شاعری

نظم/ التجا ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

دکھ دسمبر اب مت آنا تو آتا ہے تو ہم پر دکھ کی ندیاں پاٹنا لازم ہو جاتا ہے تیری آمد پر خوں کی ندیاں شور مچانے لگتیں ہیں تیرے لوٹ آنے پر بچوں کی قربانی دینا ہم پر لازم

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

کسی کے درشن ہونے ہیں آج شام کچھ جلد ہی پھیل گیا اندھیرا آج شام دسمبر جاتے جاتے بھی جدائی دے گیا میری روح ہوئی ہے تنہا آج شام اجنبیت سی اجنبیت طاری تھی حوصلہ بھی لب بام ہے ٹوٹا

مجھے کچھ تم سے کہنا ہے…..قاسم شوخ

مُجھے کچھ تُم سے کہنا ہے مُجھے کچھ تُم سے کہنا ہے چلو آج کہہ ہی دیتا ہوں یہ راتیں سرد گہری سی یہ اندھیرے کی تنہائی بہت تکلیف دیتی ہے بہت ہی درد دیتی ہے جب تیری یاد آ

غزل…تنزیلہ یوسف

آگیا دبےپاؤں دسمبر بیتے سال کی طرح تری یاد کادریچہ کھل گیا بیتے سال کی طرح زندگی اتنی مکمل ہے کہ تری جگہ ہی نہیں پھر یہ آنکھ کیوں نم ہے بیتے سال کی طرح ہم ہیں سادہ،ہم کو کیا

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

 اےزندگی چلی آئی ہوں غم اٹھاتے ہوئے میں تھک چکی ہوں وفا کے دیے جلاتے ہوئے کوئی بھی رشتہ نہ باقی رہا شب انجام میں خود سے لگ کے بہت روئی دکھ اٹھاتے ہوئے زمانے والوں! مرے ہونٹوں پہ سجی

پندرھویں کا چاند ۔۔۔ تحریر : تنزیلہ یوسف

دھند کی اوٹ میں لپٹا پندرھویں کا چاند میری ذات میں چھپ کر بیٹھا پندرھویں کا چاند موسم بھی کچھ سرد ہوا تھا اورکچھ تیری یاد دل کے ساتھ پاتال میں ڈوبا پندرھویں کا چاند کتنے موسم بیت گئے ہیں،

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

زندگی اتنی مکمل سی لگتی ہے مجھ کو تیری عادت نہیں رہی ہے مجھ کو شہر خاموش بھی پکارتا ہے اب کیوں میری تنہائی کاٹتی ہے مجھ کو دل کی ویرانیاں بھی اب اداس ہیں دل کی وحشت بھی چھبتی

غزل ۔۔۔ شاعرہ : تنزیلہ یوسف

نجانے  کیوں   دسمبر  اپنا  سا   لگتا   ہے مگر مجھ کو یہ تیری آنکھ کا سپنا لگتا ہے یقیں   کروں  تجھ   پر   تو   کیوں   کر تیرا نظریں چراکربولنا، بے وفا لگتا ہے ہر اک

۔۔۔عشق کا صدقہ۔۔۔۔۔۔شاعرہ : نور بخاری

عزت نفس کی خاطر۔۔۔ یہ روایت توڑ دی میں نے محبت بھیک میں تھی۔۔۔ سو وہ چھوڑ دی میں نے۔۔۔ کہ جب یقین ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ تو پھر برسوں لگتے ہیں۔۔۔ اور کبھی تو صدیاں بیت جاتی ہیں۔۔ !پر ہاں۔۔۔۔۔

محبت میں میری ۔۔۔ تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

محبت میں میری قسمت ہے روئی نجانے  کیوں  اسے  نہ  خبر ہوئی چھپا رکھا تھا خود کو اس جہاں سے یہ  ہستی  ضد  میں  اتنی عام  ہوئی انہیں آنکھوں کے در پہ رکھ لیا تھا مگر وہ جب ملا تو