میرے درد کو جو زباں ملے ۔۔۔۔ تحریر : نمرہ ملک

پروفیسر(ر) محمد نواز ملک کے ساتھ ایک فکری نشست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دسمبر کی اک چمکیلی صبح تھی جب تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے صدر جناب مختیار احمد فاروقی نے مجھے فون کر کے حکم دیا کہ اک علمی شخصیت سے ملاقات کے لیے جانا ہے۔مختیار فاروقی علم دوست بندے ہیں اور ایسے لوگوں کی ہی قربت میں رہنا پسند کرتے ہیں جن سے زندگی کا کوئی سبق سیکھا جائے اور میرے ان محترم استاد نے میری علمی پیاس کو جانتے ہوئے ہی مجھے آنے کی دعوت دی تھی۔مقررہ وقت پہ تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کاوفد محترم پروفیسر ملک محمد نواز کے دولت کدے پہ پہنچ گیا۔براؤن ویسٹ کوٹ شلوار سوٹ میں ملبوس سیاہ چشمے اور سٹک کے ساتھ ایک پروقار شخصیت نے ہمارا استقبال کیا۔یہ ہی پروفیسر محمد نواز تھے۔
سادہ سا گھر،سادہ ہی مکین اور گفتگو میں سادگی ،یہ اس خاندان کا خاصہ لگی۔پروفیسر صاحب نے پرتکلف چائے سے ہماری تواضع کی۔تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے ممبران کامران سلیم،احتشام،اے بی فاروقی اور مختیار احمد فاروقی کے علاوہ پروفیسر محمد نواز کے صاحبزادے بھی اس نشست میں شریک تھے جب کہ بعد میں پروفیسر صاحب کی لاڈلی اور لائق فائق بیٹی فرزانہ ملک بھی گفتگو میں شریک ہو گئیں۔پروفیسر صاحب کی گفتگو میں ان کی بیٹیوں خصوصاً فرزانہ ملک کا زکر بہت آیا جس سے اندازہ ہوا کہ پروفیسر موصوف بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی بہت شفقت دینے والے اس معاشرے کے اعلیٰ زہن رکھنے والے فرد ہیں۔ہم جتنی دیر وہاں بیٹھے،پروفیسر صاحب اپنے خاندان اور خصوصاً بچوں کا زکر شفقت سے کرتے رہے جس سے ان کی’’ بے پایاں شفقت اور خلوص ہر کسی کے لیے ‘‘کا اندازہ ہوا ۔
دوران گفتگو پروفیسر ملک محمد نواز نے اپنی زندگی کے کئی دلچسپ واقعات سنائے۔کئی بار اپنے بچپن کی حسرتوں کا زکر کرتے ان کی آنکھیں بھر آئیں اور کئی بار اپنے بچوں کی زندگیوں کی آسودگی ان کے لہجے میں فخر بن کر جھلکی۔زندگی جیسے سخت اور خشک موضوع پہ ان کی گفتگو نے ورطہء حیرت میں ڈال دیا۔
آپ وادی سون سکیسر ضلع خوشاب کے ایک غریب اور پسماندہ علاقے ’’مردوال‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔قطب شاہی اعوان ہیں اور ان کے خاندان کو ان کے جد امجد ملک دلاور خان کی نسبت سے ’’درّال‘‘ کہا جاتا ہے۔پروفیسر ملک محمد نواز نے انتہائی غریب اور ناخواندہ گھر میں آنکھ کھولی جہاں لڑکیوں کی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے،لڑکے بھی مر مر کے میٹرک تک پہنچ پاتے تھے،مگر ملک محمد نواز کے ایماندار اور باہمت والد ملک اللہ یار خان جو گاؤں اور خاندان کے لوگوں کی طرح زراعت پیشہ تھے ، بعد میں پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوگئے ۔وہ جلد ہی اپنی ایمانداری کی بنا پہ محکمے میں مشہورہو گئے تھے۔انہی کی بدولت پروفیسر محمد نواز نے تعلیمی مشاغل جاری رکھے ۔یہ مشاغل تاحال جاری و ساری ہیں اور پروفیسر ملک محمد نواز کی علمی پیاس ستر سالہ زندگی کی بہاروں کے ساتھ بجھی نہیں۔
پروفیسر صاحب اک فوجی رہے ہیں مگر شروع سے انہیں کالج کے اساتذہ اور پروفیسرز سے خصوصی لگاؤ تھا اور وہ خواب دیکھتے تھے کہ کاش کبھی میں بھی ان ہی لوگوں کی طرح نفیس اور پڑھا لکھا نظر آؤں۔فوج بذات خود بہت ڈسپلنڈ ادارہ ہے مگر اساتذہ کی معاشرے میں عزت کا اک منفرد پیمانہ انہیں ان کی طرف مائل کرتا تھا۔وقت نے اپنے کاسے میں ان کے لیے آسانیاں ڈال دیں اور تقدیر انہیں ایک استاد کے رتبے پہ فائز کرنے میں کامیاب رہی۔ان کے دل میں جو ازل سے کالج کی تعلیم کا شوق تھا،وہ اپنے مقررہ وقت پہ پورا ہوا۔
خوود پروفیسر صاحب بتانے لگے’’میٹرک کے بعد معاشی اور معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے والد صاحب نے فوج کے حوالے کر دیا۔معاشی بدحالیوں اور خاندانی مسائل کی وجہ سے میرا باقائدہ کالج میں پڑھنے کا شوق پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ہمارے گھرانے کی تعلیمی پسماندگی بھی غربت کی وجہ سے تھی۔غربت ایسی تھی کہ میں باوجود چاہ کے اک طویل عرصے تک سائیکل خریدنے کی خواہش پوری کرنے کی تگ و دو میں رہاجو کہ بہت مشکل حالات سے گزر کے یوں پوری ہوئی کہ جی بھر کے چلا بھی نہیں سکا تھا کہ چھوٹے بھائی کی مجبوری کی بنا پہ اسے دان کرنا پڑ گئی‘‘
پروفیسر محمد نواز اک دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں جن کی باتیں تصنع اور بناوٹ سے کوسوں دور ہیں۔فوج نے انہیں طالب علم سے استاد تک کا جو رتبہ دیا وہ ان کے دل میں کئی شمعوں کے روشن کرنے کا سبب بنا۔ان کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق بتدریج پورا ہوا۔اللہ نے تین سال تک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجز (این آئی ایم ایل)اسلام آباد میں ایک ریگولر سٹوڈنٹ کی حثیت سے پاکستان اور ایران کے مایہ ناز اساتذہ سے کسب فیض حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا۔چوبیس سالہ عسکری خدمات کے بعد اللہ کریم نے صرف دو گھنٹے کے اندر اندر ان کے لیے فارسی کا لیکچرر بننے کے اسباب پیدا فرمادئیے۔
پروفیسر محمد نواز اک طویل جدوجہد کا نام ہیں ۔فوج میں چوبیس سال خدمات سر انجام دینے کے بعد جب وہ ریٹائیر ہوئے تو دوسرے ہی دن ان کو لیکچرر شپ کی آفر ہو گئی جو انہوں نے بہ خوشی قبول کر لی۔انہیں پنجاب کے تین بڑے کالجوں گورنمنٹ کالج آف مظفر گڑھ،گورنمنٹ کالج آف چنیوٹ اور گورنمنٹ کالج آف تلہ گنگ میں اٹھارہ سال تک علم کے موتی بانٹنے کا بھرپور موقع ملا جس سے ان کی علمی و ادبی طبیعت خوب سیر ہوئی۔بقول پروفیسر محمد خان ان کالجوں کے صاحب بصیرت اور نابغہء روزگار پرنسپل صاحبان و پروفیسر صاحبان نے جس طرح میری رہنمائی ،تربیت اور حوصلہ افزائی کی ،میں تاحیات ان قابل ستائش ہستیوں کا شکرانہ ادا نہیں کر سکتا،صرف اللہ پاک کے حضور ان کے لیے دعا اور درجات و وقار کی بلندی کے لیے ہمہ وقت درخواست ہی کرسکتا ہوں۔
پروفیسر صاحب اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے لیے محبتوں کی اونچی چوٹی پہ براجمان ہیں۔وہ اک سایہ دار شجر کی طرح اپنے پیاروں کو چھاؤں مہیا کرتے اور ان کے لیے دکھوں کی دھوپ ہٹا کے سکھوں کے سائے فراہم کرتے رہے۔اپنے خاندان کے لیے ان کی قربانیاں بے مثال ہیں تو اپنے طلباء اور دوستوں کے لیے بھی وہ اک شفیق ہستی ہیں۔وہ اپنے گرد کے لوگوں اور بالخصوص طلباء کے لیے دلی ربط رکھتے ہیں ۔وہ پنجاب کے ’’استاد دربار سنگھ ‘‘ ہیں جن کی انسانیت سے محبت اور درس پاکستان بننے سے اب تک کا مثالی درس ہے۔(استاد دربار سنگھ کی انسان دوستی اک علیحدہ کالم کی متقاضی ہے جس پہ انشاء اللہ جلد اک تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کرونگی)۔بہن بھائیوں سے محبت کی داستاں ان کے اک واقعے سے عیاں ہے ۔پروفیسر صاحب جب فوج میں تھے تو انہیں ’’جنٹلمین‘‘ کی اصطلاح ایسے بندے میں پسند تھی جس نے ہاتھ پہ گھڑی باندھ رکھی ہو۔گھڑی اور سائیکل دو ہی چیزیں تھیں جن سے اس دور میں فیض یاب ہونا بہت بڑی عیاشی تھی۔معاشی بدحالی اور گھر کی بے پناہ مجبوریوں کی بنا پہ پروفیسر صاحب سائیکل کی طرح گھڑی بھی بہت طویل عرصے بعد پہن پائے مگر بھائی کو پسند آنے کی بنا پہ یہ بھی انہیں دان کر دی اور دل میں پنپتے خوشی کے اس جذبے کو جو گھڑی پہن کے اتراتا تھا،خود ہی مسل دیا۔آج ان کے پاس جدید ترین گھڑیاں موجود ہیں مگر وہ اس لمحے کی حسرت آج بھی کرب سے محسوس کرتے ہیں جب انہیں ان دو چیزوں کی شدت سے خواہش تھی مگر لے نہیں سکتے تھے۔
پروفیسر صاحب کے دو بھائی اور دو ہی بہنیں ہیں مگر پروفیسر محمد نواز اپنے کالج اور فوج کے ہمراہیوں اور کولیگز کا زکر ہمیشہ میرے بھائی کہہ کر کیا کرتے ہیں۔میں نے اتنی دیر کی ملاقات میں اک بار بھی ان کے منہ سے کسی شخص کے لیے صاحب کا لاحقہ الگ سے نہیں سنا۔وہ ’’میرے بھائی پروفیسر فلاں،میرے بھائی میجر فلاں صاحب جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے جس سے ان کی انسان دوستی کی مثال ملتی رہی۔پروفیسر اکبر خان نیازی کے زکر پہ آپ آبدیدہ ہوگئے اور ان کی شخصیت کے کئی نمایاں پہلوؤں پہ محبت سے روشنی ڈالی۔اس میں شک نہیں کہ پروفیسر اکبر خان نیازی اک دریا تھے جس کی جولانی اور بہاؤ محبت کی ایک ہی سمت میں بہتا تھا۔وہ خلوص بیکراں کے قائل تھے اور اصولوں کے اٹوٹ مینار!پروفیسر محمد نواز کی گفتگو میں پروفیسر نیازی کا تزکرہ بار بار آیا اور ہر بار ان کے زکر پہ پروفیسر موصوف کی آنکھیں نم ہوئیں۔نیازی صاحب کے بیٹوں حماد،محمد اور احمد کا تزکرہ بھی اسی محبت سے کیا جیسے کہ اپنے بچوں کے کرتے رہے۔
اس دوران پروفیسر ملک محمد نواز کی لاڈلی بیٹی فرزانہ ملک بھی آگئیں ۔اپنے والد کی طرح ہی خلوص و محبت کی پیکر ۔فرزانہ ملک لائق فائق ہیں۔انہوں نے ایم اے اسلامیات،ایم اے پولیٹیکل سائنس،ایم ایڈ اور اردو میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے والد سے بہت قریب ہیں۔فرزانہ ملک اس وقت فوجی فاؤنڈیشن میں پڑھا رہی ہیں ۔ان کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں جو اپنے والد صاحب کی طرح ہی محبتوں کے سفیر ہیں۔یہ ایک علمی و ادبی گھرانہ ہے ۔تمام گھروالے صاحب خانہ کی لازوال قربانیوں کے مداح ہیں ۔اللہ نے پروفیسر ملک محمد نواز کو انہی قربانیوں کے صلے میں انکی اہلیہ کے ہمراہ اپنے گھر کی زیارت بھی نصیب فرمائی۔ملک محمد نواز کی ساری عمر جہد مسلسل کی داستان ہے ۔یہ ایک علمی مجاہد کی زندگی کی کہانی ہے جو پڑھنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے۔علم و ہنر کا ایک دریا اور محبتوں اور شفقتوں کا ایک سمندر ہے ۔اللہ کریم ان کا سایہ سلامت رکھے ۔

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *