میرے پاکستانیو ! اپنی قدر جان کر جیو ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

سعودی وزیر خارجہ نے شدید دباؤ کے باوجود بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے حق میں بیان دیا ہے بھارتی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیرنے کہا کہ پلوامہ حملے میں ابھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا تو کیسے پاکستان کی مذمت کریں یہی بات ایک بھارتی صحافی نے نے بھی کی کہ اپنے ہی فوجی جوانوں کی بلی چڑھا کر مودی سرکار الیکشن جیتنا چاہتی ہے اس صحافی کا کہنا تھا کیا ان جوانوں کی موت رن کے میدان میں ہوئی ہے؟آپ نے مروایا ہے ان کو مودی جی آپ دیش کی سیکورٹی نہیں کر پائے دس جوانوں کے سر کٹے تھے تب بھی چناؤ کا سمے تھا اب پھر ووٹ لینے کے لیے جوانوں کی بلی چڑھائی گئی پہلے ہندو مسلم کے نام پر لوگوں کو مار کر ووٹ بنائے
اس کے بعد جاتی کے نام پر لوگوں کو لڑوا کر ووٹ لیے اور اب سینا کی بلی لے کر کیا پینتالیس کروڑ خون میں بہانے سے دس کروڑ میں جوانوں کی جیکٹس نہیں لی جا سکتی تھیں ؟یہ سوال تو ان کے اپنے صحافی نے کیا اس کا ماننا تھا کہ یہ سب سکرپٹنگ ہے گھر گھر ووٹ کا ماحول بنایا جا رہا ہے مودی جی اس دیس میں ایمرجنسی بھی لگا سکتے ہیں جوانوں کو خرچا نہیں دے سکتے تیس سے چالیس ہزار ایک جوان کی تنخواہ ہے اس کو پانچ پانچ کروڑ کیوں نہیں دیتے میں نے تو یہ تک دیکھا ایک بھارتی فوجی بھیک مانگ رہا تھا لگتا ہے مودی جی نے ہمارے مہان لیڈر نواز شریف اور زرداری سے ایکا کر لیا ہے وہ اپنی فوج کے دشمن بن گئے ہیں ان کو بھی فوج کا بجٹ چبھتا ہے ان کی عزت درد دیتی ہے ادھر مودی جی اپنی فوج کا کریا کرم کروا رہے ہیں پر مودی جی اتنے سیانے ضرور ہیں نچلی ذات کے ہندو مرواتے ہیں مجال ہے جو کسی برہمن کو کچھ ہو وہاں بھی پانچ فیصد برہمن پچانوے فیصد ہندوستانیوں کا استحصال کر رہے ہیں جن میں بیس کروڑ مسلمان بھی شامل ہیں یہاں بھی چند ہزار لوگ ملکی وسائل پر قابض ہو کر ساری عوام کا استحصال کرتے رہے ہیں شکر ہے عمران خان کے آنے سے یہ اس روائیتی سیاست کا کچھ خاتمہ ہوا ہے ایک لیڈر اور سیاستدان میں یہی فرق ہوتا ہے لیڈر پوری قوم کا سوچتا ہے اور سیاستدان صرف اگلے الیکشن کا ۔۔۔
یہ بات بھارت کو بھی سوچنی چاہیے ایک ایسے وقت میں جب سعودی ولی عہد ہمارا مہمان بننے والا تھا ہم ایسا گھٹیا کام کر کے اپنی ہی رسوائی کیوں کریں گے کوئی ایک فائدہ جو ہمیں ان چند فوجیوں کو مروا کے ملا ہو؟ انڈین میڈیا جہاں ایک جنگی جنون پیدا کرتا ہے وہاں ان میں کچھ سمجھدار لوگ خود بھی سوچ بچار کرتے ہیں کہ ہمیشہ چناؤ کے نزدیک ہی یہ چمتکار کیوں ہوتا ہے ؟ہم تو ان جوانوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں یہ پاپی سیاستدان الیکشن جیتنے کے لیے کوئی بھی چن چڑھا سکتے ہیں ہم نے ان دس سالوں میں جتنا ان کو بھگتا ہے ہمیں اس کا اندازہ ہے جس طرح اپنی ہی فوج کے خلاف میمو لکھوائے گئے اپنے گھر پر حملے کروائے گئیکیا یہ فوج کو کمزور کرنے کے لیے کافی نہیں تھے ؟لیکن آج دنیا نے دیکھا پاکستانی فوج دہشت گردی کی اس آگ میں کندن بن کر نکلی ہے جن کے سینے جذبوں سے بھرے ہوں ان کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا اس خطے میں امن طاقت کے توازن کی وجہ سے ممکن ہے جیو اور جینے دو پہلا اصول ہے جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے
وہ بھی ساری دنیا دیکھ رہی ہے سات لاکھ فوج بے بس کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے ممبئی حملوں کے بعد میں نے کوئی انڈین فلم نہیں دیکھی مجھے تو سینما کی شکل ہی بھول گئی تھی اس بار لاہور میں اتفاقیہ طور پر ایک انڈین فلم دیکھی manikarnika the queen of jahnsi یہ انڈین اداکارہ kangana ranaut کی فلم تھی فلم کے شروع میں ہی یہ منظر دکھایا گیا ایک خون آشام ٹائیگر سے وہ گاؤں والوں کو نجات دلانے نکلتی ہے وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر عین اس وقت اس کو تیر مارتی ہے جب وہ اس پر حملہ کرنے کے لیے اس پر چھلانگ مارتا ہے وہ ٹائیگر عین اس کے قدموں میں آکر گرتا ہے وہ جھک کر اس کے زخم پر دوائی لگاتی ہے تو اس کی سہیلی حیرت سے کہتی ہے تم نے اس کو صرف بے ہوش کرنے والا تیر مارا تھا؟وہ کہتی ہے ہمارا مقصد اس کو مارنا نہیں تھا بس اس کو لے جا کر جنگل میں چھوڑ دیا جائے جہاں یہ اپنے پریوار کے ساتھ خوش رہے اور تم لوگ بھی اپنے گاؤں میں بنا خوف کے رہو یہ تھی مستقبل کی ’’جھانسی کی رانی ‘‘یہاں ایک سوال تو میرے ذہن میں یہ پیدا ہوا کیا اس زمانے میں جانوروں کو بیہوش کرنے والی دوائی بھی تھی اب تو خیر دیکھتے ہیں کہ گن میں بیہوش کرنے والی نیڈل مار کر ہاتھی تک کو بے ہوش کیا جا سکتا ہے دوسرا سوال یہ تھا کیا کشمیری ان درندوں سے بھی زیادہ خون آشام ہیں جن کو پیلٹ گن کے چھرے مار کر ہمیشہ کے لیے اندھا کر دیا جاتا ہے اور اس میں مردوں ،عورتوں ،بچوں میں کوئی تسخیص روا نہیں رکھی جاتی یہ کتنا بڑا ظلم ہے اس کا علم شائد اس فلم کی ہیروئن کو نہیں ہے ورنہ وہ پاکستان کے خلاف ایسا فضول بیان نہ دیتی وہ خود کو یقنناًجھانسی کی رانی سمجھنے لگی ہے جس طرح دلیپ کمار کافی عرصہ خود کو مغل اعظم سمجھتے رہے کہ انہیں ماہر نفسیات سے علاج کرانا پڑا اس اداکارہ کو معلوم نہیں پاکستانی جتنی محبت کرتے ہیں اتنی شدت سے سر سے اتار پھینکتے ہیں جب کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے بے شک ہندوستان میں اچھا سوچنے والے لوگ بھی ہیں جو اصلیت کو سمجھتے ہیں اور وہ بھی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس خطے میں امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کشمیر کا مسلہ حل کیے بغیر کیا یہ ممکن ہے؟ہمارے وزیر اعظم نے بار بار مذاکرات سے یہ مسلہ حل کرنے کی دعوت دی ہے لیکن بھارت ہر بار اس خواہش کو ٹھکرا کر ایک نیا ڈرامہ شروع کر دیتا ہے ٹماٹر اور پیاز صرف ہم نہیں کھاتے بھارتی بھی کھاتے ہیں وہ اپنے ٹماٹر پیاز خود کھائیں ہم اپنے لیے خود اگا لیں گے سچی بات تو یہ ہے اس شریفانہ پالیسی سے پاکستانیوں نے صرف نقصان ہی اٹھایا ہے ہماری کونسی سٹیل ملیں لگ گئی ہیں نواز شریف تو اپنی ملوں میں پاکستانیوں کو جاب ہی نہیں دیتے سو ٹماٹر پیاز اگا کر اپنا گذارہ تو کر ہی لیں گے ویسے بھی دنیا جانتی ہے پاکستان اس وقت اپنے معیشت کے اہم ترین فیز سے گذر رہا ہے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہونے کو ہے ایسے مواقع پر پاکستان کیوں دوسرے ممالک میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنا چاہے گا ؟شکر ہے یہ بات ساری دنیا سمجھ رہی ہے اس لیے وہ بھارت کے واویلے کو سیریس نہیں لے رہی
بلکہ آج تو خود بھارت کے اندر سے سوال اٹھ گیا ہے ایک بھارتی صحافی کے مطابق کیا بھارتی سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ سات لاکھ فوج کی موجودگی میں ساڑھے تین سو کلو بارود پلوامہ پہنچا کیسے؟اور یہ بھی کہ اجیت دوول کا بیٹا پاکستانیوں کا بزنس پاٹنر کیسے ہے ؟انڈیا والو یہ سوال ضرور پوچھو ہم بھی تو میاں صاحب سے بس اتنا پوچھتے ہیں بھارت میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیونکر ہوئی ؟کیا یہ سوال پوچھنے کا ہمیں حق نہیں جب بھی کوئی ڈرامہ ہوتا ہے کشمیر میں ظلم و ستم تیز ہو جاتے ہیں پاکستان کو بدنام کیا جاتا ہے سرمایہ کاری روکنے کی کوشش ہوتی ہے پاکستان کے دوستوں کو بد ظن کیا جاتا ہے ٓج بھی سارا دن یہی ڈرامہ چلتا رہا کہ بھارت میں سعودی شہزادہ ایک سو ارب کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور شام کو پتہ چلا سارے دعوے ہوا میں اڑ گئے مودی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا سعودیہ نے پاکستان کے خلاف کوئی بات سننا گوارہ نہیں کی اور نہ اس بہتان کو کوئی اہمیت دی ہے یمران خان نے صاف نیت سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور دوسری صورت میں جنگ کا جواب جنگ سے ۔۔۔تو اس میں غلط کیا ہے؟جب دیکھو دھمکیاں الزام کوئی حد بھی ہے اب نئی نسل اتنی بے وقوف نہیں رہی بھارتی مسلمان اداکار تو فوراً ڈر جاتے ہیں انہوں نے فواد خان ماہرہ خان عاطف اسلم کی چھٹی کرا دی ہے شبانہ عظمی اور جاوید اختر نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے سلمان خان نے بھی اپنی فلم نوٹ بک سے عاطف اسلم کا گانا نکال دیا ہے ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ یہی ہوتا لیکن جیسے ہی حالات کچھ بہتر ہوتے ہیں یہ دوبارہ وہاں پہنچ جاتے ہیں یہ کہتے ہیں فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہوتی ہے بابا ہوتی ہے ورنہ وہ آپ کو اٹھا کے سرحد پار نہ پھینکتے خدا کے لیے پہلے اپنے ملک کی عزت بناؤ پیسہ خود بخود مل جائے گا
نیچاں دی آشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا۔۔۔
نیچاں دی آشنائی ایویں ،جیویں رکھ کھجور
دھپ لگے تاں چھاں نہ ڈیندہ۔۔۔۔
بکھ لگے پھل دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!۔
میرے پاکستانیو اپنی قدر جان کر جیو!۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *