کمالیہ ون وے روڈ کیوں ضروری ہے؟ ۔۔۔ تحریر : محمد حُسین عابد

ٹوبہ سے چیچہ وطنی تک یہ سڑک جونہی مکمل ہوئی اس سڑک پر حادثات کی شرح پانچ سو فیصد زیادہ بڑھ گئی۔ ریسکیو کے ذرائع کے مطابق ہر ہفتہ میں تین سے چار جانیں مختلف ٹریفک حادثات میں ضائع ہورہی ہیں۔ ان حادثات میں زیادہ تر مرنے والے لوگ موٹر سائیکل سوار تھے جو تیز رفتاری کے باعث یا تو خود کسی سے ٹکراگئے یا کسی دوسری گاڑی نے اُنہیں ٹکر ماردی۔ ہفتے کے سات دنوں میں چار سے پانچ قیمتی جانوں کا ضیاع ہم سب کے لئیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بطور صحافی میں نے بہت سے حادثات کی خود رپورٹنگ کی ہے۔ میں نے اس روڈ پر بہت ہی خطرناک حادثات دیکھے ہیں۔ لوگوں کے پچکے سر دیکھے، کچھ کے بھیجے باہر نکلے اور لٹکے دیکھے۔ ایک شخص کی ٹانگ کٹ کر دور جاگری اوراُس زخمی کی چیخ و پکار سُنی۔ ایک شخص چاند رات کو اپنے بچوں کی کمالیہ سے شاپنگ کرکے لے کرجارہا تھا کہ ایک ویگن نے اُسے ٹکر ماری اور وہ شخص موقع پر ہی جاںبحق ہوگیا جب مجھے اُس حادثے کی اطلاع ملی تو میں فوری طور پر موقع پر پہنچا تو دیکھا کہ اُس کی لاش کے پاس ہی اُس کے بیٹیوں کے نئے نویلے جوتے پڑے تھے۔
کچھ جانبحق ہونے والے لوگ تو ایسے تھے کہ جو اپنے گھر کے واحد کمانے والے تھے۔ آپ سب سوچیں کہ جب گھر کا سربراہ ہی یوں ٹریفک حادثے میں جان سے مارا جائے تو اُس کے بعد اُس کی فیملی کی کیا صورتحال ہوگی۔
میں نے اس خونی روڈ پر بڑے ہی خوبصورت نوجوان بھی جان سے جاتے دیکھے ہیں۔ مجھےمحلہ امرتسریاں کا وہ خوبرو نوجوان محمد کاشف شہزاد کبھی بھی نہیں بھولتا جو چیچہ وطنی سے اپنے دوست کے ساتھ موٹرسائیکل پر آرہا تھا کہ ایک گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی ہوا، سر پر گہری چوٹیں لگیں پھرچند دن کوما میں رہنے کے بعد ہمارا پیار بھائی کاشف شہزاد ہم سب کو یوں سوگوار چھوڑ گیا۔
میں اپنے صحافی بھائی رانا تجمل حُسین کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسوروتا ہے۔ تجمل نے بڑی محنت سے اپنے بیٹے کو پڑھایا اُس کی پرورش کی، میٹرک میں اچھے نمبر لئیے۔ بس ایک بدقسمت دن موٹر سائیکل پر ساہیوال میں کالج ایڈمشن لینے کے لئیے روانہ ہوا۔ نئے کپڑے پہنے بہت اچھی طرح سے تیار ہوکر گھر سے نکلا لیکن جب واپس آیا تو فقط ایک لاش کی صورت۔ رانا تجمل کی کمر ٹوٹ کے رہ گئی۔ غم کاپہاڑ تھا جو اُس کے سینے پہ گرا۔ لیکن خدا کی رضا کے آگے صابر وشاکر رہا۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جتنے واقعات میں خود دیکھ چکا ہوں اور رپورٹ کرچکا ہوں اگر ایک ایک فرد کو دیکھوں تو یقین مانیں ہر حادثے میں مرنے والوں کی ایسی خوفناک کہانی سامنے آئے کہ آپ بھی رونے پہ مجبور ہوجائیں۔
میں نے یہ سب دیکھتے ہی بہت پہلے ون وے روڈ کی تحریک شروع کی جو کہ صرف اور صرف عوامی بہبود کی تحریک ہے۔ اس تحریک میں میرے ساتھ بہت سے لوگ شامل ہوئے اور اب بھی میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ میرا یہ عزم ہے اور مصمم ارادہ ہے کہ انشاء اللہ تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک یہ ون وے روڈ نہیں بن جاتا۔
ون وے روڈ بننے سے سپیڈ کنٹرول میں رہے گی اور حادثات کی شرح بہت کم ہوجائے گی۔
سوشل میڈیا ایک طاقت ہے اور ہمارے کمالیہ میں اس طاقت کو بہت سے لوگوں نے بہت ہی اچھے اور مثبت انداز میں استعمال کیا ہے۔
مجھے فخر ہے اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں پر کہ جب بھی میں نے سوشل میڈیا پر حق اور سچ کی آواز بُلند کی ان دوستوں نے میرا بازو تھام لیا اور بھرپور طریقے سے میرا ساتھ دیا۔ یہ سوشل میڈیا کے سارے دوست گمنام اور خاموش مجاہد ہیں جو ہر اچھے کام میں میرے ساتھی ہیں۔
ون وے روڈ کی تحریک بھی اسی سوشل میڈیا کے ذریعے روز بروز طاقت ور ہوتی جارہی ہے۔
میں آخر میں اپنے تمام دوستوں سے گزارش کروں گا کہ خدارا سر پر ہیلمٹ ضرور پہنیں، اپنی رفتار کو مدھم رکھیں اور جب سڑک پر آئیں تو اپنی جان کی حفاظت دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی جان کی حفاظت خود کریں۔ خود بچیں نہ کہ اس اُمید میں آگے بڑھتے جائیں کہ دوسرا اندھا ہے وہ بھی تو دیکھ رہا ہے؟ آپ کی جان آپ کے ماں باپ، بہن بھائیوں اور تمام دوستوں کےلئیے بہت قیمتی ہے۔
ایک آخری مطالبہ ٹوبہ ، کمالیہ اور چیچہ وطنی کے ایم این ایز سے ہے کہ آپ سب قومی اسمبلی میں ایک مشترکہ قرارداد جمع کروائیں اور اس خونی سڑک پر ہونے والے حادثات کی ایک مفصل رپورٹ ایوان میں جمع کروائیں اور حکومت سے ون وے روڈ بنوانے کا مطالبہ کریں تاکہ اس پورے علاقے میں روز بروز بڑھتی ہوئی حادثات کی شرح کو کنٹرول کیا جاسکے اور قیمتی جانوں کو بچایا جاسکے۔ اللہ پاک آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

(Visited 33 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *