برفیلے ٹھنڈے پانی سے خو ف زدہ آخری بندر ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

کہتے ہیں کہ قائد اعظم صدارتی نظام کو پسند کرتے تھے لیکن یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ان کی زندگی میں ہی مقرر ہونے والے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کے خدوخال ابتدائی پارلیمانی نظام سے ملتے جلتے تھے۔ اس کے علاوہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے مارشل لاء سے قبل جتنی بھی سول حکومتیں برسراقتدار رہیں وہ کسی نہ کسی طرح پارلیمانی نظام کے ہی قریب تھیں۔ موجودہ آئین بھی مکمل طور پر پارلیمانی نظام کی حمایت کرتا ہے لیکن 1973ء میں اِس کے نفاذ سے اب تک جتنی بھی سول حکومتیں قائم ہوئیں وہ ذلیل و خوار ہی ہوئیں اور پارلیمانی نظام کی بدنامی کا باعث بنیں۔ اب تحریک انصاف کی موجودہ اِم میچور حکومت کی ناکامیوں کو لے کر پارلیمانی نظام حکومت کو مکمل ناکارہ نظام حکومت کہنے کی صدائیں بہت بلند ہوگئی ہیں۔ دوسری طرف پارلیمانی نظام کی حمایت کرنے والے صدارتی نظام کی خوف ناکیاں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو صدارتی نظام کے ناقدین کا رویہ بھی متعصبانہ ہے کیونکہ اُن کے پاس پاکستان میں صدارتی نظا م کی مثالوں کے لیے صرف چار مارشل لاء ڈکٹیٹر ہی ہیں۔ دنیا بھر میں فرانس، امریکہ اور ترکی سمیت تقریباً 50 ممالک میں سول صدارتی نظام بڑی خوبی سے چل رہا ہے جبکہ تقریباً 72 ممالک میں پارلیمانی نظام رائج ہے۔ اس تناسب کو سامنے رکھا جائے تو حقیقی سول صدارتی نظا م بھی برا نہیں جیسا کہ ہمارے مارشل لاء ڈکٹیٹروں کا صدارتی نظام بُرا تھا۔ اوپر کی گئی باتیں عقلی دلیلوں کی ہیں لیکن گلی محلوں میں پھرنے والے بنجاروں کی چہ میگوئیاں بتاتی ہیں کہ تحریک انصاف جیسی کم اہل سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کا مقصد پارلیمانی نظام کو باہر کا راستہ دکھانا تھا۔ اُن کے مطابق اقتدار حاصل کرنے کے بعد چند مہینوں میں ہی ناکام ہو جانے والی پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمانی نظام کی مکمل ناکامی کے ثبوت کے طور پر پیش کردی جائے گی۔ بنجاروں نے بے پر کی اُڑاتے ہوئے جنرل (ر) راحیل شریف کو مستقبل کے کسی اعلیٰ عہدے کے لیے موزوں ترین بھی قرار دیا ہے کیونکہ اُس وقت تک اُن کا سعودی اتحادی فوج کا کنٹریکٹ بھی ختم ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمانی نظام کے حق میں کتنے سر فروش باہر نکلتے ہیں۔ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام کا ڈھانچہ 1973ء کے آئین سے جڑا ہوا ہے۔ یہ آئین پیپلز پارٹی کا بے بی ہے۔ وہ اس پر کٹ مرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی محبت 1973ء کے آئین میں موجود پارلیمانی نظام سے زیادہ اُن کی اپنی بقا سے ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی کا پارلیمانی نظام کے حق میں اعلان جہاد فطری بات ہونی چاہئے لیکن پیپلز پارٹی کے مالکان آصف علی زرداری اینڈ سن کسی بھی موڑ پر کسی بھی وجہ سے موڑ لے سکتے ہیں۔ سادہ لوح مسلم لیگ ن پارلیمانی نظام کے حق میں پرخلوص ہوگی لیکن اُن کے مزاج میں سڑکوں پر احتجاج شامل نہیں ہے۔ اس لیے وہ نیک تمناؤں اور دعاؤں پر ہی گزارہ کرتے ہیں۔ اگر سیٹ اپ میں تبدیلی ہوئی تو نواز شریف یا شہباز شریف پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی دوسرے سول نظام کا حصہ نہیں بنیں گے لیکن حمزہ شہباز، مریم نواز، جنید صفدر و اہل خانہ کے لئے سول صدارتی نظام میں جگہ تلاش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی چند قوم پرست جماعتیں جن میں اے این پی یا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی وغیرہ شامل ہیں پارلیمانی نظام کے حق میں بیانات یا ڈی چوک پر مختصر سا دھرنا دے کر جمہوری قرض اتار دیں گی۔ اِس سب کو کل ملا کر دیکھا جائے تو پارلیمانی نظام کے حق میں کمزوری ہی کمزوری ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی، ق لیگ، سندھ کی قوم پرست جماعتیں، شیخ رشید و جنرل پرویز مشرف، جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمان، خادم حسین رضوی سمیت تقریباً تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور دوسری بے شمار چھوٹی بڑی جماعتیں صدارتی نظام کو طاقت بخشنے کے لیے طاقت وروں کا ساتھ دیں گی۔ معاملہ جو بھی ہو اس بات کی بہت زیادہ تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کا خمیر کس نے لگایا۔ کیا یہ ہمارے قائدین کی سوچ تھی؟ کیا یہ جلد بازی کا فیصلہ تھا؟ کیا یہ برطانیہ جیسے کسی دوسرے ملک کی بھونڈی تقلید تھی؟ یا یہ کہ کسی خفیہ ایجنڈے پر عمل درآمد تھا؟ ’’ایک دفعہ پانچ بندروں کو پنجرے میں اکٹھے بند کردیا گیا۔ بندروں کی پہنچ سے دور چھت پر ایک کیلا رکھا گیا جس کے ساتھ ایک سیڑھی لٹکا دی گئی۔ جونہی اُن پانچوں بندروں میں سے کوئی بھی ایک سیڑھی چڑھ کر کیلا حاصل کرنے کی کوشش کرتا، اُس سمیت باقی چاروں بندروں پر بھی برفیلا ٹھنڈا پانی پھینکا جاتا۔ کچھ دنوں بعد اُن پانچوں بندروں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر ہم میں سے کوئی بھی کیلا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو باقی سب پر بھی برفیلا ٹھنڈا پانی ڈالا جائے گا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ٹھنڈا پانی پھینکنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی کیونکہ اب کوئی بھی بندر کیلا حاصل کرنے کے لئے سیڑھی نہ چڑھتا۔ اب اُن پانچ بندروں میں سے ایک بندر کی جگہ نیا بندر تبدیل کردیا گیا۔ نئے بندر کو برفیلے ٹھنڈے پانی کا تجربہ نہیں تھا اس لئے اُس نے کیلا حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اُسی لمحے برفیلے ٹھنڈے پانی سے خوف زدہ پرانے چاروں بندروں نے نئے بندر کو کیلا حاصل کرنے سے روکنے کے لئے اُس کی پٹائی شروع کردی۔ یہاں تک کہ نئے بندر نے بھی مار کے ڈر سے کیلا حاصل کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ ایک ایک کرکے پرانے پانچوں بندر نئے بندروں سے تبدیل کردےئے گئے۔ جب بھی نیا بندر کیلا حاصل کرنے کی کوشش کرتا، باقی بندر مل کر اُسے مارتے یہاں تک کہ وہ اس حرکت سے باز آجاتا۔ آخرکار پنجرے میں اب وہ پانچ بندر تھے جنہیں کیلا حاصل کرنے کی سزا کے طور پر برفیلے ٹھنڈے پانی کا تجربہ نہیں تھا لیکن اُن میں سے کوئی بھی پٹائی کے خوف سے کیلا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ گویا اُن پانچوں بندروں نے یہ سبق یاد کرلیا کہ انہیں کیلا حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ اُن بندروں میں سے یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اصل معاملہ کہاں سے شروع ہوا اور کیلا حاصل کرنے کی خواہش پر اُس کے باقی ساتھی اُسے کیوں مارتے ہیں‘‘۔ لگتا ہے ہمارے سیاسی پنجرے میں بھی پارلیمانی نظام کی خواہش پر برفیلے ٹھنڈے پانی کی سزا پانے والے آخری لوگ بھی نئے لوگوں سے تبدیل ہونے والے ہیں۔

(Visited 6 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *