برائلر مرغی اور دیسی مرغی ( شک و شبہات اور حقیقت ) ۔۔۔

تحریر : ۔( ۔1۔ ذوالقر نین باقر ، غزالی بلوچ، طیبہ اسرار خان، ڈاکٹرسید احتشام الحق، ۔2۔ زویا صدیقی، ۔3۔ زاہد علی طاہر )۔

۔(1- ۔کالج آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائینسز ،جھنگ، 2۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائینسز، لاہور، 3- ۔پی ۔ڈی۔ڈی۔ایل کمالیہ)۔

برائلر مرغی اور دیسی مرغی، دونوں کا گوشت غذائی اعتبار سے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ برائلر اور دیسی مرغی میں پروٹین،فیٹ ور وٹامن یکساں مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔مگر دیسی مرغی میں منرلز (آئرن،کیلشیم) کی مقدار برائلر مرغی کی نسبت قدرے زیادہ ہوتی ہے۔برائلر مرغی کے گوشت کا ۲۰۰گرام تقریباًاعشاریہ سات ملی گرام آئرن فراہم کرتا ہے، بہ نسبت بیف یا مٹن جو کہ ۲ ملی گرام فراہم کرتا ہے۔مرغی کا گوشت ان غذائی ذرائع میں سے ہے جو کہ کم قیمت میں بہتر مقدار میں پروٹین دیتے ہیں۔یہ نا صرف بہتر معیار کی پروٹین فراہم کرتے ہیں بلکہ وٹامن اور دیگر غذائی اجزا کا ذریعہ بھی ہیں ،جن میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سر فہرست ہیں جو کہ ذہنی نشوونما کیلئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔عام طور پر زرعی اجناس انسانی جسم کو اہم امائنوایسڈز جیسا کہ تھریونین،میتھیونین،اور لائیسین فراہم نہیں کرتے جبکہ انڈے اور مرغی کا گوشت انکی وافر مقدار اپنے اندر رکھتے اور بآسانی جسم کو فراہم کرتے ہیں۔مرغی کا گوشت غریب ممالک کی عوام کے لیے ایک سستی اور خستہ غذا ہے۔
لیکن بہت سے وہم اور شبہات ہیں کہ برائلر مرغی ان تمام خصوصیات سے محروم ہے اور دیسی مرغی میں یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس موضوع پر بارہا بحث و مباحثہ کیا گیا ہے اور عوام الناس کے لیے ایک وہم بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ برائلر مرغی اپنے اندر ایک خاص مقدار سٹیرائیڈز اور ہارمونز کی رکھتی ہے جو کہ انسانی جسم کے لیے انتہائی مضر ہیں اور اسکے خاصے اثرات انسانی جلد،بالوں اور دیگر انسانی نظام پر بھی ہوتے ہیں۔
’وائیٹ میٹ یاوائیٹ پوئیزن ‘کے نام سے ایک آرٹیکل خیبر پختونخوا کے ایک معروف اخبار میں شائع کیا گیا جس نے لوگوں کو اس وہم کا شکار کر دیا کہ برائلر مرغی کا گوشت صحت کے لیے مضر ہے۔

ٹیکسائل کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی صنعت پولٹری کی صنعت ہے جو کہ ان شبہات سے متاثر نظر آتی ہے۔لیکن حقیقت اس سے کافی مختلف ہے۔کچھ سال پہلے برائلر مرغی کی بڑھوتری کی رفتار تقریباً ۲کلوگرام تھی لیکن آجکل ان کی نشوونما ۳کلوگرام تک جا رہی ہے۔یہ بہترین نشوونما سلیکٹیوبریڈنگ کا نتیجہ ہے نہ کہ ہارمونز اور سٹیرائیڈز کے استعمال کا۔ایک خاص اور آئیڈیل ماحول کا برائلر مرغی کو دیا جانا،اس مرغی کو بہترین نیوٹریشن،جنیٹکس،ہاؤسنگ مینجمنٹ اور بیماریوں کے خلاف مدافعت فراہم کرنا،اسکی بڑی جسامت کے پیچھے ایک راز ہے۔سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق برائلر اور دیسی مرغی کی غذائیت میں کو ئی فرق نہیں پایا گیا۔

۔۱۹۲۵ء۔ ؁میں مرغی کا اڑھائی پاؤنڈز وزن حاصل کرنے کیلئے ۱۱۲ دن درکار ہوتے تھے جبکہ ۲۰۱۸ء میں سوا چھ پاؤنڈز وزن ۴۷دن میں حاصل کر لیا جاتا ہے اور یہ اہم تبدیلی صرف اور صرف بریڈ ڈویلپمنٹ کے باعث ہے۔برائلر اور دیسی انڈے بھی یکساں غذائی اہمیت کے حامل ہیں۔دونوں میں پروٹین،فیٹز اور وٹامنز برابر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔انڈے کی زردی بھی استعمال کے لیے بہترین ہے کیونکہ اس میں موجود کولیسٹرول انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔۔(recent dietary guidelines for Americans 2015-2020)۔
دن میں صرف ایک انڈے کا استعمال سٹروک کے امکان کو ۱۲فیصدتک کم کرتا ہے۔اک اہم بات یہ بھی ہے کہ برائلر مرغی بھاگنے کے قابل کیوں نہیں ہوتی،اس کی وجہ اس میں گوشت کا زیادہ ہونا اور ہڈیوں کی مقدار کا کم رکھنا ہے جو کے سلیکٹیو بریڈنگ کا نتیجہ ہے۔کوئی تحقیق بھی ثابت نہیں کر پائی کہ برائلر مرغی کا استعمال ہارمونل مسائل کو جنم دیتا ہے۔

دنیا بھر کی پولٹری انڈسٹری، خوراک کے لیے پولٹری اور اس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے پیش قدم ہے جبکہ ہمارے ملک پاکستان میں لوگ وہم و گمان اور شک و شبہات میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔دنیا کی بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کے پیش نظر برائلر خوراک کا ایک مفید اور مؤثر ذریعہ ہے جو کہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔

(Visited 57 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *