کالم / بلاگ

غیرسیاسی دیہاتی ماسٹر صاحب سے سیاسی گفتگو ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

دوپہر سے ذرا آگے کا وقت تھا۔ لوگ ظہر کی نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد ابھی واپس نہیں آئے تھے۔ میرے آفس روم کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ میں نے آنے کا کہا تو ایک صاحب

کیا آئین عوام کے دکھ دور کر رہا ہے؟ ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزاد

ہمیں اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ دوائیوں میں اثر ہی نہیں رہا یا ڈاکٹر نالائق ہو گئے ہیں۔ اسی لئے نزلہ، زکام، بخار جیسی چھوٹی چھوٹی بیماریاں بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اپنی اس گفتگو کا نتیجہ

عمران خان ہی کیوں؟ ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ؔ ۔ دوحہ قطر

کرکٹ سے سیاست تک عمران خان کو ہمیشہ ہی مخالفتوں اور مخا لفین کا سامنا رہا ہے۔اور تو اور وہ لوگ جو کبھی عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیقرار و بے چین دکھائی دیتے تھے جب سے

سیاسی ہلچل اور ہلڑبازی ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

جیسا کہ الیکشن 2018 کا پرچار ہر جگہ ہو رہا ہے ایسا لگتا ہے، جیسے کوئی بکرا حلال ہو رہا ہے آجکل جو موضوع سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ الیکشن اور اس کی مہم ہے ۔ امید

پھول جھاڑو اور فیصل آباد ائیر پورٹ ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ؔ ۔ دوحہ قطر

ایک سال بعد بیرونِ ملک سے پاکستان جانے کی خوشی میں سب اچھا اچھا سا لگتا ہے۔دوحہ ائیر پورٹ داخل ہونے کے بعد فلائٹ میں ابھی وقت تھا تو سوچا کہ چلو ذرا مٹر گشت کر لیتے ہیں سینکڑوں ایکڑ

جیالے اور یوتھیے حد سے تجاوز کرنے لگے۔ ایسی حرکتیں لے ڈوبیں گی ، خدارا ہوش کے ناخن لیں۔

الیکشن 2018 کی گہما گہمی عروج پر ہے اور تمام پارٹیز کے امیدواران اپنی جیت کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس موقعہ پر پارٹی کارکنان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ وہ اپنے لیڈر حضرات سے

مایوس ووٹروں نے جانوروں کو اپنا لیڈر چُن لیا ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

بعض ملکوں میں سیاست دانوں سے مایوس ہوکر ووٹروں نے علامتی طور پر جانوروں کو اپنا لیڈر منتخب کرلیا۔ ریڈرز ڈائجسٹ کی ایک مزاحیہ رپورٹ کے مطابق اگر کبھی کبھی منتخب انسانی نمائندے جانوروں کی طرح حرکتیں کرسکتے ہیں توپھر

تتلی ہوں ۔۔ میں تتلی ہوں ۔۔۔ تحریر : عارف اے نجمی

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا اور جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اسکو درست توازن دیا ہے،دنیا میں موجود تمام مخلوقات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی

سو برس پرانی کہانی پردہ اور آج کی سیاست کا پردہ ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ تقریباً سو برس پرانی یشپال کی ایک کہانی ’’پردہ‘‘ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق ’’بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ اُن کے دو

جعلی عامل اور ٹونے ٹوٹکے ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب

ہمارے معاشرے کی جاہلانہ اور بدعت پسند رسم وروایات میں سے ایک مصیبت اور دکھ کی گھڑی میں جاہل قسم کے جعلی عاملوں کے پاس جانا اور ان سے ٹونے ٹوٹکے اور تعویزات وغیرہ کروانہ ہو۔ یہ ایک تسلیم شدہ