کالم / بلاگ

ضلع بہاول نگر کی پسماندگی ۔۔۔ تحریر : ملک شاہد حنیف

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ایک پسماندہ ترین علاقہ ضلع بہاول نگر ہے۔ اس ضلع کی پسماندگی کا ایک عالم یہ بھی ہے کہ اکثر پاکستانیوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ضلع کہاں ہے؟ اکثر لوگ

حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور انسانیت کا مذاق ۔۔۔ تحریر : ملک شاہد حنیف

عصرکی نماز کے بعد جیسے ہی کچی آبادی کی گلیوں سے گزرتا ہوا میں آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک کریانہ کی دُکان پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رُک گیا ۔ ناچاہتے ہوئے بھی زمین نے جیسے میرے

زینب اور ہمارے جذبات ۔۔۔ تحریر : رانا ساجد سہیل

پاکستان میں جب سے پرائیویٹ میڈیا کا آغاز ہوا تو بچیوں ، بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے ، اسکا مطلب ہے کہ ایسے افسوس ناک واقعات پہلے بھی ہوتے تھے

قصور وار کون؟۔۔۔ تحریر : مہر علی رضا

ہمارا ملک ایسا ہے جہاں انصاف کا نظام انتہائی کمزور ہے۔جہاں انصاف نامی کوئی چیز نہیں۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہمارا رقبہ بھارت کی نسبت بہت کم ہے اگر ہمارا رقبہ بھی بہت بڑا ہوتا تو ہمارا حال کیا

کشمیر کب تک؟۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

قانونِ فطرت ہے کہ عروج ایک خاص حد تک جا کر زوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اور زوال بالآخر عروج کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔عروج و زوال کی داستان تاریخِ مسلم میں کچھ نئی نہیں ہے۔عرب کے لق و

امریکی امداد ۔۔۔ خدا حافظ ۔۔۔ تحریر : عابد رحمت

کس قدرباعث تعجب اورمضحکہ خیزبات ہے کہ امریکاآئے دن پاکستان پرالزام تراشیاں کرتاہے اورپاکستان شروع میں تومدمقابل آنے کاعزم بالجزم کرتاہے مگرپھریک دم ہی ساری ہمت نجانے کیوں جواب دے جاتی ہے ۔گزشتہ دنوں بھی ڈونلڈٹرمپ نے پاکستان کواپنااحسان جتلاتے

عمران خان ، روحانیت اور شعبدہ بازی ۔۔۔ تحریر : عبدالرؤف خاں

روحانیت سے عمران خان کا اُس وقت سے تعلق ہے جب اُنکی عمر صرف چودہ برس تھی۔ اپنی کتاب “میں اور میرا پاکستان” میں صفحہ نمبر اکیاسی پرعمران خان خود لکھتے ہیں۔ “ایسے کئی لوگوں سے مجھے واسطہ رہا جو

مادری زبان ۔۔۔ انسان کی پہچان ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

سندھی برادری،پشتون برادری،بلوچ برادری،سرائیکی برادری۔۔۔یہ وہ برادریاں ہیں جنہیں اپنی ماںّ بولی سے محبت ہے یہ وہ لوگ ہیں جنھیں گھر سے باہر اپنی مادری زبان میں بات کرتے شرم نہیں آتی بلکہ یہ لوگ فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں

استاد کو میرا سلام ۔۔۔ تحریر : عبدالجبار خان دریشک

ہم اپنی آنکھوں کی روشنی سے دنیا کو دیکھتے ہیں پرکھتے ہیں اوراسی طر ہم زندگی کے بہت سارے تجربات حاصل کرتے ہیں اور بہت کچھ سیکھتے ہیں منظر وچیزیں دیکھنے کے بعد اس پر ہمارا رد عمل ہماری ہی

ایسی آفر ہمیں قبول نہیں ۔۔۔ تحریر : عبدالجبار خان دریشک

اللہ پاک نے دن رات ہمارے کام اور آرام کے واسطے بنائے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی کو باقاعدہ ایک ترتیب سے ڈھال کر زندگی بسر کرنے کے لیے روزی روٹی بھی کمائیں اور اس پاک ذات کا شکر بجا