شاعری

مار گئی مہنگائی ۔۔۔ شاعر : راشد علی مرکھیانی ،لاڑکانہ

بھوت سراپا بن کے آئی ہائے اوئے مہنگائی کھا گئی میری ساری کمائی ہائے اوئے مہنگائی آلو بھنڈی پیاز ٹماٹر سونے جیسے لاگیں دال پکی تو عید منائی ہائے اوئے مہنگائی حال ہوا ہے ایسا اب تو یاد نہیں ہے

شاعری

کوئی تو خواب ایسا ہو جو پورا ہو کبھی آخر کبھی جو مسکراؤں میں رلائے نہ کوئی مجھ کو الجھائے نہ کوئی مجھ کو مجھے بھی ہنس کہ جینا ہے کنارہ اور سہارا ڈھونڈتی ہیں بوجھل سی یہ پلکیں یہ

ہم کو رکھ اپنی امان میں، اے میرا خدا ۔ شاعرہ، فرح بھٹو

کہیں بم دھماکے کہیں زلزلے اے خدا کب رکیں گے یہ سلسلے کہیں عمل مکافات ہیں کہیں قدرتی آفات ہیں بشر پر آئی ہیں وہ سختیاں پناہ مانگتے آدم زاد ہیں انسانی جانوں کا ہے اتنا زیاں کہ کانپ اٹھے

UAE اوہ میں ہوساں ۔۔۔ تحریر : جنید اقبال

پنجابی شاعری تیرے سُکھ دے سنگتی ڈھیر ہوسن تیرے دُکھ دا وارث میں ہوساں ہے یقین سانوں سجناں تیرے یار ہزار ہوسن پر تیرے نال جو مخلص ہوسی اوہ میں ہوساں سا ڈ ے بِنا تیری نِبھ جانی تیرے بِنا

تمھارے بعد ۔۔۔ تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

تمھارے بعد کیا رکھتے کسی سے واسطہ تمھاری بے رخی نے ہمیں برف کر ڈالا دیکھو ہم نہ کہتے تھے وقت ظالم ہے                                  

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

میرا ماضی بھی لے گیا ہوگا میرا بچپن میری گڑیا بھی لےگیا ہوگا گولی اور بارود سے فضا مہکی ہے خوشبوو تتلی اپنےسنگ بھی لے گیا ہوگا میں ہوں تری یاد ہے اور سرما کی رت موسم وصل تجھ کو

شاعری : محمد جواد خان

اصول و اسلوبِ زندگی (حصہ سوئم ۔شاعری)۔ ہم یاد کرتے رہے وہ یاد آتے رہے اس کشمکش مین دن رات گزرتے رہے J.Dنہیں آیا کوئی لوٹ کر وہاں سے برسوں ہم جہاں اپنوں کو چھوڑ کر آتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ J.Dکیا

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

محبت اب نہیں ہو سکتی ہے ہاں کچھ دن بعد ہو سکتی ہے گزر گئے ہیں جو دن یہ ان کی یاد میں ہو سکتی ہے ابھی توزخم تازہ ہی لگا ہے ہاں بھرجانے کے بعد ہو سکتی ہے پرانی

نظم/ التجا ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

دکھ دسمبر اب مت آنا تو آتا ہے تو ہم پر دکھ کی ندیاں پاٹنا لازم ہو جاتا ہے تیری آمد پر خوں کی ندیاں شور مچانے لگتیں ہیں تیرے لوٹ آنے پر بچوں کی قربانی دینا ہم پر لازم

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

کسی کے درشن ہونے ہیں آج شام کچھ جلد ہی پھیل گیا اندھیرا آج شام دسمبر جاتے جاتے بھی جدائی دے گیا میری روح ہوئی ہے تنہا آج شام اجنبیت سی اجنبیت طاری تھی حوصلہ بھی لب بام ہے ٹوٹا

مجھے کچھ تم سے کہنا ہے…..قاسم شوخ

مُجھے کچھ تُم سے کہنا ہے مُجھے کچھ تُم سے کہنا ہے چلو آج کہہ ہی دیتا ہوں یہ راتیں سرد گہری سی یہ اندھیرے کی تنہائی بہت تکلیف دیتی ہے بہت ہی درد دیتی ہے جب تیری یاد آ

غزل…تنزیلہ یوسف

آگیا دبےپاؤں دسمبر بیتے سال کی طرح تری یاد کادریچہ کھل گیا بیتے سال کی طرح زندگی اتنی مکمل ہے کہ تری جگہ ہی نہیں پھر یہ آنکھ کیوں نم ہے بیتے سال کی طرح ہم ہیں سادہ،ہم کو کیا

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

 اےزندگی چلی آئی ہوں غم اٹھاتے ہوئے میں تھک چکی ہوں وفا کے دیے جلاتے ہوئے کوئی بھی رشتہ نہ باقی رہا شب انجام میں خود سے لگ کے بہت روئی دکھ اٹھاتے ہوئے زمانے والوں! مرے ہونٹوں پہ سجی

پندرھویں کا چاند ۔۔۔ تحریر : تنزیلہ یوسف

دھند کی اوٹ میں لپٹا پندرھویں کا چاند میری ذات میں چھپ کر بیٹھا پندرھویں کا چاند موسم بھی کچھ سرد ہوا تھا اورکچھ تیری یاد دل کے ساتھ پاتال میں ڈوبا پندرھویں کا چاند کتنے موسم بیت گئے ہیں،

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

زندگی اتنی مکمل سی لگتی ہے مجھ کو تیری عادت نہیں رہی ہے مجھ کو شہر خاموش بھی پکارتا ہے اب کیوں میری تنہائی کاٹتی ہے مجھ کو دل کی ویرانیاں بھی اب اداس ہیں دل کی وحشت بھی چھبتی

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

نجانے  کیوں   دسمبر  اپنا  سا   لگتا   ہے مگر مجھ کو یہ تیری آنکھ کا سپنا لگتا ہے یقیں   کروں  تجھ   پر   تو   کیوں   کر تیرا نظریں چراکربولنا، بے وفا لگتا ہے ہر اک

۔۔۔عشق کا صدقہ۔۔۔۔۔۔شاعرہ : نور بخاری

عزت نفس کی خاطر۔۔۔ یہ روایت توڑ دی میں نے محبت بھیک میں تھی۔۔۔ سو وہ چھوڑ دی میں نے۔۔۔ کہ جب یقین ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ تو پھر برسوں لگتے ہیں۔۔۔ اور کبھی تو صدیاں بیت جاتی ہیں۔۔ !پر ہاں۔۔۔۔۔

محبت میں میری ۔۔۔ تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

محبت میں میری قسمت ہے روئی نجانے  کیوں  اسے  نہ  خبر ہوئی چھپا رکھا تھا خود کو اس جہاں سے یہ  ہستی  ضد  میں  اتنی عام  ہوئی انہیں آنکھوں کے در پہ رکھ لیا تھا مگر وہ جب ملا تو

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں…… شاعرہ: فہمیدہ غوری

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں کل تو ہم کو بچھڑ ہی جانا ھے آج کی رات بس ے محفل ھے کل تو انجان نگر بسانا ھے آج کی رات ہی تو اپنی ھے کل تو اک نیا شہر بسانا

وہ مجھ سے جدا ہو ہی گیا…..شاعرہ: فہمیدہ غوری

لوگ کہتے ہیں کے وہ مجھ سے جدا  ہو ہی گیا یہ بھی کہتے ہیں کے دل توڑ کے جانے والا اب کسی اور کے ارمان و وفا کا طالب بن کے رہتا ہے کسی اور کے دل کا مالک