تارکین وطن،ڈیم فنڈ اور حکومت پر اعتماد ۔۔۔ سروے : مراد علی شاہد ؔ ۔ دوحہ قطر

اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف سے انسان اور انسانیت کے لئے عطیہ اور نعمت سے کسی طور بھی کم نہیں ہے۔اس لئے کہ اللہ نے مٹی،ہوا اور پانی کو زندگی کی علامت بنایا ہے۔ازمنہ قدیم کی تاریخ کو جب ہم کتب تواریخ میں سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں زندگی کے آثار کا وہیں وہیں پتہ چلتا ہے جہاں جہاں پانی کی دستیابی و فراہمی سہل ہوتی تھی ،اسی وجہ سے دنیا کی وہ تمام تہذیبیں جن کے آثار و کھنڈرات کی صورت میں آج کے انسان کے لئے نشانِ عبرت بنے ہوئے ہیں ان کا وجود بھی دریاؤں،سمندروں اور جھیلوں کے کناروں پر ہی پایا جاتا تھا۔اور تو اور عرب کے باشنے تو پانی کے حصول اور اپنا تسلط و قبضہ جمانے کے لئے سالہا سال جنگ و جدل کی حالت میں رہتے تھے جس کی طرف مسدس حالی میں مولانا الطاف حسین حالی نے اس طرح اشارہ کیا ہے کہ۔۔۔کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا۔۔پاکستان کی حالیہ صورت حال بھی کچھ اسی طرح کی ہے کہ ملک میں آبی وسائل کی کمیابی آنے والے دنوں میں بڑے خطرہ کا عندیہ دے رہے ہیں۔جس کا واحد حل حکومت پاکستان نے ملک میں ڈیم تعمیر کرنے کو قرار دیا ہے۔اور اسی سلسلہ میں موجودہ چیف جسٹس اور وزیرِ اعظم نے پاکستانی عوام خاص کر تارکین وطن سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس نیل کام میں عطیات اور خیرات جمع کروا کر اس نیک عمل کا حصہ بنیں،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کا خیرات کردہ پیسہ محفوظ ہاتھوں میں ہے؟کیا تارکین وطن کی طرف سے بھیجے گئے اربوں روپے ڈیم کی تعمیر پر ہی خرچ ہونگے؟ اور پھر عوام کس بھروسہ اور اعتماد پر حکومت کو پیسہ جمع کروائیں؟یا کہ اس بار بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح چندہ،خیرات،صدقات،اور قرض اتارو ملک سنوارو ،زائد و اضافی ٹیکس سے جمع کردہ پیسوں کا اب بھی کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔اس سلسلہ میں قطر میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے افراد کیا کہتے ہیں قارئین کی نذر ہے۔عرفان تاج دفاعی اتاشی سفارت خانہ پاکستان کے خیال میں ہم کبھی بھی کسی پراجیکٹ میں کامیاب و کامران نہیں ہو سکتے اگر ہم اپنی حکومت پر اعتماد اور بھروسی نہیں کرتے۔ میرے اعتماد اور بھروسہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ افواج پاکستان کی طرف سے ڈیم فنڈ میں ایک ارب سے زائد رقم جمع کروائی گئی ہے اور میں اس کا ایک معمولی حصہ تھا۔لہذاٰ ہمیں بحثیت قوم اجتماعی حیثیت سے مل جل کر وزیر اعظم اور چیف جسٹس پر اعتماد کرنا چاہئے اور مجھے امید ہے کہ ڈیم فنڈ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔لیاقت صغیر جو کہ پیشہ کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں ان کے خیال میں ایک ڈیم کے بننے میں عرصہ پانچ سال درکار ہوتے ہیں ۔اس کا سیدھا مطلب ہے کم سے کم پانچ سال ہمیں حکومت پر اعتماد کرنا ہوگا اور ہم نے سابقہ حکومتوں پر اعتماد کیا ہے تو پھر اس پر بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں،تاہم مجھے امید ہے اس بار ہم نے مسٹر رائٹ کا ہی انتخاب کیا ہے۔مشرف کمال(ونگ کمانڈرریٹائرڈ) کا بھی کہنا ہے وزیر اعظم اور چیف جسٹس پر اعتماد کرنے میں ہی ہماری بہتری ہے اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں شخصیات مخلصانہ طور پر ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قطر میں موجود پاکستانی کمیونٹی انفرادی و اجتماعی طور پر ڈیم فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔لہذا ہمیں مل کر ان کی طرف ہاتھ بڑھانا ہے تاکہ ڈیم کی تعمیر بر وقت ہو کر آبی مسائل کا حل بھی نکل سکے اور ہماری قوم کا مستقبل بھی محفوظ ہو سکے۔شاہد رفیق نازؔ معروف شاعر ہیں ان کے خیال میں ہمارے وزیر اعظم کی سب سے بڑی خوبی ہی ایمانداری ہے۔انہوں نے نمل کالج اور شوکت خانم کی تعمیر اور چلا کر ثابت کر دیا ہے کہ میں پاکستانیوں کے پیسوں کا امین ہوں۔اس لئے میں نے تو ڈیم فنڈ میں اپنا حصہّ اسی امید سے ڈالا ہے کہ ان شاء اللہ ڈیم فنڈ کا جمع کردہ پیسہ ضرور ڈیم کی تعمیر پر ہی خرچ ہو گا۔علاوہ ازیں حکومت نے چند ایام میں ہی ایسے ایسے کام کر کے دکھا دئے ہیں جو موجودہ حکومت کے اخلاص کا ثبوت ہیں۔آصف شہزاد اور شہر یار ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں کام کرتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے تو ڈیم فنڈ میں اپنا حصہ اس بنا پر ڈالا ہے کہ چونکہ اس نے تعلیمی میدان میں ایک ایسی جگہ یونیورسٹی بنا کے دکھا دی ہے کہ جہاں کسی قسم کی سہولیات میسر نہیں تھیں ۔اب ڈیم کی تعمیر کے بارے میں بھی ہم پر امید ہیں کہ ان شاء اللہ ڈیم ضرور بنے گااور ہمارے آبی مسائل بھی حل ہونگے،ان شاء اللہ۔

(Visited 3 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *