چاکلیٹی ہیرو وحید مراد ۔۔۔ تحریر : اختر سردار چودھری

عظیم سپر اسٹار،چاکلیٹ ہیرو وحید مراد کی23نومبرکو 33 ویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی تحریر۔

دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنے والی ایسی بہت کم شخصیات پیدا ہوئی ہیں ۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے ایک ایسے عظیم سپر اسٹار ہیرو تھے،جنھیں پرستاروں نے محبوب کا درجہ دیا ہواتھا۔ ان کے مداح آج بھی ان کی یادوں کو اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ وحید مراد نے نے سلور اسکرین کے پردے کے پیچھے سے لوگوں کو مخاطب کیا اور انہیں انسان دوستی، عزت و احترام اور انسانی عظمت کی تعلیمات کا درس دیا۔جبکہ ایک تخلیق کار ذہن ہونے کے ساتھ روایت سے ہٹ پاکستانی معاشرے کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے بہت اچھی، معیاری فلمیں بنائیں اور لاکھوں دلوں میں بس گئے۔۔وحید مرادنئی نسل کے پسندیدہ ہیرو مانے جاتے تھے۔
وحید مراد سیالکوٹ میں 2 اکتوبر 1938ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ پاکستانی فلموں کے مشہور ڈسٹری بیوٹر نثار مراد کی اکلوتی اولاد تھے وحید کی والدہ کا نام شیریں مراد تھا ۔ بچپن میں اپنے والد کے پاس آنے والے نامور اداکاراؤں کو دیکھ کران سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کے ساتھ اداکاری کرنے کے لئے انہیں حوصلہ ملا۔ بچپن میں گلے میں گٹار لٹکانے اور اپنے دوستوں میں ایک اچھا ڈانسر ہونے پر مشہور تھے۔ سکول کے کئی ڈراموں میں حصہ لے کر اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جس سے بچپن میں بہت شہرت ملی ،وحید مرادنے میری سکول کراچی سے 1954ء میں میٹرک پاس کیا۔ فلمی کیرئیر میں آنے کے لئے بے چین وحید مراد کو والدین نے پہلے اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے کہا۔ وحید نے ایس ایم آرٹس کالج کراچی میں میں گریجویشن کیا اور پھر کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز مکمل کیا۔ وہ پاکستان کے پہلے ماسٹرز کئے ہوئے ہیرو تھے۔
بے حد مضبوط تعلیمی پس منظر اور فلمی گھرانے نے وحید مراد کو دیگر فلم سازوں کے مقابلے میں ذیادہ مضبوط اور طا قتور اداکار کے طور پر لا کھڑا کردیا۔وحید مراد اور پرویز ملک بچپن کے دوست تھے۔گریجویشن کے بعد دونوں نے اپنے والدین سے بیرونِ ملک اعلی تعلیم کی خواہش ظاہر کی۔ مگر وحید اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہ مل سکی، البتہ پرویز ملک فلم پروڈکشن میں ماسٹرز کرنے کیلیفورنیا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ چلے گئے۔ ادھر وحید نے بھی کراچی یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کے لئے داخلہ لے لیا۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کے پہلے ماسٹرز ڈگری رکھنے والے اداکار تھے۔چار سال بعد جب پرویز ملک وطن لوٹے تو ملک کے واحد ہدایت کار بن گئے جنہوں نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے فلم پروڈکشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔وحید مراد کراچی کے میمن صنعتکار ابراھیم میکر کی بیٹی سلمی کو بے حد پسند کرتے تھے۔ ان کی شادی جمعرات 17 ستمبر 1964ء کو منعقد ہوئی۔ وہ گھر پر ’بی بی‘ کے نام سے اپنی بیوی سے پکارا کرتے تھے ۔ا ن کی دو بیٹیاں (عالیہ اور سعدیہ) اور ایک بیٹاعادل تھا، جبکہ ایک بیٹی بچپن میں انتقال کرگئی تھی۔
بطورپروڈیوسروحید مراد نے اپنے والد کے قائم شدہ فلم آرٹس کے تحت فلم انسان بدلتا ہے سے اپنے کیریئرکا آغاز کیا۔ ان کی دوسری فلم جب سے دیکھا ہے تمہیں میں انہوں نے ہیروئین کے طور پر زیبا کو درپن کے ساتھ لیا۔ زیبا نے ان کی اگلی فلم میں ہیرو کے لئے وحیدمراد کو کہہ دیا۔ وحید خود اپنی فلموں میں بطور ہیرو کام کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ مگر جب یہی تجویز انہیں اپنے دوست پرویز ملک نے دی تو انہوں نے زیبا کے شریک اسٹار ہونے کی شرط رکھی، زیبا نے حامی بھر لی۔ انہوں نے سب سے پہلی فلم 1962ء کی اولاد میں ایک سپورٹر کردار میں اداکاری کی۔ فلم میں ان کے دوست ایس ایم یوسف کی طرف سے ہدایت کاری کی گئی تھی۔ اولاد بہت زیادہ پسند کی گئی، اور سال کی سب سے بہترین فلم کا نگار ایوارڈ ملا ۔ ہیرا اور پتھر ایک معروف اداکار کے طور پر ان کی پہلی فلم تھی اور اس کی بڑی کامیابی سمجھی گئی۔ انہیں اسی فلم کے لیے بہترین اداکار ہونے کا نگار ایوارڈ ملا۔ 1966ء میں انہوں نے پرویز ملک کی ہدایت کردہ اپنی پروڈکشن ارمان میں کام کیا۔ ارمان نے اس وقت کے تمام باکس آفس کے ریکارڈز توڑ دیئے اور تھیٹر میں 75 ہفتے مکمل کئے اور غالباً انہیں پاکستانی فلموں کا پہلا سپر اسٹار بنایا۔ فلم ایک رومانوی اور مدھر محبت کی کہانی ہے۔ خاص طور پر احمد رشدی کے گائے ہوئے کوکو کورینا، اکیلے نہ جانا، بے تاب ہو ادھر تم اور زندگی اپنی تھی ابتک جیسے گانے نوجوانوں بالخصوص لڑکیوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
انہوں نے فلم ارمان کے لئے دو نگار ایوارڈز حاصل کئے، ایک بہترین پروڈیوسر اور دوسرا بہترین اداکار کے طور پر۔ اسی سال کے دوران، وہ زیبا کے ساتھ ایک سپرہٹ فلم جاگ اٹھا انسان میں اداکاری کی یہ حقیقت ہے کہ وحید نے زیبا کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرکے اس کی ملک گیر شہرت میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا۔1967ء میں، انہوں نے دیور بھابی، دوراہا، انسانیت اور ماں باپ جیسی لازوال فلموں میں معروف اداکاری کی. سینما گھروں میں 50 ہفتے مکمل کرنے والی فلم دیور بھابی ان کی بہترین فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ دیور بھابی کی کہانی، پاک بھارت کی فرسودہ اور جاہلانہ سماجی خیالات و روایات پر مبنی ہے. انسانیت میں وحید نے ایک سرشار ڈاکٹر کا کردار ادا کیا ہے جو ان کی بہترین فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔1964ء سے 1968ء تک، وحید مراد اور پرویز ملک نے ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، دوراھا اور جہاں تم وہاں ہم جیسے کامیاب فلم بنائیں۔
وحید مراد، پرویز ملک، مسرور انور، سہیل رانا، احمد رشدی اور زیبا کی کامیاب ملاپ نے ایک بہت بڑی تعداد میں بہترین فلمیں بنائیں۔ وحید مراد فلم آرٹس کی چھتری کے تحت پرویز ملک، مسرور انور اور سہیل رانا آئے۔ لیکن 1960ء کی دہائی کے آخر میں، وحید مراد اور دیکر ’فلم آرٹس‘ کی ٹیم ارکان کے درمیان جھگڑے میں اضافہ ہوگیا۔ پرویز ملک وحید کی فلموں کی کامیابی کا سارا کریڈٹ خود لینے اور دوسروں کو بہت کم پذیرائی دینے پر ناخوش تھے۔ تو یوں فلم آرٹس کو توڑ دیا گیا اور پرویز ملک نے نئے اداکاروں کے ساتھ ان کے اپنے منصوبوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ دو فلموں یعنی اسے دیکھا اسے چاہا اور دشمن، جو 1974ء میں 6 سال کی ایک طویل وقفے کے بعد بنائی گئیں جو ’فلم آرٹس‘ کے زیر پروڈکشن بھی نہیں تھیں، سمیت سات فلمیں وحید اور ملک کی کامیاب جوڑی نے بنائی۔
وحید مراد نے اپنے 25 سالہ کیریئر میں زیبا، شمیم آرا، رانی، نغمہ، عالیہ، سنگیتا، کویتا، آسیہ، شبنم، دیبا، بابرہ شریف، رخسانہ، بہار اور نیلو جیسی اداکاراؤں کے ساتھ فلموں میں جوڑی بنائی۔ انہوں نے کل 124 فلموں میں کام کیا جن میں 38 بلیک اینڈ وائٹ اور 86 رنگین فلمیں ہیں۔ اس کے علاوہ 6 فلموں میں بطور مہمان اداکار کام کیا، جن میں انکے کیریئر کی پہلی فلم ساتھی، جو 1959 ء میں ریلیز ہوئی تھی، بھی شامل ہے۔ انہوں نے 115 اردو فلموں، 8 پنجابی فلموں اور 1 پشتو فلم میں کام کیا، اور بطور بہترین پروڈیوسر اور بطور بہترین اداکار کے طور پر 32 فلم ایوارڈز حاصل کئے۔ اس کے علاوہ انہیں 2010 ء میں ان کی وفات کے 27 سال بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدارتی ایوارڈ ’ستارہ امتیاز‘ سے بھی نوازا ۔ یہ ایوارڈ ان کی بیوہ سلمیٰ مراد نے وصول کیا۔
وحید مراد 23نومبر 1983ء بروز بدھ کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے 45 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ مرحوم کو لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ لاکھوں دلوں کی دھڑکن ،عظیم سپر اسٹار، چاکلیٹ ہیرو وحید مراد کو ہم سے بچھڑے 33 سال ہوگئے ہیں،لیکن ان سے محبت اور عقیدت آج بھی زندہ ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سے محبت کرنے والے پرستاروں کی جتنی بڑی تعداد آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ہے وہ محبت کسی اور ہیرو کو نہ مل سکی۔

akhtar sardar ch

(Visited 47 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *