شاعری

شاعری ۔ اسماء طارق ۔ گجرات

خط جو لکھا اس نے آخری پنڈ کے نام اس پہ لکھی کہانی میری زبانی تھی وہ شرمندہ تھا یہ اک نئی کہانی تھی پر پنڈ کی یہ لڑکی اتنی ہی پرانی تھی وہ لڑکا تھا نئے زمانے کا اور

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

جان کی اب کوئی مانگ نہیں ہتھیلی پہ رکھ کہ چلتا ہوں کیا خبر کب چھین لی جائے اسی ڈر سے زور مرتا ہوں موت مجھ کو کیا ڈرائے گی میں تو جینے سے ڈرتا ہوں جب مخافط ہی ٹھہرے

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

اسے کرنا ہی نہیں تھا اعتبار مجھ پہ میرے خلوص میں وگرنہ کمی تو نہ تھی وہ لوٹ گیا مجھے قصور وار ٹھہرا کہ اسے لوٹنا ہی تھا بات وگرنہ اتنی تو نہ تھی میرے ہمدم چلنا اسے گوارہ ہی

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

حاکم کے سر پہ تاج ہے محکوم پاؤں کی خاک ہے تو نے دیکھی ہو گی جسموں کی غلامی، یہاں تو روحیں بھی غلام ہیں مظلوم پہ جہنم واصل ہو ظالم کی جنت ہے یہ کیسا نظام ہے جہاں ظلم

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

کسی خواب کی تعبیر ہوں میں کسی عزم کی تکمیل ہوں میں کسی داستان کا مرکزی خیال ہوں میں کسی کردار کا مکمل حوالہ ہوں میں کہیں آغاز کہیں اختتام ہوں میں کہیں سورج کہیں چاند ہوں میں کہیں دھوپ

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

یہ کہاں تو نے انقلاب انقلاب لگا رکھا ہے جہاں لوگوں نے سچ پر نقاب اٹھا رکھا ہے یہاں سب نے منافقانہ انداز اپنا رکھا ہے سامنے گلاب پیچھے خنجر اٹھا رکھا ہے اے سخن وری ہم تو تجھے آزاد

شاعری ۔۔۔ اسماء طارق ۔ گجرات

راستے گہرے الجھے ہیں چلو گھر چلتے ہیں قدم اٹھتے نہیں اب چلو گھر چلتے ہے لاحاصل کی جستجو نہیں اچھی چلو گھر چلتے ہیں مناتے مناتے تھک جاو گے چلو گھر چلتے ہیں یوں دل جلانا بھی تو اچھا

اے پاکستان تیرا احسان ہے ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

اے پاکستان تیرا احسان ہے ، احسان تجھ ہی سے ہے آن ہماری ،شان ہماری تیری خاطر ہر مشکل سے لڑ جائیں گے سر کٹائیں گے ، جان دے دیں گے اے ارض وطن تو ہے علامت عظمتوں کی تیرا

لاکھوں سلام ۔۔۔ کلام : محمد صدیق پرہار

صاحب حسن وجمال پہ لاکھوں سلام حبیب رب ذوالجلال پہ لاکھوں سلام شامل ہے جواسم گرامی میں محمدکی دال پہ لاکھوں سلام تشریف لائے جس میں پیارے نبیﷺ اس ماہ وسال پہ لاکھوں سلام خرچ ہوجائے میلادرسول میں ایسے بہترین

غزل ۔۔۔ شاعر : شیخ خالد زاہد

سنبھل جانے کی بھی مہلت نہیں ملتی خدا جو روٹھ جائے کوئی سہولت نہیں ملتی آئینے میں کھڑے ٹٹولتے رہتے ہیں اپنی ہی اب ہمیں صورت نہیں ملتی سب اپنی خواہشوں کی قید میں جیتے ہیں کرنے کی بچوں کو