مدارس کے فضلاء کرام کی خدمت میں چند گذارشات ۔۔۔ تحریر : ثناء اللہ جان یوسفزئی

دینی مدارس کی آ ٹھ سا لہ طویل علمی سفرطے کرنے میں کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑھتا ہے،مثلا علم کلام کے پچئدہ مسائل ہو یا منظق و فلسفہ کی مغلق عبارات کی تشریح ،علامہ حریری کی لفاظی کے چرچے ہو یاصاحب ہدایہ کا طرز استدلال، علامہ تفتازانی کی گرج چمک ہو یا امرء القیس کی شعر گوئی،بخاری کی حدثنا کے زمزمے ہو یا امام مسلم کی جرح وتعدیل کے نشتر ، امام ترمذی کی قال ابو عیسی کے ترانے ہو یا امام ابو داود کی قال ابو داود کے نغمے، غرض مدارس کی زندگی اک جھد مسلسل ہے جس میں وہی جیتے ہیں جو طوفانوں کا رخ موڑ سکتے ہیں،ہر سال کی طرح امسال بھی ملک کے طول وعرض کے ہزاروں طلباء کرام اپنی منزل تک رسائی کے لیے پرامید ہے، درس نظامی کی آٹھ سالہ طویل علمی سفر کے تھکے مسافر بلاخر اپنی منزل کے قریب ہے،دینی مدارس کے یہ طلباء کرام ، جلد یا بدیر ، ایک نئی سوچ ، ایک نئے جذبے کے ساتھ میدان عمل میں ہونگے ،مدارس کے ان فضلاء کرام کی خدمت میں چند گذرشات پیش خدمت ہے،
میرے فضلاء کرام دوستو ں ، آپ مدارس کی دنیا سے نکل کر ایک ایسی دنیا میں جارہے ہیں، جہاں نہ تو آپ کی وہ بے تاج بادشاہی ہوگی اور نہ ہی مدارس کے وہ مخلص دوست ہونگے ، نہ جمعرات کی وہ خوشیوں بھری محفلیں ہونگی ، اور نہ ہی دوستوں کی وہ ہنسی مذاق ہوگی،نہ آپ کا دکھ ،درد رکھنے والا مھتمم ، اور نہ ہی آ پ کا کوئی شیخ الحدیث،جو آپ کی زندگی میں خوشیاں بانٹ سکیں، نہ آپ کے وہ مشفق اساتذہ ہونگے ،جو آپ کی خوشیوں کی خاطر اپنی خوشیاں قربان کردیتے تھے،جو اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود بھی چھٹی نہ کرتے تھے، ایک ایسی دنیا میں جارہے ہیں جہاں ہر طرف پریشانیوں کا سماں ہیں،جہاں کی ہر وادی صیادوں کی آ ماجگاہ ہیں،جہاں آپ کا مختلف کرداروں سے واسطہ پڑیگا،کسی نے روشن خیالی وجدت پسندی کی دکان سجا رکھی ہے تو کسی نے معاشیات کے جال بچا رکھیں ہیں ، غرض مدارس کی دنیا سے نکل کر بے چینی ضرور ہوگی، درس و تدریس نہ ملنے کے گلے شکوے بھی ہونگے،معاش کی فکر اور خانگی مسائل بھی ہونگے ، لیکن مایوسی اور ناامیدی کے بجائے اللہ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے دین کی خدمت کا عھد کرلیں،یہ ضروری نہی کہ آپ خوامخواہ کسی بڑے مدرسے میں بڑی کتابوں کا درس کریں،بلکہ اپنے علاقے کی چھوٹی سی مسجد میں نورانی قاعدے سے شروع کریں،آپ کی نورانی قاعدے سے شروع کی جانے والی درس کسی دن بھی بخاری کے حلقہ درس میں تبدیل ہوسکتی ہے،کسی بھی مدرسے میں بخاری پڑھانے کا اجر وثواب نورانی قاعدہ پڑھانے کے برابر ہیں ،اگر آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہیں تو تالیف وتصنیف کے میدان میں اپنی خدمات پیش کرسکتے ہیں ، اگر آپ کو بہترین قوت گویائی دی گئی ہے تو تبلیغ دین اور وعظ وپندار کی صورت میں بگڑی انسانیت کا مداوا کرسکتے ہیں، آگرآپ امور سلطنت چلانے کے گُر جانتے ہیں، اجتماعی قومی مسائل اور سیاسی امور سے واقف ہیں توسیاست کے اکاڑے میں دین بیزار قوتوں کا مقابلہ کرنا آپ کا فرض منصبی ہے،
حدیث میں ہے ،ِ کہ جناب نبی کریم ﷺ تشریف فرما تھے،کہ ایک شخص کا سامنے سے گذر ہوا ،جس کا حال پراگندہ تھا،بال بکھرے ہوئے اور میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے،آپ ﷺ نے اسے طلب فرمایا اور پوچھا،کہ کیا تمھارے پاس ا تنی گنجایش نہی کہ تم غسل کرکے تیل وٖغیرہ لگاتے ؟، اس نے جواب دہا، میرے پاس سینکڑوں اونٹ ہیں اور میں ہزاروں بکریوں کا مالک ہوں، اس پر آپﷺ نے فرمایا ، اگر تجھ پر اللہ کے اس قدر احسانات ہیں تو تجھ پر اس کے اثرات بھی نظر آنے چاہیں، یہ حدیث اگر چہ دنیاوی دولت کے متعلق ہے لیکن میں یہ بات علم کی دولت کے حوالے سے آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ اس سے بڑی کوئی دولت نہی،اس لیے آپ کی وضع ،قطع ، رہن ،سہن ، میں علم کے اثرات نظر آنے چاہیے، ۔
میرےئ فضلاء کرام دستوں، لوگ آپ کو دین کے نمائندے سمجھتے ہیں،اس لیے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ آپ کی کسی بات یا عمل سے دین کے بارے میں لوگوں کا تائثر مجروح نہ ہو، اس کے ساتھ ساتھ آپ اکابر علماء دیوبند کے بھی نمائندے شمار کئے جاتے ہیں،ان کی عزت کا بھی پاس رکھیں،مفتی محمود ؒ اپنے فضلاء کو نصیحت کرتے، کہ ہم جن اکابر کا نام لیتے ہیں آج کے لوگوں نے انہیں نہی دیکھا،مگر وہ ہماری زبانوں سے ان کا نام سنتے ہیں ،اور ہمیں ان کا نمائندہ سمجھتے ہیں، ظاہر بات ہے وہ ہمیں دیکھ کر ہی ہمارے ان اکابر کے بارے میں رائے قائم کریں گے،کہ جیسے یہ ہے ویسے وہ بھی ہونگے،اس وجہ سے ہمیں اپنے معاملات اور معمولات میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں لوگ ہماری وجہ سے اکابر کے بارے میں غلط تائثر قائم نہ کریں،۔
میرے فضلاء کرام دوستوں ،حقیقت یہ ہے کہ فضلاء کرام کیے روزگار اور معاش کے لئے کوئی منصوبہ بندی ہمارے مدارس کی ترجیحات میں شامل نہی،بلکہ الٹا اس کو دین سے دوری کے مترادف سمجھا جاتا ہیں،یہ بات قابل غور ہے کہ اگر شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ ،برطانوی ہند کی حکومت سے مدارس کے فضلاء کے لئے وظیفے کا معاہدہ کرسکتے ہیں تو ہمارے ارباب مدارس پاکستان کی حکومت سے کیوں نہی کرسکتی؟۔
اگر معاش کی فکر اور گھریلو مسائل کی وجہ سے آپ کسی بھی دینی شعبے میں خدمت نہ کرسکیں تو دنیا کے کسی بھی مناسب شعبے میں جانا حرام نہیں،آپ ضرور جاییں اور اپنا لوہا منوا کر دینی مدارس کی نیک نامی کا ذریعہ بنیں،
ایک آخری گذرش ہے کہ آپ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی خدمت کریںِ، تو دلجمعی کے ساتھ کریں لیکن کسی دوسرے شعبے میں خدمت کرنے والوں کی دل شکنی اور ان کے متعلق ہتک آمیز رویہ اپنانے سے گریز کریں، ۔

(Visited 29 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *