غیرمعیاری کسٹوڈین شپ ۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

انسانی ہسٹری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے مرد اور عورت کے درمیان شادی کا رواج پڑا اُسی وقت سے دونوں کے درمیان علیحدگی یا طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی شروع ہوئے۔ یہ الگ بات کہ اُن مسائل پر بہت دیر بعد توجہ دینی شروع کی گئی لیکن اب بھی ایسے حل طلب ایشوز ہیں جو بہت سنگین ہیں۔ طلاق کے بعد کے عمومی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ بچوں کی پرورش اور کسٹوڈین شپ کا ہوتا ہے۔ طلاق کے بعد کے حالات کو جتنا بھی موافق بنالیا جائے اُس کے مختلف اثرات بچوں پر ضرور پڑتے ہیں۔ مختلف ممالک میں اِن اثرات کی نوعیت اور شدت مختلف ہوتی ہے۔ اِن اثرات کے نتائج کا تعلق اُس معاشرے کے ثقافتی پس منظر، مذہبی رسم و رواج اور قوانین پر ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں بچوں کے حوالے سے عمومی قوانین بھی بہت سخت اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اُن ممالک میں عموماً مذہبی رسم و رواج سے دوری اور ثقافت میں روایتی خاندانی نظام کا نظریہ ختم ہو جانے کے باعث طلاق شدہ والدین کے بچے نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خستہ حالی سے کسی قدر محفوظ رہتے ہیں۔ وہ ممالک جہاں بچوں کے حوالے سے عمومی قوانین زیادہ بہتر نہیں ہیں اور نہ ہی اُن پر عمل درآمد کا نظام بہتر ہے، اُن ممالک میں مذہبی رسم و رواج سے قربت اور ثقافت میں روایتی خاندانی نظام کا نظریہ بھی موجود ہونے کے باعث طلاق شدہ والدین کے بچے نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خستہ حالی میں زیادہ مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستان کا شمار دوسری قسم کے ممالک میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں طلاق کے بعد کسٹوڈین شپ روایتی طور پر ماں کو ملتی ہے لیکن کبھی کبھار بچوں کی کسٹوڈین شپ باپ کو بھی مل جاتی ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گارڈین شپ کا قانون 129 برس پرانا ہے جسے ’’گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890ء‘‘ کہا جاتا ہے۔ گزشتہ 72 برسوں سے کسی حکومت، وکلاء کی کسی تنظیم یا سِول سوسائٹی کے کسی ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ معصوم بچوں کی گارڈین شپ کے حوالے سے 129 برس پرانے قانون کو جدید تقاضوں کے مطابق خود بنائے یا بنانے کے لئے عدالت میں چیلنج کرے۔ طلاق شدہ والدین کے بچوں کے مسائل کو دو بڑے خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ ان کے والدین میں سے کسی کو اُن کی کسٹوڈین شپ مل جانے کے بعد وہ بچے ماں یا باپ کسی ایک سے دور ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے جس کسٹوڈین والدین کے ساتھ رہتے ہیں وہاں انہیں نئے ثقافتی، معاشرتی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے ایک بہت اہم مسئلہ جو شاید اب تک کسی جگہ پر بھی شدومد کے ساتھ زیربحث نہیں لایا گیا وہ یہ ہے کہ کسٹوڈین شپ دیتے وقت ماں یا باپ کے لئے جو میرٹ دیکھا جاتا ہے اس میں کسٹوڈین شپ مل جانے کے بعد ان بچوں کی پرورش کے معیار کی مسلسل نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ جب بچے اپنے کسٹوڈین کے پاس چلے جاتے ہیں تو ان کی نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی پرورش کا معیار مسلسل برقرار رہتا ہے یا نہیں یا اُن معصوم بچوں پر آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے والا محاورہ فِٹ آتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے دو سچی مثالیں سٹڈی کرتے ہیں۔ پہلی مثال میں ماں کسٹوڈین ٹھہرتی ہے۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو لے کر اپنے والدین کے ہاں رہائش اختیار کرتی ہے۔ شروع میں دی گئی دو مختلف معاشروں کی مثالوں میں سے ہمارا تعلق دوسری قسم کے معاشرے سے ہے۔ اس لئے طلاق یافتہ مذکورہ ماں نفسیاتی اور معاشرتی دباؤ میں ہونے کے باعث اپنے بیٹے پر اپنی محرومیوں کا غصہ اتارتی رہتی ہے۔ اُس ماں کی ذہنی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ کبھی وہ اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتی ہے اور کبھی اُس کی بہت مار پیٹ کرتی ہے۔ گویا اُس ماں کا اپنے بیٹے کے لئے رویہ ہردو صورتوں میں شدید ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ماں اپنے ماں باپ کے ہاں رہتے ہوئے بھی اپنے ماں باپ سے ہی اکثر ناراض رہتی ہے۔ ناراضگی کے دنوں میں وہ اپنے آپ کو اور اپنے بیٹے کو ایک کمرے تک محدود رکھتی ہے۔ مختصر یہ کہ وہ بیٹا اس نفسیاتی اور معاشرتی دباؤ میں جوان ہو جاتا ہے اور ماں کے مسلسل غیرمتوازن روےئے کے باعث اس سے اکتا کر بالغ ہونے کے بعد اپنے باپ کے پاس چلا جاتا ہے۔ دوسری مثال میں کسٹوڈین شپ والد کو مل جاتی ہے۔ اُس کے گھر میں بوڑھے ماں باپ کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا۔ اب بچے اپنے دادا دادی کے پاس رہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں گھر کے کام کاج کی ذمہ داری عمومی طور پر خاتون پر ہوتی ہے۔ مذکورہ گھر میں بوڑھی دادی کے علاوہ کوئی اور خاتون نہیں ہوتی۔ اس لئے معصوم بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے کام کاج کی تمام تر ذمہ داری بوڑھی دادی کے ناتواں کندھوں پر آجاتی ہے۔ اب یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ وہ خاتون خود عمر کے اُس حصے میں ہے جہاں تقریباً ہر انسان بہت سی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے جس کے لئے عمر کے اِس حصے میں معمولی کام کاج بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ معصوم بچوں کی دیکھ بھال اور کام کاج کا بوجھ بھی اُس پر پڑجائے۔ ایسی صورت میں والد کا کسٹوڈین شپ حاصل کرنا صرف ایک ضد کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ جس کا مقصد اپنی سابقہ بیوی کو سزا دینا ہو لیکن درحقیقت سابقہ بیوی کی نسبت وہ اپنے ہی بچوں اور اپنی ماں کو زیادہ سزا دے رہا ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا دونوں مثالوں میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسٹوڈین شپ مل جانے کے بعد بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے مناسب حالات نہیں تھے۔ ہمارے ہاں شاید ایسا کوئی قانون بھی موجود نہیں ہے جو ایسے بچوں کے بعد کے حالات پر نظر رکھتا ہو۔ اس حوالے سے تجویز ہے کہ فیملی لاز اور کسٹوڈین شپ قوانین میں یہ ضروری ترمیم کی جائے کہ بچے جس کسٹوڈین کے پاس رہ رہے ہوں اُس گھر کی متواتر انسپکشن کی جاتی رہے۔ اس کے لئے عدالت کوئی تھرڈ پارٹی اتھارٹی بنائے جو بچوں کے طرزِ رہائش، ان کے روزمرہ معمولات اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کی صحت، معاشی اور معاشرتی حالات کے بارے میں رپورٹ مسلسل عدالت کو دیتی رہے اور یہ عمل بچوں کے بالغ ہونے یعنی 18 برس کی عمر تک پہنچنے تک جاری رہے۔ غیرمعیاری کسٹوڈین شپ سے ہم بچوں کا معصوم بچپن کھا جاتے ہیں۔ سانپ اپنے بچوں کو کھاتا ہے مگر ہم سانپ تو نہیں ہیں۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *