپ ،زخم ہیں وہ اس کو پڑھے بغیر آشکار نہیں ہوتے ۔’’گاڑی جا چکی ‘‘صرف

لوٹ آتے تو اچھا تھا‘‘ ۔۔۔ تبصرہ نگار : مجید احمد جائی’’

لوٹ آتے تو اچھا تھا ،یہ فریاد ی جملہ نہیں کتاب کا نام ہے ۔یہ کتاب شاعری مجموعہ ہے جس کی مصنفہ ’’ھما خان ‘‘ہیں۔کتاب کا سرورق بہت دیدہ زیب ہے ۔بیک فلاپ پہ مایہ ناز شاعر ارشد ملک کے

کمرہ نمبر 109‘‘۔۔۔تبصرہ نگار : مجید احمد جائی ’’

کمرہ نمبر109اپنے اندر بہت سے طوفان لئے ہوئے ہے ۔یونہی کمرہ نمبر109کا لفظ پڑھتے ہیں تو فوراذہن پوری دُنیا کا نقشہ اپنے اندر لے آتا ہے اور پھر متلاشی نظروں کو ،کسی ہسپتال ،جیل کی بیرک اور یا پھر ہوسٹل

شگوفہء سحر ۔۔۔ تبصرہ : سباس گل

کتاب: شگوفہء سحر مصنف: ابنِ ریاض تبصرہ: سباس گل اہتمام : آر ا یس مصطفیٰ ابنِ ریاض کی یہ پہلی کتاب ان کے کالموں اور انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز بھی ہمیں حاصل

کتاب : کربِ نارسائی (شعری مجموعہ) شاعرہ : شہناز شازی

تبصرہ : رفعت خان (خانپور)۔۔ اک اور کلی چٹکی ،اک اور کھِلا غنچہ واہ ! کربِ نارسائی ، شہناز شازی کی بہترین تخلیقی کاوش پر نگاہ پڑتے ہی لبوں سے ادا ہوئی پہلی خوبصورت سطر اے کربِ نارسائی کی شدت

ملتان کی دھرتی کے مقدر کا ستارہ ۔۔۔۔ تحریر : سید مبارک علی شمسی

شفق کہوں ،شفیق کہوں کہ تجھے کیا کہوں اے مجید القاب کے پیچ و خم میں حیران ہے زبان میری مدنیۃالاولیاء ملتان زمانہ قدیم سے ہی علم و ادبّ اور روحانیت کا مرکز رہا ہے ۔اس کی تاریخ اُتنی ہی

عہد راحیل شریف، پاک فوج کے کارہائے نمایاں۔۔۔تحریر:اختر سردار چودھری

پاک فوج کی جرات ودلیری،عزم وحوصلے، ایمان ویقین ، ایثار وقربانی کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ،وطن عزیز کی سرحدوں کا دفاع ہو یا قدرتی آفات ، امن و امان کا مسلہ ہو یا دہشت گردی کے واقعات تو

ٴٴواقعات لاہورٴٴ لاجواب تاریخی کتاب………تحریر: وقاص ظہیر

بطور انسان ہم جس معاشرے میں پروان چڑھتے ہیں ہمیں ہر دور میں نئی سے نئی معلومات کی جستجو اور تجسس رہا ہے  ، گو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام رساں انبیا کرام علیہ السلام کے ذریعے دنیا و

میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے…….اختر سردار چودھری

دوسال قبل سوشل میڈیا پر جبارواصف سے اِن کے دکھ درد بھرے،غموں سے لپٹے اشعار پڑھ کر دوستی ہوئی ،اسی دوران میں نے اجازت لے کر ان کی بہت ساری شاعری کو اپنے کالموں کا حصہ بھی بنایا ۔ایک دن