حق کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہوتا ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

امریکہ کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی مسلسل خسارے میں جا رہی تھی کمپنی کے مالکان نے خسارے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ ہائر کیا کنسلٹنٹ نے دو ماہ کے مطالعے کے بعد کمپنی کے زوال کی بڑی دلچسپ وجہ بیان کی اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے دوران ڈائریکٹرز سے پوچھا فرض کریں آپ میں سے کوئی صاحب کچن میں کام کر رہے ہیں وہ ایک ’’ڈش ‘‘ تیار کر رہے ہیں یہ ڈش جب تیاری کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایک دوسرے صاحب کچن میں پہنچ جاتے ہیں اور ڈش کا معائنہ کرتے ہیں کھانا سونگھتے ہیں اور پتیلے میں ایک چمچ مرچ ڈال دیتے ہیں وہ صاحب جاتے ہیں تو دوسرے صاحب آ جاتے ہیں وہ بھی ڈھکن اٹھاتے ہیں ڈش دیکھتے ہیں اور ایک چمچ نمک ڈال دیتے ہیں ان کے بعد تیسرے صاحب آتے ہیں وہ بھی ڈش دیکھتے ہیں اور اس میں دو بڑے چمچ کوکنگ آئل ڈال دیتے ہیں کنسلٹنٹ چند لمحوں کے لیے رکا اس نے ڈائیریکٹرز کی طرف دیکھا اور دوبارہ بولا اس کے بعد کچن میں لوگ آتے جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے ڈش میں چیزیں ڈالتے رہتے ہیں کوئی اس میں کالی مرچ ڈال دیتا ہے کوئی سرکہ ڈالتا ہے کوئی آلو پیاز اور انڈے ڈال دیتا ہے کوئی چولہا تیز کر جاتا ہے کوئی بجھا جاتا ہے کوئی اس میں پانی ڈالتا ہے تو کوئی دودھ ڈال دیتا ہے آپ بتائیے اس ڈش کا کیا بنے گا ؟تمام ڈائیریکٹرز بولے وہ ڈش کھانے کے قابل نہیں رہے گی کنسلٹنٹ مسکرایا اور آہستہ سے بولا آپ کی کمپنی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اس کا ہر نیا صاحب نیا ڈائیریکٹر ڈش میں اپنی مرضی اور اپنی سوچ کے مطابق مصالحے ڈال رہا ہے چنانچہ آپکی کمپنی بند ہو رہی ہے کنسلٹنٹ نے کہا جس گھر میں کک زیادہ ہوتے ہیں اس گھر کے مالکان عموماً بھوکے سوتے ہیں ۔
اول دن سے عمران حکومت کے ساتھ یہی ہو رہا ہے پہلے مانیکا صاحب کا مسلہ مسلہ کشمیر بنا دیا گیا پھر پیرنی کے پیچھے پڑ گئے پھر ان تمام لوگوں کی چھٹی کرائی گئی جو معاشیات کو سمجھنے والے تھے کسی کو قادیانی بنا دیا کوئی یہودی بن کر راندہ درگاہ ہوا سونے پر سہاگہ شہباز صاحب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین بن بیٹھے اب وہ کرو فر کے ساتھ خود ہی اپنے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں اور خود ہی نیب سے متعلق فیصلے کرتے ہیں سپیکر صاحب اسمبلی کے بادشاہ ہیں اپوزیشن کی ہر خواہش ان کے سر آنکھوں پر اور حکومت کے تمام آرڈر ان کے جوتے کی نوک پر پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تو ان کے مائیک بند کرا دیے جاتے تھے حکومت میں ہے تو بھی اسی کے اراکین کو بولنے نہیں دیا جاتا بیورو کریسی وہی پولیس وہی ،ان کی بدمعاشیاں وہی انکی چالیں وہی اور ان کے باس بھی وہی ،میڈیا پہلے دبے لفضوں میں سمجھاتا رہا اور اب خم ٹھونک کے سامنے آ گیا ہے جنھوں نے سائیکلوں سے جہازوں تک کا سفر طے کیا ہے وہ یہی کریں گے یہاں حق حلال سے کس نے کمائی کی ہے جن کے منہ کو خون لگ چکا ہو وہ اب کہاں محنت کی روٹی کھا سکتے ہیں ؟سو اب ایک اکیلا عمران ہے جس کی سفارتی محاذ پر کامیابیوں کو بھی کسی اور کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے ،طیب اردگان ہو یا مہاتیر محمد کسی کو اتنی بد بخت عوام نہیں ملی ہوگی بے شک اس کرپٹ نظام سے ایسی ہی نسل تیار ہونی تھی وہ صحافی بھی جن کی ایمانداری کی ہم قسم کھا سکتے ہیں جن کو پڑھ پڑھ کے ہم نے لکھنا سیکھا اب اس طرح لکھتے ہیں کہ پہلے نئی حکومت کی برائی کرتے ہیں پھر باقی کا سارا مضمون اچھائیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ بھی جانتے ہیں قاری نے صرف اوپر کی چند لائینیں ہی پڑھنی ہیں صاف ظاہر ہے وہ اپنی برادری سے ڈر رہے ہیں اللہ سے کون ڈرتا ہے ہر کوئی یہ ڈش خراب کرنے پر تلا ہے اب تو اس بات کو بھی طعنہ بنا لیا گیا ہے کہ عمران خان کی ایمانداری کو کوئی کب تک چاٹے یوں جیسے پانچ سال گذر گئے ہیں اور اس نے کوئی ایک کام بھی نہیں کیا بد قسمتی سے عمران خان اس ملک کا گند صاف کرتا رہا اور لوگ اس میں اور گند ڈالتے گئے جب آپ کو غیر نہیں ہرا سکتے تو آپکے اندر کا اپنا ایک سجن آپکے سو دشمنوں پر بھاری پڑ جاتا ہے اور یہی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے عمران خان نے بھی اپنوں سے دھوکہ کھایا ہے غیروں میں کہاں دم تھا حیران میں اس بات پر ہوں سندھ حکومت جو ٹوٹل زرداری کے کنٹرول میں ہے وہاں بھی کوئی سانحہ ہو جاتا ہے تو لعن طعن وفاقی حکومت کو کی جاتی ہے ابھی اسی ارشاد رانجھانی والے واقعے کو دیکھ لیں میں لاہور میں تھی جب مجھے اس کی کہانی بھیجی گئی کہ جی بڑا ظلم ہوا ہے ارشاد رانجھانی نے اگر کچھ کیا بھی تھا تو رحیم شاہ نے اس کو گولیاں تو مار دی تھیں کم از کم ہسپتال لے جانے سے تو نہ روکتے یقیناً یہ انسانیت سوز واقعہ ہے یہ کہانی 1994میں شروع ہوتی ہے جب ھنڈا ففٹی پر گھومنے والا رحیم شاہ ایک بڑے گینگ کا حصہ تھا اب وہی رحیم شاہ ویگو پہ گھومتا ہے وہ ملیر کی زمینوں لانڈھی ،قائد آباد کی املاک پر قبضے کرنے میں ملوث تھا ان دنوں ملیر میں شیخ برادران سیاست میں زوروں پر تھا ایک بھائی کا نام تو اب بھی ہے وہ نواز شریف کے ساتھ تھے ان کے سائے میں ایک گروپ کام کرتا تھا جس میں رحیم شاہ ،فیاض لغاری ،مانا پٹھان ،آغا رفیع الدین عبدلخالق مروت شامل تھے 1997میں علیم عادل شیخ نواز شریف کی مسلم لیگ نون کی طرف سے
رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے نواز شریف کو کراچی کے حوالے سے شیخ برادران پر بڑا اعتماد تھا اس وقت اس گروپ نے ملیر ،گڈاپ ،لانڈھی
قائد آباد کی زمینوں پر قبضے کیے اور اپنی بادشاہت قائم کر لی رحیم شاہ حلیم عادل شیخ کا بہت بااعتماد ساتھی تھا اور اب بھی ہے 1999میں مسلم لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد علیم عادل شیخ عملی طور پر سیاست سے کنارہ کش ہوکر بیرون ملک چلے گئے لیکن حلیم عادل شیخ چودھری شجاعت کی قائد لیگ میں متحرک رہے ان ہی ادوار میں میمن گوٹھ میں ’’ کنٹری پائینزشیلے ‘‘نام سے فارم ہاؤس کے لیے فقط سولہ ایکڑ زمین پندرہ سال کے لیے لیز پر لی گئی اس کے بعد مقامی لوگوں کی زمینوں پر اسلحے کے زور پر قبضہ کیا گیا اور یہ سولہ ایکڑ زمین آٹھ سو ایکڑ تک پھیل گئی اس ساری زمین کو خالی کروانے میں رحیم شاہ اور یہ گروپ سر گرم رہا لانڈھی میں بھی قبضہ کر کے ایک شاپنگ سینٹر تعمیر کرانے میں یہی رحیم شاہ اور اس کا گروپ پیش پیش تھا مشہور فنکارہ منی بیگم سے گڈاپ میں بقائی یونیورسٹی کے قریب پچاس ایکڑ زمین لی اور اس کی آڑ میں کئی سو ایکڑ پر قبضہ کر لیا اس میں بھی رحیم شاہ پیش پیش تھا اس گروپ کے سر پر ہاتھ مبینہ طور پر حلیم عادل شیخ اور ایس ایس پی راؤ انوار کا رہا بعد میں ایک منصوبے کے تحت رحیم شاہ مسلم لیگ نون میں چلے گئے اور بھینس کالونی یونین کونسل کے چیئر مین بن گئے آغا رفیع الدین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور این اے 238کراچی سے رکن قومی اسمبلی بن گئے اور عبدلخالق مروت بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر ڈسٹرکٹ کونسل کے وائس چیئر مین بن گئے حلیم عادل شیخ پاکستان تحریک انصاف میں زبردست متحرک ہو کر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے ہماری اطلاع کے مطابق اس کو رکن سندھ اسمبلی بنوانے میں سب سے بڑا کردار پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع الدین کا تھا کیا کمال ہے کہ مبینہ طور پر شیخ برادران کے سائے تلے چلنے والوں نے خود کو کہاں کہاں فٹ کروایا اور وہ اربوں کی ملکیت کے مالک بھی بن گئے رحیم شاہ اس علاقے میں بلڈر شعیب میمن کے پارٹنراور بھنس کالونی میں گوشت کے تمام ٹھیکے ان کے پاس ہیں شعیب میمن کو نیب گرفتار بھی کر چکا ہے لیکن وہ پلی بار گین کر کے واپس آ گیا اس گروپ کا اب بھی ایک دوسرے سے گہرا رابطہ ہے چند دن پہلے بھی یہ ایک ساتھ دیکھے گئے
اب آتے ہیں دوسری کہانی کی طرف یہ پہلی کہانی مجھے رحیم شاہ کی گرفتاری سے پہلے ملی تھی اس کے بعد اس کی ڈرامائی گرفتاری کی خبر ملی جو بقول کسی کے ہزاروں سندھیوں کے مظاہرے نے ممکن بنائی تو اب دوسری کہانی سنیں ایک شخص کا میسج آیا کہ آپ سچ لکھیں میں نے کہا سچ کیا ہے ؟کہا رحیم شاہ نے تو ڈاکو مارا ہے ارشاد رانجھانی ڈاکو تھا کچھ سال پہلے اس نے ڈکیتی کرتے ہوئے ایک جوان مار ڈالا اور 4 FIR ہیں اس کے خلاف رحیم شاہ نون لیگ کے چیئر مین ہیں ہیں اور ہم خان صاحب کے سپورٹر لیکن سچ یہی ہے جو میں نے ٓپ کو بتایا ہے جیئے سندھ والے اگر رحیم شاہ کو سزا دلوانے میں کامیاب ہو گئے تو آدھا شہر یہ جیئے سندھ کے ڈاکو کھا جائیں گے جیئے سندھ پی پی پی کی بچہ پارٹی ہے اور ساری دنیا جانتی ہے ان کا کام زرداری والا یعنی ڈکیتی ہے کراچی کی گھٹیا پارٹی جیئے سندھ والے آپکو بیس فیصد سے زیادہکام کرتے نظر نہیں آئیں گے اور جو کرتے ہیں وہ بھی چوری بدمعاشی انہوں نے کہا کہ میں ایک چھوٹا موٹا فیکٹری اونر ہوں پہلے ہم ایم کیو ایم گینگ وار ،سنی تحریک ،اے این پی کو سالوں سے بھگت رہے ہیں اب یہ نیا عفریت ،جیئے سندھ ،کراچی پہ قبضہ کرنے کے لیے ارشاد ڈکیت کی فیور میں احتجاج کر رہا ہے ان صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ رحیم شاہ بینک سے تیس لاکھ نکلوا کر نکلا تھا اور ارشاد ڈکیتی کی نیت سے اس کے پیچھے لگ گیا اس کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی کئی جگہ دیکھی جا سکتی ہے ایسے شخص کا مر جانا ہی بہتر تھا انہوں نے ان عزائم کا اظہار بھی کیا کہ عوام کو اب ہتھیار اٹھا لینے چاہییں اگر ڈاکوؤں کو سپورٹ کرنے کے لیے ہزاروں لوگ نکل آتے ہیں تو ۔۔۔۔اس ساری کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اب پانی سر سے گذر چکا ہے اس سسٹم نے ریاست کو اس موڑ پہ لا کھڑا کیا ہے جہاں اصلاح احوال کی آخری امید بھی دم توڑتی نظر آ رہی ہے ایک شخص حق پہ ڈٹا بھی رہے تو کہاں تک؟؟؟۔

(Visited 41 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *