۔’’دبیز پانیوں کے نام ایک خط‘‘۔۔۔ تحریر : :مجید احمد جائی

دبیز پانیوں کے نام ایک خط گزشتہ کئی دنوں سے میرے ساتھ رہی ہے ۔یہ خوبصورت کتاب افسانوں پر مشتمل ہے اور اس کے لکھاری الطاف فیروز صاحب ہیں ۔گو کے الطاف فیروز صاحب سے پہلے میرا رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی میں ان کو جانتا تھا ۔لیکن جب سے دبیز پانیوں کے نام ایک خط ملی ،اس کتاب نے مجھے الطاف فیروز صاحب کا گروید ہ بنا دیا ہے ۔اس میں اتنی کشش ہے کہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔اس میں نو افسانے اور دو مونتاژ شامل ہیں ۔۔جسامت اور خوبصورتی کے لحاظ سے بھی اچھی اور عمدہ کتاب ہے ۔سر ورق ایسا ہے کہ جو ایک بار دیکھے وہ بار بار دیکھے ۔مجھ سے پوچھیں تو میں کافی دیر نظریں گاڑے اس کو دیکھتا رہا ۔سرورق سے اندر کی طرف سفر کریں تو آپ کو سفید کاغذ پر لفظ موتیوں کی طرح چمکتے نظر آئیں گے ۔
دبیز پانیوں کے نام ایک خط،کا انتساب الطاف فیروز نے اپنے والدین کے نام کیا ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ اس کتاب میں کسی ادیب کی رائے شامل نہیں ہے ۔اس طرح تبصرہ نگاروں کے لئے مشکل ہو گیا کہ وہ کتاب کو پڑھے بغیر تبصرہ نہیں کر پائیں گے ۔
کتاب کے صفحہ نمبر 2کی آخر سطر پر نظرپڑے تو بہت خوبصورت جملہ لکھا گیا ہے ،جس نے مجھے بھی اپنی طرف متوجہ کیا ۔’’یہ کتاب پاکستان ادب پبلشرکی پالیسی No Profit No lossکے تحت چھاپی گئی ہے ۔‘‘یہ کمال ہی ہو گیا ۔پاکستان ادب اور سمیع اللہ خان کا اچھا عمل ہے ۔دُور جدید میں اس سر پھرے کو جانے کیا سوجھی کہ نہ منافع ،نہ نقصان کی ٹھان لی ہے ورنہ لکھاری کی رگ رگ سے پبلشر حضرات خون نچوڑ لیتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سمیع اللہ خان کو کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے آمین ۔
دبیز پانیوں کے نام ایک خط،اگست 2017کو منظر عام پر آئی ہے اور اس کی معقول قیمت 300روپے ہے ۔اس کے اندر الفاظ کی قیمت کوئی بھی ادا نہیں کر سکتا ۔ایک سو 32صفحات پر مشتمل عمدہ اور معیاری کتا ب ہے ۔دبیز پانیوں کے نام ایک خط آپ کو حیران کر دے گی ۔یہ کتاب عشق حقیقی کی طرف لے جاتی ہے اور بہت کچھ غورو فکر کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔یقین نہ آئے تواس میں موجود مونتاژ ’’بھوک ‘‘پڑھ لیں ۔حقیقت سے پڑدہ اٹھاتی اعلی تحریر ہے ۔جس نے میرے اندر ہلچل پیدا کر دی ہے ۔
دبیز پانیوں کے نام خط کا پیش لفظ مصنف کی کہانی پیش کرتا ہے ۔جس میں مصنف اپنی آب بیتی بیان کرکے قاری کو اپنا تعارف کروا دیتا ہے ۔’’ڈکا‘‘پہلا افسانہ ہے اورکیلیڈو سکوپ جیند ملک کی کہانی سناتا آخری افسانہ ہے ۔جس میں لکھاری بڑی گہری بات کر جاتا ہے ۔اگر یہ کتاب ’’دبیز پانیوں کے نام ایک خط‘‘ہاتھ لگ جائے تو آپ ’’وہ گلی،فسادی ،جو ٹھن ،بھوک ،سروپ ‘‘نہ پڑھیے گا ۔۔اگر آپ ضد کرکے اسے پڑھ لینے پر مجبور ہیں تو میری طرح آپ کی آنکھیں بھی چھم چھم برسات کرنے پر مجبورہو جائیں گی ۔وہ گلی میں ’’عید و‘‘کا کردار عمدہ ہے اور اس گلی کے لوگوں کے آوازوں کے پتھر ’’اف لکھاری نے کیا کیا حقیقی جملے پیش کیے ۔اسی طرح ’’فسادی ‘‘کس طرح قانون کے رکھوالے مرزا صاحب کو ’’پکڑ لو سالے فسادی کو ‘‘حکم کی تعمیل کرتے پکڑ لیتے ہیں ۔وہ جاننے کی کوشش تک نہیں کرتے کہ مرزا صاحب کی ایسی حالت کیوں ہوئی ۔وہ کس غم میں ہے ۔وہ دلیر ،صابر شخص آج کیسے صبر کھو بیٹھا ہے ۔مرزا صاحب کے کردار کے ہزاروں لوگ اب بھی موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے بے دریغ قربانیاں دیں لیکن پاکستان میں بسنے والے آزاد لوگوں نے اُن کو کیا دیا ،یہ لمحہ فکریہ ہے۔
دبیز پانیوں کے نام ایک خط میں الطاف فیروز صاحب استعارے اور منظر نگاری سے بہت کام لیتے ہیں اور قاری کو تحریر میں محو کر دیتے ہیں ۔قاری تجسس کے ساتھ تحریر میں محو ہو جاتا ہے اور اختتام میں قاری ہکا بکا رہ جاتا ہے ۔یوں الطاف فیروز صاحب اپنے لفظوں سے قاری کو بوریت سے محفوظ رکھتے ہیں ۔
دبیز پانیوں کے نام ایک خط،یوں تو افسانوی مجموعہ ہے لیکن اس میںآپ کو تاریخ ،ادب فلسفہ کے لوازمات ضرور ملیں گے ۔دبیز پانیوں کے نام ایک خط پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو قاری کو افسانوی دُنیا سے تصوف کی طرف لے جاتا ہے ۔اس طرح الطاف فیروز کھل کر قاری کے سامنے آ جاتا ہے ۔
دبیز پانیوں کے نام ایک خط ،ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو بہت کچھ سوچنے اور عمل کرنے کی طرف راغب کرتی ہے ۔دبیز پانیوں کے نام ایک خط سے چند انتساب دیکھیں’’کبھی زندگی کے معاملات میں تجربے کی بنیاد عمر کو مت سمجھنا کہ یہ نظریہ سوائے ایک فضول سی روایت کے کچھ نہیں ۔تجربہ عمر سے نہیں بلکہ زندگی کو خواہشوں کے لیے تیاگ کر یا خواہشوں کو زندگی کے لیے تیاگ کرجینے کی کوشش کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔‘‘’’زندگی میں دراصل سارا کھیل ہی خود اعتمادی کا ہے ‘‘’’خود کو دریافت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے ‘‘
’’یہ بھوک بڑی ظالم شے ہے میرے دوست !اس پر حاوی آنے کی کوشش کرو ورنہ یہ تم پر غالب آگئی تو کہیں کا نہ رہنے دے گی ‘‘
دبیز پانیوں کے نام ایک خط ’’ڈکا،قحط زدہ آدمی ،وہ گلی ،وقت سے باہر گرا ہوا آدمی ،فسادی ،جوٹھن ،دبیز پانیوں کے نام ایک خط،تسلط،کیلیڈو سکوپ،سروپ اور بھوک ‘‘شامل ہیں ۔اس کتاب میں وہ تمام لوازمات ہیں جو ایک اچھی معیاری کتاب میں ہونے چاہئیں۔کتاب کے بیک فلاپ پر الطاف فیروز چھوٹی چھوٹی سفیدباریش کے ساتھ بیٹھے مسکرا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کا مختصر تعارف لکھا ہوا ہے ۔دبیز پانیوں کے نام ایک خط ،میں کمپوزنگ کی خال خال غلطیاں موجود ہیں ،ایک لفظ ’’صرف ‘‘کو بارہا جگہ ’’ضرف ،لکھا گیا ہے ۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ الطاف فیروز کو سدا سلامت رکھے اور آپ یونہی ادب تخلیق کرتے رہیں آمین !۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *