سمندر کے کنارے آباد ایک بستی ۔۔۔ تحریر : سید سردار احمد پیرزادہ

سمندر کے کنارے ایک بستی آباد تھی۔ بارشوں کا موسم تھا۔ سمندر اور بستی کی آبادی پر بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ آبادی کا ہر فرد اداس اور کمزور تھا۔ کھانے پینے کا سٹاک ختم ہوچکا تھا۔ کاروبار ٹھپ تھے۔ سب کے سب بھاری قرضوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہے تھے۔ یوں کہئے کہ پوری آبادی کریڈٹ پر چل رہی تھی۔ مفلسی کے ان اندھیروں نے سمندر کے نیلے پانی کو بھی سیاہ کردیا تھا۔ اچانک ساحل پر ایک جہاز لنگرانداز ہوا جس میں سے ایک امیر آدمی برآمد ہوا اور بڑی شان سے چلتا ہوا اُس آبادی کے واحد ہوٹل میں داخل ہوا۔ امیر آدمی نے کاؤنٹر پر پہنچ کر سو ڈالر کا نوٹ نکالا اور منیجر کو تھماتے ہوئے بولا کہ وہ اپنی رہائش کے لیے کمرہ پسند کرنے جارہا ہے۔ امیر آدمی جونہی اُوپر کی منزل کی سیڑھیاں چڑھا منیجر نے وہی سوڈالر کا نوٹ جیب میں ڈالا اور بھاگتے ہوئے قصاب کے پاس پہنچا جو اُسے ادھار گوشت دیتا رہا تھا۔ قصاب نے ہوٹل منیجر کا حساب بے باق کیا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا جانوروں کے فارم ہاؤس جاپہنچا۔ وہاں اُس نے فارم ہاؤس کے مالک کو سو ڈالر تھماتے ہوئے کہا کہ میرے ادھار کے کھاتے صاف کردو۔ فارم ہاؤس کے مالک نے مؤدب ہوکر سر جھکا لیا۔ فارم ہاؤس کا مالک وہی سو ڈالر لے کر بزنس مین کے پاس گیا جو اسے جانوروں کی خوراک اور ادویات وغیرہ سپلائی کرتا تھا۔ بزنس مین نے سو ڈالر وصول کرکے فارم ہاؤس کے مالک کا کریڈٹ صفر کردیا۔ بزنس مین وہ رقم لے کر شہر کی طوائف کے پاس پہنچا جو اُسے وقتاً فوقتاً اپنی خدمات ادھار دیتی رہتی تھی۔ طوائف نے بڑے دلربا انداز میں بزنس مین کا شکریہ ادا کیا اور سو ڈالر کا نوٹ لے کر بھاگتی ہوئی اُسی ہوٹل میں پہنچی اور اُسی منیجر کو وہی سو ڈالر کا نوٹ تھماتے ہوئے بولی کہ میں نے اپنے مہمانوں کے لیے جو کمرے اُدھار کرائے پر لیے تھے پلیز! ان کا حساب بے باق کردیں۔ منیجر نے سو ڈالرکا نوٹ اپنی دراز میں رکھا۔ عین اُسی وقت ہوٹل کی سیڑھیوں سے امیر آدمی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ کاؤنٹر پر آیا اور بولا معاف کیجیے مجھے کوئی کمرہ پسند نہیں آیا۔ منیجر نے چپ چاپ دراز کھولی اور سوڈالر کا نوٹ اسے واپس کردیا۔ امیر آدمی اپنے جہاز پر سوار ہوا اور اُس آبادی سے چلا گیا۔ اس کہانی میں ایک نیم مردہ معیشت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں عارضی طور پر معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں کمائی کس نے کی؟ اب ہم اس مثال کا پاکستانی معیشت سے موازنہ کرتے ہیں۔ یہاں ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ پیش ہوتا ہے۔ کھربوں روپے کے نئے منصوبے منظور کیے جاتے ہیں۔ حکومت اربوں روپے کا ٹیکس وصول کرتی ہے۔ کھربوں ڈالر کے قرضے لیے جاتے ہیں۔ بظاہر ہر حکومت اپنے دور کو معاشی سرگرمیوں کا بہترین دور کہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پاکستانی کے ذمے غیرملکی قرضے کی رقم ضرب کھا کھا کر کئی سو گنا ہوچکی ہے۔ اب تو دانشوروں نے غیرملکی قرضوں کے سائز کی بات کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔ پاکستانی معیشت کی بھرپور سرگرمیوں کا یہ حال ہے کہ اس میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی سرگرمیاں اتنے عروج پر ہیں کہ لوگ اپنی عزت نفس سے بے پروا ہوکر صرف زندہ رہنے کے لیے ایک روٹی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سینکڑوں بھوکے لوگ آٹے کے ٹرک کے پیچھے اتنی دور تک بھاگتے جاتے ہیں جتنی دور تک روٹی کے ٹکڑے کے پیچھے بھوکا جانور بھی نہیں بھاگتا۔ اب تو امریکہ نے بھی ہمارے معاشی سٹرکچر پر اعتماد نہ کرتے ہوئے اپنی امداد این جی اوز کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہماری معاشی شاہ رگ کا مکمل کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے حکومت پھر بھی کہتی ہے کہ پاکستان میں معیشت ترقی کر رہی ہے۔ ان کی اس بات کو سن کر خیال آتا ہے کہ کہیں پاکستان بھی سمندر کے کنارے آباد ایک بستی تو نہیں؟
میرے سپنوں کو جاننے کا حق رے
کیوں صدیوں سے ٹوٹ رہے ہیں
ان کو سجنے کا نام نہیں
میرے ہاتھوں کو جاننے کا حق رے
کیوں برسوں سے خالی پڑے رے
انہیں آج بھی کام نہیں
میری بوڑھی ماں کو جاننے کا حق رے
کیوں گولی نہیں سوئی دواخانے
پٹی ٹانکے کا سامان نہیں
میری ندیوں کو جاننے کا حق رے
کیوں زہر ملائیں کارخانے
جیسے ندیوں میں جان نہیں
میرے ووٹوں کو یہ جاننے کا حق رے
کیوں ایک دن بڑے بڑے وعدے
پھر پانچ سال کام نہیں
میری زندگی کو جاننے کا حق رے
اب حق کے بنا بھی کیا جینا
یہ جینے کے سامان نہیں

(Visited 61 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *