ڈنڈا نہیں ایجنڈا ۔۔۔ تحریر : محمد ناصر اقبال خان

ٹی وی آن کیا توسرکاری اہلکاربلڈوزر سے تعمیرات مسمار جبکہ رنجیدہ متاثرین احتجاج کر رہے تھے،نیوزکاسٹربتارہا تھا کہ عدالت کے حکم پر جوہرٹاؤن لاہور کے ملک منشاء کھوکھرنامی بااثر قبضہ مافیا کے زیراستعمال 80کنال اراضی پر ناجائزتعمیرات گرادی گئی ہیں اورقبضہ واگزارکرلیا گیا ہے۔شہرلاہورسمیت ملک بھرمیں ایک نہیں ہزاروں قبضہ گروپ ریاست کے اندر اپنی اپنی ریاست بنائے بیٹھے ہیں،امید ہے ریاستی اداروں کاایکشن اورآپریشن منشاء کھوکھرتک محدودنہیں رہے گا بلکہ تھانہ کوٹ لکھپت کی حدودسمیت دوسرے قبضہ گروپس کیخلاف بھی قانونی اورانتظامی کارروائی کی جائے گی۔ قبضہ گروپس کیخلاف انتظامی اقدام” انتقامی” نہ بنے اس کاانحصار حکام پرہے۔حالیہ دنوں میں منشاء بم نامی قبضہ مافیا کی بازگشت عدالت عظمیٰ میں سنی گئی اوراس دوران ایک ایس پی کے بیان پر پی ٹی آئی کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ملک کرامت کھوکھر اورندیم باراسمیت ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبرکانام بھی سپریم کورٹ میں لیااورانہیں وہاں طلب کیا گیا۔ایس پی نے منشاء بم معاملے میں اپنی نااہلی چھپانے کیلئے ملک کرامت کھوکھر پراپناسیاسی اثرورسوخ استعمال کرنے کاالزام عائد کیا جس پرملک کرامت کھوکھر نے بتایا،”ان کی بات ایس پی کی بجائے ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبر سے ہوئی تھی ”،جس پر ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبر کی عدالت میں طلبی کی بازگشت سنی گئی۔ راقم کے نزدیک ملک کرامت کھوکھرسمیت کسی سیاستدان کا ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبر کوفون پرسفارش کرنایادباؤڈالنااہم نہیں بلکہ ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبرکادباؤ مسترد کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کیلئے ڈٹ جانا اہم ہے۔ہم معاشرے کے طبقات کو آپس میں گفتگوکرنے سے نہیں روک سکتے،اگرایک منتخب عوامی نمائندہ کسی شہری کی اشک شوئی کیلئے متعلقہ پولیس آفیسرکوفون پرقانون اورمیرٹ کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کیلئے کہتا ہے تواس میں کوئی برائی نہیں۔پولیس کو خودمختاری اورخودداری کے ساتھ کام کرنے کی آزادی دے دی جائے توسفارشی کلچر اپنے آپ دم توڑدے گا ۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبر کی شہرت سیاسی دباؤ قبول نہ کرنیوالے ایک فرض شناس آفیسر کی ہے۔حالیہ انتخابات کے بعد ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبر کے احکامات کی روشنی میں کئی برسوں سے تعینات ہزاروں آفیسرزاوراہلکاروں کوتبدیل کردیاگیا مگر مختلف طبقات کی بااثرشخصیات کی سفارش اوربعض عناصرکے دباؤکے باوجودابھی تک کسی کاٹرانسفر منسوخ نہیں ہوا ۔یہ تبدیلی نہیں تواورکیا ہے،اس قسم کی اصلاحات سے یقیناتھانہ کلچر بدلے گا۔ڈی آئی جی آپریشن لاہورنے ٹرانسفرپوسٹنگ کیلئے ایک خودمختاربورڈ بنادیا ہے،اب کوئی دباؤاس بورڈ پراثراندازنہیں ہوسکتا ۔لاہورمیں سب انسپکٹرز کی بجائے انسپکٹرز کوایس ایچ اولگانابھی مثبت اور مستحسن اقدام ہے، ڈی آئی جی آپریشن لاہورشہزاداکبربراہ راست ان ایس ایچ اوزکی کارکردگی مانیٹرکررہے ہیں ۔پولیس کوبیرونی دباؤاورمداخلت سے نجات دلانے کیلئے قانون سازی اورمعاشرے میں تحریک بیداری کی اشد ضرورت ہے۔عدالت ،سیاست،صحافت اورتجارت سمیت متعدد طبقات کاپولیس سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے ۔ اگرمقدمات کے اعدادوشمار اورنتائج دیکھیں تو سیاست اورصحافت کی نسبت پولیس حکام ماتحت عدالت کی طرف سے زیادہ مداخلت اوردباؤ کاسامناکرتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے احکامات پردرج ہونیوالے 80سے90فیصد مقدمات خارج ہوجاتے ہیں۔مقدمات کاچالان عدالت میں پہنچتا ہے تواس کے بعدسائلین کئی برسوں تک انصاف کیلئے ایڑیاں رگڑ تے ہیں مگرانہیں انصاف” قسمت ”یاپھر”قیمت ”سے ملتا ہے ۔
قبضہ مافیاکی دسترس میدانوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے ایوانوں سے جاملتے ہیں ۔ متعدد ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کااپنااپنا” لینڈ مافیا” اورقبضہ گروپ ہے جبکہ بیسیوں تحصیل دار اور”پٹواری” ان کے سہولت کار ہیں۔متنازعہ اراضی کوڑیوں کی قیمت پراپنے پیاروں کے نام کروانا،قبضہ چھڑانایاقبضہ کراناان کاپیشہ ہے۔ ملک بھر میں قبضہ گروپس کاراج ہے ،ان کے ”ڈان” اورنادان کارندے بلاشبہ قابل گرفت ہیں،ان پرہرگزرحم نہ کیاجائے۔تاہم صوبائی اورشہری اداروں کے بااختیارحکام اس بات کی وضاحت ضرور کریں ، جس وقت قبضہ مافیاناجائزتعمیرات کیلئے” سرگرم” ہوتا ہے اس وقت حکام سمیت ان کے ماتحت اہلکاروں کی دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں” گرم” ہوتی ہیں توپھر قبضہ مافیا کی ناجائز مراعات سے مستفیدہونیوالے ضمیرفروش سرکاری اہلکاروں کیخلاف کیا ایکشن لیاجائے،ان مردہ ضمیروں کیخلاف آپریشن کلین اپ کون کرے گا۔ایل ڈی اے سمیت اس قسم دوسرے انتظامی اداروں کی ملی بھگت اورآشیرباد کے بغیرکوئی بااثرشخص کسی دوسرے کی اراضی یاپلاٹ اورمکان پر قبضہ نہیں کرسکتا ۔دوسری طرف جوقبضہ گروپ اورکرایہ دارماتحت عدالت سے سٹے آرڈرلے آتے ہیں اورپھر کئی برسوں تک معاملہ لٹکارہتا ہے اس منفی روش کاسدباب کس طرح ہوگا ۔اراضی ایکٹروں میں ہویاکنالوں میں ،کسی شہری یاکسان کی اراضی پرناجائزقبضہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔سیالکوٹ کے ایک گاؤں ”گھٹوروڑا” میں ریاستی طاقت کے بل پر یونیورسٹی کی آڑمیں سینکڑوں کسانوں کی زرعی اراضی پرقبضہ کرلیا گیا اورکسانوں کی تیار فصلیں روندتے ہوئے چاردیواری تعمیر کردی گئی ،پچھلے کئی برسوں سے وہاں یونیورسٹی تعمیر ہوئی اورنہ مقامی کسانوں کو گندم سمیت کوئی فصل کاشت کرنے دی گئی،اس دکھ اورکرب نے کئی کسانوں کی جان لے لی۔شہبازشریف حکومت نے زبردستی کوڑیوں کی قیمت پرکسانوں کی قیمتی زرعی اراضی ہتھیالی،دین فطرت اسلام تومساجدومدارس کی تعمیرکیلئے بھی دھونس کی اجازت نہیں دیتا۔ گھٹوروڑا کے درویش صفت انسان ذوالفقار علی خان اورغیرتمندزمیندار حاجی لطیف سمیت کئی کسان ابھی تک انصاف کی امید میں رقم وصول نہیں کررہے، ذوالفقار علی خان اورحاجی لطیف کی طرح زیادہ ترکسانوں کیلئے ان کے باپ داداکی زمین ان کاجنون ہے ۔اس قبضہ کیخلاف بھی ایکشن لیاجائے،تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں مگرہماری ریاست،معیشت اورانسانوں کی غذائی ضروریات کیلئے زراعت بھی ناگزیر ہے ۔یونیورسٹی اور فیکٹری ہو یاہاؤسنگ سوسائٹی صرف بنجر اراضی پرتعمیر کی جائے ،زرعی اراضی کوصرف زراعت اورکاشت کیلئے مخصوص ر کھنامناسب ہو گا ۔یونیورسٹیاں ، فیکٹریاں،کالونیاں اورکارخانے زرعی اراضی سے جس قدردوررہیں اتنااچھا ہے۔
پنجاب سمیت چاروں صوبوں کے تھانوں بالخصوص کوٹ لکھپت کو قبضہ مافیاکے ارکان کی فہرست تیارکرنے اورآئی جی حضرات کے دفاترمیں بجھوانے کیلئے کہاجائے ،ان کیخلاف ہرسطح پرموثراورمنظم آپریشن کی ضرورت ہے۔لیکن جہاں قبضہ مافیا نے اپنے زیرقبضہ اراضی پر تعمیرات کی ہوئی ہیں وہاں قانونی طورپر مالکان سے ان تعمیرات کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت وصول کرکے وہ رقم ڈیم فنڈمیں دے دی جائے اورجہاں قبضہ مافیا والے کئی برسوں سے زرعی اراضی کاشت کررہے ہیں حکام حساب کرنے کے بعدا ن سے آمدنی وصول کریں ۔تعمیرات گرانے یازیرکاشت اراضی پرکھڑی فصلیں بربادکرنے سے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گابلکہ الٹاقومی وسائل سے سرکاری مشینری پرخطیرسرمایہ صرف ہوگا،یقیناجوبلڈوزر تعمیرات مسمار یاٹریکٹر فصلیں بربادکر تے ہیں ان میں قیمتی پٹرول اورڈیزل استعمال ہوتا ہے ۔ ہماری مقروض اورمعاشی طورپرمفلوج ریاست اربوں روپے کی تعمیرات کوملبے جبکہ فصلیں بھوسے کا ڈھیر بنانے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ان تعمیرات کوگرانااورکروڑوں روپوں کونذرآتش کرناایک برابر ہے، منشاء کھوکھر کے زیرقبضہ اراضی پرتعمیرات گرانے میں اس قدرعجلت مجرمانہ غفلت کے مصداق ہے۔اگرعدلیہ کی طرف سے اداروں کومناسب ہدایت ونصیحت اورمہلت دی جاتی تویقیناکوئی سودمندراستہ تلاش کیاجاسکتا تھا۔کیااس قیمتی اراضی کوتعمیرات سمیت فروخت یا نیلام نہیں کیا جاسکتا تھا۔اراضی کاقبضہ واگزارکرنے کیلئے اس پرتعمیرات کوزمین بوس کرناکیوں ناگزیر ہے۔ایک طرف ہم ڈیم تعمیرکرنے کیلئے عوام سے چندہ مانگ رہے ہیں اوردوسری طرف اربوں روپوں کی تعمیرات کوملیا میٹ کیاجارہا ہے ۔کئی برس قبل شہباز شریف نے بھی لاہورمیں پلازوں کے متنازعہ فلور گرائے تھے جو ملک احدمرحوم سمیت زیادہ تران کے سیاسی مخالفین کی ملکیت تھے ،راقم نے اس وقت بھی لکھا تھا،” ان ماورائے قانون اورمتنازعہ فلورزکامالکان سے ہرجانہ وصول ،انہیں نیلام یاپھران میں سرکاری دفاتر کومنتقل کیاجائے”، مگر اس وقت بھی شعبدہ بازی کرتے ہوئے ا ربوں روپے کی تعمیرات ملبے کاڈھیربنادی گئی تھیں ۔بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ ترکام ”ایجنڈے” نہیں ”ڈنڈے” کے تحت ہوتے ہیں،اس نازک دورمیں ڈنڈا نہیں ایجنڈا ضروری ہے۔ اس وقت سخت ،درست اوردوررس فیصلے ناگزیر ہیں مگر خیال رہے معاشرے میں بے یقینی اوربے چینی پیدانہ ہو ۔اگروزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں اوربھینسیں نیلام کی جاسکتی ہیں توناجائزتعمیرات کی قیمت کیوں وصول نہیں کی جاسکتی ۔
اِسلام نے انسانیت کو بار بار اخلاقیات کادرس دیا ، اگراخلاقیات کو اسلامیات کی روح قراردیاجائے توبیجا نہ ہوگا۔اخلاقیات کاشمارابن آدم کے اوصاف حمیدہ میں ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ بات چیت کرتے وقت ان کی عزت نفس کاخیال ر کھناضروری ہے، کسی داناکے مطابق (word can change your world)۔تلواروں اورخنجروں سے توصرف انسانوں کے بدن زخمی ہوتے ہیں جبکہ ز بان کاگھاؤا نسان کی روح تک کوگھائل کردیتا ہے ۔انسان جہاں اپنے ترش لہجے سے دوسروں کو زخم لگا سکتا ہے وہاں ہم ایثاراور اخلاص سے ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم بھی رکھ سکتے ۔اسلا می تعلیمات کی روسے اگرہم کسی فقیرکوخیرات نہیں دے سکتے توہمیں اُسے جھڑکنے یادھتکارنے کا حق نہیں پہنچتا۔کوئی معاشرہ ہویامنصب اُس کیلئے ایک ضابطہ اخلاق ضرورہوتا ہے۔انسانوں کاگناہوں سے بہت پراناواسطہ ہے،قابیل نے ہابیل کوقتل کردیا تھا۔ کسی ریاست کو چوروں اورغنڈوں سے سوفیصد پاک قرارنہیں دیاجاسکتا،اس کے باوجو کسی ریاست اورسرکاری یانجی ادارے کوچوریابدمعاش کہنادرست نہیں۔ کسی فردیاگروہ کی غلطی پرپوری برادری کوانصاف کے کٹہرے میں کھڑایااس کامیڈیاٹرائل نہیں کیا جاسکتا۔خادم حسین رضوی نے جس مقدس ترین کاز کیلئے دھرنادیا وہ قابل قدر ہے مگروہ جوش خطاب میں جومتنازعہ زبان استعمال کرتے رہے اس کادفاع نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم ،چیف جسٹس اورآرمی چیف ہوں یاکوئی عام انسان سب عزت ،عزت نفس اورحقوق کے معاملے میں برابر ہیں،سبھی پرقانون کایکساں اطلاق ہوتا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارملک وقوم کے سچے ہمدرد اورنجات دہندہ ہیں ،ڈیم کے قیام کیلئے ان کاصادق جذبہ قابل قدراورقابل تقلید ہے،ان کے دل میں وطن اورہم وطنوں کیلئے درد ہے مگران کے بعض الفاظ ان کی شخصیت اوران کے منصب کے شایان شان نہیں ہوتے۔منصف کی زبان نہیں چلتی بلکہ اس کا قلم اورانصاف بولتا ہے۔چیف جسٹس نجی ہسپتالوں کے دورے ضرور کریں مگرمالکان کی سرزنش سے پہلے ان کیلئے ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے اورجوکوئی اس کی پاسداری نہ کرے اسے ضرورسزادیں۔اگرسرکاری ہسپتالوں کوجدیدسہولیات سے اپ گریڈ کیاجائے تویقیناًشہری نجی ہسپتالوں کارخ نہیں کرینگے۔ماضی میں نجی ہسپتالوں سے جواب طلبی نہیں کی گئی ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جس اہم کام کاآغازکیا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچناچاہئے ۔ہمارے ہاں نظریہ پاکستان پرحملے میں ملوث” بیکن ہاؤس” سمیت نجی سکول ہوں یا نجی ہسپتال سبھی شتربے مہار ہیں ،انہیں آج تک کسی نے لگام نہیں ڈالی۔ان کیلئے ضابطہ اخلاق نہیں بنایاگیا لہٰذاء عدالت ماہرین کی مددسے ان کیلئے فیس سمیت حدود مقرر کرے اوراس کے بعد جوحد سے تجاوزکرے اس کاقانون کے نشتر سے پوسٹ مارٹم کردیاجائے،ان کیلئے سخت قوانین بنائے اورسخت سزائیں مقررکی جائیں ۔ ،طبقاتی نظام تعلیم سے نجات کیلئے یکساں نصاب رائج کیاجائے،کیونکہ تہذیب اورتربیت کی قیمت پرعہدحاضر کی مادرپدرآزادی کی علمبردار تعلیم قابل قبول نہیں۔

(Visited 9 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *