کالم / بلاگ

ہم ناکام کیوں ۔۔۔تحریر :رامین ملک

ہم بہت کچھ اس لیے حاصل نہیں کرپاتے کہ ہمیں بہت کچھ کرنے کے لیے ڈھیر ساری دولت،دوست،عوامل اور وسائل چاہیے ہوتے ہیں۔ اس طرح گھنٹوں سے دن،دن سے ہفتے،ہفتوں سے مہینے،مہینوں سے سال گزرتے جاتے ہیں اور پھر ہمارے

لکھیں ۔۔۔ مگر کیسے؟ ۔۔۔ تحریر : محمد راشد ندیم

میں سمجھتا ہوں ”بزم قلم“ میں بڑے بڑے درخشاں ستاروں کی موجودگی میں میرا کچھ کہنا ذرہ بے نشاں کے مترادف ہوگا مگر پھر بھی لب پر آئی بات دوسروں تک پہنچادینے میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ جواحباب کچھ لکھنا چاہتے

معلمی بطور پیشہ یا پیسہ ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہدؔ ۔ دوحہ قطر

  حقیقت یہ ہے کہ زمانہ قدیم سے دورِ جدید تک ہم انسانی زندگی کے تمدنی ارتقا کا اگر مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف اہل علم وفکر اور دانش بلکہ ہر مذہب نے اخلاقیات، تمدن اور

معافی۔۔۔۔تحریر :علینہ ارشد

آج بہت شدت سے تمھاری یاد آ رہی ہے. دوستی کا جب ہاتھ بڑھایا تھا تو کچھ اصول تم نے طے کیے تھے. اور میں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اصول کچھ نہیں ہوتے دوستی تو بس دوستی ہوتی ہے.

جنرل جہانگیر کرامت

  جنرل جہانگیر کرامت (بارہ جنوری ۱۹۹۶ء تا سات اکتوبر ۱۹۹۸ء) جنرل کاکڑ کی سبک دوشی کے وقت جنرل جہانگیر کرامت ہی سب سے سینیئر جنرل تھے چنانچہ انھیں اگلا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ جنرل جہانگیر کرامت 20 جنوری

عید کے رنگ۔۔۔۔مدیحہ ریاض

عید نام ہے خوشیوں ، رنگوں اورقہقوں کھلکھلاہٹوں کا۔عید کادن پیغام ہے امن و محبت ،بھائی چارے اور رواداری کا۔عید کا دن مسرتوں سے بھرپور دن ہوتا ہے ہر طرف کھلکھلاتے مسکراتے چہرے بہار کا سماں پیش کر رہے ہوتے

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

عالمی رہنماؤں میں ہمیں جنہوں نے سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں نیلسن منڈیلا کے علاوہ صدام حسین سرِ فہرست ہیں۔ صدام حسین سے پہلا تعارف شاید چھ اگست 1990 کو ہوا تھا جب عالمی منظرنامے پر ایک ہی

کتاب والی ایک روشن ستارہ بن گئی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

صدیوں پہلے ریاست اور سیاست کا تصور ایک دانشور نے دیا تھا۔ بعد میں آنے والے زمانے میں جن جن جگہوں پر ریاست اور سیاست کے معاملات میں دانشور شامل رہے وہ علاقے آج ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں۔ تاریخ

معاشی ترقی اور اقدامات کی ضرورت ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

پاکستان کی معیشت میں استحکام کی منزل ابھی تا حد نظر دورہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نمو 9سال کی کم ترین سطح پر ہے اور معیشت عملی طور پر منجمد ہوچکی ہے جس کے باعث مہنگائی روزانہ کی بنیاد

پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم ۔۔۔ تحریر : ابن ِ ریاض

کہتے ہیں کہ ادارے اور کھیل ملک کی صورت حال کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ان کی حالت سے اس ملک کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شاید کھلاڑیوں کو اسی لئے ملک کا سفیر کہا جاتاہے۔تاہم

طے شدہ و پسند کی شادی ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

شادی وہ موضوع ہے کہ جس پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ شادی بلاشبہ ضروری ہے۔ اگر شادی نہ ہو تو دنیا کا نظام وانصرام تو متاثر ہو گا ہی ساتھ ساتھ جنت کی قدر بھی معلوم نہیں ہو

نئے پاکستان کیلئے نئے پنجاب کا خواب ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ برس عام انتخابات میں کامیابی کے بعد مختلف شعبوں میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی ایسے بہت سے دعوے کئے گئے جن میں روزگار کے مواقع، 50لاکھ سستے گھر،

برسبین گابا اور پاکستان ٹیم ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

پاکستان کرکٹ ٹیم برسبین میں شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ کل اننگز کی شکست سے دو چار ہو جائے گی۔ ٹی ٹونٹی سیریز میں امتیازی ناکامی کے بعد دورے کے

کابینہ ،مراعات اور غریب عوام ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین

کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کا راز اس کی کفایت شعاری ،شب و روز کی محنت اور مادر وطن سے وفا ہو تی ہے ۔کسی بھی ملک کی بدحالی اور تنگ دستی کا اندازہ اس کے حکمرانوں کی

معاشی ترقی اور اقدامات کی ضرورت ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

پاکستان کی معیشت میں استحکام کی منزل ابھی تا حد نظر دورہے۔ اس وقت ملک کی معاشی نمو 9 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور معیشت عملی طور پر منجمد ہوچکی ہے جس کے باعث مہنگائی روزانہ کی

انصاف یا مک مکا سانحہ ساہیوال ۔۔۔ تحریر : محمد محی الدین باہو ۔ پیرمحل

سانحہ ساہیوال،، کا عدالتی فیصلہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے جیسا ہی ہوا ہے یا پھر انصاف ہوا ہے سانحہ ساہیوال مقدمہ میں عدالت نے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے جب ریاست پاکستان کے

تین نو عمر لڑکیوں کے اغوا کا وقوعہ ۔ حقیقت یا افسانہ

چیچہ وطنی سے۔مقصود احمد سندھو کی کرائم ڈائری ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے آئے روز مختلف جرائم کے واقعات اور خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اکثر حیرت اور صدمے والی ہوتی ہیں جو بعد

سکول و کالج کے ہم جماعتوں کے ساتھ چند یادگار ساعتیں ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

جس زمانے میں ہم نے ایف ایس سی کی اس زمانے میں موبائل کا تصور ہی نہ تھا بلکہ ٹیلی فون بھی ہر گھر میں عام نہ تھا۔ محلے میں دو چار گھروں میں ٹیلی فون ہواکرتا تھا اور اس

ایک نقطے نے محرم سے مجرم کر دیا ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

ہمارے لڑکپن تک پاکستان میں ایک ہی ٹی وی چینل یعنی سرکاری ٹی وی تھا۔ علاوہ ازیں دیہات میں ریڈیو بھی عام تھا۔ ٹی وی پر سرکار کا مکمل قابو تھا۔ ان اداروں پر پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ تھے

بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض

گروپ میں اس پر مضمون لکھنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ مقابلوں میں تو ہم حصہ ّ نہیں لیتے جس کی وجہ آپ کو معلوم ہے۔ قلم یعنی تختہ کنجی چونکہ کافی عرصے سے خاموش ہے تو سوچا کہ کیوں