کالم / بلاگ

ہماری سیاست میں چیخوف کی کہانی دشمن کے دو کردار ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

روسی رائٹر چیخوف دنیائے ادب کے چوٹی کے چند عظیم لکھاریوں میں سے ایک ہے۔ وہ 29 جنوری 1860ء کو پیدا ہوا اور 44 برس کے بعد تپ دق کے باعث 15 جولائی 1904ء کو دنیا چھوڑ گیا۔ پیشے کے

ابھی تک نظر کیا آیا صرف ٹشن ۔۔۔ تحریر : راجہ وحید احمد

ایک شکاری نے سمندر سے مچھلی پکڑی مچھلی کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اُس نے مچھلی کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا زندہ رکھنے کے لیے اُس نے مچھلی کو گھر میں موجود کنوئیں میں ڈال دیاکنوئیں میں موجود

ورلڈ ٹی ۔ بی ڈے ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر میاں عدیل عارف

دنیا میں ہر سال 24 مار چ کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ٹی ۔ بی ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ اس

ڈائری سے مکالمہ : کپاس کا سیزن ۔۔۔ تحریر : مدیحہ ریاض

ڈئیر ڈائری آج میں تمہیں زندگی کی ایک اٹل حقیقت بتانے لگی ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم جس چیز کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ ہے پیسہ ۔ہر انسان سونے چاندی کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتا اور

انسان اپنا جرم بھول جاتا ہے مگر ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

ایک جج صاحب لکھتے ہیں مجھے ایک قتل کے کیس کا فیصلہ کرنا تھا میرے اندر بہت کشمکش تھی کیونکہ وہ نوجوان مجھے بھی قاتل نہیں لگتا تھا وہ چیختا روتا جج صاحب میں نے قتل نہیں کیا بہتان ہے

شب معراج کی فضیلت وعبادت ۔۔۔ تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی ۔ پائی خیل

رجب المرجب اسلامی سال کاساتواں مہینہ ہے۔اللہ رب العزت نے سال کے بارہ مہینوں میں مختلف دنوں اورراتوں کی خاص اہمیت وفضیلت بیان کر کے انکی خاص خاص برکات وخصوصیات بیان فرمائی ہیں قرآن حکیم میں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔”بے

عائشہ کے نام ۔۔۔ تحریر : علینہ ارشد

میں اس وقت سال اوّل میں تھی اور سن 2011 تھا جب میری اس سے ملاقات ہوئی۔ ملاقاتیں تو اس سے پہلے بھی بہت ہو چکی تھیں مگر ہوش سنبھالنے کے بعد یہ میری اس سے پہلی ملاقات تھی. میرے

۔23۔ مارچ ۔۔۔۔ ایک وعدے کی پہچان اور تجدیدِ عہد وفا کا دن ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

برصغیر پاک و ہند میں تاریخِ تحریک پاکستان اتنی ہی قدیم ہے جتنی مسلمانوں کی ہندوستان میں قدم رنجہ فرمانے کی تاریخ قدیم ہے۔پاکستان ایک نظریہ کے تحت قائم ہوا تھا اور وہ نظریہ تھا’’دو قومی نظریہ‘‘یعنی ہندوستان میں ایک

باؤجی، گدھ اور بلاول ۔۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

مجھے نہیں معلوم یہ کس کی تحریر ہے اس پر لکھا تھا ’’باؤضی کی ڈائری سے ایک ورق‘‘ لیکن یہ اتنی خوبصورت تحریر ہے کہ اسے دنیا تک پہنچنا چاہیے یہ ایک نصیحت بھی ہے اذیت بھی ہے وصیت بھی

اسلامو فوبیا ۔۔۔ تحریر : مدثر سبحانی ۔ فیصل آباد

۔15۔مارچ تاریخ کا وہ بھیانک ترین دن ہے جو مجھ سمیت عالم اسلام کو کبھی نہیں بھول سکتا، جب نیوزی لینڈ کی 2مساجد میں سفید فام مسلح اہل کاروں نے نہایت سنگ دلی سے سفاکیت دکھاتے ہوئے بے دردی کے

عورت کا دشمن کون ۔۔۔ تحریر : اسماء طارق ۔ گجرات

عورت ہی عورت کی بد ترین دشمن ہے ۔ یہ بات شاید سننے میں اچھی نہ لگے مگر جب میں نے عورت پر ہونے والے ہر ظلم کی داستان کو اس کے پس منظر کے ساتھ دیکھا تو میں یہ

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 4 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری کے پاپا کا import Export کا بزنس تھا۔۔۔ ان کا اسلام آباد میں فلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی اپنی زاتی گاڑی بھی تھی حُوری خود ڈرائیو کر کے یونیورسٹی آتی جاتی۔۔۔ ڈرائیور کے ہوتے سوتے اُسے

رشوت ستانی سے پاک پاکستان ۔۔۔ تحریر : احسن رشید ۔ لاہور

ایک دفعہ امیر المومینین حضرت عمر ین عبدالعزیز ریاست کے ا’مور نمٹانے کے اپنے گھر آئے اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی نے غمگین لہجے میں کہا کہ امیر المومینین اگلے ہفتے عید آرہی ہے بچہ

کیلے اور سیاست میں حیران کن مماثلت ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سیاست میں ’’بنانا ری پبلک‘‘ کی اصطلاح عام ہے۔ اِسے سب سے پہلے امریکی مصنف اوہینری نے 1901ء میں لاطینی امریکہ کی ریاستوں کے لیے ایجاد کیا۔ اس سے مراد وہ ریاستیں تھیں جہاں سیاست اور معیشت انتہائی غیرمستحکم ہوتی۔

سنو۔۔۔۔۔۔! “جاناں” تمھاری مُحبت بھی محض ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

سُنو “جاناں”۔۔۔!۔ تمھاری مُحبت بھی محض اک ڈرامہ ہی تھی۔۔۔۔۔۔ بس تم اِس ڈرامے میں اپنا کردار اچھے سے نہیں نبھا پائے۔۔۔۔۔۔ جو بھی چند اک “مجبوریاں” گنوائی تھیں ناں’ تم نے۔۔۔ وہ سب بھی ڈھونگ تھیں۔۔۔!۔ کاش !!!!۔۔۔ زرا

تحریک پاکستان، مسلم لیگ اور اردو ۔۔۔ تحریر : مراد علی شاہد ۔ دوحہ قطر

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم چہ خوش بودے گر بودے زبانش در دہانِ من زبان کی اہمیت و افادیت کا اندازہ درج بالا شعر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آپ اپنے محبوب کے سامنے

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 3 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

آخر کار کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے دو سموسے /چٹنی پلیٹ اور ساتھ میں ایک کپ چائے آرڈر کی۔۔۔ وہ چائے اور سموسے لیکر جلدی سے کینٹین کے پچھلی طرف باغیچے میں پڑے ٹیبل پر بیٹھی اور جلدی

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اِسے غیرتحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے

مزاح سے متعلق ایک سنجیدہ تحریر ۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

یہ تحریر کسی استاد کا سبق نہیں ہے بلکہ کچھ نکات ہیں جو اس خاکسار نے مزاح لکھتے ہوئے محسوس کیے۔ مزاح نگار اور ایک بھانڈ مین فرق ہوتا ہے۔ سلور سکرین ٹی وی اور عوام الناس میں جو مزاح

عورتوں کے عالمی دن پر عورت کی توہین ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

بابا جی کھیت میں بھینس کو ہل میں جوت کر ہل چلا تھے اور بیل صاحب چھپر کے نیچے آرام فرما رہے تھے ایک سیانے کا ادھر سے گزر ہوا تو پوچھا یہ کیا الٹی گنگا بہہ رہی ہے بھینس