پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ۔۔۔ تحریر : مہک عاقب ۔ دھوریہ، کھاریاں، گجرات

اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ اپنے آپ میں ایک واضح مفہوم رکھتا ہے کہ انسان اپنی اصل، اپنی پہچان ،اپنی حقیقت اور بنیاد سے جڑا رہے اورپر امید ہو کہ اس کی یہ لگن اور انتھک محنت و کوشش اسے کافی نفع پہنچائے گی اور وہ دنیا میں ایک نام ،مرتبہ یا مقام و منصب پا جا ئے گا ۔تاریخ کے صفحات اس روشنائی سے سیاہ ہیں کہ جب سے دنیا مین انسان کا وجود منظِرعام پر آتا رہا مختلف تجربات و مشاہدات کی بنا پریہ حقیقت بھی واضح ہوتی رہی کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ۔وہ تن تنہا اپنا ہرمعاملہ حل کرنے سے قاصر ہے۔ وقت و ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے اور دنیا میں آگے بڑھنے کیلئے جس پہچان ، بنیاد اور اصل مقصد کی ضرورت ہے وہ ایک فرد معاشرے سے قطع تعلق ہو کر کبھی حاصل نہیں کر سکتا ۔جس طرح موج کی قوت کا جوش اور زور سمندر کے اندر ہوتا ہے اور سمندر کی حد کے باہر موج کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اسی طرح ایک تنہا فرد کی ملت کے بغیر کوئی حیثیت و قوت نہیں ہوتی لیکن جب وہ ایک ملت میں گم ہو جاتا ہے تو بڑی قوت بن جاتا ہے۔بقول اقبالؔ
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی ،نہ ایرانی ،نہ افغانی
ایک فرد اگر ایک معاشرے میں رہتے ہوئے ہر چیز کو نہ صرف ملحوظِ خاطر رکھے بلکہ زمانے کو ساتھ لے کر چلے ،اپنی شخصیت کو فروغ دے ،ہر طرح کی مشکلات و مصائب کا سامنا کرے ، روز مرہ کے معاملات میں اچھے اور برے کی تمیز کرے، حالات کو خوشگوار ماحول کی طرف موڑ دے ، ہر صورتِ حال میں صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی منزل ،اپنا صلہ، اپنی محنت کا پھل یا انعام نہ پائے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو اس کے صبر کا پھل، اس کے کیئے کا بدلہ، اس کے ہر عمل کا صلہ یہاں تک کہ اس کے ہر امتحان کا بہتر نتیجہ اور انعام صرف اسی صورت میں ملتا ہے جبکہ وہ اپنی زندگی کا ایک حصّہ اپنے مقصد کو پانے میںَ صرف کرتا ہے اور اپنی پوری طاقت سے اس مقصد کے حصول کیلئے کوشاں رہتا ہے ، بنا یہ سوچے کہ اسے کتنی مشکلات، پیچیدگیوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔صرف اتنا ہی نہیں حصولِ مقصد میں حائل روکاوٹوں میں سے ایک تلخ لہجوں کی تلوار وں کے وار جھیلنا بھی ہے ۔جب بھی کوئی فرد اپنے کسی کام یا مقصد کی تکمیل کا عزم کرتا ہے تو ناامیدی سے بھرے ہزاروں چہرے اس کی راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ چہرے اجنبی ہوں اس دورِ آزمائش میں اپنوں کے رویوں کے وار زیادہ نمایاں اور گہرے ہوتے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود جو شخص اپنے اصولوں اور اپنی سوچ پر ثابت قدم رہے وہی آگے چل کر ایک انمول نگینے کے طور پر اپنا سکہ منواتا ہے ۔
اِک نقطے کے گرد گھومتی کہانی ہی سہی 
اِک مدار میں چلتی روانی ہی سہی
بیش بہا قیمتی جواہر سے لدھی مہکؔ !۔
پائی ہے زندگی تلخیوں کے بعد سہی
ملکی سطح پر بات کی جائے تو ہم سوشل میڈیا پر ایک جماعت کو الزام تراشی کرتے دیکھتے ہیں تو کیا دوسری جماعت خاموش رہتی ہے ؟ بلکل نہیں اس کے بھی لیڈران اور حمایتی زورو شور سے تنقید کرتے ہیں کہ ہم نے بھی کوئی چوڑیاں نہیں پہنیں اور اسی گرما گرمی میں ملکی سیاست میں گالی گلوچ کی رسم رواج پا گئی ہے جس نے ہماری معاشرتی اقدار کو روند کر رکھ دیا ہے ۔اسی طرح کا سلسلہ ملک و قوم کی سالمیت کا بھی ہے اور بحیثیت ایک قوم ہمیں اپنے مرتبے کو بلندیوں تک لے جانے کیلئے اپنی معاشرتی اقداروں پر عمل درآمد کرنا ہو گا ۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ ملکی سطح پر جرائم کی روک تھام ہو گی نیز مساوات کو فروغ حاصل ہو گا اور ملک میں امن و سکون کا قیام عمل میں آئے گا ۔اسی طرح بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ اسی صورت میں بچائی جا سکتی ہے جب ملک کے اندرونی معاملات امن و سکون سے طے پائیں اور ملکی فیصلے اتنے معیاری اور پائیدار ہوں کہ عوام او حکومت میں مفاہمت کی فضاء قائم ہو او ر عالمی سطح پر قومی یکجہتی و ملکی سالمیت کی جھلک دکھائی دے،کیونکہ عالمی سطح پر بھی ایک ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جبکہ اس ملک کی عوام خوشحال ہو اور ان کی زندگیاں اخوت و بھائی چارے اور اتفاق و اتحاد کی زندہ مثال ہوں ۔ اخوت و اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔کسی ملک کی بقاء اور فلاح و ترقی کا انحصار قومی اتفاق اور یکجہتی پر ہوتا ہے۔قومی اتحاد کے بغیر خوشحالی اور کامیابی کا تصور بھی ایک خام خیال ہے ۔کوئی بھی قوم ، ملک یا جماعت اس وقت تک ترقی و کامیابی اور عزت و وقارحاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے افراد میں ہم آہنگی اور اتفاق نہ ہو ۔
مانا کہ رکنا نہیں جستِ مسلسل ہے زندگی 
اک آیا اک جائے گا کَھلتی ہی نہیں ہے کمی
تغیر کی اک لہر جو دوڑ پڑی ہے رگوں میں 
منزل کو ڈھونڈنے میں جیسے عمر کٹ گئی
اس آس پہ جینا کمال مرنا محال ہے مہکؔ !۔
امید جڑی ہے شجر سے تو خزاں کا ملال کیوں ؟۔ 
نیز اسلام بھی ہمیں اتحاد و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ارشادِ ربّانی ہے کہ
وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآ ءً فَاَلَّفَ بِیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٓ اِخْوَانًا۔ (سورہ آل عمران ۱۰۳)۔
’’اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کروجو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔‘‘
بمطابق الطاف حسین حالیؔ صاحب
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
جس طرح اللہ رب العزت نے مومنوں کو اتحاد و اتفاق اور محبت اور بھائی چارے کا حکم دیااسی طرح انہیں اختلافات اور گروہ بندی سے بھی روکا ۔ ارشادِ خداوندی ہے کہ
وَلَا تَکُوْنُوْا مِنْ الْمُشْرِکِیْنَ۔مِنَ الّٰذِیْنَ فَرَّقُوْا (سورۃ الروم آیت نمبر ۳۲،۳۱)۔
’’اور مشرکین میں شامل نہ ہو جاناجنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے کر دئیے اور خود گروہوں میں بٹ گئے۔‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا!۔
’’ایک مومن دوسرے مومن کیلئے دیوار کی مانند ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط بناتی ہے۔‘‘ (کتاب صحیح بخاری)۔
اس حدیث سے ایک اہم سبق ملتا ہے کہ ہر مومن کو دوسرے مومن سے تعاون کرتے ہوئے اسے مضبوط بنانا چاہئے اور ضرورت کے وقت اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ آج جو بیج بوئیں گے کل اسی کا پھل کاٹیں گے۔اپنے ماضی کو اگر ہم کانٹوں سے پُر کریں گے تو پلٹنے پر محض کانٹے ہی چبھیں گے۔اس لئے اپنا ہر کام اس خوش اسلوبی اور محبت سے کیا جائے کہ اگر کبھی مڑ کے دیکھنا پڑے تو ایک خوبصورت باغیچہ ہمارا منتظر ہو ۔ لہٰذا ہمیں اپنے اوصاف میں محبت کاہزپیدا کرنا چاہئے ؛ قوم سے محبت، ملک سے محبت ،انسانیت سے محبت۔۔۔۔
نہیں ہے جگہ مجھ میں نفرت کیلئے مہکؔ !!!۔
میں تو ہر وقت محبت کی وادیوں میں گھومتی ہوں
عصر حاضر میں ہماری جس چیز سے سب سے زیادہ امید بندھی ہے وہ ملکی سیاست اور حکمرانوں کے ہاتھوں کھیلتا ہوا ملک کا مستقبل ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے ہم کسی طور بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔قیادت کی بات کی جائے توماضی کے مسلمان لیڈروں کی بہادری اور دوراندیشی سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑیں ہیں لیکن موجودہ حکمرانوں کی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے اور آجکل سیاست کو بھی اپنے مفادات پورے کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔
جانے کون سی قیامت ٹوٹے اس وطن پہ مہکؔ !۔
اس قوم کی قیادت کی اب نیت خراب ہے 
یہ ملک پاکستان جس میں ہم رہتے ہیں ،سانس لیتے ہیں ،تعلقات استوار کرتے ہیں ،اپنی اپنی مذہبی رسومات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔اس ملک اور آزاد ریاست پاکستان کا اتنی قربانیوں اور جدوجہد کے بعد ملنا کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں ہے اور اس کی بقا ء و حفاظت میں نوجوانوں ، بوڑھوں ، عورتوں ، اور بچوں نے جو قربانیاں دیں تاریخ میں ان کی بھی مثال نہیں ملتی ۔مملکتِ پاکستان قدرتی ذخائر و وسائل سے مالا مال ہے اور اپنی ترقی اور کامیابی میں کسی کا مختاج نہیں ۔یہ ملک اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے تمام مسائل کا حل خود نکال سکتا ہے ۔اسے کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ،لیکن پھر بھی یہ ملک اپنے تمام معاملات کو حل کرنے کیلئے دوسرے ممالک کی طرف کیوں دیکھتا ہے ؟کیوں یہ دوسروں کی امداد ا و ر قرضوں کا مختاج ہے؟کیوں یہ اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی ممالک کو بولنے کی اجازت دیتا ہے؟کیوں ملک کا انصاف اعتدال کے راستوں پر نہیں ہے ؟کیوں غریب ہر جگہ پستا ہے اور امیر بازی لے جاتاہے ؟البتہ معاملہ جو بھی ہو بات محض قیادت و جماعت بازی کی ہے جو اتنی قدرتی نعمتیں موجود ہونے کے باوجود بھی ملک میں فلاح و ترقی نام کی کوئی چیزہی نہیں اور نہ ہی انصاف کا معیار قائم ہے۔
چاہوں تو سو بار جی لوں اس جہاں میں 
چاہوں تو مرنے کو اک گھڑی میسر نہیں
زندہ ہوں ، اپنے ماضی کو یاد کر کے 
ورنہ حال میں میرا ، بچا کچھ نہیں 
تاریخ سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ سے ہی اتحاد و اتفاق کی بنا پر مسلمانوں کی اعلیٰ قیادت ہر میدان میں آگے رہی اور اپنی کامیابی کا سکہ منواتی رہی جبکہ موجودہ قیادت اور جماعتیں محض قرض لینے ، نا انصافی پھیلانے، الزام تراشی کرنے ،سیاست کو گندہ کرنے ا ور کرپشن کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ان جماعتوں سے منسلک تمام لوگ اپنے اپنے مفادات کو قوم کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اور ملکی سرمائے پر ان کی نظر ہوتی ہے ۔ان کا ملک و قوم اور عوام کے اغراض و مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بس ان کی جیب گرم رہنی چاہئے ۔یہ بات صرف ایک جماعت سے متعلق نہیں بلکہ جو نیا چہرا بھی سیاست میں آتا ہے اسی مقصد اور ارادے کے ساتھ آتا ہے بیشک وہ عوام الناس کی نظر میں کتنی ہی پارسا اور با اخلاق شخصیت کا مالک ہی کیوں نہ ہو، حکومت اور کرسی کی لالچ اسے اندھا کر ہی دیتی ہے۔طاقت اور شہرت کے نشے میں ڈوبے لوگوں کی اسی لالچ کی وجہ سے کرپشن جیسی بیماری نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ وسائل ہونے کے باوجود بھی ہم انہیں استعمال میں لانے کے قابل نہیں ہیں ،حتیٰ کہ دوسرے ممالک ہمارے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر لحاظ سے ہمیں نقصان بھی پہنچا رہے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے بھی دبا رہے ہیں۔
دفن کر دو صندوقوں میں نفرتوں کو 
راکھ کر دو آگ سے عداوتوں کو
مہکؔ !خیر آباد کہو لالچ بھری اس دنیا کو 
نہ تول پیسوں سے ، جذبہِ انسانیت کو
بات وہیں پر آ جاتی ہے کہ آجکل کے حکمران حضرات حلف اٹھاتے ہوئے ایمانداری کے جھنڈے گاڑنے کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن کرسی ملنے کے بعد اسی ملک کی دیواروں کو کرپشن سے کھوکھلا کر دیتے ہیں جبکہ مفاد پرستی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے مطلب کیلئے دشمن سے بھی جا ملتے ہیں ۔ہمارے ملک پاکستان کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو دشمن کی آنکھ سے آنکھ ملا کر اپنا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد اور قومی یکجہتی کو ملحوظ خاطر رکھ کرکرے چاہے وہ پنجابی ہو سندھی ہو بلوچی ہو یا پٹھان ہو لیکن جذبہ اخوت سے سرشار ہو اور ملک کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرے ۔
مہکؔ ! ہم ایک ہیں تو ڈرتا ہے زمانہ
بٹے جو چار حصوں میں تو تھوکے کا زمانہ
قصہ المختصر ماضی سے لے کر اب تک کے حالات ، قرآن و حدیث سے مروجّہ ہماری تہذیب اور تمام معاشرتی اقدارہمارے سامنے ہیں ۔ اب بات محض عمل کی ہے اور اس عمل پر ہمارے ضمیر کے مطمئن ہونے کی ہے ۔کیونکہ امید پہ دنیا قائم ہے اور ہم بھی حالات کی بہتری کیلئے دعا گو ہیں جیسا کہ اقبالؔ نے کہا !۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ 
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *