کتاب والی ایک روشن ستارہ بن گئی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

صدیوں پہلے ریاست اور سیاست کا تصور ایک دانشور نے دیا تھا۔ بعد میں آنے والے زمانے میں جن جن جگہوں پر ریاست اور سیاست کے معاملات میں دانشور شامل رہے وہ علاقے آج ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ریاست اور سیاست کے کاروبار سے دانشوروں کا عموماً کوئی تعلق نہیں تھا۔ سیاست مخصوص گروہ نے اپنا پیشہ بنا لیا جبکہ زیادہ تر دانشور اپنے قلم کتاب کے ساتھ ایک کونے میں جابیٹھے۔ پاکستان کے وزرائے اعظم چوہدری محمد علی، ملک فیروز خان نون اور صدر ایوب خان جیسے کچھ حکومتی سربراہان نے اپنی اپنی کتابیں شائع کروائیں مگر یہ تحریریں پاکستان کی ریاست اور سیاست کے بارے میں فلسفیانہ بحث یا منطقی دلائل کی بجائے خبری اور واقعاتی نوعیت کی تھیں۔ البتہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مسلم معاشروں میں سیاست پر فلسفیانہ بحث کی۔ تاہم ان کی کتب نئے سیاسی افکار کی بجائے ریاست اور سیاست کے بارے میں مذہبی تشریحات کے حوالے سے زیادہ پہچانی جاتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں جہاں شاہی دربار کی جگہ پارلیمنٹ متعارف کروائی وہیں ریاست اور سیاست میں ادیبوں اور دانشوروں کی جگہ بھی بنائی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں حنیف رامے اور مولانا کوثر نیازی جیسے ادیب و دانشور اعلیٰ ریاستی عہدوں پر فائز ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذوالفقار علی بھٹو خود بھی شہرہئ آفاق کتب کے مصنف بنے اور ایسے بیدار مغز نوجوانوں کو بھی اپنے قریب رکھا جو بعد میں چل کر ممتاز ادیب اور دانشور کہلائے جن میں پروفیسر فتح محمد ملک، فخر زمان اور چوہدری اعتزاز احسن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے تربیت حاصل کرنے والی ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے جہاں اپنے والد سے عوام کو ریاست وسیاسی کاروبار میں شریک کرنے کا طریقہ سیکھا، وہیں قلم اور کتاب سے رشتے داری بھی وراثت میں حاصل کی۔ ان کی یہ صلاحیتیں طالبعلمی کے دور سے ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں جب تمام نوجوان لڑکے لڑکیاں سوشل پارٹیوں اور ڈسکو جایا کرتے تو بینظیر رات گئے تک کیفے ٹیریا میں ہونے والے بحث مباحثوں میں شرکت کرتیں۔ وہ ویتنام کی جنگ اور خواتین کی آزادی کی تحریکوں کے حوالے سے بڑھ چڑھ کر دلائل دیتیں۔ انہوں نے انہی دنوں میں ویتنام کی جنگ کے خلاف اور تھرڈ ورلڈ ملکوں کی حمایت میں مارچ بھی کیا۔ وہ سگنٹ لٹریری سوسائٹی کی سرگرم ممبر بھی تھیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں ایلیٹ ہاؤس کے ترجمان دی کرمسن کے ایڈیٹوریل بورڈ نے انہیں سپورٹس جرنلسٹ بننے کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے یہ کہہ کر رد کردیا کہ وہ ادارتی صفحے پر لکھنا چاہتی ہیں۔ یہ ان کی صلاحیتوں کا ایک اور مظہر تھا کہ وہ پہلی غیرملکی طالبعلم لڑکی تھیں جو آکسفورڈ یونین کی ڈیبیٹنگ ٹیم کی صدر منتخب ہوئیں۔ اگر ہم مسلم ہسٹری کے ساتھ ساتھ خطے کے دوسرے ملکوں پر نظر ڈالیں تو سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ملکوں کی خواتین سربراہان مملکت نے بھی قلم اور کتاب میں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں کی۔ مثلاً اندرا گاندھی دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں نام ہے۔ ان کی سیاسی تربیت بھی ان کے والد جواہر لال نہرو نے کی جو خود ایک مصنف تھے مگر اندرا گاندھی نے اپنے والد کی وراثت میں سے صرف سیاست کی مالکن بننا قبول کیا اور علم ودانش کی کوئی شے خود تحریر نہ کی۔ اس کے برعکس بینظیر بھٹو نے سیاسی لیڈر اور مصنفہ کی حیثیت سے ایک جیسا ہی اونچا نام کمایا جیسا کہ اپنی خودنوشت
Daughter of The East
لکھ کر انہوں نے دنیائے دانش میں اپنے آپ کو ایک مقبول اور پختہ رائٹر کے طور پر متعارف کرایا۔ بینظیر بھٹو نے عملی سیاست میں آکر بھی دانش گاہوں اور علمی اداروں سے اپنا تعلق کمزور نہ ہونے دیا۔ انہوں نے 1995ء میں ہارورڈ لاء سکول کے سینٹر فار اسلامک سٹڈیز کو ایک لاکھ ڈالر تحقیق کے کاموں کے لیے دیئے۔ بینظیر بھٹو کی علمی شخصیت کا ایک اور پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے دنیا بھر کی معروف یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی بھی ٹاپ سیاسی لیڈر کی پہلی کوشش تھی جس سے بیرونی دنیا میں نہ صرف بینظیر ایک دانشور کے طور پر پہچانی جانے لگیں بلکہ پاکستان کی علمی شناخت میں بھی اضافہ ہوا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد چھپنے والی ان کی کتاب
Reconciliation: Islam, Democracy and The West
نے دنیا بھر کے دانشوروں، رائٹروں اور سوچنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا کیونکہ اس وقت
Huntington کی کتاب
Clash of Civilizations
نے اسلام کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی تھی اور مسلم لیڈروں میں قحط الرجال کے سب

 Clash of Civilizations
میں مسلم دنیا کے خلاف دیئے گئے فلسفے کو اہمیت ملتی جارہی تھی۔ بینظیر بھٹو نے اپنی اس کتاب میں بہت سے منطقی سوالات اٹھائے اور بہت سے سوالات کے مدلل جواب قرآن اور مفکرین کے حوالوں کے ساتھ بھی دیئے۔ انہوں نے مصنف Huntington کے اس نظریے کو دلائل کے ساتھ رد کیا کہ جمہوریت اور اسلام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ بینظیر بھٹو نے مغرب کی دوہری پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مغرب والے مسلم دنیا میں حکمران بادشاہوں اور آمروں کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ Huntington نے اسلام اور مغرب کے درمیان جس لازمی تصادم کی پیشین گوئی کی ہے وہ اس کی اپنی کتاب سے مزید بڑھے گا کیونکہ Huntington نے مسلم ممالک کے بارے میں غیرملکی غیرمسلموں کے خوف کو بڑھایا ہے۔ برطانیہ میں پاکستان کے سابق سفیر واجد شمس الحسن نے لکھا کہ ”قائداعظمؒ اور ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی نظریاتی سانچے میں بننے والی بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب
Reconciliation: Islam, Democracy and the West
میں مغرب سے مدلل درخواست کی ہے کہ اگر ہمیں خدا کی بنائی ہوئی خوبصورت زمین کو تباہی سے بچانا ہے تو اصل مسئلہ کی طرف توجہ دینا ہوگی جو اسلام اور مغرب میں تصادم کا نہیں ہے بلکہ مسلم معاشروں کے اندر دو ایسے گروہوں کے نظریات میں ٹکراؤ کا ہے جن میں سے ایک تو اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھتا ہے جبکہ دوسرا وقت کو صدیوں پیچھے لے جانا چاہتا ہے۔ بینظیر بھٹو نے ان مسائل کا حل مسلم ممالک میں جمہوریت، معیشت، تعلیم اور صحت کی ترقی سے مربوط کیا ہے“۔ ان کی یہ کتاب مستقبل میں مسلم دنیا کی وکالت کے طور پر ایک فکری اور علمی حوالے سے پہچانی جاتی رہے گی۔ زبان و بیان کی خوبصورتی اور الفاظ کے چناؤ کے باعث بینظیر بھٹو کی تمام کتابیں اور تحریریں ایک انمول علمی اثاثہ ہیں۔ گرمیوں کی راتوں کو ہمارے دیہاتوں میں جب بچے سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو اکثر آسمان پر چمکتے ستاروں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہانی سنانے والی بوڑھیاں ان کے لیے معصوم سی بات گھڑکر کہتی ہیں کہ جو لوگ دنیا میں اچھے کام کرتے ہیں وہ مرنے کے بعد اوپر جاکر ستاروں کی طرح چمکتے رہتے ہیں۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ دیر تک زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے پیچھے اپنی کتاب چھوڑ جائیں۔ ادیبہ اور دانشور بینظیر بھٹو شہید کے بارے میں یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ کتاب والی ایک روشن ستارہ بن گئی ہے۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *