شاعری

لاکھوں سلام ۔۔۔ کلام : محمد صدیق پرہار

صاحب حسن وجمال پہ لاکھوں سلام حبیب رب ذوالجلال پہ لاکھوں سلام شامل ہے جواسم گرامی میں محمدکی دال پہ لاکھوں سلام تشریف لائے جس میں پیارے نبیﷺ اس ماہ وسال پہ لاکھوں سلام خرچ ہوجائے میلادرسول میں ایسے بہترین

غزل ۔۔۔ شاعر : شیخ خالد زاہد

سنبھل جانے کی بھی مہلت نہیں ملتی خدا جو روٹھ جائے کوئی سہولت نہیں ملتی آئینے میں کھڑے ٹٹولتے رہتے ہیں اپنی ہی اب ہمیں صورت نہیں ملتی سب اپنی خواہشوں کی قید میں جیتے ہیں کرنے کی بچوں کو

مار گئی مہنگائی ۔۔۔ شاعر : راشد علی مرکھیانی ،لاڑکانہ

بھوت سراپا بن کے آئی ہائے اوئے مہنگائی کھا گئی میری ساری کمائی ہائے اوئے مہنگائی آلو بھنڈی پیاز ٹماٹر سونے جیسے لاگیں دال پکی تو عید منائی ہائے اوئے مہنگائی حال ہوا ہے ایسا اب تو یاد نہیں ہے

شاعری

کوئی تو خواب ایسا ہو جو پورا ہو کبھی آخر کبھی جو مسکراؤں میں رلائے نہ کوئی مجھ کو الجھائے نہ کوئی مجھ کو مجھے بھی ہنس کہ جینا ہے کنارہ اور سہارا ڈھونڈتی ہیں بوجھل سی یہ پلکیں یہ

ہم کو رکھ اپنی امان میں، اے میرا خدا ۔ شاعرہ، فرح بھٹو

کہیں بم دھماکے کہیں زلزلے اے خدا کب رکیں گے یہ سلسلے کہیں عمل مکافات ہیں کہیں قدرتی آفات ہیں بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں پناہ مانگتے آدم زاد ہیں انسانی جانوں کا ہے اتنا زیاں کہ کانپ اٹھے

UAE اوہ میں ہوساں ۔۔۔ تحریر : جنید اقبال

پنجابی شاعری تیرے سُکھ دے سنگتی ڈھیر ہوسن تیرے دُکھ دا وارث میں ہوساں ہے یقین سانوں سجناں تیرے یار ہزار ہوسن پر تیرے نال جو مخلص ہوسی اوہ میں ہوساں سا ڈ ے بِنا تیری نِبھ جانی تیرے بِنا

تمھارے بعد ۔۔۔ تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

تمھارے بعد کیا رکھتے کسی سے واسطہ تمھاری بے رخی نے ہمیں برف کر ڈالا دیکھو ہم نہ کہتے تھے وقت ظالم ہے                                  

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

میرا ماضی بھی لے گیا ہوگا میرا بچپن میری گڑیا بھی لےگیا ہوگا گولی اور بارود سے فضا مہکی ہے خوشبوو تتلی اپنےسنگ بھی لے گیا ہوگا میں ہوں تری یاد ہے اور سرما کی رت موسم وصل تجھ کو

شاعری : محمد جواد خان

اصول و اسلوبِ زندگی (حصہ سوئم ۔شاعری)۔ ہم یاد کرتے رہے وہ یاد آتے رہے اس کشمکش مین دن رات گزرتے رہے J.Dنہیں آیا کوئی لوٹ کر وہاں سے برسوں ہم جہاں اپنوں کو چھوڑ کر آتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ J.Dکیا

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

محبت اب نہیں ہو سکتی ہے ہاں کچھ دن بعد ہو سکتی ہے گزر گئے ہیں جو دن یہ ان کی یاد میں ہو سکتی ہے ابھی توزخم تازہ ہی لگا ہے ہاں بھرجانے کے بعد ہو سکتی ہے پرانی