عورتوں کے عالمی دن پر عورت کی توہین ۔۔۔ تحریر : مسز جمشید خاکوانی

بابا جی کھیت میں بھینس کو ہل میں جوت کر ہل چلا تھے اور بیل صاحب چھپر کے نیچے آرام فرما رہے تھے ایک سیانے کا ادھر سے گزر ہوا تو پوچھا یہ کیا الٹی گنگا بہہ رہی ہے بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے اور بیل چھاؤں میں آرام کر رہا ہے بابا جی نے کہا یہ بی بی شہر سے آئی ہے اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کر بھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے لہٰذا تم پہلے دن اپنے مالک سے حقوق کی بات کرنا اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں۔میں نے کہا بیل تو ہل جوتتا ہے اس نے کہا میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں چنانچہ میں نے اسے جوتنے پر لگا دیا اب یہ خوشی خوشی ہل بھی چلاتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے بیل کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں اس لیے وہ صرف آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے یہ تو تھی ایک بابے کی کہانی لیکن ایک اور بابا جی نے تو حد ہی کر دی جو عورتوں کی حقوق کی محفل میں گھسے بیٹھے تھے ان سے جب خاتون اینکر نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں یہ مطالبات صحیح ہیں ؟تو انہوں نے فرمایا بالکل جائز ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں یہ کم مطالبے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں جب تک نکاح ختم نہیں ہوگا عورت پر سے ظلم ختم نہیں ہو سکتا (پہلے تو میں نے سمجھا میرے کان خراب ہیں غلط سن رہے ہیں میں نے وڈیو ریوائنڈ کی تو بابا جی کے یہی الفاظ تھے اور اس نے وضاحت کی 1825 میں نکاح انگریز نے مسلط کیا تھا جیسے انگریزی مسلط کی ورنہ اس سے پہلے ہندوستان میں نکاح کا کوئی تصور نہیں تھا ،میں تو حیران رہ گئی اتنا حیران تو میں ان پلے کارڈ کو دیکھ کر نہیں ہوئی جو ان خواتین نے اٹھا رکھے تھے ،ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا ،میں آوارہ میں بد چلن ،ڈوپٹہ تمہیں پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو ،میں کھانا گرم کر دونگی اپنا بستر خود گرم کر لو نا قابل بیان تحریریں ان کارڈز پر لکھی تھیں کیا یہ انتہا ہے؟نہیں میرے خیال میں یہ مرض اب بڑھتا جا رہا ہے پچھلے سال لاہور کی نیشنل یونیورسٹی میں طالبات نے ایک شرمناک کام کیا تھا اور دیواروں پر لکھا کہ مجھے کوئی شرم نہیں میں کیوں چھپاؤں مجھے کوئی احساس کمتری نہیں یہ تصویریں کچھ میگزین اور اخباروں نے چھاپیں لیکن سوشل میڈیا پر ایک سائٹ نے اس کی بہت حوصلہ افزائی کی میں تب ہی سمجھ گئی تھی اب یہ کام رکنے والا نہیں کیونکہ اس کی فنڈنگ باہر سے ہو رہی تھی اور ہو رہی ہے اس لیے وہ سائٹ بڑے دھڑلے سے چل رہی ہے میں یہ نہیں کہتی کہ عورت کو حقوق نہ دیے جائیں لیکن حقوق کی نوعیت کیا ہے پہلے اس کو سمجھیں عورت کو پسند کی شادی کا حق دیں تعلیم کا حق دیں وہ جاب کرنا چاہے تو بھی کرے اس کو وراثت میں حصہ دیں وہ بیمار ہو تو اس کا علاج کروائیں شوہر بچوں کی تعلیم و تربیت میں اس کا ہاتھ بٹائے وہ الگ گھر لینا چاہے تو شریعت میں اس کی کوئی پابندی نہیں یہ مطالبات تو سرے سے تھے ہی نہیں بلکہ یہ عورت پن سے آزادی کے مطالبات تھے یہ گھر اور خاندان کے تصور کو تباہ کرنے والے مطالبے ہیں یورپین کلچر آج اپنے آزاد معاشرے اور خاندان کی تباہی کو رو رہا ہے
وہ اس خاندانی نظام کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جس کو وہ اپنے ہاتھوں سے کھو چکے ہیں انہوں نے اس حسرت کو اس طرح نکالا ہے کہ این جی اوز بنا لی ہیں جن کو فنڈنگ کی جاتی ہے کہ وہ ایشیا میں خصوصاً پاکستان میں جا کر اس کا پرچار کریں کہ پاکستان کی عورت بہت ظلم کا شکار ہے کہتے ہیں ایسی ہی کچھ این جی اوز کی عورتیں کسی گاؤں میں گئیں اور ایک عورت سے کہا تم کیا سارا دن گھر میں بکری کی طرح بندھی رہتی ہو ہمارے ساتھ چلو اس ظلم سے چھٹکارہ حاصل کرو اس عورت نے کہا کیسا ظلم؟ میرا شوہر میرے اور بچوں کے لیے محنت سے روزی کماتا ہے خود ایک جوڑے میں گذار دیتا ہے میرے لیے نئے نئے کپڑے لاتا ہے میں اس کا انتظار کرتی ہوں وہ آئے تو مجھے ان کپڑوں میں دیکھ کر تعریف کرے اگر تم مجھے بکری سمجھتی ہو تو تم گھر سے باہر بندھی ایک گدھی کی طرح ہو جسے کوئی بھی اپنے کام کے لیے کھول کر لے جا سکتا ہے اور کام نکلنے کے بعد واپس باندھ جاتا ہے ۔۔۔یہ ساری تو عورت کی سوچنے کی باتیں ہیں نا لیکن بہت سی عورتیں اس کو نا سمجھی میں الٹ مطلب لیتی ہیں ٹھیک ہے غیرت کے نام پر قتل کو ہم بھی ظلم سمجھتے ہیں لیکن اس کا سدباب آپ پیریڈ کے پیڈ دکھا کر تو نہیں کر سکتیں ناں ناہی ننگی ہو کر اس ظلم کو ختم کر سکتی ہیں بلکہ آپ تو مرد کو جواز مہیا کر رہی ہیں کہ ہمیں اپنے حقوق نہیں صرف کپڑوں اور شرم و حیا سے آزادی چاہیے دو سو سال پہلے بھی انگریزوں نے اپنی عورتیں بادشاہوں کے حرموں میں داخل کی تھیں جو ان کو ان کے حقوق بتاتی تھیں کہ مشرقی مرد خود تو سینکڑوں عورتیں رکھتے ہیں لیکن اپنی عورتوں کو گٹھڑیوں کی طرح برقعوں میں باندھ کر رکھتے ہیں یہ سن سن کر وہ بیگمات بھی باغی ہوئیں اور سقوں ،مالیوں ،غلاموں کے ساتھ منہ کالا کرنے لگیں آہستہ آہستہ اس طرح کر کے انگریزوں نے بادشاہتیں ختم کیں کیونکہ کسی بھی معاشرے کی تباہی میں عورت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جس طرح نیک عورت دنیا میں جنت بنا سکتی ہے اسی طرح بھٹکی ہوئی عورت دنیا میں ہی جہنم کا مزہ چکھا سکتی ہے اگر انگریزی کلچر اتنا ہی فائدے مند ہوتا تو وہاں ’’ڈی ٹیکٹو‘‘ کمپنیاں وجود میں نہ آتیں وہ ہزاروں پونڈ اور ڈالر دے کر اپنے شوہر یا بیوی کی جاسوسی نہ کرواتے صرف عدالت میں طلاق کے لیے ان کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس سے بے وفائی کر رہی ہے یا کسی عورت کا شوہر کسی اور عورت میں ملوث ہے طلاق حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی جاسوسی کرانے سے اسلام میں یہ اچھی بات نہیں کہ عورت کو مرد پسند نہیں تو وہ خلع لے لے اور مرد بیوی چھوڑنا چاہے تو وہ تین طلاقیں دے کر پلا چھڑا لے کہاں مغرب کی طرح ایک دوسرے سے جان چھڑانے یا انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قتل کی پلاننگ کرتے پھریں بے شک ہمارے ہاں یہ قتل زیادہ نظر آتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ باہر کے ملکوں میں اس کی پابندی ہے آپ معاشرے کی گھناؤنی تصویر میڈیا پر عام نہیں کر سکتے اس لیے وہ اچھے کام تو دکھاتے ہیں برائیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں وہ اپنی ساری برائیاں ہمارے ملکوں میں پھینک جاتے ہیں اور ہمارے دین کی کی ساری اچھی باتیں لے کر ہم پر ہی رعب ڈالتے ہیں اٹھارہ سال کی عمر وہ ہوتی ہے جب ہم اپنی اولاد پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ یہ سب سے خطرناک عمر ہوتی ہے جبکہ مغرب میں لوگ اہنے اٹھارہ سال کے بچے بچی کو گھر سے نکال دیتے ہیں تاکہ وہ خود کما کر کھائے اب کس طرح کمائے یہ اس کی صوابدید ہے سب کچھ گنوا کر آپ نے کچھ پایا بھی تو کیا؟ شائد ہمارے ہاں بھی اب یہی آزادی کچھ طبقات کو چاہیے جو نہیں دیتے وہ ظالم اور پس ماندہ کہلاتے ہیں میں ٓپ کو ایک چھوٹی سی مثال دوں کچھ عرصہ پہلے ہم میں پیتل اور تانبے کے برتنوں کا رواج تھا پھر سٹیل اور ماربل کے برتن رواج پانے لگے ایلومونیم کے برتنوں میں کھنا پکانا خطرناک سمجھا جانے لگا تو کھاتے پیتے خوشحال گھرانوں میں نان سٹک برتنوں میں کھانا بننے لگا اب یورپ امریکہ میں نئی تحقیق سامنے آرہی ہے کہ نان سٹک سب سے خطرناک ہیں جی اب مٹی کے برتنوں میں کھانا پکایا جائے وہ جو ہمارے دیہاتوں میں مٹی کے برتنوں میں کھانا بنا کرتا تھا وہ اب یورپ امریکہ کے پسندیدہ ہو گئے ہیں اب وہ مہنگے داموں مٹی کے برتن لے کر ان میں کھانا بناتے ہیں بلکہ جس ریسٹوران میں مٹی کے برتن استعمال ہوں وہ سب سے مہنگا ہوتا ہے اور یہ چیزیں میرا بیٹا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہے اسی طرح برگر اور سافٹ ڈرنک وہاں سکولوں کی سطع پر بین ہو چکے ہیں جبکہ ہمارے بچے برگر کے بغیر زندگی نامکمل سمجھتے ہیں وہاں ہر ایک کو انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں چھوٹے بچوں کو الاؤ نہیں ہمارے بوڑھے بچے جوان ساری ساری رات نیٹ سے استفادہ کرتے ہیں وہاں اب کوشش کی جاتی ہے کہ زمین میں گوبر کی کھاد ڈال کر فصلیں اگائی جائیں جبکہ ہمیں انہوں نے نائٹروجن اور فاسفورس کھادوں پر لگا رکھا ہے وہ پھلدار درختوں اور سبزیوں پر زہریلی سپرے نہیں کرتے نہ ہی پھلوں کو مصنوعی طور پر پڑی لگا کر پکاتے ہیں ہم سپرے والی سبزیاں اور تیزاب سے پکے پھل کھا کھا کر اپنے معدے جلا بیٹھے ہیں ان کے فریجوں میں فریز کرنے کا سسٹم ہی نہیں ہوتا اس لیے آپکو دو چار دن سے اوپر پکا کھانا نہیں مل سکتا جس طرح ہم مہینوں کے فریز کیے کھانے اور گوشت سبزیاں کھا کر کینسر کے مریض بن رہے ہیں اس کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ دو دو سال پرانے گوشت یہاں لے آئے ہیں اور انگلش کھانوں کے نام پر ہمیں کھلا کر ہماری آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا ثبوت کراچی میں دو بار آپ کو بچوں کی ہلاکت سے مل چکا ہے جہاں ایک مشہور ریسٹوران میں 2015 سے پڑا گوشت استعمال کیا گیا تھا کسی دن میرا جسم میری مرضی والی خواتین بھی اسی طرح اپنی مرضی سے ہلاک ہو نگی وہاں کی مارکیٹس میں شام ہوتے ہی دکانوں سے سبزی اٹھا کر جلا دی جاتی ہے ہمارے ہاں گٹر کا پانی چھڑک کر ہفتوں بیچی جاتی ہے تو ہم ان کی اچھی باتوں کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟ صرف بری باتیں کیوں اپناتے ہیں ؟ اس لیے کہ ہمیں بری باتیں رواج دینے کے پیسے ملتے ہیں ہمارے وزیر ان کی ہر متروک چیز اپنے ملک میں جہاز بھر کر لے آتے ہیں صرف کمیشن کے چکر میں اسی لیے وہ ہمارا خاندانی نظام تباہ کر رہے ہیں کہ ہم مادر پدر آزاد ہو کر اپنی حیا اپنی عزت آبرو سب گنوا بیٹھیں پھر یہی لوگ ہمارا مذاق بنائیں تو اے میری بہنو ،بیٹیو صرف اس خوف سے آزادی حاصل کرو جو تمہیں کمتری میں مبتلا رکھتا ،اتنا سر نہ اٹھاؤ کہ تمھارے باپ،بھائیوں کے سر جھک جائیں اولاد کی تربیت ماں کرتی ہے بیٹوں کی تربیت اس طرح کرو کہ وہ اپنی بیوی کو ساتھی سمجھے غلام نہیں بیٹیوں کی تربیت اس طرح کرو کہ انہیں بیٹوں سے کمتر نہ گردانو ،بیٹیوں کے حصے کا کھانا بیٹوں کو نہ دو دونوں کو ایک نظر سے دیکھو ،ایک جیسی تربیت کرو صنفی تفریق عورت کو مرد کا باغی بنا دیتی ہے بیٹی کی شادی کرتے وقت اس کی رائے کو اولیت دو ،کبھی اسے سسرال میں دشمنی کا سبق دے کر نہ بھیجو کبھی اسے شوہر کو انگلیوں پر نچانے کا گر نہ سکھاؤ اس میں دونوں خاندانوں کا بلکہ پورے معاشرے کا بھلا ہوگا ورنہ ہمرے سر شرم سے یونہی جھکتے رہیں گے۔

(Visited 10 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *