ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اسلامی نقطہ نظر ۔۔۔ تحریر : گوہر اقبال خٹک

ویلنٹائن ڈے کی ابتداء کب کہاں سے اور کیا ہے اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے موجود نہیں ۔ اس دن کی طرف چند واقعات منسوب کئے جاتے ہیں ۔ویلنٹائن ڈے چودہ فروری کو منایا جاتا ہے اس دن کو عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
بک آف نالج ویلنٹائن ڈے کے تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار Luper calia کی صورت میں ہوا ، قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑ کیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگاکر چلتے تھے بعض اوقات تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے بعد میں اس تہوار کو سینٹ ویلن ٹائن کے نام سے منایا جانے لگا ۔ اور اُ سے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیا ت کی تلاش میں تھا ۔اور رفتہ رفتہ یہ ثقافت پوری دنیا میں پھیلا ۔اور عاشق لوگ اس دن کو مناتے ہے ۔

اسلامی نقطہ نظر ۔۔۔۔۔۔

فحاشی ہر مذہب میں ایک قبیح فعل ہے بلکہ ہر مذہب نے فحاشی و عریانی کو حرام قرار دیا ہے اور دین اسلام تو ایک پاکیزہ اور صالح لوگوں کا دین ہے۔اس میں تو فحاشی کا تصور بھی نہیں ہوتا ۔ قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے ’’ یقیناًجو لوگ چاہتے ہے کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلائے وہ دنیا اور آخرت میں عذاب کے مستحق ہیں ۔ جبکہ ویلنٹائن ڈے فحاشی اور عریانی کا دوسرا نام ہے ۔اسلام تو اس کے منانے کی اجازت بالکل نہیں دیتا ۔اور ساتھ ساتھ دین اسلام نے غیرمسلموں کی مشابہت اور ان کے طورطریقوں سے بچنے کا درس بھی دیتا ہے حضورﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے جس نے غیر مسلموں کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے مذکورہ آیات اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ویلنٹائن ڈے کی کوئی حیثیت نہیں اور اسکی بھرپور مذمت بھی کی ہے یہ تہوار غیروں کاہے اس تہوار کے ذریعے وہ فحاشی اور عریانی کو پھیلاتے ہیں مسلمانوں کے لئے اس تہوار کو منانا سہی نہیں ہے ہر مذہب کے اندر اپنے اپنے تہواریں ہوتی ہیں جب کے اسلام میں ۲ تہواریں ہیں عید الفطر و عید الضحی اور ویلنٹائن ڈے مسلمانوں کے تہوار میں نہیں ۔

مذہب اور ثقافت میں فرق:۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے ہماری ثقافت بن چکی ہے جس طرح دوسری ثقافت سہی ہے اسی طرح یہ بھی سہی ہے ہمارا مذہب دوسری ثقافت کی اجازت تو دیتا ہے اور اس دن کی اجازت کیوں نہیں دیتا جب کہ یہ اب ہماری ثقافت بن چکی ہے جس کا جواب بہت ہی آسان ہے اصل میں مذہب اور ثقافت میں فرق ہے ثقافت حالات کے مطابق نمو پزیر ہوتی ہے اور جب کہ مذہب کے احکام اٹکل ہوتے ہیں ثقافت میں تغیر وتبدل ہوتے رہتے ہیں اور جب کہ مذہب میں بالکل نہیں اور رہی یہ بات کہ ہمارا مذہب بعض ثقافت کی اجازت دیتی ہے اور بعض کی نہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ جو ثقافت مذہب کے احکام کے مطابق ہو تو مذہب اس ثقافت کی اجازت دیتاہے اور جو ثقافت مذہب کے احکام کے مطابق نہ ہو تو مذہب اس ثقافت کی بالکل اجازت نہیں دیتا اور ویلنٹائن ڈے ہمارے مذہب و پختون روایات کے برخلاف ہے کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہینگے کہ ان کے اولاد پرائے لڑکوں کے ساتھ گھومے پھریں اور یہ تہوار ہماری ثقافت بالکل نہیں بن سکتی۔

خلاصہ :۔

ویلنٹائن ڈے کو منانا مذہبی ، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر غلط اور ممنوع ہے اسلام نہ صرف برائی کا سدباب کرتا ہے بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے اسے معاشرے میں رواج دینا فحاشی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ ہمیں برے ثقافت سے بچنے اور سیدھا راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

(Visited 22 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *