کیلے اور سیاست میں حیران کن مماثلت ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سیاست میں ’’بنانا ری پبلک‘‘ کی اصطلاح عام ہے۔ اِسے سب سے پہلے امریکی مصنف اوہینری نے 1901ء میں لاطینی امریکہ کی ریاستوں کے لیے ایجاد کیا۔ اس سے مراد وہ ریاستیں تھیں جہاں سیاست اور معیشت انتہائی غیرمستحکم ہوتی۔ یہ ممالک اپنی آمدنی کے لیے معدنیات اور کیلے کی کاشت پر مکمل انحصار کرتے۔ بنانا ری پبلک کی مذکورہ تاریخ کو چھوڑ کر اگر ہم کیلے اور سیاست دان میں مماثلت تلاش کریں تو بعض حیران کن نکات ملتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ کیلے کا درخت زمین میں فطری طور پر نہیں اگا بلکہ پانچ ہزار سال قبل مسیح میں اِسے انسان نے ایجاد کیا۔ انسان کا حکمرانی کے لیے فطری طور پر رجحان بادشاہت کی طرف تھا۔ سیاست انسانی معاشرے میں پہلے سے موجود نہیں تھی۔ گویا سیاست دان انسانی ایجاد ہیں۔ کیلے کا درخت دراصل درخت نہیں ہوتا۔ یہ آفیشلی دنیا کی سب سے بڑی جڑی بوٹی ہوتی ہے جو درخت لگتی ہے۔ سیاست بھی کچھ اور ہوتی ہے اور نظر کچھ اور آتی ہے۔ سیاست دان اپنے آپ کو معاشرے میں درخت کی مانند سمجھتے ہیں۔ درخت ہردو طرح سے فائدے مند ہوتا ہے۔ جب تک درخت ہرا بھرا رہے، جاندار اس کے سائے اور پھل سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ جب وہ سوکھ جاتا ہے تو اس کی لکڑی بہت کارآمد ہوتی ہے۔ سیاست دان ہردو صورتوں میں عموماً معاشرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ زندہ رہیں تو حکومت کرتے ہیں، چلے جائیں تو ان کی نسلیں ان کے نام پر حکومت کرتی ہیں۔ گویا سیاست دان دراصل جڑی بوٹی ہوتے ہیں لیکن درخت نظر آتے ہیں۔ کیلے کا سائنٹفک نام ’’موسا سیپی اینٹم‘‘ ہے جس کا مطلب ہے ’’سمجھدار لوگوں کا فروٹ‘‘۔ سیاست میں بھی کوئی کم عقل کامیاب نہیں ہوتا۔ سیاست سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت سمجھدار ہونا ضروری ہے۔ جب ایک سیاست دان اپنی سمجھدار چالوں سے دوسرے سیاست دان کو مات دے دیتا ہے تو وہ کامیاب کہلاتا ہے۔ گویا سیاست سمجھدار لوگوں کا فروٹ ہے۔ پھلوں کو نچوڑ کر اُن کا رس نکالا جاسکتا ہے جو انسانی زندگی کے لیے راحت بخش ہوتا ہے۔ کیلے کو نچوڑنے سے اُس کے گودے کا ملیدہ بن جاتا ہے لیکن رس کبھی نہیں نکلتا۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھانے والے اپنی ذاتی شخصیت کو انسانی خدمت کے کاموں میں گم کردیتے ہیں اور اُن کے ویلفےئر پراجیکٹس کا رس معاشروں کے لیے راحت بخش ہوتا ہے۔ سیاست دان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سوچ عموماً اپنی ذات کے گرد ہی گھومتی ہے۔ وہ کاموں کی جگہ اپنی شخصیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی لوگ اُن کے ہاتھوں ہونے والے کاموں کا رس پینے کو ترستے ہیں۔ سیاست دان معاشرے کا رس پی کر اپنی ذاتی شخصیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ گویا سیاست میں شخصیت ہوتی ہے، شخصیت کے بغیر رس نہیں ہوتا۔ کیلے کے درخت کا تنا اور شاخیں موٹی ہونے کے باعث مضبوط نظر آتی ہیں لیکن بہت کھوکھلی اور کمزور ہوتی ہیں۔ سیاسی لوگ اپنے آپ کو بہت مضبوط اور منجھے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کبھی ان کے راز کھل جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے ناپائیدار اور بناوٹی تھے۔ گویا مضبوط نظر آنے والے سیاست دان بھی اندر سے کھوکھلے اور کمزور ہوتے ہیں۔ کیلے کے درخت کے تنے اور شاخوں کی سرجری کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک جھلی دوسری جھلی پر لپٹی ہوئی ہے۔ اگر آپ انہیں ہٹانا شروع کریں تو یہ ختم ہی نہیں ہوتیں۔ حتیٰ کہ آخری جھلی کے بعد کچھ بھی نہیں رہتا۔ یعنی کیلے کے درخت کا تنا اور شاخیں بہت سے پردوں کا مجموعہ ہیں۔ سیاست بھی بہت سے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ ایک پردہ اٹھے تو دوسرا سامنے آجاتا ہے جن کے اختتام پر کچھ نہیں ملتا۔ گویا سیاست دان بھی پردوں کا مجموعہ ہیں۔ پرانے زمانے کے ملاح اپنی کشتیوں میں کیلے رکھ کر نہیں لے جاتے تھے۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا بدنصیبی کی علامت ہوتا تھا۔ موجودہ جدید دنیا میں بھی کئی جگہ پر یہ سوچ موجود ہے کہ ان کے ملک کی بدحالی کی وجہ ان کے سیاست دان ہیں۔ اسی لیے وہ سیاست کو اچھا نہیں سمجھتے۔ گویا بعض جگہوں پر سیاست ابھی بھی بدنصیبی کی علامت ہے۔ کچھ پرانی کہانیوں میں کیلے کو ایک ہتھیار کے ڈراوے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ وہ ایسے کہ جب کوئی مسافر اکیلے سفر کرتا تو وہ اپنی پتلون یا کوٹ کی جیب میں کیلے کو ایسے رکھتا کہ باہر سے دیکھنے والے کو وہ پستول کی طرح لگے۔ سیاست میں بھی مخالف پر رعب ڈالنے اور اسے ڈرانے کے لیے بناوٹی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر اصلیت کھل جائے تو اُس کا سارا خوف جاتا رہتا ہے۔ گویا سیاست دان بھی مخالفین پر رعب ڈالنے اور انہیں ڈرانے کے لیے ڈرامائی چالوں کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ کیلے کا درخت صرف ایک مرتبہ پھل دیتا ہے۔ سیاست دان بھی لوگوں سے میٹھے پھل جیسی مٹھاس کے ساتھ عموماً ایک مرتبہ ملتے ہیں۔ جب الیکشن کا زمانہ ہوتا ہے تو وہ ووٹ لینے کے لیے ووٹروں کے ساتھ ایسے شیروشکر ہو جاتے ہیں جیسے ان سے زیادہ عوام کا مخلص کوئی نہ ہو۔ الیکشن کے بعد ان کا ملنا صحرا میں پانی تلاش کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ گویا سیاست دان بھی ایک مرتبہ ہی پھل دیتے ہیں۔ جب کیلا ایجاد کیا گیا تو اس وقت اس میں بیج موجود تھے۔ انسان نے محسوس کیا کہ کیلے جیسی لذیز نرم اور میٹھی شے کو ایک دم ہڑپ کرتے وقت بیج رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لیے صدیوں کی محنت کے بعد کیلے میں سے بیج ختم کردیے گئے۔ اب کیلے میں بیج نہیں ہوتے۔ سیاست دان بھی اپنی سیاست کے جلد سے جلد فائدے اٹھانا چاہتے ہیں۔ گویا سیاست دانوں کے نزدیک سیاست خدمت خلق والا ان تھک اور صبرآزما کام نہیں بلکہ نرم و نازک کھاجہ ہے۔ کیلے کی نسل کو ناپید ہونے کا خطرہ ہروقت لاحق رہتا ہے۔ چونکہ کیلے کے بیج نہیں ہوتے، اس لئے اگر کسی وقت بھی کیلے کے اگے ہوئے تمام پودے ختم ہو گئے تو کیلے کا فروٹ دنیا سے ختم ہو جائے گا۔ سیاست دانوں کو بھی مختلف وجوہات کی بناء پر اپنی سیاست کے ختم ہونے کا احساس رہتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنی نسل کو سیاست میں لاتے ہیں تاکہ دیر تک ان کی شناخت برقرار رہ سکے۔ گویا سیاست دانوں کو بھی ناپید ہونے کا خطرہ ہروقت لاحق رہتا ہے۔ کیلا موڈ بوسٹر ہے یعنی کیلا کھانے سے مزاج خوشگوار ہو جاتا ہے۔ سیاست دان جب تک سیاست میں کامیاب رہیں ان کا موڈ اچھا رہتا ہے۔ ناکامی ان کے مزاج پر سخت اثرات مرتب کرتی ہے۔ گویا سیاست دانوں کے لیے بھی سیاست موڈ بوسٹر ہے۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *